Damadam.pk
Offline's posts | Damadam

Offline's posts:

Offline
 

یہ لطیفہ کسی نے ایس ایم ایس کیا ۔
"ایک شخص خالی کاغذ چوم رہا تھا
دوست :یہ کیا کررھےہو.؟
شخص :لو لیٹر آیاھے
دوست :مگر یہ تو خالی ھے
شخص :آجکل بول چال بند ھے."
ہائے محبوب کا خط خالی بھی ہو تو رابطہ تو ہے ۔
مجھے اس خالی خط نے میری بندگی سے خالی بےروح عبادتیں یاد دلا دیں۔ جاءنماز لپیٹنے کی خواہش میں پھیلاتا، ڈیوٹی نبھانے کی نیت سے مارے باندھے کی جانے والی خالی کاسے جیسے نمازیں ، سجدے کی لذت سے محروم بس ماتھا ٹیکنے کی رسم کی ادائی اور معنی و مفہوم سے ناآشنا رٹی رٹائی دعائیں جو

Offline
 

کبھی اٹھے ہاتھوں، پھیلے دامن یا بھینچی مٹھیوں کے ساتھ خالی الذہنی کے عالم میں دہرا لیتا ہوں ۔ ایسی نماز جس کی قبولیت کی بےیقینی ہمیشہ دامنگیر رہتی ہے ۔
آج اس میسج نے تسلی دے دی ۔ مجھ سے محبت کرنے والا میرا خالق میرا رب جس کا ہر دعوی سچا ہے، میرے خالی کاغذ پر بھی قبولیت کی مہر چسپاں کر دے گا ۔ اس کی محبت میرے کورے کاغذ کو بھر دے گی ۔ وہ مجھے قبول کر لے گا ۔ بس رابطہ قائم رہے ۔ قلب منیب حاصل رہے ۔ تار جڑی رہے، لو لگی رہے ۔
اے رب! مجھے نماز قائم کرنے والا بنا دے، اے ہمارے رب! اور میری دعا قبول فرما
“اے اللہ! اپنا ذکر کرنے، شکر کرنے اور بہتر انداز میں اپنی عبادت کرنے میں میری مدد فرما۔ آمین

Offline
 

دُکھ نمبر ایک یہ کہ اول تو میں کسی کا بچپن کا پیار نہیں ہوں دوسرا
وہ خُوبصورت لڑکی جسکے حُسن کے تذکرے مشہور ناولز یا خطہء برصغیر کے معروف شعراء کے رومانوی کلاموں میں مِلتے ہیں
جو لیلی سے بھی زیادہ حسین ہے
اب کمنٹ نہیں کرتی

Offline
 

جہاں صرف مسکراہٹ دوا بن سکتی ہو
وہاں کچھ لفظ محفوظ رکھ لیجیے
کیا پتہ؟
آنے والے وقتوں میں
اچھے لفظوں کا قحط پڑ جاۓ
اور تکرار سے محفوظ اُنہی لفظوں کی حاجت ہو۔

Offline
 

کبھی کوئ خوبصورت احساس ہمیں چُھو لے تو یوں بھی ہوتا ہے کہ ہم خاموش ہو جاتے ہیں۔
جانتے ہیں کیوں؟
تب ہم لفظوں کی تلاش میں نکلے ہوتے ہیں۔ لفظ کبھی مل پاتے ہیں، کبھی نہیں۔
ہماری خاموشی کی وجہ بس یہی خوف ہوتا ہے کہ لفظوں کا کم تر انتخاب کہیں خوبصورت احساس کو بے وقعت نہ کردے۔
اگر زندگی پر اعتبار ہے، عمر پر نہیں تو کچھ انتظار کر لیجیے،
لفظ ملنے آتے ہی ہونگے۔

Offline
 

اسے نا عشق ھونا تھا اور نا ھی ھوا
شعر ہر رنگ کے ھم نے سنا ئے بہت

Offline
 

ایک لڑکے نے کلاس میں ایک لڑکی کو محبت بھرا خط لکھا کہ میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں اور اگر تمہیں مجھ سے محبت ہے تو کل سرخ سوٹ پہن کر آنا ۔۔ خط ایک کتاب میں رکھ کر کہا کہ گھر جا کر پڑھ لینا۔ اگلے دن لڑکی زرد رنگ کے کپڑے پہن کر آئی اور کتاب واپس کردی ۔
لڑکا اداس ہو گیا۔
وقت بیت گیا اور لڑکی کی کہیں اور شادی ہو گئی۔۔
کچھ سال بیتے جب ایک دن کتابوں کی صفائی کرتے وقت لڑکے کو اس کتاب سے ایک پرچی ملی جس میں اسی لڑکی نے لکھا تھا۔ " مجھے بھی تم سے بہت محبت ہے مگر میں چاہتی ہوں تم میرے گھر والوں سے مجھے مانگو ۔ اور ہاں میں بہت غریب ہوں اور میرے پاس سرخ سوٹ خریدنے کے پیسے نہیں تھے ۔ "
لڑکے کی آنکھوں میں آنسو آ گئے ۔
مورال ۔ سال میں ایک بار لڑکوں کو سبجیکٹ کی کتابیں کھول کر دیکھ لینی چاہیے ۔
نوٹ اور ہاں اب آپ لوگ اپنی کتابیں مت کھنگالنے بیٹھ جانا

Offline
 

آج میں اپنے پرانےگھر گیا
وہاں مجھے بیتے دن ملے
اتوار جو سیڑھیوں کے قدمچوں پہ
اداس بیٹھا تھا
زنگ آلود پھاٹک کی کھڑکھڑاہٹ سے چونک اٹھا
اس کے پر رونق چہرے پہ زردی کھنڈی تھی
اور آنکھوں میں شکوہ تھا
ہنگامہ خیز صبحوں وآلا سوموار
باورچی خانے کی لوہے کی چکنائی جمی میز پہ
ہتھیلی پہ چہرہ ٹکائے
سر جھکائے بیٹھا تھا
اس کے سامنے دھری تام چینی کی ہری کیتلی کا پیندہ زنگ آلود ہو چکا تھا
منگل برآمدے میں دادی کی اونچی چوڑی پیڑھی پہ گھٹنوں میں سر دیئے بیٹھا تھا
کسی بھی آہٹ پہ اس نے چونک کر سر نہیں اٹھایا
شائد وہ اتنا خفا تھا

Offline
 

یا کسی کی بھی آمد سے اتنا مایوس
میں نے بدھ کو ڈھونڈنا چاہا
وہ ڈیوڑھی کی قلعی اتری دیواروں پہ
چاک سے آڑھی ترچھی لکیریں کھینچ رہا تھا میں نے غور سے دیکھا
تو وہ لکیریں ہیولے تھے
اسی مکان کے مکینوں کے ہیولے
اور جمعرات !!
جمعرات !ابھی بھی پیڑ تلے
بچھی بان کی چارپائی پہ
ہل ہل کر سبق یاد کرنے کی کوششوں میں تھا
جمعہ کو مجھے تلاش کرنے کے لیئے کئی کمروں میں جھانکنا پڑا
بلآخر وہ مجھے امی کے کمرے میں
گرد کے ذرات سے رقصاں روشنی کی کرنوں میں
مصلے پہ خوشبودار تیل لگائے بیٹھا ملا
اس کے متورم چہرے پہ آنسوؤں کی نمی تھی
اورکمرے میں اک مانوس وجود کی کمی تھی

Offline
 

میں گھبرا کر صحن میں نکل آیا
تیسری منزل کی چھت پہ منڈیر پہ ٹھوڑی ٹکائے ایک بچہ
دور فضا میں تیرتی چیل کو دیکھ رہا تھا
میرے ہونے سے بھی اس کے ارتکاز میں کمی نہیں آئی
وہ ہفتہ تھا
مشترک کمرے میں رخصت کے آخری برس کا کیلنڈر
دیوار کے سینے سے سہمے بچے کی طرح چمٹا تھا
یہ سب مجھ سے شاکی تھے
اور میں مجبور تھا
لیکن ارتقاء کی خواہش انسان کی جبلت ھے
اور حالات کا چابک اسے مسلسل آگے دوڑاتا رہتا ھے
کچھ دنوں میں یہ مکان
ان سارے بیتے دنوں کا مدفن بن جائے گا
اور اسی کی بنیاد سے ایک نئی عمارت سر اٹھائے گی
نئے مکینوں کی نئی عمارت
اور یہ بیتے ہوئے دن بھی محض ایک یاد بن کر رہ جائیں گے
مرے ہوئے لوگوں کی طرح

Offline
 

عطاالحق قاسمی امریکہ گئے تو ایک لڑکی نے ان سے حیرانی سے پوچھا؛
"کیاسچ مچ اپ کے ملک میں شادیاں دولہا, دلہن کے بجائے ان کے والدین کی مرضی سے طے ہوتی ہیں اور لڑکا لڑکی ایک دوسرے کی صورت سے بھی آشنا نہیں ہوتے۔"
عطاالحق قاسمی نے کہا؛
بات صرف ایک حد تک درست ہے ۔یعنی شادیاں طے دولہا دولہن کے والدین ہی کرتے ہیں مگر طے کرنے سے پہلے دولہا دولہن کی رائے ضرور لیتے ہیں۔
"انکار کر دیں تو کیا ہوتا ہے؟" لڑکی نے اشتیاق سے پوچھا.
" پھر بھی کر دیتے ہیں "
عطاالحق قاسمی نے ٹھنڈی آہ بھر کر جواب دیا

Offline
 

تعلق کا آغاز ہمیشہ تعارف سے ہوتا ھے۔اس کے بعد فریقین باہمی دلچسپی سے شناسائی کے زینے طے کرتے ہوئے بتدریج دوستی اور بے تکلفی کے درجے تک پہنچتے ہیں۔ لیکن جہاں فریق ثانی آپ کی ذات سے مکمل تعارف بھی نہ رکھتا ہو۔ وہاں بلاوجہ کی بے تکلفی دکھانا اور ہوہو ہاہا مچانا سراسر چھچھورپن کے زمرے میں آتا ھے۔ اور چھچھورپن کبھی بھی آپ کی شخصیت میں وقار اور عزت کے اضافے کا باعث نہیں بنتا۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ لوگ آپ کی عزت کریں۔تو سب سے پہلے اپنی عزت خود کریں۔

Offline
 

لمحے کتنے طویل محسوس ہوتے ہیں
اور سال ہے کہ اتنا مختصر
عجیب ہے ناں؟
شب بخیر

Offline
 

"محبتیں"
وہ صبح ناراض ہو کر گھر چھوڑ گیا تھا۔
بیمار والدہ اور بہنیں دہلیز پر بیٹھی پریشان رو رہی تھیں اور نیچے پگڈنڈیوں کو تکے جا رہی تھیں۔
سخت گیر والد آیا اور گرجدار آواز میں بولا "نیک بخت وہ آجاۓ گا۔ خبردار جو اُس لوفر کے لیے کوئ رویا۔ جاؤ آرام کرو"۔ یہ کہہ کر وہ اندر چلا گیا۔
ماں بھی بستر پر پڑ گئ۔
رات کے آخری پہر بے چینی سے ماں کی آنکھ کُھلی۔ چپکے سے دہلیز پر جانے لگی تو دیکھا وہاں والد شال اوڑھے کھڑا نیچے پگڈنڈیوں کو تَکے جا رہا تھا۔
ماں دھیرے سے بولی
"آپ سوۓ نہیں؟"
کچھ دیر خاموشی رہی پھر والد ٹھہرے لہجے میں بولا
" وہ صبح آجاۓ گا انشاءاللہ۔ آجاۓ تو صاحبزادے کو اچھے سے ناشتہ کرا دینا"
جاتے ہوۓ پھر رُک گیا اور کہا
" ہاں اُس سے کہنا ابا بلکل بھی غصے میں نہیں ہے"۔

Offline
 

؎ جگ نے چِھینا مُجھ سے،
مُجھے جو بھی لگا پیارا.....
وہ جب بھی پوسٹ کرتی تھیں مُجھے ڈی ڈی کی طرف سے اُنکے پو سٹ کرنے کا نوٹی فیکیشن آ جاتا تھا ۔ ۔ ۔
اور میں حسبِ معمول دل والا لائک تو کبھی کمنٹ وغیرہ کردیتا تھا۔ ۔ ۔
مگر میں ابھی سوچ رہا تھا کہ یار آج اُنکا کوئی نوٹی فیکشن نہیں آیا ۔ ۔ ۔ کہیں سو نہ گیا ہو چلو میں خُود چل کر چیک کرتا ہوں۔ ۔ ۔
اُفف اتنا چلا کہ چل چل ٹانگیں تھک گئیں ۔ ۔ ۔ مگر
جب ، میں اُنکے کُوچے کو پہنچا تو وہاں فا لو کا بٹن مُنہ چرا رہا تھا۔۔ ۔

Offline
 

فرض کریں ۔آپ کے پاس کوئی قیمتی نفیس سی گھڑی ھے۔ وہ عرصہ دراز سے ایک نفیس مخملیں باکس میں بند ھے۔اس پہ چلتی سوئیاں تک رک چکی ہیں۔رکی سوئیوں کے باوجود اس پہ بیس بائیس برس یا اس سے بھی زیادہ کا عرصہ گزر چکا ھے۔ مگر آپ نے اسے ایک بار بھی استعمال نہیں کیا۔
تو اب وہ گھڑی پرانی ہوئی یا نئی ؟؟؟

Offline
 

نہ تُجھ کو خبر ہوئی نہ زمانہ سمجھ سکا ،
ہم چُپکے چُپکے تُجھ پر کئی بار مر گئے..

Memes & Satire image
O  : And jobless - 
Offline
 

لوگ دیوانے ہیں بناوٹ کے، ہم کہاں جائیں اپنی شرارتیں لے کر

Offline
 

کوئی چھاؤں ہو
جِسے چھاؤں کہنے میں
دوپہر کا گُماں نا ہو
کوئی شام ہو
جِسے شام کہنے میں
شب کا کوئی نِشاں نا ہو
کوئی وصل ہو
جسے وصل کہنے میں
ہجر رُت کا دھواں نا ہو
کوئی لفظ ہو
جسے لِکھنے پڑھنے کی چاہ میں
کبھی ایک لمحہ گَراں نہ ہو
یہ کہاں ہُوا کہ ہم تُمہیں
کبھی اپنے دل سے پُکارنے کی سعی کریں
وہی آرزو، بے اماں نہ ہو
وہی موسمِ غمِ جاں نہ ہو۔۔۔