Damadam.pk
Offline's posts | Damadam

Offline's posts:

Offline
 

نجانے مجھے کیا ہو گیا ہے شادی کی تقریبات میں مہندی ہو ..بارات ہو ..
یا ولیمہ .. مجھے کوئی غرض نہیں ہوتی کون کیسالگ رہا رہی ہے۔ میرا تو سارا دھیان دیگوں کی طرف ہی ہوتا ہے

Offline
 

توکّل
گاڑی کا وہ میکینک کام کرتے کرتے اٹھا اس نے پنکچر چیک کرنے والے ٹب سے ہاتھ گیلے کیے اور ویسے ہی جا کر کھانا کھانا شروع کر دیا میں نے اس سے کہا کہ اللّٰه کے بندے اس طرح گندے ہاتھوں سے کھانا کھاؤ گے تو بیمار پڑ جاؤ گے - ہزاروں جراثیم تمہارے پیٹ میں چلے جائینگے ، کیا تم نے کبھی اس طرح کی باتیں ڈیٹول یا صابن کے اشتہار میں نہیں دیکھیں ،تو اس نے جواب دیا کہ " صاحب جب ہم ہاتھوں پر پہلا کلمہ پڑھ کر پانی ڈالتے ہیں تو سارے جراثیم خود بہ خود مر جاتے ہیں اور جب بسم اللّٰہ پڑھ کر روٹی کا لقمہ توڑتے ہیں تو جراثیموں کی جگہ ہمارے پیٹ میں برکت اور صحت داخل ہو جاتی ہے۔مجھے اس مکینک کی بات نے ہلا کر رکھ دیا یہ تو اس کا توکل تھا جو اسے بیمار نہیں ہونے دیتا تھا - میں اس سے اب بھی ملتا ہوں - اتنے سال گزر جانے کے بعد بھی وہ مجھ سے زیادہ صحت مند ہے -
اشفاق

Offline
 

لکھنے والے جو بھی لکھتے ہیں اس میں آدھے معنی ہوتے ہیں باقی آدھے معنی پڑھنے والوں میں ہوتے ہیں

Offline
 

لڑکپن میں پاکستانی فلموں میں ایک عجب بات دیکھی تھی کہ ہیرو اور ہیروئین بچپن میں بچھڑ جاتے ہیں۔
لیکن جوان ہونے کے بعد وہ صرف ایک گانا گانے سے ایک دوسرے کو شناخت کر لیتے ہیں اور دوڑے چلے آتے ہیں۔ گانا نہ ہوا، ڈی این اے ٹیسٹ ہو گیا۔
حقیقی زندگی میں اگر آپ اس اُمید میں ہوں کہ آپ کو آپ کا بچھڑا ہوا محبوب مل جائے گا اور سڑک یا پارک میں کھڑے ہو کر گانا گانا شروع کردیں تو قوی اُمید ھے کہ یا تو آپ کو جوتیاں پڑیں گی یا کوئی فقیر سمجھ کر پیسے دے دیگا۔
محبوب کا دیدار تو شاید نہ ھو، حوالدار محبوب کا سامنا ضرور ہوسکتا ھے

Offline
 

قدرت کا ایک قانون ہے کہ جب کوئی بھی جذبہ اپنی ایک حد پار کر جاۓ تو اپنے مخالف کی شکل دھار لیتا ہے، جیسے غم حدوں کو پار کر جاۓ تو مسکراہٹ چہرے پر سج جاتی ہے۔ خُوشی حد کو پار کر جاۓ تو آنکھوں میں نمی اُمڈ آتی ہے۔ اور درد ایک حد سے بڑھ جائے تو عجب لذّت پیدا ہو جاتی ہے

Offline
 

کوئی اور طرح کی بات کرو
دل جس سے سب کا بہل جائے
دھیان اور طرف کو نکل جائے
کوئی اور طرح کی بات کرو
دھیان اور طرف کو نکل جائے
کسی اور خیال میں ڈھل جائے
بے مصرف دن کے آخر پر
یہ ڈھلتی شام سنبھل جائے
اس سخت مقام زمانے کا
یہ سخت مقام بدل جائے
کوئی اور طرح کی بات کرو
کسی گھاٹ پر کشتی آن لگے
کوئی نئی نئی پہچان لگے
کوئی نیا نیا انجان لگے
بے مصرف دن کے آخر پر
یہ ڈھلتی شام سنبھل جائے
کوئی اور طرح کی بات کرو

Offline
 

انسان بعض اوقات یہ سوچتا ہے کہ جناب اگر میں یہاں سے جگہ چھوڑ کر اسلام آباد چلا جاؤں تو ساری مشکلات کا حل نکل آئے گا یا بچے کی شادی ہو جائے تو معاملات حل ہو جائیں گے-
جب آپ اسلام آباد جائیں گے تو آپ اپنا آپ بھی تو ساتھ لےجائیں گے ناں- جو ان ساری چیزوں کو اپنی جانب کھینچتا ہے' کشش رکھتا ہے-
آپ تو دراصل مقناطیس ہیں اور مشکلات تو وہ لوہے کے ذرے ہیں' جو آپ سے چمٹے ہیں-
شہر بدلنے سے' لباس تبدیل کرنے سے' مزاج بدلنے سے کچھ نہیں ہوتا- وہ تو ایک خاص طرح کی رحمت ہوتی ہے'
جو بندہ ﷲ سے درخواست کرے کہ مجھ پر خصوصی فضل فرمایا جائے تاکہ میں اس عذاب سےنکلوں تب نجات ملتی ہے۔
"زاویہ سے اقتباس

Why women live longer
O  : Why women live longer - 
Beautiful Nature image
O  : Rainbow cloud - 
Memes & Satire image
O  : Don't look at me - 
Offline
 

Main usko khaak sunaun ga
Shayari,
Jis ko ghazal sunao to kehta hai
Nazam achi hai

Offline
 

رسمی سا میل جول تھا، سمجھا کہ عشق ہے
دل نے بڑے یقیں سے، کتابِ گُماں پڑھی

Offline
 

کو ئ موسم تو ایسا ہو کہ وہ موسم تمہاری یاد کا
موسم نہ ہو

Offline
 

کچھ بتاتے ہوئے، کچھ چھُپاتے ہوئے
میں ہنسا، معذرت، رو دیا، معذرت
جو ہُوا، جانے کیسے ہُوا، کیا خبر
جو کِیا، وہ نہیں ہو سکا، معذرت
ہم سے گریہ مکمل نہیں ہو سکا
ہم نے دیوار پر ِلکھ دیا، معذرت!
میں کہ خود کو بچانے کی کوشش میں تھا
ایک دن میں نے خود سے کہا، معذرت
خود تمھاری جگہ جا کے دیکھا ہے اور
خود سے کی ہے تمھاری جگہ معذرت
میں بہت دُور ہوں، شام نزدیک ہے
شام کو دو صدا، شکریہ، معذرت

Offline
 

اب کسے چاہیں کسے ڈھونڈا کریں
وہ بھی آخر مل گیا اب کیا کریں
ہلکی ہلکی بارشیں ہوتی رہیں
ہم بھی پھولوں کی طرح بھیگا کریں
آنکھ موندے اس گلابی دھوپ میں
دیر تک بیٹھے اسے سوچا کریں
دل محبت دین دنیا شاعری
ہر دریچے سے تجھے دیکھا کریں
گھر نیا کپڑے نئے برتن نئے
ان پرانے کاغذوں کا کیا کریں

Offline
 

مسجد کی اسپیکر والی الماری جو بغیر تالے کے ہے ایک دن آذان دینے کے لئے مؤذن صاحب نے اسپیکر کا بٹن کھولا تو اسپیکر کی مشین تو چلی مگر آواز ہارن تک نہ جاتی تھی، بوڑھے مؤذن صاحب نے مشین اور الماری بند کر کے بغیر اسپیکر کے آذان دی۔ جب نمازی آئے تو مؤذن صاحب نے کسی نوجوان کو اسپیکر چیک کرنے کو کہا، اُس نے دیکھا تو ہارن کی جانب جانے والی تار ایسے کٹی اور چھیلی ہوئی تھی جیسے کسی نے چھری سے کاٹنے کی کوشش کی ہو، ساری مسجد میں یہ بات پھیل گئی کہ جناب...! کوئی چور مشین چوری کرنے کی غرض سے آیا اچانک کسی آہٹ سنائی دینے پر وہ کام نامکمل چھوڑ کر بھاگ گیا

Offline
 

اَب چور تلاش کرنے کی صدا لگائی گئی۔
محلے کے فلاں اوباش کی یہ حرکت ہو سکتی ہے، دوسرے نے کہا: فلاں چھوکرا بری صحبت میں اٹھتا بیٹھتا ہے اُس کی کارستانی ہو سکتی ہے، تیسرے بابا جی نے کہا: فلاں گھر والا لڑکا دوسال پہلے چوری کے کیس میں پکڑا گیا تھا مجھے تو اُس پر شک ہے، غرض کہ جتنے منہ اُتنی باتیں۔۔۔
ظاہر ہے کسی کا گھر تو تھا نہیں کہ جب تک کوئی فیصلہ نہ ہو جاتا مجلس برخاست نہ ہوتی، سب اپنی بولی بول کر آہستہ آہستہ بِنا کوئی فیصلہ کئے مسجد سے رخصت ہو گئے، تار جوڑ دی گئی، آذان کی آواز آنا شروع ہو گئی،

Offline
 

ہر نماز پہ بات چِھڑتی اور مختلف چوروں پہ تبصرے ہوتے رہے۔
دوسرے دن ظہر کی آذان دینے کے لئے مؤذن صاحب نے جونہی الماری کا پَٹ کھولا تو خَپ کر کے بڑا چوہا مؤذن صاحب کے قدموں کو چھوتا وہ گیا، اوسان بہال ہونے پہ جب مشین کا بٹن کھولا تو ہارن میں آواز ندارد۔۔۔ وہی تار کٹی ہوئی، وہی کل والا مسئلہ۔۔۔ اَب جب نمازی تشریف لائے تو مؤذن صاحب نے ساری صورتحال سے آگاہ کیا، سب خاموش۔۔۔
صاحب! ہمارے اکثر جھگڑے مفروضوں پہ قائم ہوتے ہیں، دشمنیاں شک کی بنیاد پہ ہوتی ہیں، نفرتیں گمانوں کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں، اکثر وہ کچھ نہیں ہوتا جو ہم سوچ رہے ہوتے ہیں۔
دل پاک کیجئے، سوچ پاک ہو جائے گی، نفرت کی جگہ اُلفت جنم لے گی

Beautiful Nature image
O  : آپ کو پتا ہے کہ پاکستان میں کیا ھو رھا ھے؟ نھیں پتا؟ رات ھو رھی ھے سو جاو شب - 
Memes & Satire image
O  : Good content -