Damadam.pk
Offline's posts | Damadam

Offline's posts:

Offline
 

تشنگی آنکھوں میں اور دریا خیالوں میں رھے
ہم نوا اگر خوش رھے جیسے بھی حالوں میں رھے
اس قدر دنیا کے دکھ اے خوبصورت زندگی!
جس طرح کوئی تتلی ،مکڑی کے جالوں میں رھے

Offline
 

لوگ بدل جاتے ہیں , مُسکراتے بھی ہیں مگر کرب موجود رہتا ہے

Offline
 

ﻣﯿﮟ ﺑﭽﭙﻦ ﮐﮯ ﮐِﺴﯽ ﻟﻤﺤﮯ ﻣﯿﮟ ﺭُﮎ ﮐﺮ
ﮐﻮﺋﯽ ﺟُﮕﻨﻮ ﭘﮑﮍﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘا ﮨﻮں

Offline
 

کبھی ویران راستوں پر
کوئی انجان سی دستک
اگر تم کو سنائی دے
صدا کی شکل میں آ کر
کہےچپکے سے یہ تم کو
محبّت نام ہے میرا ___
پلٹ کر دیکھنا نہ تم
کہ اس کار محبّت میں
اذیت ہی اذیت ہے

Offline
 

اچھی زندگی وہ ہے جو نہ دوسروں کو خوفزدہ کرے نہ زیادہ برداشت -
دوسروں پر اپنی پسند مسلط کرنے کے لئے انہیں ڈرایا جاتا ہے -
اور دوسروں کو خُوش کرنے کے لئے ان کی نا پسندیدہ بات کو سراہا جاتا ہے -
اپنی پسند اپنے تک رکھو دوسروں کی پسند ان تک رہنے دو -
زندگی کا سفر اچھا کٹ جائیگا

Offline
 

معزز ترین آدمی کی پہچان یہ ہے کہ اس کے دل میں ہر ایک کے لئے محبت ہوتی ہے اور وہ آسانی سے کسی دوسرے کے ساتھ دُشمنی پر آمادہ نہیں ہوتا۔ وہ چاندی کی پیالی کی طرح ہوتا ہے۔
اگر اُسے موڑنا چاہیں تو آسانی سے مُڑ جائے گا۔ اور اگر آپ اسے توڑنا چاہیں تو وہ آسانی سے نہیں ٹوٹے گا۔
اور کم ظرف آدمی کی پہچان یہ ہے کہ وہ آسانی سے محبت پر آمادہ نہیں ہوتا۔ دُشمنی کے لئے اُدھار کھائے بیٹھا رہتا ہے۔
مٹی کے پیالے کی طرح ہوتا ہے
کہ آپ اُسے موڑنا چاہیں تو ہرگز نہیں مُڑے گا۔ اور اگر توڑیں تو فوراً ٹوٹ جائے گا

Offline
 

سیّانے کہتے ہیں ، کہ اگر تم اپنی کمزوریوں ، ، کمیوں کو جان لو ، سچے دل سے مان لو ، تو ان کی شدت کم ہو جاتی ہے وہ مدھم پڑ جاتی ہیں۔ اگر نہ مانو تو جھگڑا شروع ہو جاتا ہے ، ان کی شدت بڑھ جاتی ہے

Offline
 

کبھی کبھی صدرِ پاکستان بننے کو جی چاھتا ھے ،
نا کسی کی سنو
نا کسی کو سناؤ
نا ھی کسی کو نظر آؤ

Offline
 

ﻟﮍﮐﺎ۔ ﮐﯿﺴﯽ ﮨﻮ ؟
ﻟﮍﮐﯽ۔ ﭨﮭﯿﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮞ
ﻟﮍﮐﺎ۔ ﮐﯿﻮﮞ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺍ ؟
ﻟﮍﮐﯽ۔ ﺯﮐﺎﻡ ﺍﻭﺭ ﺑﺨﺎﺭ
ﻟﮍﮐﺎ۔ ﻧﻮ ﯾﺎﺭ ﻭﮦ ﮐﯿﺴﮯ؟
ﻟﮍﮐﯽ۔ ﺑﺲ ﻭﮦ ﺁﺋﺲ ﮐﺮﯾﻢ ﮐﮭﺎﺋﯽ ﺗﮭﯽ
ﻟﮍﮐﺎ۔ ﮐﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻣﻨﻊ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺳﺮﺩﯼ ﻣﯿﮟ ﺁﺋﺲ ﮐﺮﯾﻢ ﻣﺖ ﮐﮭﺎﯾﺎ ﮐﺮﻭ۔ لیکن ﺗﻢ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﺎﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﻨﺘﯽ ﺗﻢ ﭘﺎﮔﻞ ﮨﻮ ۔ﻣﯿﺮﯼ ﺑﺎﺕ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﻭ ﺗﻢ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺳﻤﺠﮭﺘﯽ ﮐﯿﺎ ﮨﻮ؟ ﺍﯾﮉﯾﭧ۔۔۔
ﻣﯿﮟ ﺑﮑﻮﺍﺱ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﯿﺎ ؟
ﻟﮍﮐﯽ۔ ﺁﺋﯽ ﻟﻮ ﯾﻮ
ﻟﮍﮐﺎ۔ ﮐﯿﺎﻣﻄﻠﺐ
ﻟﮍﮐﯽ۔ ﻣﺠﮭﮯ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﮈﺍﻧﭩﻨﺎ ﺍﭼﮭﺎ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﺳﯽ ﻟﯿﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺁﺋﺲ ﮐﺮﯾﻢ ﮐﮭﺎﺋﯽ ﮐﮧ ﺗﻢ ﻣﺠﮭﮯ ﮈﺍﻧﭩﻮ . .
ﻧﺘﯿﺠﮧ: ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﺗﻨﯽ ﺗﻮﺟﮧ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﻨﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﻭﮦ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺗﻮ ﻧﻔﺴﯿﺎﺗﯽ ﻣﺮﯾﺾ ﮨﯿﮟ ﺁﭖ ﭼﮭﻮﮌﯾﮟ ﺍﻧﮩﯿﮟ۔ ﯾﮧ ﺑﺘﺎﺋﯿﮟ ﻣﻮﺳﻢ ﮐﯿﺴﺎ ﮨﮯ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ ..؟

Offline
 

مشتاق احمد یوسفی کہتے ہیں چہل قدمی کے دوران چند دن میں ایک محترمہ سے تعلق ہو گیا...
اس نے کہا آپ کیا کرتے ہیں؟ میں نے کہا کتابیں لکھتا ہوں۔ چنانچہ اس نے کتابیں لے کے پڑھیں۔ اگلے ہفتے میں نے پوچھا کتاب کیسی لگی؟
بولی :شکل سے تو آپ اتنے لُچے نہیں لگتے

Offline
 

اختلاف کائنات کا رنگ ہے . .
اس کو وجہء نفرت نہ بنائیں

Offline
 

ایک دن گزر ہوا انکے شہر سے مجھے دیکھ کر حیران رہ گئے
تم ابھی تک زندہ

Offline
 

میں جہاں رھُوں رھیں گے، میرے ساتھ ساتھ ھر دَم
تیری گفتگو کے موسم ، تیرے ذکر کے زمانے
تیری آھٹوں سے روشن ، میری خلوتوں کی دنیا
میری محفلوں کی رونق ، تیری یاد کے زمانے

Offline
 

وہ میرے دھیان کے سبھی راستوں میں رہتا ہے .

Offline
 

ایک دفعہ ایک فلسفی کا گزر ایک گاؤں میں ہوا جہاں ایک کولہو میں بیل چل رہا تھا اور اس کے گلے میں گھنٹیاں بندھی تھیں جو اس کے چلنے سے بج رہی تھیں۔
فلسفی نے کسان سے پوچھا
“یہ بیل کے گلے میں گھنٹیاں کس لئے باندھی ہوئی ہیں“
کسان نے جواب دیا:
“میں ادھر اپنا کام کر رہا ہوں۔ اگر بیل چلتے چلتے رک جائے تو گھنٹیوں کی آواز بند ہو جائے گی۔ اور مجھے پتا چل جائے گا۔ “
فلسفی تھوڑی دیر کے لیے سوچتا رہا اور پھر پوچھا:
“لیکن اگر بیل ایک جگہ ہی کھڑا ہو کر سر ہلانا شروع کر دے تو تمہیں کیسے پتا چلے گا“
“ یہ بیل ہے جناب ۔۔۔ فلسفی نہیں۔۔۔ ۔“ کسان نے جواب دیا

Offline
 

فرض کرو ہم اہلِ وفا ہوں، فرض کرو دیوانے ہوں
فرض کرو یہ دونوں باتیں جھوٹی ہوں افسانے ہوں

Offline
 

ایک سوچنے سمجھنے والے انسان کے خیالات میں تبدیلی آتی رہتی ہے نہیں بدلتا تو پتھر نہیں بدلتا

Offline
 

دُور کسی دیس میں ایک پرنده هوا کرتا تھا آزاد بے فِکر بے نیاز ہو کر وہ کُھلے آسمانوں میں اُڑتا۔ ہوا میں اُڑتے چھوٹے چھوٹے کیڑے پکڑ کر کھاتا اور زندگی کا لطف لیتا۔
ایک دن اُسے خیال آیا کہ اُسے ایسی بے فِکری میں اپنی زندگی ضائع نہیں کرنی چاہیے۔ اسے ایک ذمہ دار پرندے کی حیثیت سے اپنی خُوشیاں اور اپنے غم سنبھال کر رکھنے چاہئیں۔ اب وہ معصوم پرندہ پڑھنا لکھنا تو جانتا نہیں تھا کہ اپنی ڈائری لکھ لیتا۔ لیکن تھا وہ بڑا سیانا۔ اس نے سوچا کہ جب بھی اسے کوئی خُوشی یا غم ملے گا، تو اُسے ہمیشہ یاد رکھنے کے لیے وہ اُس کی یادگار کے طور پر ایک کنکر اٹھا کر اپنے پاس رکھ لیا کرے گا

Offline
 

یادوں کے اس خزانے کو رکھنے کے لیے اس نے ایک تھیلی لی اور جب بھی اُسے کوئی چیز اچھی یا بُری لگتی، وہ اُسی تھیلی میں ایک نیا کنکر اس کی یادگار کے طور پر رکھ لیتا۔
ہر شام کو وہ اپنی یادوں کی پٹاری کھولتا اور اچھی یادوں والے کنکروں کو دیکھ کر خُوش ہوتا اور بُری یادوں کو دیکھ کر غمگین ہوتا۔ یہ اس کی ایک پختہ عادت بن گئی۔ جیسے جیسے اس کے پاس یادیں جمع ہوتی گئیں، اُس کی تھیلی کا وزن بڑھتا گیا۔ وہ اب زیادہ دور تک نہ اُڑ سکتا تھا۔ اور پھر ایک دن یادیں اتنی زیادہ ہو گئیں کہ وہ اُڑنے سے لاچار ہو گیا۔
وہ ابھی بھِی آزاد تھا، مگر اب وہ اُڑ نہیں پاتا تھا۔

Offline
 

وہ بس زمین پر چلتا تھا۔ کبھی کبھار کوئی کیڑا مکوڑا نظر آ جائے تو اُس کو کھا کر پیٹ کی آگ بُجھا لیتا تھا۔ کبھی بارش ہو جائے یا اوس زیادہ پڑ جائے تو چونچ بھر پانی پی لیتا تھا۔ لیکن اُس نے ان سب مشکلات کے باوجود اپنی یادوں سے جُدا ہونا گوارا نہ کیا۔
پھر ایک دن وہ بھوک اور پیاس سے نڈھال ہوا اور اپنی یادوں کے ڈھیر پر گِر کر مر گیا۔ وہاں کچھ بھی باقی نہ بچا۔ بس ایک ننھا سا پروں کا ڈھیر تھا اور کچھ بیکار سی کنکریاں۔
" دوستو! ماضی مُستقبل کی یاد اور فِکر سے ہٹ کر حال میں جینا اصل زندگی کا لُطف اور فن ہے