Damadam.pk
Offline's posts | Damadam

Offline's posts:

Offline
 

کہتے ہیں.......روح شناس انسان مل جائے تو انسان کبھی بوڑھا نہیں ہوتا.۔ کبھی بہاریں نہیں گزرتیں...، کبھی چاندنی راتیں تنہا نہیں ہوتیں............
خیر سانوں کی!

Offline
 

عشق صحرا ہے کے دریا کبھی سوچے وہ بھی
اُس سے کیا ہے میرا ناطہ کبھی سوچے وہ بھی
ہاں میں تنہا ہوں یہ اقرار بھی کر لیتا ہوں
خود بھی کتنا ہے وہ تنہا کبھی سوچے وہ بھی
یہ الگ بات جتایا نہیں میں نے اس کو
ورنہ کتنا اُسے چاہا کبھی سوچے وہ بھی
اُسے آواز لکھا . . چاند لکھا … پُھول لکھا
میں نے کیا کیا اُسے لکھا کبھی سوچے وہ بھی
مطمئن ہوں اسے لفظوں کی حرارت دے کر
میں نے کتنا اسے سوچا کبھی سوچے وہ بھی

Offline
 

میں نے کہا بھائی یہ چلغوزے کا کیا ریٹ ہے ۔
کہنے لگا :
8000 روپے کلو
میں نے اِدھر اُدھر دیکھا کوئی نہیں تھا ۔
میں نے کہا : دس روپے کے دے دو ۔۔۔
اس نے میری طرف غصے سے دیکھا اور مگر بولا کچھ نا ۔
پھر ایک چلغوزہ اٹھا کر مجھے پکڑانے لگا ۔
میں نے کہا : شاپر میں ڈال دو ۔۔۔
اس نے اب کی بار کھا جانے والی نظروں سے دیکھا مگر غصہ دکھایا نہیں۔ پھر شاپر دیکر بولا : ہور کجھ ؟؟؟
میں نے کہا : شاپر ڈبل کردو ۔۔۔
وہ اپنی دوکان چھوڑ کر آج تک مجھے ڈھونڈ رہا ہے

Offline
 

یادوں سے کھیلتی رہی تنہائی رات بھر
خوشبو کے انتظار میں شب بھیگتی رہی
اک نام کیا لکھا تیرا ساحل کی ریت پر
پھر عمر بھر ہوا سے میری دشمنی رہی
وہ لفظ لفظ مجھ پہ اترتا رہا محسن
سوچوں پہ اس کے نام کی تختی لگی رہی

Offline
 

خزاں کی رُت میں گلاب لہجہ ، بنا کے رکھنا ، کمال یہ ھے
ھوا کی زد پہ دِیا جلانا ، جَلا کے رکھنا ، کمال یہ ھے
ذرا سی لغزش پہ ، توڑ دیتے ھیں سب تعلق زمانے والے
سو ایسے ویسوں سے بھی تعلق بنا کے رکھنا ، کمال یہ ہے
کسی کو دینا یہ مشورہ کہ ، وہ دُکھ بچھڑنے کا بھول جائے
اور ایسے لمحے میں اپنے آنسو چھپا کے رکھنا ، کمال یہ ہے
خیال اپنا ، مزاج اپنا ، پسند اپنی ، کمال کیا ھے
جو یار چاھے وہ حال اپنا بنا کے رکھنا ، کمال یہ ھے
کسی کی راہ سے خدا کی خاطر ، اٹھا کے کانٹے ، ھٹا کے پتھر
پھر اس کے آگے نگاہ اپنی جھکا کے رکھنا ، کمال یہ ھے
وہ جس کو دیکھے تو دکھ کا لشکر بھی لڑکھڑائے ، شکست کھائے
لبوں پہ اپنے وہ مسکراھٹ سجا کے رکھنا، کمال یہ ھے
ھزار طاقت ھو، ھوں سو دلیلیں پھر بھی لہجے میں عاجزی سے
ادب کی لذت ، دعا کی خوشبو ، بسا کے رکھنا ، کمال یہ ھے

Offline
 

ﺣﯿﺪﺭﺁﺑﺎﺩﯼ چوڑﯾﻮﮞ ﮐﯽ ﻭﮦ ﺗﺼﻮﯾﺮﯾﮟ ﺛﺎنیہ ﮐﻮ ﺍﺗﻨﯽ ﭘﺴﻨﺪ ﺁﺋﯿﮟ ، کہ ﺍُﺱ ﻧﮯ محفل ﮐﯽ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺷﻮﺥ ﻭ ﭼﻨﭽﻞ ﻟﮍﮐﯽ ﻣﻨﺎﮨﻞ ﮐﻮ ﻓﺮﯾﻨﮉ ﺭﯾﮑﻮﺳﭧ ﺍُﺳﯽ ﻭﻗﺖ ﺑﮭﯿﺞ ﺩﯼ ، ﺟﺲ ﻧﮯ ﻭﮦ ﭼﻮﮌﯾﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﺼﻮﯾﺮﯾﮟ ﺍﭘﻠﻮﮈ ﮐﯽ ﺗﮭﯿﮟ ،
اﮔﻠﮯ ﺩﻥ ﻣﻨﺎﮨﻞ ﻧﮯ ﺛﺎنیہ ﮐﯽ ﻓﺮﯾﻨﮉ ﺭﯾﮑﻮﺳﭧ ﻗﺒﻮﻝ ﮐﯽ ،
ﺗﻮ ﺛﺎنیہ ﺟﻮ ﺍِﺳﯽ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﯽ ، ﺍُﺱ ﻧﮯ ﺟﮭﭧ ﺳﮯ ﻣﻨﺎﮨﻞ ﺳﮯ ﺍﻥ ﭼﻮﮌﯾﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﭘﻮﭼﮭﺎ ،
ﺟﻮ ﻣﻨﺎﮨﻞ ﮐﺎ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺍﺱ ﮐﯿلئے ﻻﯾﺎ ﺗﮭﺎ ، ﻣﻨﺎﮨﻞ ﺷﺎﺋﺪ ﺍﺱ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﺳﮯ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﻋﺎﺩﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ ، ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺛﺎنیہ ﮐﻮ ﺑﺘﺎ ﮨﯽ ﺩﯾﺎ ، ﯾﻮﮞ ﺩﻥ ﮔﺬﺭﺗﮯ ﮔﺌﮯ ، ﻣﻨﺎﮨﻞ ﺍﻭﺭ ﺛﺎنیہ ﺍﺏ ﺍﮐﺜﺮ محفل ﻣﯿﮟ ﯾﮏ ﺟﺎﻥ ﺩﻭ ﻗﻠﺐ ﮐﮯ ﻣﺎﻧﻨﺪ ﻧﻈﺮ ﺁﺗﮯ ، ﺍﻧﺒﮑﺲ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍُﻥ ﮐﯽ ﺩﻭﺳﺘﯽ ﮔﮩﺮﯼ ﺳﮯ ﮔﮩﺮﯼ ﮨﻮﺗﯽ ﭼﻠﯽ ﮔﺌﯽ ، ﻣﻨﺎﮨﻞ ﮐﯽ ﮨﺮ ﭘﻮﺳﭧ ﭘﺮ ﺛﺎنیہ ، ﺍﻭﺭ ﺛﺎنیہ ﮐﯽ ﮨﺮ ﭘﻮﺳﭧ ﭘﺮ ﻣﻨﺎﮨﻞ ،
ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﮨﻤﺖ ﮐﺮﮐﮯ ﺛﺎنیہ ﻧﮯ ﻣﻨﺎﮨﻞ ﺳﮯ ﻣﻼﻗﺎﺕ ﮐﺎ ﺳﻮﭼﺎ

Offline
 

ﺍﻭﺭ ﻣﻨﺎﮨﻞ ﮐﻮ ﺍﺱ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﺳﮯ ﺁﮔﺎﮦ ﺑﮭﯽ ﮐﯿﺎ ، ﭼﻨﺪ ﺩﻥ ﺗﮏ ﺗﻮ ﻣﻨﺎﮨﻞ ﺁﻥ ﻻﺋﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺋﯽ ، ﺍﭼﺎﻧﮏ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺛﺎنیہ ﮐﻮ ﻣﻨﺎﮨﻞ ﮐﺎ ﻣﯿﺴﺞ ﻣﻮﺻﻮﻝ ﮨﻮﺍ ، ﺳﻮﺭﯼ ﺛﺎنیہ ﻣﯿﮟ ﻣﻨﺎﮨﻞ ﻧﮩﯿﮟ رمیز ﮨﻮں۔
ﻣﺠﮭﮯ ﻣﻌﺎﻑ ﮐﺮﻧﺎ ، میں ﺁﺝ ﺑﮭﯽ ﺗﻤﮭﯿﮟ ﺩﻭﺳﺖ ﺳﻤﺠﮭﺘﺎ ﮨﻮﮞ ، ﺛﺎنیہ ﮐﮯ ﺩﻝ ﭘﺮ ﺗﻮ ﺟﯿﺴﮯ ﺑﻢ ﭘﮭﻮﮌ ﺩیئے ﮨﻮﮞ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ، ﮐﺎﻓﯽ ﺩﯾﺮ ﺗﮏ ﻭﮦ یہ ﻣﯿﺴﺞ ﺩﯾﮑﮭﺘﯽ ﺭﮨﯽ ،
ﺍﻭﺭ ﺑﺎلآﺧﺮ ﺍﺳﮯ ﻗﺴﻤﺖ ﮐﺎ ﮐﮭﯿﻞ ﺳﻤﺠﮭﺎ ، ﻧﻢ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﯿﺴﺎﺗﮫ ﺛﺎنیہ ﻧﮯ ﻟﯿﭗ ﭨﺎﭖ ﺑﻨﺪ ﮐﺮ ﺩیا ، اﻭﺭ ﺑﺎﺋﯿﮏ ﺳﭩﺎﺭﭦ ﮐﺮﮐﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﮔﻠﯽ ﮐﺎ ﺭُﺥ ﮐﯿﺎ ، ﺟﮩﺎﮞ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﺁﻭﺍﺭﮦ ﺩﻭﺳﺖ ﺍُﺱ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮐﺮﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ

Offline
 

جانے وہ کیسے لوگ تھے
جانے وہ کیسے لوگ تھے جن کے پیار کو پیار ملا
ہم نے تو جب کلیاںمانگیں، کانٹوںکا ہار ملا
خوشیوںکی منزل ڈھونڈی تو غم کی گرد ملی
چاہت کے نغمے چاہے تو آہِ سرد ملی
دل کے بوجھ کو دونا کر گیا جو غم خوار ملا
بچھڑ گیا ہر ساتھی دے کر پل دو پل کا ساتھ
کس کو فرصت ہے جو تھامے دیوانوں کا ہاتھ
ہم کو اپنا سایہ تک اکثر بیزار ملا
اس کو ہی جینا کہتے ہیں تو یوں ہی جی لیں گے
اُف نہ کریںگے، لب سی لیںگے، آنسو پی لیںگے
غم سے اب گھبرانا کیسا، غم سو بار ملا

Offline
 

فی زمانہ آپ اُن تمام لوگوں کی لِسٹ میں ناپسندیدہ ہوتے ہیں جن کو لگتا ہے اب آپ اُنکے لیے فائدہ مند نہیں یا آپ اُنکے اشارۂ ابرو پر چلنا ترک کردیتے ہیں،
کیونکہ ایسوں کے لیے مفاد ہی رابطے بہترین کا نیٹ ورک ہوتا ہے،
مفاد ختم ،سگنل ختم ،
رابطہ منقطع، ٹوں ٹوں ٹوں

Offline
 

ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﻮ ﮨﻤﺴﻔﺮ ﺟﺎﻧﯿﮟ۔۔
ﺟﺴﮯ ﭘﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﻣﯿﮟ۔۔
ﮨﺰﺍﺭﻭﮞ ﺩﺭﺩ ﺍﻧﺠﺎﻧﮯ،
ﯾﻮﻧﮩﯽ ﮨﻢ ﮔﻮﺩ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔۔
ﺯﻣﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﮔﻠﮯ ﺷﮑﻮﮮ،
ﮐﺒﮭﯽ ﺍﻏﯿﺎﺭ ﮐﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ،
ﮐﺌﯽ ﺟﺎﮔﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺭﺍﺗﯿﮟ،
ﮨﻤﯿﮟ ﺗﺤﻔﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﻠﺘﯽ ﮨﯿﮟ۔۔
ﺗﻤﻨّﺎ ﺟﺲ ﮐﻮ ﭘﺎﻧﮯ ﮐﯽ،
ﺯﺑﺎﮞ ﭘﺮ ﻭِﺭﺩ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ،
ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺟﺎﺭﯼ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﮯ۔۔
ﻭﮦ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺳﻦ ﮐﺮﺩﻝ ﺩﮬﮍﮐﻨﺎ ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ
۔۔ﮨﻢ ﺍُﺱ ﺧﻮﺵ ﺑﺨﺖ ﮐﯽ ﺧﺎﻃﺮ،
ﺟﺎﮞ ﭘﺮ ﮐﮭﯿﻞ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔۔
ﺳﺒﮭﯽ ﺩﮐﮫ ﺟﮭﯿﻞ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ
۔۔ﻣﮕﺮ۔۔ﺍﯾﺴﺎ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔۔ !
ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﻮ ﮨﻤﺴﻔﺮ ﺟﺎﻧﯿﮟ
ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺩﻝ ﮐﯽ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﺳﮯ
۔۔ﻭﮨﯽ ﻻﻋﻠﻢ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ

Offline
 

دعا انسان اور اس کے پروردگار میں ایک خوبصورت رشتہ ہے جو ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا۔ دعا انرجی کی بہت ہی طاقتور قسم ہے جو ایک عام شخص آسانی سے خود میں پیدا کر سکتا ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مسلسل دعا سے بدن میں ایک طرح کی لہر پیدا ہو جاتی ہے۔ ذہنی قوت عود کر جاتی ہے۔ سکون پیدا ہو جاتا ہے۔ سچی عبادت ، دلی دعا، اصل میں زندگی کا چلنا ہے۔ سچی اور صراط مستقیم والی زندگی دعا سے ہی معرض وجود میں آتی ہے۔
اشفاق احمد

Offline
 

کوئی ایک شخص تو یُوں ملے کہ سکوں ملے
کوئی ایک لفظ تو ایسا ہو کہ قرار ہو
کہیں ایسی رُت بھی ملے ہمیں جو بہار ہو
کبھی ایسا وقت بھی آئے کہ ہمیں پیار ہو
کوئی ایک شخص تو یوں ملے ۔۔۔
کہ چراغِ جاں اُسے نُور دے، اُسے تاب دے، بنے کہکشاں
کوئی غم ہو جس كو كہا کریں غمِ جاوداں
کوئی یوں قدم کو ملائے کہ بنے کارواں
کوئی ایک شخص تو یوں ملے ۔۔۔ کہ قرار ہو
میری راہِ گزرِ خیال میں کوئی پھول ہو
میں سفر میں ہوں مرے پاؤں پہ کبھی دھول ہو
مجھے شوق ہے مجھ سے بھی کبھی کوئی بھول ہو
غمِ ہجر ہو، شبِ تار ہو، بڑا طول ہو
کوئی ایک شخص تو یوں ملے ۔۔۔ کہ قرار ہو
کہ جو عکسِ ذات ہو، ہوبہو میرا آئینہ، میرے رو برو
کوئی ربط کہ جس میں نا مَیں، نہ تُو
سرِ خامشی کوئی گفتگو
کوئی ایک شخص تو یوں ملے کہ سکوں ملے

Offline
 

میرے اندر کوئی ڈر نہیں تھا۔ ۔ ۔ کیونکہ میرے پاس کھونے کے لئے کچھ نہیں تھا۔ ۔ ۔
پھر مجھے اس کی محبت عطاء کر کے ڈر بٹھا دیا گیا۔ میں کئی سال اس کو کھونے سے ڈرتا رہا۔۔۔۔
پھر ایک دن اس کو کھو کر یہ ڈر بھی بالآخر نکل گیا۔ ۔ ۔
میں اب بھی ڈرتا ہوں۔۔۔۔۔
مگر کسی کو کھونے سے نہیں
اب نئے رشتے بنانے سے ڈرتا ہوں

Offline
 

شُکر '
بہت مصروف رہنا بھی
خدا کی ایک نعمت ہے۔
ہجومِ دوستاں ہونا ،
کسی سنگت کا مِل جانا ،
کبھی محفل میں ہنس لینا ،
کبھی خِلوت میں رو لینا ،
کبھی تنہائی ملنے پر۔
خود اپنا آپ پڑھ لینا ،
کبھی دُکھتے کسی دل پر ،
تشفّی کا مرہم رکھنا ،
کسی آنسو کو چُن پانا ،
کسی کا حال لے لینا ،

Offline
 

کسی کا راز ملنے پر ،
لبوں کو اپنے سِی لینا ،
کسی بچے کو چھُو لینا ،
کسی بُوڑھے کی سُن لینا ،
کسی کے کام آ سکنا ،
کسی کو بھی دُعا دینا ،
کسی کو گھر بلا لینا ،
کسی کے پاس خود جانا ،
نگاہوں میں نمی آ نا ،
بِلا کوشش ہنسی آ نا ،
تلاوت کا مزہ آ نا ،
کوئی آیت سمجھ پانا ،
کبھی سجدے میں سو جانا ،
کسی جنت میں کھو جانا۔۔ ،
خدا کی ایک نعمت ہے

Offline
 

کوئل نے کوے سے پوچھا: تم نے ابھی تک شادی کیوں نہیں کی...؟
کوا بولا: شادی دے بغیر ای زندگی وِچ ایہنی کاں کاں اے تے شادی تُوں بعد کی ہووے گا

Offline
 

اکثر دیکھا گیا ہے کہ لوگ کسی جانور یا کیڑے مکوڑے کی جنس کے تعین میں فرق نہیں رکھتے۔
مثلاََ اچانک کوئی بلی یا بلا گھر میں آیا تو زیادہ تر یہی کہتے کہ بلی آئی حالانکہ ہو سکتا ہے وہ بِلا ہو۔ کہنا یہ چاہیےکہ بلی یا بلا آیا تھا۔
بہت سی بہنیں کچن میں سے اکثر ہانک لگاتی کہ ہائے میں مر گئی.... چھپکلی !
کیا پتہ وہ چھپکلا ہوتا ہو..... تو اس لیے احتیاط کی ضرورت ہے۔ چیخ مار کر یوں کہیں کہ ہائے میں مر گئی چھپکلی یا

Offline
 

چھپکلا۔
کچھ لوگوں کو مچھر یا مچھری سے شکایت ہوتی ہے
تو کہتے کہ مچھر نے سونے نہیں دیا۔
ہو سکتا وہ مچھری ہو یعنی کہ مسز مچھر....
کیا آپکو بُرا نہیں لگے گا کہ آپ لڑکی ہیں تو کوئی آپ کو لڑکا کہہ دے۔
تو اسی طرح اس چھپکلے کو کتنا بُرا لگتا ہوگا جسے چھپکلی کہا جائے یا مچھری جسے مچھر کہا جائے ؟ سوچیے...
انکے دل ٹوٹ جاتے ہوں گے ناں....
لہذا آج سے احتیاط کیجیے۔ ان جانداروں کا دل نہ دکھائیں۔
شکریہ

Offline
 

اور ہاں! یاد رکھو! میں وہاں کہیں ہوں جہاں تم ہو! اور ہاں اگر تم کسی وقت مجھ سے بات کرنا چاہو تو کسی ایک طرف جا کر اپنی آنکھیں بند کر کے مجھے ڈھونڈنا اور پھر مجھ سے بات کرنا! ہماری بات ہوگی لیکن کسی زبان میں نہیں!"

Offline
 

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ نا اُمیدی اپنے ساتھ بہت سے منفی خیالات لاتی ہے جس کی وجہ سے ٹھیک کام نہیں ہوپاتا۔ دنیا بھر کے کامیاب لوگوں نے ہمیشہ بہت زیادہ پر اُمید رہے۔اپنی اس اُمید کی وجہ سے ان میں سوچنے کی مثبت صلاحیت موجود رہتی ہے اور وہ کامیاب ہوجاتے ہیں