Damadam.pk
Offline's posts | Damadam

Offline's posts:

Offline
 

کہیں ایک قصہ پڑھا تھا کہ سمندر کنارے ایک شخص واک کرنے جاتا ہے تو کیا دیکھتا ہے کوئی شخص نیچے جھکتا ہوا کوئی چیز اٹھاتا ہے اور سمندر میں پھینک دیتا ہے وہ ذرا قریب جاتا ہے تو کیا دیکھتا ہے ہزاروں مچھلیاں کنارے پہ پڑی تڑپ رہی ہیں شاید کسی تازہ موج نے انہیں سمندر سے نکال کر ریت پہ لا پٹخا تھا۔
اور وہ شخص ان مچھلیوں کو واپس سمندر میں پھینکنے کی کوشش کر رہا ہے
اسے اس شخص کی بیوقوفی پر ہنسی آتی اور ہنستے ہوئے اسے کہتا اس طرح کیا فرق پڑنا ہزاروں مچھلیاں ہیں کتنی بچا پاؤ گے؟

Offline
 

وہ شخص نیچے جھکا ایک تڑپتی مچھلی کو اٹھایا اور سمندر میں اچھال دیا پھر سکون سے دوسرے شخص کو کہا اسے فرق پڑا۔
ہماری چھوٹی سی کاوش سے بھلے مجموعی حالات تبدیل نہ ہوں مگر کسی ایک کے لیے وہ فائدے مند ہو سکتی ہے۔
اپنی بساط کے مطابق اچھائی کرتے رہیں اس فکر میں مبتلا نہ ہوں کہ آپ کی اس کوشش سے معاشرے میں کتنی تبدیلی آئی۔۔۔۔
ﷲ پاک آپ کو آسانی عطاء فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف بخشے۔ آمین

Offline
 

کیا اب بھی اس گلی کے کونے سے اٹھتی ھے راگ کی صدا
کیا اب بھی اک چاپ ‛ چپ چاپ گزر جاتی ھے
گراتی ھے اب بھی اس راہ گزر میں زرد پتوں کو
یا اب وہاں سے ہوا چپ چاپ گزر جاتی ھے
جب سے لگی ھے زمانے کو اک نئی ہوا
تتلی بھی پھولوں سے چپ چاپ گزر جاتی ھے
ہنسی لبوں سے پھوٹ پڑتی ھے اک ترنم کی صورت ھے
اک آہ ھے دل سے جو چپ چاپ گزر جاتی ھے
انتظار رہتا ھے دریچے میں ایستادہ مسلسل
اک چال دہلیز سے چپ چاپ گزر جاتی ھے
وقت ہراساں دوڑتا پھرتا ھے شب و روز میں
ساعت ساعت کیلنڈر سے چپ چاپ گزر جاتی ھے

Offline
 

کائنات میں روحیں ایکدوسرے سے جڑتی رہتی ہیں , اگر کبھی کوئی دکھ , خوف یا بے نام احساس بے وجہ حاوی ہو تو وجہ دینا ضروری نہیں , ہو سکتا ہے اس کی وجہ کسی ایسی روح کے پاس ہو جو ہم سے میلوں دور ہو یا پھر صدیوں دور

Offline
 

صرف محنت کیا ہے انورؔ کامیابی کے لئے
کوئی اوپر سے بھی ٹیلیفون ہونا چاہئے

Offline
 

" میرے تخیل میں ایک ان چھوئے احساس کی صورت کچھ محو رقصاں ھے ، جسے لفظوں میں لکھنے سے قاصر ہوں ۔۔

Offline
 

برسوں پُرانا دوست مِلا، جیسے غیر ہو
دیکھا، رُکا، جِھجک کے کہا: "تم.. عمیر ہو؟"
کمرے میں سِگرٹوں کا دُھواں اور تری مہک
جیسے شدید دُھند میں باغوں کی سیر ہو
مِلتے ہیں مُشکلوں سے یہاں، ہم خیال لوگ
تیرے تمام چاہنے والوں کی خیر ہو
ہم مطمئن بہت ہیں اگر خُوش نہیں بھی ہیں
تم خُوش ہو، کیا ہوا جو ہمارے بغیر ہو
کچھ تو ہو درمیان، بچھڑنے کے بعد بھی
کچھ بھی، بھلے قلق ہو، شکایت ہو، بیر ہو

Offline
 

روحِ من!
آنکھیں تیرے تابع کر دی گئی ہیں..
اِن کا کِھل اُٹھنا،
مُرجھا جانا،
تیرے نظر آنے، نہ آنے سے وابستہ ہے

Offline
 

ﻣﺤﺒﺖ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﮨﻮﺗﯽ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﺗﻮ ﺍﺱ ﭘﮧ ﻋﻤﺮ ﺑﻬﺮ ﭼﻠﺘﮯ !
ﮐﮩﯿﮟ ﺗﻬﮏ ﮐﮯ جو ﺭُﮎ ﺟﺎﺗﮯ ۔۔۔۔۔
ﺗﻮ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ﺗﯿﺮﯼ ﺁﺭﺯﻭ ﮐﺮﺗﮯ !!
ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻻ ﮐﺮ ﺧﯿﺎﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﺗﻤﻬﯽ ﺳﮯ ۔۔۔۔۔۔ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﮐﺮﺗﮯ !!
ﺗﻤﻬﯽ ﮐﻮ ﺳﻮﭼﺘﮯ ﭘﮩﺮﻭﮞ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﺗﻤﻬﺎﺭﯼ ﺟُﺴﺘﺠﻮ ﮐﺮﺗﮯ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !!!
ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ﺯﺧﻢ ﺑﻬﯽ ﺩﯾﺘﮯ،
ﺗﻮ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ﮨﻢ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺭﻓﻮ ﮐﺮﺗﮯ !!
ﮐﻮﺋﯽ ﺷﮑﻮﮦ، ﮔِﻠﮧ ﮨﻮ ﺗﺎ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﺗﻮ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ۔۔۔۔۔۔ ﺭُﻭ ﺑﺮُﻭ ﮐﺮﺗﮯ !!
ﻣﺤﺒﺖ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﮨﻮﺗﯽ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﺗﻮ ﺍﺱ ﭘﮧ ﻋﻤﺮ ﺑﻬﺮ ﭼﻠﺘﮯ

Offline
 

خود کو اتنا قابل انسان بنائیں کہ آپ سے انجانے میں کوئی چول وج بھی جائے، تو لوگ اُس میں بھی حِکمت تلاش کریں

Offline
 

دوستو! آج سے نئی زندگی کی شروعات کررہا ہوں۔ سو شل میڈ یا پر ہر ایک تقریباً اپنی اصل پہچان ظاہر نہیں کرتا، اور میں بھی اسی طرح اکثر سب کو غلط سلط بتاتا رہا ہوں۔ لیکن پھر چند ماہ پہلے ایک بہت ہی اچھی اور مخلص لڑکی سے دوستی ہوگئی, اس کے خلوص اور محبت کا ہی اثر تھا کچھ بھی جھوٹ نہیں بولا گیا، آج ہماری فیملیز کی ملاقات ہوئی ہے اور اگلے اتوار ہماری منگنی ہے۔ ایک دوست کی وال سے کاپیڈ۔ سب کا شکریہ

Offline
 

بہت سے راز پوشِیدہ ہیں اس تنہا پَسندی میں
یہ مت سمجھو کہ دِیوانے جہاں دِیدہ نہیں ہوتے
تَعجب کیا ہے اے اِقبالؔ جو دُنیا تُجھ سے ناخُوش ہے
بہت سے لوگ دُنیا میں پَسندیدہ نہیں ہوتے

Offline
 

قصّے میری اُلفت کے جو مرقوم ہیں سارے
آ دیکھ ترے نام سے موسوم ہیں سارے
بس اس لئے ہر کام ادھورا ہی پڑا ہے
خادم بھی میری قوم کے مخدوم ہیں سارے
شاید یہ ظرف ہے جو خاموش ہوں اب تک
ورنہ تو ترے عیب بھی معلوم ہیں سارے
سب جُرم میری ذات سے منسوب ہیں محسنؔ
کیا میرے سوا اس شہر میں معصوم ہیں سارے...!

Offline
 

کرکٹ میچ ہورہا تھا۔ شوہر انہماک سے میچ دیکھ رہا تھا
بیوی: کون کھیل رہا ہے؟
شوہر:پاکستان
بیوی:اوہو ۔۔ کھلاڑی کونسا ہے؟
شوہر: آفریدی
بیوی:شاہد آفریدی؟
شوہر:ہاں بھئی شاہد آفریدی
بیوی:اس بےچارے کی صرف بیٹیاں ہی ہیں نا؟
شوہر:پتہ نہیں
بیوی:میں نے اسکا انٹرویو دیکھا تھا۔ بیٹا نہیں اسکا۔
شوہر: اوکے

Offline
 

چند منٹ خاموشی . .
بیوی:اچھا ۔ آج انڈیا جیت گیا تو ؟
شوہر: نہیں بنگلہ دیش سے میچ ہے
بیوی: اوہ۔ بنگلہ دیش پہلے پاکستان کا حصہ تھا نا؟
شوہر: ہاں بابا۔ پر اب آزاد ملک ہے
بیوی: مجھے پتہ ہے۔ بنگلہ دیش کا سکور کیا ہے؟
شوہر: اوہو۔پہلے ہم بیٹنگ کررہے ہیں۔ وہ فیلڈنگ
بیوی: اچھا؟ چلو پاکستان کا سکور بتا دو
شوہر: 140
بیوی: جاوید میاں داد نے کتنے رنز کیے؟
شوہر: وہ ریٹائر ہوچکا ہے۔ اب نہیں کھیلتا
بیوی:پھر کون کھیل رہا ہے؟
شوہر:شعیب ہے
بیوی:اوہ جس نے ثانیہ مرزا سے شادی کی؟
شوہر: ہاں وہی
بیوی:ثانیہ کا ابھی کوئی بچہ نہیں ہوا نا؟
شوہر:پتہ نہیں

Offline
 

پھر چند منٹ خاموشی . .
بیوی: ویسے سانیہ انڈیا میں رہتی ہے یا پاکستان ؟
شوہر:مجھے کیا پتہ ؟
بیوی:اوہو غصہ کیوں کرتے ہو۔ ایسے ہی پوچھا تھا
شوہر: غصہ نہیں۔ بس میرا دھیان میچ میں ہے
بیوی:اچھا میچ کب ختم ہوگا؟
شوہر:آخری دو اوور رہ گئے ہیں
بیوی: میچ والے دن آپ کو کسی چیز کا ہوش نہیں رہتا۔ نہ بیوی کا نہ بچوں کا۔
شوہر:بس آخری اوور ہے
بیوی: پھر کیا ہوگا ؟
شوہر: پھر بنگلہ دیش کھیلے گا۔
بیوی: مطلب پاکستان فیلڈنگ کرے گا
شوہر:ہاں ۔ یہ لو پاکستان کی باری ختم۔
بیوی:ٹوٹل سکور کیا ہوا ؟
شوہر:168
بیوی:ذرا ریموٹ دینا
بیوی نے چینل تبدیل کرکے ڈرامہ لگایا . .
شوہر: کونسا ڈرامہ ہے؟
بیوی: دیکھیئے میں نے آپ کو میچ میں ڈسٹرب نہیں کیا۔ اب پلیز جب تک ڈرامہ لگا ہے میرا سر مت کھائیے ۔ جائیں بچوں کو ذرا پارک میں لے جائیں

Offline
 

افلاطون نے سوال کیا۔
" تمہیں معلوم ہے بیوقوف قوم کی کیا نشانی ہے؟"
سقراط سامنے بیٹھا تھا۔
افلاطون کے سوال پر اسے یک ٹک دیکھے جارہا تھا۔
سقراط اپنے سب فلسفوں کے مطابق بیوقوف کی نشانیاں بتا چکا تھا۔
اور جب افلاطون نے اصل جواب دیا... تو سقراط نے ہلکے سے زہر کا پیالہ دوبارہ منگوا کر پی لیا۔
معلوم ہے افلاطون نے کیا جواب دیا...؟
اس نے کہا کہ " بیوقوف قوم کی سب سے بڑی نشانی ہے کہ وہ اپنے گھر کی چھتوں پر پانی کی نیلی ٹینکیاں لگاتی ہے۔"
جس کی شرح میں بعض مفکرین لکھتے ہیں کہ نیلی ٹینکی والے افلاطون کے نزدیک بیوقوف اس لیے قرار پائے کیونکہ....
" ایسی ٹینکیوں میں گرمیوں میں پانی شدید گرم اور سردیوں میں شدید سرد ہوجاتا ہے

Offline
 

جہاں کسی کی محبت کسی اور کی ہونے جارہی ہوتی ہے وہیں کچھ لوگ کہہ رہے ہوتے ہیں. . .
قورمہ کچا سی، نان ٹھنڈے سی

Offline
 

بچپن کا زمانہ ہوتا تھا
خُوشیوں کا خزانہ ہوتا تھا
چاہت چاند کو پانے کی
دل تتلی کا دیوانہ ہوتا تھا
رونے کی وجہ نہ ہوتی تھی
ہسنے کا بہانہ ہوتا تھا
خبر نہ تھی کچھ شب کی
نہ شاموں کا ٹھکانہ ہوتا تھا
دادی کی کہانی ہوتی تھی
پریوں کا فسانہ ہوتا تھا
پیڑوں کی شاخیں چھوتے تھے
مٹی کا کھلونہ ہوتا تھا
غم کی زبان نہ ہوتی تھی
نہ غموں کا پیمانہ ہوتا تھا
بارش میں کاغذ کی کشتی
ہر موسم سہانا ہوتا تھا
وہ کھیل وہ ساتھی ہوتے تھے
ہر رشتہ نبھانا ہوتا تھا

Offline
 

بعض اوقات انسان اپنے دکھ درد کی شدت کم کرنے کیلئے کسی یار دوست کو کال ملاتا ہے اور تقریباََ آدھے گھنٹے بعد اُسے کہہ رہا ہوتا ہے . .
"کوئی نہیں یار ٹینشن نہ لے سب ٹھیک ہو جائے گا۔