کہیں ایک قصہ پڑھا تھا کہ سمندر کنارے ایک شخص واک کرنے جاتا ہے تو کیا دیکھتا ہے کوئی شخص نیچے جھکتا ہوا کوئی چیز اٹھاتا ہے اور سمندر میں پھینک دیتا ہے وہ ذرا قریب جاتا ہے تو کیا دیکھتا ہے ہزاروں مچھلیاں کنارے پہ پڑی تڑپ رہی ہیں شاید کسی تازہ موج نے انہیں سمندر سے نکال کر ریت پہ لا پٹخا تھا۔
اور وہ شخص ان مچھلیوں کو واپس سمندر میں پھینکنے کی کوشش کر رہا ہے
اسے اس شخص کی بیوقوفی پر ہنسی آتی اور ہنستے ہوئے اسے کہتا اس طرح کیا فرق پڑنا ہزاروں مچھلیاں ہیں کتنی بچا پاؤ گے؟
وہ شخص نیچے جھکا ایک تڑپتی مچھلی کو اٹھایا اور سمندر میں اچھال دیا پھر سکون سے دوسرے شخص کو کہا اسے فرق پڑا۔
ہماری چھوٹی سی کاوش سے بھلے مجموعی حالات تبدیل نہ ہوں مگر کسی ایک کے لیے وہ فائدے مند ہو سکتی ہے۔
اپنی بساط کے مطابق اچھائی کرتے رہیں اس فکر میں مبتلا نہ ہوں کہ آپ کی اس کوشش سے معاشرے میں کتنی تبدیلی آئی۔۔۔۔
ﷲ پاک آپ کو آسانی عطاء فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف بخشے۔ آمین
کیا اب بھی اس گلی کے کونے سے اٹھتی ھے راگ کی صدا
کیا اب بھی اک چاپ ‛ چپ چاپ گزر جاتی ھے
گراتی ھے اب بھی اس راہ گزر میں زرد پتوں کو
یا اب وہاں سے ہوا چپ چاپ گزر جاتی ھے
جب سے لگی ھے زمانے کو اک نئی ہوا
تتلی بھی پھولوں سے چپ چاپ گزر جاتی ھے
ہنسی لبوں سے پھوٹ پڑتی ھے اک ترنم کی صورت ھے
اک آہ ھے دل سے جو چپ چاپ گزر جاتی ھے
انتظار رہتا ھے دریچے میں ایستادہ مسلسل
اک چال دہلیز سے چپ چاپ گزر جاتی ھے
وقت ہراساں دوڑتا پھرتا ھے شب و روز میں
ساعت ساعت کیلنڈر سے چپ چاپ گزر جاتی ھے
کائنات میں روحیں ایکدوسرے سے جڑتی رہتی ہیں , اگر کبھی کوئی دکھ , خوف یا بے نام احساس بے وجہ حاوی ہو تو وجہ دینا ضروری نہیں , ہو سکتا ہے اس کی وجہ کسی ایسی روح کے پاس ہو جو ہم سے میلوں دور ہو یا پھر صدیوں دور
صرف محنت کیا ہے انورؔ کامیابی کے لئے
کوئی اوپر سے بھی ٹیلیفون ہونا چاہئے
" میرے تخیل میں ایک ان چھوئے احساس کی صورت کچھ محو رقصاں ھے ، جسے لفظوں میں لکھنے سے قاصر ہوں ۔۔
برسوں پُرانا دوست مِلا، جیسے غیر ہو
دیکھا، رُکا، جِھجک کے کہا: "تم.. عمیر ہو؟"
کمرے میں سِگرٹوں کا دُھواں اور تری مہک
جیسے شدید دُھند میں باغوں کی سیر ہو
مِلتے ہیں مُشکلوں سے یہاں، ہم خیال لوگ
تیرے تمام چاہنے والوں کی خیر ہو
ہم مطمئن بہت ہیں اگر خُوش نہیں بھی ہیں
تم خُوش ہو، کیا ہوا جو ہمارے بغیر ہو
کچھ تو ہو درمیان، بچھڑنے کے بعد بھی
کچھ بھی، بھلے قلق ہو، شکایت ہو، بیر ہو
روحِ من!
آنکھیں تیرے تابع کر دی گئی ہیں..
اِن کا کِھل اُٹھنا،
مُرجھا جانا،
تیرے نظر آنے، نہ آنے سے وابستہ ہے
ﻣﺤﺒﺖ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﮨﻮﺗﯽ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﺗﻮ ﺍﺱ ﭘﮧ ﻋﻤﺮ ﺑﻬﺮ ﭼﻠﺘﮯ !
ﮐﮩﯿﮟ ﺗﻬﮏ ﮐﮯ جو ﺭُﮎ ﺟﺎﺗﮯ ۔۔۔۔۔
ﺗﻮ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ﺗﯿﺮﯼ ﺁﺭﺯﻭ ﮐﺮﺗﮯ !!
ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻻ ﮐﺮ ﺧﯿﺎﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﺗﻤﻬﯽ ﺳﮯ ۔۔۔۔۔۔ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﮐﺮﺗﮯ !!
ﺗﻤﻬﯽ ﮐﻮ ﺳﻮﭼﺘﮯ ﭘﮩﺮﻭﮞ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﺗﻤﻬﺎﺭﯼ ﺟُﺴﺘﺠﻮ ﮐﺮﺗﮯ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !!!
ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ﺯﺧﻢ ﺑﻬﯽ ﺩﯾﺘﮯ،
ﺗﻮ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ﮨﻢ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺭﻓﻮ ﮐﺮﺗﮯ !!
ﮐﻮﺋﯽ ﺷﮑﻮﮦ، ﮔِﻠﮧ ﮨﻮ ﺗﺎ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﺗﻮ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ۔۔۔۔۔۔ ﺭُﻭ ﺑﺮُﻭ ﮐﺮﺗﮯ !!
ﻣﺤﺒﺖ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﮨﻮﺗﯽ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﺗﻮ ﺍﺱ ﭘﮧ ﻋﻤﺮ ﺑﻬﺮ ﭼﻠﺘﮯ
خود کو اتنا قابل انسان بنائیں کہ آپ سے انجانے میں کوئی چول وج بھی جائے، تو لوگ اُس میں بھی حِکمت تلاش کریں
دوستو! آج سے نئی زندگی کی شروعات کررہا ہوں۔ سو شل میڈ یا پر ہر ایک تقریباً اپنی اصل پہچان ظاہر نہیں کرتا، اور میں بھی اسی طرح اکثر سب کو غلط سلط بتاتا رہا ہوں۔ لیکن پھر چند ماہ پہلے ایک بہت ہی اچھی اور مخلص لڑکی سے دوستی ہوگئی, اس کے خلوص اور محبت کا ہی اثر تھا کچھ بھی جھوٹ نہیں بولا گیا، آج ہماری فیملیز کی ملاقات ہوئی ہے اور اگلے اتوار ہماری منگنی ہے۔ ایک دوست کی وال سے کاپیڈ۔ سب کا شکریہ
بہت سے راز پوشِیدہ ہیں اس تنہا پَسندی میں
یہ مت سمجھو کہ دِیوانے جہاں دِیدہ نہیں ہوتے
تَعجب کیا ہے اے اِقبالؔ جو دُنیا تُجھ سے ناخُوش ہے
بہت سے لوگ دُنیا میں پَسندیدہ نہیں ہوتے
قصّے میری اُلفت کے جو مرقوم ہیں سارے
آ دیکھ ترے نام سے موسوم ہیں سارے
بس اس لئے ہر کام ادھورا ہی پڑا ہے
خادم بھی میری قوم کے مخدوم ہیں سارے
شاید یہ ظرف ہے جو خاموش ہوں اب تک
ورنہ تو ترے عیب بھی معلوم ہیں سارے
سب جُرم میری ذات سے منسوب ہیں محسنؔ
کیا میرے سوا اس شہر میں معصوم ہیں سارے...!
کرکٹ میچ ہورہا تھا۔ شوہر انہماک سے میچ دیکھ رہا تھا
بیوی: کون کھیل رہا ہے؟
شوہر:پاکستان
بیوی:اوہو ۔۔ کھلاڑی کونسا ہے؟
شوہر: آفریدی
بیوی:شاہد آفریدی؟
شوہر:ہاں بھئی شاہد آفریدی
بیوی:اس بےچارے کی صرف بیٹیاں ہی ہیں نا؟
شوہر:پتہ نہیں
بیوی:میں نے اسکا انٹرویو دیکھا تھا۔ بیٹا نہیں اسکا۔
شوہر: اوکے
چند منٹ خاموشی . .
بیوی:اچھا ۔ آج انڈیا جیت گیا تو ؟
شوہر: نہیں بنگلہ دیش سے میچ ہے
بیوی: اوہ۔ بنگلہ دیش پہلے پاکستان کا حصہ تھا نا؟
شوہر: ہاں بابا۔ پر اب آزاد ملک ہے
بیوی: مجھے پتہ ہے۔ بنگلہ دیش کا سکور کیا ہے؟
شوہر: اوہو۔پہلے ہم بیٹنگ کررہے ہیں۔ وہ فیلڈنگ
بیوی: اچھا؟ چلو پاکستان کا سکور بتا دو
شوہر: 140
بیوی: جاوید میاں داد نے کتنے رنز کیے؟
شوہر: وہ ریٹائر ہوچکا ہے۔ اب نہیں کھیلتا
بیوی:پھر کون کھیل رہا ہے؟
شوہر:شعیب ہے
بیوی:اوہ جس نے ثانیہ مرزا سے شادی کی؟
شوہر: ہاں وہی
بیوی:ثانیہ کا ابھی کوئی بچہ نہیں ہوا نا؟
شوہر:پتہ نہیں
پھر چند منٹ خاموشی . .
بیوی: ویسے سانیہ انڈیا میں رہتی ہے یا پاکستان ؟
شوہر:مجھے کیا پتہ ؟
بیوی:اوہو غصہ کیوں کرتے ہو۔ ایسے ہی پوچھا تھا
شوہر: غصہ نہیں۔ بس میرا دھیان میچ میں ہے
بیوی:اچھا میچ کب ختم ہوگا؟
شوہر:آخری دو اوور رہ گئے ہیں
بیوی: میچ والے دن آپ کو کسی چیز کا ہوش نہیں رہتا۔ نہ بیوی کا نہ بچوں کا۔
شوہر:بس آخری اوور ہے
بیوی: پھر کیا ہوگا ؟
شوہر: پھر بنگلہ دیش کھیلے گا۔
بیوی: مطلب پاکستان فیلڈنگ کرے گا
شوہر:ہاں ۔ یہ لو پاکستان کی باری ختم۔
بیوی:ٹوٹل سکور کیا ہوا ؟
شوہر:168
بیوی:ذرا ریموٹ دینا
بیوی نے چینل تبدیل کرکے ڈرامہ لگایا . .
شوہر: کونسا ڈرامہ ہے؟
بیوی: دیکھیئے میں نے آپ کو میچ میں ڈسٹرب نہیں کیا۔ اب پلیز جب تک ڈرامہ لگا ہے میرا سر مت کھائیے ۔ جائیں بچوں کو ذرا پارک میں لے جائیں
افلاطون نے سوال کیا۔
" تمہیں معلوم ہے بیوقوف قوم کی کیا نشانی ہے؟"
سقراط سامنے بیٹھا تھا۔
افلاطون کے سوال پر اسے یک ٹک دیکھے جارہا تھا۔
سقراط اپنے سب فلسفوں کے مطابق بیوقوف کی نشانیاں بتا چکا تھا۔
اور جب افلاطون نے اصل جواب دیا... تو سقراط نے ہلکے سے زہر کا پیالہ دوبارہ منگوا کر پی لیا۔
معلوم ہے افلاطون نے کیا جواب دیا...؟
اس نے کہا کہ " بیوقوف قوم کی سب سے بڑی نشانی ہے کہ وہ اپنے گھر کی چھتوں پر پانی کی نیلی ٹینکیاں لگاتی ہے۔"
جس کی شرح میں بعض مفکرین لکھتے ہیں کہ نیلی ٹینکی والے افلاطون کے نزدیک بیوقوف اس لیے قرار پائے کیونکہ....
" ایسی ٹینکیوں میں گرمیوں میں پانی شدید گرم اور سردیوں میں شدید سرد ہوجاتا ہے
جہاں کسی کی محبت کسی اور کی ہونے جارہی ہوتی ہے وہیں کچھ لوگ کہہ رہے ہوتے ہیں. . .
قورمہ کچا سی، نان ٹھنڈے سی
بچپن کا زمانہ ہوتا تھا
خُوشیوں کا خزانہ ہوتا تھا
چاہت چاند کو پانے کی
دل تتلی کا دیوانہ ہوتا تھا
رونے کی وجہ نہ ہوتی تھی
ہسنے کا بہانہ ہوتا تھا
خبر نہ تھی کچھ شب کی
نہ شاموں کا ٹھکانہ ہوتا تھا
دادی کی کہانی ہوتی تھی
پریوں کا فسانہ ہوتا تھا
پیڑوں کی شاخیں چھوتے تھے
مٹی کا کھلونہ ہوتا تھا
غم کی زبان نہ ہوتی تھی
نہ غموں کا پیمانہ ہوتا تھا
بارش میں کاغذ کی کشتی
ہر موسم سہانا ہوتا تھا
وہ کھیل وہ ساتھی ہوتے تھے
ہر رشتہ نبھانا ہوتا تھا
بعض اوقات انسان اپنے دکھ درد کی شدت کم کرنے کیلئے کسی یار دوست کو کال ملاتا ہے اور تقریباََ آدھے گھنٹے بعد اُسے کہہ رہا ہوتا ہے . .
"کوئی نہیں یار ٹینشن نہ لے سب ٹھیک ہو جائے گا۔
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain