یہ لطیفہ کسی نے ایس ایم ایس کیا ۔
"ایک شخص خالی کاغذ چوم رہا تھا
دوست :یہ کیا کررھےہو.؟
شخص :لو لیٹر آیاھے
دوست :مگر یہ تو خالی ھے
شخص :آجکل بول چال بند ھے."
ہائے محبوب کا خط خالی بھی ہو تو رابطہ تو ہے ۔
مجھے اس خالی خط نے میری بندگی سے خالی بےروح عبادتیں یاد دلا دیں۔ جاءنماز لپیٹنے کی خواہش میں پھیلاتا، ڈیوٹی نبھانے کی نیت سے مارے باندھے کی جانے والی خالی کاسے جیسے نمازیں ، سجدے کی لذت سے محروم بس ماتھا ٹیکنے کی رسم کی ادائی اور معنی و مفہوم سے ناآشنا رٹی رٹائی دعائیں جو
کبھی اٹھے ہاتھوں، پھیلے دامن یا بھینچی مٹھیوں کے ساتھ خالی الذہنی کے عالم میں دہرا لیتا ہوں ۔ ایسی نماز جس کی قبولیت کی بےیقینی ہمیشہ دامنگیر رہتی ہے ۔
آج اس میسج نے تسلی دے دی ۔ مجھ سے محبت کرنے والا میرا خالق میرا رب جس کا ہر دعوی سچا ہے، میرے خالی کاغذ پر بھی قبولیت کی مہر چسپاں کر دے گا ۔ اس کی محبت میرے کورے کاغذ کو بھر دے گی ۔ وہ مجھے قبول کر لے گا ۔ بس رابطہ قائم رہے ۔ قلب منیب حاصل رہے ۔ تار جڑی رہے، لو لگی رہے ۔
اے رب! مجھے نماز قائم کرنے والا بنا دے، اے ہمارے رب! اور میری دعا قبول فرما
“اے اللہ! اپنا ذکر کرنے، شکر کرنے اور بہتر انداز میں اپنی عبادت کرنے میں میری مدد فرما۔ آمین
دُکھ نمبر ایک یہ کہ اول تو میں کسی کا بچپن کا پیار نہیں ہوں دوسرا
وہ خُوبصورت لڑکی جسکے حُسن کے تذکرے مشہور ناولز یا خطہء برصغیر کے معروف شعراء کے رومانوی کلاموں میں مِلتے ہیں
جو لیلی سے بھی زیادہ حسین ہے
اب کمنٹ نہیں کرتی
جہاں صرف مسکراہٹ دوا بن سکتی ہو
وہاں کچھ لفظ محفوظ رکھ لیجیے
کیا پتہ؟
آنے والے وقتوں میں
اچھے لفظوں کا قحط پڑ جاۓ
اور تکرار سے محفوظ اُنہی لفظوں کی حاجت ہو۔
کبھی کوئ خوبصورت احساس ہمیں چُھو لے تو یوں بھی ہوتا ہے کہ ہم خاموش ہو جاتے ہیں۔
جانتے ہیں کیوں؟
تب ہم لفظوں کی تلاش میں نکلے ہوتے ہیں۔ لفظ کبھی مل پاتے ہیں، کبھی نہیں۔
ہماری خاموشی کی وجہ بس یہی خوف ہوتا ہے کہ لفظوں کا کم تر انتخاب کہیں خوبصورت احساس کو بے وقعت نہ کردے۔
اگر زندگی پر اعتبار ہے، عمر پر نہیں تو کچھ انتظار کر لیجیے،
لفظ ملنے آتے ہی ہونگے۔
اسے نا عشق ھونا تھا اور نا ھی ھوا
شعر ہر رنگ کے ھم نے سنا ئے بہت
ایک لڑکے نے کلاس میں ایک لڑکی کو محبت بھرا خط لکھا کہ میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں اور اگر تمہیں مجھ سے محبت ہے تو کل سرخ سوٹ پہن کر آنا ۔۔ خط ایک کتاب میں رکھ کر کہا کہ گھر جا کر پڑھ لینا۔ اگلے دن لڑکی زرد رنگ کے کپڑے پہن کر آئی اور کتاب واپس کردی ۔
لڑکا اداس ہو گیا۔
وقت بیت گیا اور لڑکی کی کہیں اور شادی ہو گئی۔۔
کچھ سال بیتے جب ایک دن کتابوں کی صفائی کرتے وقت لڑکے کو اس کتاب سے ایک پرچی ملی جس میں اسی لڑکی نے لکھا تھا۔ " مجھے بھی تم سے بہت محبت ہے مگر میں چاہتی ہوں تم میرے گھر والوں سے مجھے مانگو ۔ اور ہاں میں بہت غریب ہوں اور میرے پاس سرخ سوٹ خریدنے کے پیسے نہیں تھے ۔ "
لڑکے کی آنکھوں میں آنسو آ گئے ۔
مورال ۔ سال میں ایک بار لڑکوں کو سبجیکٹ کی کتابیں کھول کر دیکھ لینی چاہیے ۔
نوٹ اور ہاں اب آپ لوگ اپنی کتابیں مت کھنگالنے بیٹھ جانا
آج میں اپنے پرانےگھر گیا
وہاں مجھے بیتے دن ملے
اتوار جو سیڑھیوں کے قدمچوں پہ
اداس بیٹھا تھا
زنگ آلود پھاٹک کی کھڑکھڑاہٹ سے چونک اٹھا
اس کے پر رونق چہرے پہ زردی کھنڈی تھی
اور آنکھوں میں شکوہ تھا
ہنگامہ خیز صبحوں وآلا سوموار
باورچی خانے کی لوہے کی چکنائی جمی میز پہ
ہتھیلی پہ چہرہ ٹکائے
سر جھکائے بیٹھا تھا
اس کے سامنے دھری تام چینی کی ہری کیتلی کا پیندہ زنگ آلود ہو چکا تھا
منگل برآمدے میں دادی کی اونچی چوڑی پیڑھی پہ گھٹنوں میں سر دیئے بیٹھا تھا
کسی بھی آہٹ پہ اس نے چونک کر سر نہیں اٹھایا
شائد وہ اتنا خفا تھا
یا کسی کی بھی آمد سے اتنا مایوس
میں نے بدھ کو ڈھونڈنا چاہا
وہ ڈیوڑھی کی قلعی اتری دیواروں پہ
چاک سے آڑھی ترچھی لکیریں کھینچ رہا تھا میں نے غور سے دیکھا
تو وہ لکیریں ہیولے تھے
اسی مکان کے مکینوں کے ہیولے
اور جمعرات !!
جمعرات !ابھی بھی پیڑ تلے
بچھی بان کی چارپائی پہ
ہل ہل کر سبق یاد کرنے کی کوششوں میں تھا
جمعہ کو مجھے تلاش کرنے کے لیئے کئی کمروں میں جھانکنا پڑا
بلآخر وہ مجھے امی کے کمرے میں
گرد کے ذرات سے رقصاں روشنی کی کرنوں میں
مصلے پہ خوشبودار تیل لگائے بیٹھا ملا
اس کے متورم چہرے پہ آنسوؤں کی نمی تھی
اورکمرے میں اک مانوس وجود کی کمی تھی
میں گھبرا کر صحن میں نکل آیا
تیسری منزل کی چھت پہ منڈیر پہ ٹھوڑی ٹکائے ایک بچہ
دور فضا میں تیرتی چیل کو دیکھ رہا تھا
میرے ہونے سے بھی اس کے ارتکاز میں کمی نہیں آئی
وہ ہفتہ تھا
مشترک کمرے میں رخصت کے آخری برس کا کیلنڈر
دیوار کے سینے سے سہمے بچے کی طرح چمٹا تھا
یہ سب مجھ سے شاکی تھے
اور میں مجبور تھا
لیکن ارتقاء کی خواہش انسان کی جبلت ھے
اور حالات کا چابک اسے مسلسل آگے دوڑاتا رہتا ھے
کچھ دنوں میں یہ مکان
ان سارے بیتے دنوں کا مدفن بن جائے گا
اور اسی کی بنیاد سے ایک نئی عمارت سر اٹھائے گی
نئے مکینوں کی نئی عمارت
اور یہ بیتے ہوئے دن بھی محض ایک یاد بن کر رہ جائیں گے
مرے ہوئے لوگوں کی طرح
عطاالحق قاسمی امریکہ گئے تو ایک لڑکی نے ان سے حیرانی سے پوچھا؛
"کیاسچ مچ اپ کے ملک میں شادیاں دولہا, دلہن کے بجائے ان کے والدین کی مرضی سے طے ہوتی ہیں اور لڑکا لڑکی ایک دوسرے کی صورت سے بھی آشنا نہیں ہوتے۔"
عطاالحق قاسمی نے کہا؛
بات صرف ایک حد تک درست ہے ۔یعنی شادیاں طے دولہا دولہن کے والدین ہی کرتے ہیں مگر طے کرنے سے پہلے دولہا دولہن کی رائے ضرور لیتے ہیں۔
"انکار کر دیں تو کیا ہوتا ہے؟" لڑکی نے اشتیاق سے پوچھا.
" پھر بھی کر دیتے ہیں "
عطاالحق قاسمی نے ٹھنڈی آہ بھر کر جواب دیا
تعلق کا آغاز ہمیشہ تعارف سے ہوتا ھے۔اس کے بعد فریقین باہمی دلچسپی سے شناسائی کے زینے طے کرتے ہوئے بتدریج دوستی اور بے تکلفی کے درجے تک پہنچتے ہیں۔ لیکن جہاں فریق ثانی آپ کی ذات سے مکمل تعارف بھی نہ رکھتا ہو۔ وہاں بلاوجہ کی بے تکلفی دکھانا اور ہوہو ہاہا مچانا سراسر چھچھورپن کے زمرے میں آتا ھے۔ اور چھچھورپن کبھی بھی آپ کی شخصیت میں وقار اور عزت کے اضافے کا باعث نہیں بنتا۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ لوگ آپ کی عزت کریں۔تو سب سے پہلے اپنی عزت خود کریں۔
لمحے کتنے طویل محسوس ہوتے ہیں
اور سال ہے کہ اتنا مختصر
عجیب ہے ناں؟
شب بخیر
"محبتیں"
وہ صبح ناراض ہو کر گھر چھوڑ گیا تھا۔
بیمار والدہ اور بہنیں دہلیز پر بیٹھی پریشان رو رہی تھیں اور نیچے پگڈنڈیوں کو تکے جا رہی تھیں۔
سخت گیر والد آیا اور گرجدار آواز میں بولا "نیک بخت وہ آجاۓ گا۔ خبردار جو اُس لوفر کے لیے کوئ رویا۔ جاؤ آرام کرو"۔ یہ کہہ کر وہ اندر چلا گیا۔
ماں بھی بستر پر پڑ گئ۔
رات کے آخری پہر بے چینی سے ماں کی آنکھ کُھلی۔ چپکے سے دہلیز پر جانے لگی تو دیکھا وہاں والد شال اوڑھے کھڑا نیچے پگڈنڈیوں کو تَکے جا رہا تھا۔
ماں دھیرے سے بولی
"آپ سوۓ نہیں؟"
کچھ دیر خاموشی رہی پھر والد ٹھہرے لہجے میں بولا
" وہ صبح آجاۓ گا انشاءاللہ۔ آجاۓ تو صاحبزادے کو اچھے سے ناشتہ کرا دینا"
جاتے ہوۓ پھر رُک گیا اور کہا
" ہاں اُس سے کہنا ابا بلکل بھی غصے میں نہیں ہے"۔
؎ جگ نے چِھینا مُجھ سے،
مُجھے جو بھی لگا پیارا.....
وہ جب بھی پوسٹ کرتی تھیں مُجھے ڈی ڈی کی طرف سے اُنکے پو سٹ کرنے کا نوٹی فیکیشن آ جاتا تھا ۔ ۔ ۔
اور میں حسبِ معمول دل والا لائک تو کبھی کمنٹ وغیرہ کردیتا تھا۔ ۔ ۔
مگر میں ابھی سوچ رہا تھا کہ یار آج اُنکا کوئی نوٹی فیکشن نہیں آیا ۔ ۔ ۔ کہیں سو نہ گیا ہو چلو میں خُود چل کر چیک کرتا ہوں۔ ۔ ۔
اُفف اتنا چلا کہ چل چل ٹانگیں تھک گئیں ۔ ۔ ۔ مگر
جب ، میں اُنکے کُوچے کو پہنچا تو وہاں فا لو کا بٹن مُنہ چرا رہا تھا۔۔ ۔
فرض کریں ۔آپ کے پاس کوئی قیمتی نفیس سی گھڑی ھے۔ وہ عرصہ دراز سے ایک نفیس مخملیں باکس میں بند ھے۔اس پہ چلتی سوئیاں تک رک چکی ہیں۔رکی سوئیوں کے باوجود اس پہ بیس بائیس برس یا اس سے بھی زیادہ کا عرصہ گزر چکا ھے۔ مگر آپ نے اسے ایک بار بھی استعمال نہیں کیا۔
تو اب وہ گھڑی پرانی ہوئی یا نئی ؟؟؟
نہ تُجھ کو خبر ہوئی نہ زمانہ سمجھ سکا ،
ہم چُپکے چُپکے تُجھ پر کئی بار مر گئے..
لوگ دیوانے ہیں بناوٹ کے، ہم کہاں جائیں اپنی شرارتیں لے کر
کوئی چھاؤں ہو
جِسے چھاؤں کہنے میں
دوپہر کا گُماں نا ہو
کوئی شام ہو
جِسے شام کہنے میں
شب کا کوئی نِشاں نا ہو
کوئی وصل ہو
جسے وصل کہنے میں
ہجر رُت کا دھواں نا ہو
کوئی لفظ ہو
جسے لِکھنے پڑھنے کی چاہ میں
کبھی ایک لمحہ گَراں نہ ہو
یہ کہاں ہُوا کہ ہم تُمہیں
کبھی اپنے دل سے پُکارنے کی سعی کریں
وہی آرزو، بے اماں نہ ہو
وہی موسمِ غمِ جاں نہ ہو۔۔۔
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain