گئے وقتوں میں ۔
میں پوسٹ کرنے کے بعد لائیکس کا منتظر
اور جب انتظار کرتے کرتے مایوسی ہی ہاتھ لگتی تھی تو خود ہی لائک ٹھوک د ینا
تم لکھ کر لانا اپنے دل کی بات کورے کاغذ پر
ہم بتائیں گے کہ اُسکا ہوائی جہاز کیسے بنانا ہے
زندگی میں اتنا کانفیڈینس کبھی نہیں آیا کہ اپنے نام کے ساتھ پرنس، ضدی، کنگ یا کیوٹ لکھ سکوں اور نہ ہی کبھی اتنا حونصلہ پڑا کے ڈائریکٹ فوٹو لے کر ڈی۔پی اپلوڈ کرسکوں
تُم جب اِنساں ھو تو اِنساں کی جبلّت میں ندیمؔ
خیر کے پُھول چُنو ، اور خطا مَت ڈُھونڈو۔
سُنو جاناں
محبت رُت میں لازم ھے
بہت عُجلت میں یا تاخیر سے وہ مرحلہ آئے
کوئی بے درد ھو جائے
محبت کی تمازت سے بہت بھرپُور سا لہجہ
اچانک سرد ھو جائے
گُلابی رُت کی چنچل اوڑھنی بھی زرد ھو جائے
تو ایسے موڑ پر ڈرنا نہیں، رُکنا نہیں، گھبرا نہیں جانا
غضب ڈھاتی ھوئی سفّاک موجوں سے
کسی بھی سُرخ طوفاں سے
بہت نازک سی، بے پتوار دل کی ناؤ کو اُس پل
ھمیں دوچار کرنا ھے
ھمارا عہد ھے خود سے
کسی قیمت پہ بھی ھم کو
سمندر پار کرنا ھے
بھرم ٹوٹنے کا کوئی ٹائم ٹیبل نہیں ہوتا , بسس ایک لمحہ ہی کافی ہوتا ہے
جھیل کی اداسی میں
بے دلی کی دلدل پر
بے خبر سے منظر ہیں
درد کے سمندر میں
ایک یاد باقی ہے
... آنکھ میں خزاں رت ہے
گرد اڑاتی رہتی ہے
پھر بھی ایک کونے میں
اک گلاب باقی ہے
ایک یاد باقی ہے
ﺍﺱ ﮐﮯ ﺩﺍﻣﻦ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﭘﮭﻮﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﯿﮯ
ﺟﻮ ﻣﯿﺮﯼ ﺗﻨﮕﯽِ ﺩﺍﻣﻦ ﮐﺎ ﮔﻼ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ
ﺁﺝ ﺟﻮ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺑﻼﯾﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﮔﻢ ﺳﻢ ﮨﯽ ﺭﮨﺎ..
دل دھڑکنے کی جو آ واز سنا کرتا تھا
ﺁﺝ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﮨﺮ ﺑﺎﺕ ﮐﮯ ﻣﻌﻨﯽ ﭘﻮﭼﮭﮯ
ﺟﻮ ﻣﯿﺮﯼ ﺳﻮﭺ ﮐﯽ ﺗﻔﺴﯿﺮ ﻟﮑﮭﺎ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ
ﺍﺱ ﮐﯽ ﺩﮨﻠﯿﺰ ﭘﮧ ﺻﺪﯾﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﻮﮞ ﻣﺤﺴﻦ
ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﻣﻠﻨﮯ ﮐﮯ ﺟﻮ ﻟﻤﺤﺎﺕ ﮔﻨﺎ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ
جو سوچتے ہیں , وہ کہیں ۔ جو کہتے ہیں , وہ کریں۔ اور جو کرتے ہیں , اس کا جائزہ لیں ۔
اس طرح آپ دریافت کر سکیں گے کہ آپ کے اصل یقین کیا ہیں؟ (نہ کہ وہ جو اس بارے میں آپ کا خیال ہے) ۔
آپ کے پاس یہ جاننے کا اور کوئی طریقہ نہیں , آپ اتنے پیچیدہ ہیں کہ خود کو نہیں سمجھ سکتے
بیٹا باہر سے پڑھ کر گاؤں لوٹا۔ اگلے روز ناشتے پر باپ نے پوچھا کیا پڑھا ہے تم نے۔۔۔
بیٹا: ابا جی میں نے منطق کا علم حاصل کیا ہے۔
سادہ لوح باپ نے پوچھا اَیدا کی فَیدہ ؟
بیٹے نے جوش میں آ کر کہا ابا جی یہ میرے سامنے جو ایک انڈا پڑا ہوا ہے میں اپنے علم کی رُو سے ثابت کر سکتا ہوں کہ یہ ایک نہیں بلکہ دو انڈے ہیں۔۔۔
اس کے بعد اس نے دلائل کے انبار لگا دئیے اور پھر بات ختم کرکے باپ کو فخریہ نظروں سے دیکھنے لگا۔ تب باپ نے اسکے سامنے سے وہ انڈا اُٹھا کر اپنے منہ میں ڈال لیا اور بولا 'چنگا فیر اے میں کھا لیندا واں دُوجا تُوں کھا لے
خُوش رہا کرو
پریشان رہنے والوں کو کبھی کچھ نہیں ملا۔ اگر ملا بھی تو وہ اس سے لطف اندوز کبھی نہیں ہو سکے۔
صرف اس لئے کہا تھا کہ میں خود اس دُور سے گزر چکا ہوں. برسوں تک خوب دل لگا کر پریشان رہا۔
شاید اس لئے کہ پریشان ہونا بے حد آسان ہے. لیکن سواۓ اس کے کہ چہرے پر غلط جگہ لائنیں پڑ گئیں ، کوئی فائدہ نہیں ہوا.
اب اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ چہرے پر لائنیں پڑنی ہی ہیں تو فقط وہاں پڑنی چاہئیں جہاں مسکراہٹ سے بنتی ہیں
"ﷲ کریسی"
نواب آف کالا باغ ملک امیر محمّد خان اعوان مغربی پاکستان کے گورنر تھے ـ
امریکی کانگریس کے اراکین اُن سے ملاقات کے لیے آئے۔ نواب صاحب کی عادت تھی کہ وہ لوگوں کے مسائل بذاتِ خود کچہری لگا کر سُنا کرتے تھے اور اس میں کبھی ناغہ نہیں ھوتا تھا۔ امریکی وفد کی موجُودگی میں بھی یہ کچہری جاری رھی اور وہ بغور یہ سب کچھ دیکھتے رھے ـ
نواب صاحب ھمیشہ انشاء ﷲ کی جگہ خالص میانوالی کے لہجے میں ’’ ﷲ کریسی
یعنی ﷲ کرے گا کہا کرتے تھے چنانچہ وہ کسی سائل کی بِپتا سنتے تو ازالے کے لیے احکامات جاری کرنے کے ساتھ ساتھ شکایت کنندہ کی تسلی کے لیے "ﷲ کریسی" کہتے جاتے۔
کچہری ختم ھُوئی تو ایک امریکی رکنِ کانگریس نے پوچھا: نواب صاحب یہ بیوروکریسی ، ٹیکنوکریسی وغیرہ تو سنا تھا لیکن یہ ’’ ﷲ کریسی‘‘ کونسا سا سسٹم ھے ؟
نواب صاحب نے مُسکرا کر جواب دیا: ﷲ کریسی وہ نظام ھے جس پر یہ پاکستان چل رھا ھے
شام ہوتے ہی جل اٹھتا ھے قندیلوں سے شہر
رات ڈھلتے ڈھلتے ہوجاتا ھے نیند میں خاکستر
صبح کی کروٹ سے جاگ اٹھتی ھے پھر نئی زندگی
یونہی جاری ھے ازل سے کاروان حیات
پُرانے وقتوں میں کبوتر کے ذریعے محبوبہ کو خط بھیجے جاتے تھے تو سوچیں زرا نجانے کتنے ہی کبوتر رنگے پاؤں پکڑے جانے پر لڑکی کے والد کے ہاتھوں ذبح ہو کر ان کے دسترخوان کی زینت بنے ہوں گے
مجھے لگتا ہے کہ باتیں دِل کیں
ہوتی لفظوں کی دھوکے بازی
کہتے ہیں.......روح شناس انسان مل جائے تو انسان کبھی بوڑھا نہیں ہوتا.۔ کبھی بہاریں نہیں گزرتیں...، کبھی چاندنی راتیں تنہا نہیں ہوتیں............
خیر سانوں کی!
عشق صحرا ہے کے دریا کبھی سوچے وہ بھی
اُس سے کیا ہے میرا ناطہ کبھی سوچے وہ بھی
ہاں میں تنہا ہوں یہ اقرار بھی کر لیتا ہوں
خود بھی کتنا ہے وہ تنہا کبھی سوچے وہ بھی
یہ الگ بات جتایا نہیں میں نے اس کو
ورنہ کتنا اُسے چاہا کبھی سوچے وہ بھی
اُسے آواز لکھا . . چاند لکھا … پُھول لکھا
میں نے کیا کیا اُسے لکھا کبھی سوچے وہ بھی
مطمئن ہوں اسے لفظوں کی حرارت دے کر
میں نے کتنا اسے سوچا کبھی سوچے وہ بھی
میں نے کہا بھائی یہ چلغوزے کا کیا ریٹ ہے ۔
کہنے لگا :
8000 روپے کلو
میں نے اِدھر اُدھر دیکھا کوئی نہیں تھا ۔
میں نے کہا : دس روپے کے دے دو ۔۔۔
اس نے میری طرف غصے سے دیکھا اور مگر بولا کچھ نا ۔
پھر ایک چلغوزہ اٹھا کر مجھے پکڑانے لگا ۔
میں نے کہا : شاپر میں ڈال دو ۔۔۔
اس نے اب کی بار کھا جانے والی نظروں سے دیکھا مگر غصہ دکھایا نہیں۔ پھر شاپر دیکر بولا : ہور کجھ ؟؟؟
میں نے کہا : شاپر ڈبل کردو ۔۔۔
وہ اپنی دوکان چھوڑ کر آج تک مجھے ڈھونڈ رہا ہے
یادوں سے کھیلتی رہی تنہائی رات بھر
خوشبو کے انتظار میں شب بھیگتی رہی
اک نام کیا لکھا تیرا ساحل کی ریت پر
پھر عمر بھر ہوا سے میری دشمنی رہی
وہ لفظ لفظ مجھ پہ اترتا رہا محسن
سوچوں پہ اس کے نام کی تختی لگی رہی
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain