نجانے مجھے کیا ہو گیا ہے شادی کی تقریبات میں مہندی ہو ..بارات ہو ..
یا ولیمہ .. مجھے کوئی غرض نہیں ہوتی کون کیسالگ رہا رہی ہے۔ میرا تو سارا دھیان دیگوں کی طرف ہی ہوتا ہے
توکّل
گاڑی کا وہ میکینک کام کرتے کرتے اٹھا اس نے پنکچر چیک کرنے والے ٹب سے ہاتھ گیلے کیے اور ویسے ہی جا کر کھانا کھانا شروع کر دیا میں نے اس سے کہا کہ اللّٰه کے بندے اس طرح گندے ہاتھوں سے کھانا کھاؤ گے تو بیمار پڑ جاؤ گے - ہزاروں جراثیم تمہارے پیٹ میں چلے جائینگے ، کیا تم نے کبھی اس طرح کی باتیں ڈیٹول یا صابن کے اشتہار میں نہیں دیکھیں ،تو اس نے جواب دیا کہ " صاحب جب ہم ہاتھوں پر پہلا کلمہ پڑھ کر پانی ڈالتے ہیں تو سارے جراثیم خود بہ خود مر جاتے ہیں اور جب بسم اللّٰہ پڑھ کر روٹی کا لقمہ توڑتے ہیں تو جراثیموں کی جگہ ہمارے پیٹ میں برکت اور صحت داخل ہو جاتی ہے۔مجھے اس مکینک کی بات نے ہلا کر رکھ دیا یہ تو اس کا توکل تھا جو اسے بیمار نہیں ہونے دیتا تھا - میں اس سے اب بھی ملتا ہوں - اتنے سال گزر جانے کے بعد بھی وہ مجھ سے زیادہ صحت مند ہے -
اشفاق
لکھنے والے جو بھی لکھتے ہیں اس میں آدھے معنی ہوتے ہیں باقی آدھے معنی پڑھنے والوں میں ہوتے ہیں
لڑکپن میں پاکستانی فلموں میں ایک عجب بات دیکھی تھی کہ ہیرو اور ہیروئین بچپن میں بچھڑ جاتے ہیں۔
لیکن جوان ہونے کے بعد وہ صرف ایک گانا گانے سے ایک دوسرے کو شناخت کر لیتے ہیں اور دوڑے چلے آتے ہیں۔ گانا نہ ہوا، ڈی این اے ٹیسٹ ہو گیا۔
حقیقی زندگی میں اگر آپ اس اُمید میں ہوں کہ آپ کو آپ کا بچھڑا ہوا محبوب مل جائے گا اور سڑک یا پارک میں کھڑے ہو کر گانا گانا شروع کردیں تو قوی اُمید ھے کہ یا تو آپ کو جوتیاں پڑیں گی یا کوئی فقیر سمجھ کر پیسے دے دیگا۔
محبوب کا دیدار تو شاید نہ ھو، حوالدار محبوب کا سامنا ضرور ہوسکتا ھے
قدرت کا ایک قانون ہے کہ جب کوئی بھی جذبہ اپنی ایک حد پار کر جاۓ تو اپنے مخالف کی شکل دھار لیتا ہے، جیسے غم حدوں کو پار کر جاۓ تو مسکراہٹ چہرے پر سج جاتی ہے۔ خُوشی حد کو پار کر جاۓ تو آنکھوں میں نمی اُمڈ آتی ہے۔ اور درد ایک حد سے بڑھ جائے تو عجب لذّت پیدا ہو جاتی ہے
کوئی اور طرح کی بات کرو
دل جس سے سب کا بہل جائے
دھیان اور طرف کو نکل جائے
کوئی اور طرح کی بات کرو
دھیان اور طرف کو نکل جائے
کسی اور خیال میں ڈھل جائے
بے مصرف دن کے آخر پر
یہ ڈھلتی شام سنبھل جائے
اس سخت مقام زمانے کا
یہ سخت مقام بدل جائے
کوئی اور طرح کی بات کرو
کسی گھاٹ پر کشتی آن لگے
کوئی نئی نئی پہچان لگے
کوئی نیا نیا انجان لگے
بے مصرف دن کے آخر پر
یہ ڈھلتی شام سنبھل جائے
کوئی اور طرح کی بات کرو
انسان بعض اوقات یہ سوچتا ہے کہ جناب اگر میں یہاں سے جگہ چھوڑ کر اسلام آباد چلا جاؤں تو ساری مشکلات کا حل نکل آئے گا یا بچے کی شادی ہو جائے تو معاملات حل ہو جائیں گے-
جب آپ اسلام آباد جائیں گے تو آپ اپنا آپ بھی تو ساتھ لےجائیں گے ناں- جو ان ساری چیزوں کو اپنی جانب کھینچتا ہے' کشش رکھتا ہے-
آپ تو دراصل مقناطیس ہیں اور مشکلات تو وہ لوہے کے ذرے ہیں' جو آپ سے چمٹے ہیں-
شہر بدلنے سے' لباس تبدیل کرنے سے' مزاج بدلنے سے کچھ نہیں ہوتا- وہ تو ایک خاص طرح کی رحمت ہوتی ہے'
جو بندہ ﷲ سے درخواست کرے کہ مجھ پر خصوصی فضل فرمایا جائے تاکہ میں اس عذاب سےنکلوں تب نجات ملتی ہے۔
"زاویہ سے اقتباس
Main usko khaak sunaun ga
Shayari,
Jis ko ghazal sunao to kehta hai
Nazam achi hai
رسمی سا میل جول تھا، سمجھا کہ عشق ہے
دل نے بڑے یقیں سے، کتابِ گُماں پڑھی
کو ئ موسم تو ایسا ہو کہ وہ موسم تمہاری یاد کا
موسم نہ ہو
کچھ بتاتے ہوئے، کچھ چھُپاتے ہوئے
میں ہنسا، معذرت، رو دیا، معذرت
جو ہُوا، جانے کیسے ہُوا، کیا خبر
جو کِیا، وہ نہیں ہو سکا، معذرت
ہم سے گریہ مکمل نہیں ہو سکا
ہم نے دیوار پر ِلکھ دیا، معذرت!
میں کہ خود کو بچانے کی کوشش میں تھا
ایک دن میں نے خود سے کہا، معذرت
خود تمھاری جگہ جا کے دیکھا ہے اور
خود سے کی ہے تمھاری جگہ معذرت
میں بہت دُور ہوں، شام نزدیک ہے
شام کو دو صدا، شکریہ، معذرت
اب کسے چاہیں کسے ڈھونڈا کریں
وہ بھی آخر مل گیا اب کیا کریں
ہلکی ہلکی بارشیں ہوتی رہیں
ہم بھی پھولوں کی طرح بھیگا کریں
آنکھ موندے اس گلابی دھوپ میں
دیر تک بیٹھے اسے سوچا کریں
دل محبت دین دنیا شاعری
ہر دریچے سے تجھے دیکھا کریں
گھر نیا کپڑے نئے برتن نئے
ان پرانے کاغذوں کا کیا کریں
مسجد کی اسپیکر والی الماری جو بغیر تالے کے ہے ایک دن آذان دینے کے لئے مؤذن صاحب نے اسپیکر کا بٹن کھولا تو اسپیکر کی مشین تو چلی مگر آواز ہارن تک نہ جاتی تھی، بوڑھے مؤذن صاحب نے مشین اور الماری بند کر کے بغیر اسپیکر کے آذان دی۔ جب نمازی آئے تو مؤذن صاحب نے کسی نوجوان کو اسپیکر چیک کرنے کو کہا، اُس نے دیکھا تو ہارن کی جانب جانے والی تار ایسے کٹی اور چھیلی ہوئی تھی جیسے کسی نے چھری سے کاٹنے کی کوشش کی ہو، ساری مسجد میں یہ بات پھیل گئی کہ جناب...! کوئی چور مشین چوری کرنے کی غرض سے آیا اچانک کسی آہٹ سنائی دینے پر وہ کام نامکمل چھوڑ کر بھاگ گیا
اَب چور تلاش کرنے کی صدا لگائی گئی۔
محلے کے فلاں اوباش کی یہ حرکت ہو سکتی ہے، دوسرے نے کہا: فلاں چھوکرا بری صحبت میں اٹھتا بیٹھتا ہے اُس کی کارستانی ہو سکتی ہے، تیسرے بابا جی نے کہا: فلاں گھر والا لڑکا دوسال پہلے چوری کے کیس میں پکڑا گیا تھا مجھے تو اُس پر شک ہے، غرض کہ جتنے منہ اُتنی باتیں۔۔۔
ظاہر ہے کسی کا گھر تو تھا نہیں کہ جب تک کوئی فیصلہ نہ ہو جاتا مجلس برخاست نہ ہوتی، سب اپنی بولی بول کر آہستہ آہستہ بِنا کوئی فیصلہ کئے مسجد سے رخصت ہو گئے، تار جوڑ دی گئی، آذان کی آواز آنا شروع ہو گئی،
ہر نماز پہ بات چِھڑتی اور مختلف چوروں پہ تبصرے ہوتے رہے۔
دوسرے دن ظہر کی آذان دینے کے لئے مؤذن صاحب نے جونہی الماری کا پَٹ کھولا تو خَپ کر کے بڑا چوہا مؤذن صاحب کے قدموں کو چھوتا وہ گیا، اوسان بہال ہونے پہ جب مشین کا بٹن کھولا تو ہارن میں آواز ندارد۔۔۔ وہی تار کٹی ہوئی، وہی کل والا مسئلہ۔۔۔ اَب جب نمازی تشریف لائے تو مؤذن صاحب نے ساری صورتحال سے آگاہ کیا، سب خاموش۔۔۔
صاحب! ہمارے اکثر جھگڑے مفروضوں پہ قائم ہوتے ہیں، دشمنیاں شک کی بنیاد پہ ہوتی ہیں، نفرتیں گمانوں کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں، اکثر وہ کچھ نہیں ہوتا جو ہم سوچ رہے ہوتے ہیں۔
دل پاک کیجئے، سوچ پاک ہو جائے گی، نفرت کی جگہ اُلفت جنم لے گی
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain