تشنگی آنکھوں میں اور دریا خیالوں میں رھے
ہم نوا اگر خوش رھے جیسے بھی حالوں میں رھے
اس قدر دنیا کے دکھ اے خوبصورت زندگی!
جس طرح کوئی تتلی ،مکڑی کے جالوں میں رھے
لوگ بدل جاتے ہیں , مُسکراتے بھی ہیں مگر کرب موجود رہتا ہے
ﻣﯿﮟ ﺑﭽﭙﻦ ﮐﮯ ﮐِﺴﯽ ﻟﻤﺤﮯ ﻣﯿﮟ ﺭُﮎ ﮐﺮ
ﮐﻮﺋﯽ ﺟُﮕﻨﻮ ﭘﮑﮍﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘا ﮨﻮں
کبھی ویران راستوں پر
کوئی انجان سی دستک
اگر تم کو سنائی دے
صدا کی شکل میں آ کر
کہےچپکے سے یہ تم کو
محبّت نام ہے میرا ___
پلٹ کر دیکھنا نہ تم
کہ اس کار محبّت میں
اذیت ہی اذیت ہے
اچھی زندگی وہ ہے جو نہ دوسروں کو خوفزدہ کرے نہ زیادہ برداشت -
دوسروں پر اپنی پسند مسلط کرنے کے لئے انہیں ڈرایا جاتا ہے -
اور دوسروں کو خُوش کرنے کے لئے ان کی نا پسندیدہ بات کو سراہا جاتا ہے -
اپنی پسند اپنے تک رکھو دوسروں کی پسند ان تک رہنے دو -
زندگی کا سفر اچھا کٹ جائیگا
معزز ترین آدمی کی پہچان یہ ہے کہ اس کے دل میں ہر ایک کے لئے محبت ہوتی ہے اور وہ آسانی سے کسی دوسرے کے ساتھ دُشمنی پر آمادہ نہیں ہوتا۔ وہ چاندی کی پیالی کی طرح ہوتا ہے۔
اگر اُسے موڑنا چاہیں تو آسانی سے مُڑ جائے گا۔ اور اگر آپ اسے توڑنا چاہیں تو وہ آسانی سے نہیں ٹوٹے گا۔
اور کم ظرف آدمی کی پہچان یہ ہے کہ وہ آسانی سے محبت پر آمادہ نہیں ہوتا۔ دُشمنی کے لئے اُدھار کھائے بیٹھا رہتا ہے۔
مٹی کے پیالے کی طرح ہوتا ہے
کہ آپ اُسے موڑنا چاہیں تو ہرگز نہیں مُڑے گا۔ اور اگر توڑیں تو فوراً ٹوٹ جائے گا
سیّانے کہتے ہیں ، کہ اگر تم اپنی کمزوریوں ، ، کمیوں کو جان لو ، سچے دل سے مان لو ، تو ان کی شدت کم ہو جاتی ہے وہ مدھم پڑ جاتی ہیں۔ اگر نہ مانو تو جھگڑا شروع ہو جاتا ہے ، ان کی شدت بڑھ جاتی ہے
کبھی کبھی صدرِ پاکستان بننے کو جی چاھتا ھے ،
نا کسی کی سنو
نا کسی کو سناؤ
نا ھی کسی کو نظر آؤ
ﻟﮍﮐﺎ۔ ﮐﯿﺴﯽ ﮨﻮ ؟
ﻟﮍﮐﯽ۔ ﭨﮭﯿﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮞ
ﻟﮍﮐﺎ۔ ﮐﯿﻮﮞ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺍ ؟
ﻟﮍﮐﯽ۔ ﺯﮐﺎﻡ ﺍﻭﺭ ﺑﺨﺎﺭ
ﻟﮍﮐﺎ۔ ﻧﻮ ﯾﺎﺭ ﻭﮦ ﮐﯿﺴﮯ؟
ﻟﮍﮐﯽ۔ ﺑﺲ ﻭﮦ ﺁﺋﺲ ﮐﺮﯾﻢ ﮐﮭﺎﺋﯽ ﺗﮭﯽ
ﻟﮍﮐﺎ۔ ﮐﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻣﻨﻊ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺳﺮﺩﯼ ﻣﯿﮟ ﺁﺋﺲ ﮐﺮﯾﻢ ﻣﺖ ﮐﮭﺎﯾﺎ ﮐﺮﻭ۔ لیکن ﺗﻢ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﺎﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﻨﺘﯽ ﺗﻢ ﭘﺎﮔﻞ ﮨﻮ ۔ﻣﯿﺮﯼ ﺑﺎﺕ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﻭ ﺗﻢ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺳﻤﺠﮭﺘﯽ ﮐﯿﺎ ﮨﻮ؟ ﺍﯾﮉﯾﭧ۔۔۔
ﻣﯿﮟ ﺑﮑﻮﺍﺱ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﯿﺎ ؟
ﻟﮍﮐﯽ۔ ﺁﺋﯽ ﻟﻮ ﯾﻮ
ﻟﮍﮐﺎ۔ ﮐﯿﺎﻣﻄﻠﺐ
ﻟﮍﮐﯽ۔ ﻣﺠﮭﮯ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﮈﺍﻧﭩﻨﺎ ﺍﭼﮭﺎ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﺳﯽ ﻟﯿﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺁﺋﺲ ﮐﺮﯾﻢ ﮐﮭﺎﺋﯽ ﮐﮧ ﺗﻢ ﻣﺠﮭﮯ ﮈﺍﻧﭩﻮ . .
ﻧﺘﯿﺠﮧ: ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﺗﻨﯽ ﺗﻮﺟﮧ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﻨﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﻭﮦ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺗﻮ ﻧﻔﺴﯿﺎﺗﯽ ﻣﺮﯾﺾ ﮨﯿﮟ ﺁﭖ ﭼﮭﻮﮌﯾﮟ ﺍﻧﮩﯿﮟ۔ ﯾﮧ ﺑﺘﺎﺋﯿﮟ ﻣﻮﺳﻢ ﮐﯿﺴﺎ ﮨﮯ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ ..؟
مشتاق احمد یوسفی کہتے ہیں چہل قدمی کے دوران چند دن میں ایک محترمہ سے تعلق ہو گیا...
اس نے کہا آپ کیا کرتے ہیں؟ میں نے کہا کتابیں لکھتا ہوں۔ چنانچہ اس نے کتابیں لے کے پڑھیں۔ اگلے ہفتے میں نے پوچھا کتاب کیسی لگی؟
بولی :شکل سے تو آپ اتنے لُچے نہیں لگتے
اختلاف کائنات کا رنگ ہے . .
اس کو وجہء نفرت نہ بنائیں
ایک دن گزر ہوا انکے شہر سے مجھے دیکھ کر حیران رہ گئے
تم ابھی تک زندہ
میں جہاں رھُوں رھیں گے، میرے ساتھ ساتھ ھر دَم
تیری گفتگو کے موسم ، تیرے ذکر کے زمانے
تیری آھٹوں سے روشن ، میری خلوتوں کی دنیا
میری محفلوں کی رونق ، تیری یاد کے زمانے
وہ میرے دھیان کے سبھی راستوں میں رہتا ہے .
ایک دفعہ ایک فلسفی کا گزر ایک گاؤں میں ہوا جہاں ایک کولہو میں بیل چل رہا تھا اور اس کے گلے میں گھنٹیاں بندھی تھیں جو اس کے چلنے سے بج رہی تھیں۔
فلسفی نے کسان سے پوچھا
“یہ بیل کے گلے میں گھنٹیاں کس لئے باندھی ہوئی ہیں“
کسان نے جواب دیا:
“میں ادھر اپنا کام کر رہا ہوں۔ اگر بیل چلتے چلتے رک جائے تو گھنٹیوں کی آواز بند ہو جائے گی۔ اور مجھے پتا چل جائے گا۔ “
فلسفی تھوڑی دیر کے لیے سوچتا رہا اور پھر پوچھا:
“لیکن اگر بیل ایک جگہ ہی کھڑا ہو کر سر ہلانا شروع کر دے تو تمہیں کیسے پتا چلے گا“
“ یہ بیل ہے جناب ۔۔۔ فلسفی نہیں۔۔۔ ۔“ کسان نے جواب دیا
فرض کرو ہم اہلِ وفا ہوں، فرض کرو دیوانے ہوں
فرض کرو یہ دونوں باتیں جھوٹی ہوں افسانے ہوں
ایک سوچنے سمجھنے والے انسان کے خیالات میں تبدیلی آتی رہتی ہے نہیں بدلتا تو پتھر نہیں بدلتا
دُور کسی دیس میں ایک پرنده هوا کرتا تھا آزاد بے فِکر بے نیاز ہو کر وہ کُھلے آسمانوں میں اُڑتا۔ ہوا میں اُڑتے چھوٹے چھوٹے کیڑے پکڑ کر کھاتا اور زندگی کا لطف لیتا۔
ایک دن اُسے خیال آیا کہ اُسے ایسی بے فِکری میں اپنی زندگی ضائع نہیں کرنی چاہیے۔ اسے ایک ذمہ دار پرندے کی حیثیت سے اپنی خُوشیاں اور اپنے غم سنبھال کر رکھنے چاہئیں۔ اب وہ معصوم پرندہ پڑھنا لکھنا تو جانتا نہیں تھا کہ اپنی ڈائری لکھ لیتا۔ لیکن تھا وہ بڑا سیانا۔ اس نے سوچا کہ جب بھی اسے کوئی خُوشی یا غم ملے گا، تو اُسے ہمیشہ یاد رکھنے کے لیے وہ اُس کی یادگار کے طور پر ایک کنکر اٹھا کر اپنے پاس رکھ لیا کرے گا
یادوں کے اس خزانے کو رکھنے کے لیے اس نے ایک تھیلی لی اور جب بھی اُسے کوئی چیز اچھی یا بُری لگتی، وہ اُسی تھیلی میں ایک نیا کنکر اس کی یادگار کے طور پر رکھ لیتا۔
ہر شام کو وہ اپنی یادوں کی پٹاری کھولتا اور اچھی یادوں والے کنکروں کو دیکھ کر خُوش ہوتا اور بُری یادوں کو دیکھ کر غمگین ہوتا۔ یہ اس کی ایک پختہ عادت بن گئی۔ جیسے جیسے اس کے پاس یادیں جمع ہوتی گئیں، اُس کی تھیلی کا وزن بڑھتا گیا۔ وہ اب زیادہ دور تک نہ اُڑ سکتا تھا۔ اور پھر ایک دن یادیں اتنی زیادہ ہو گئیں کہ وہ اُڑنے سے لاچار ہو گیا۔
وہ ابھی بھِی آزاد تھا، مگر اب وہ اُڑ نہیں پاتا تھا۔
وہ بس زمین پر چلتا تھا۔ کبھی کبھار کوئی کیڑا مکوڑا نظر آ جائے تو اُس کو کھا کر پیٹ کی آگ بُجھا لیتا تھا۔ کبھی بارش ہو جائے یا اوس زیادہ پڑ جائے تو چونچ بھر پانی پی لیتا تھا۔ لیکن اُس نے ان سب مشکلات کے باوجود اپنی یادوں سے جُدا ہونا گوارا نہ کیا۔
پھر ایک دن وہ بھوک اور پیاس سے نڈھال ہوا اور اپنی یادوں کے ڈھیر پر گِر کر مر گیا۔ وہاں کچھ بھی باقی نہ بچا۔ بس ایک ننھا سا پروں کا ڈھیر تھا اور کچھ بیکار سی کنکریاں۔
" دوستو! ماضی مُستقبل کی یاد اور فِکر سے ہٹ کر حال میں جینا اصل زندگی کا لُطف اور فن ہے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain