ہر بڑے آدمی کے پیچھے ایک عورت ہوتی ہے لیکن کیسے؟ ایک بڑی کمپنی نے اپنے ورکرز کے لیے ایک جھیل کے کنارے سیر و تفریح کا انتظام کیا۔ یہ جھیل مگرمچھوں سے بھری ہوئی تھی۔ کمپنی نے بطور تفریح لوگوں سے کہا: جو صحیح سالم اس جھیل کو پار کر لے گا اسے دس لاکھ ڈالر انعام ملے گا اور اگر اسے مگرمچھ نے نگل لیا تو اس کے ورثاء کو دس لاکھ ڈالر ملے گا۔ ورکرز میں سے کسی کی ہمت نہیں ہوئی لیکن اچانک ان میں سے ایک شخص نے جھیل میں چھلانگ لگائی اور ہانپتے کانپتے بحفاظت پار کر لیا۔ اس مقابلے میں کامیاب ہو کر وہ آدمی اپنے گاؤں کا کروڑ پتی بن گیا لیکن اس نے معلوم کرنا چاہا کہ آخر کس نے اسے دھکا دیا تھا بالآخر اسے معلوم ہوا کہ وہ اس کی بیوی تھی جس نے اسے پیچھے سے دھکا دیا تھا. اسی وقت سے یہ مقولہ مشہور ہو گیا کہ ((ہر بڑے آدمی کے پیچھے ایک عورت ہوتی ہے))
چلی ہے شہر میں اب کے ہوا،، ترکِ تعلق کی کہیں ہم سے نہ ہو جائے خطا ترکِ تعلق کی بناوٹ گفتگو میں ، گفتگو بھی اکھڑی اکھڑی سی تعلق رسمی رسمی سا ،،،،،،،،،، ادا ترکِ تعلق کی ہمیں وہ صبر کے اس موڑ تک لانے کا خواہاں ہے کہ تنگ آجائیں ہم ،،،، مانگیں دعا ترکِ تعلق کی بہانے ڈھونڈتا رہتا ہے وہ،،،، ترک مراسم کے اسے ویسے بھی عادت ہے ذرا ترکِ تعلق کی یہ بندھن ہم نے باندھا تھا سلامت ہم کو رکھنا تھا بہت کوشش تو اس نے کی،،،،، سدا ترکِ تعلق کی وہ ملتا بھی محبت سے ہے لیکن عادتاً ساجد کئے جاتا ہے باتیں جا بجا،،،،، ترکِ تعلق کی
سارے آسمان پر بادل چھائے ہیں مجھے اپنا گھر بھول گیا ہے میں گھر سے باہر ضرورت کی کوئی چیز لینے کے لیے نکلا تھا گھر سے باہر نکلنے کے بعد مجھے اپنا گھر بھول گیا ہے اب میں اسے تلاش کر رہا ہوں اسے کیسے تلاش کروں اکّا دکّا کوئی درخت کبھی کبھی، کہیں کہیں کوئی شناسا چہرہ اور دور دراز میں کہیں کوئی مانوس عمارت سمجھ میں نہیں آتا ایسے نامکمل نشانوں کی معرفت اپنے گھر تک کیسے پہنچوں گا میرے آس پاس خواب کی کیفیت ہے اور میرا دل گھر واپس جانے کو چاہتا ہے
ماسٹر صاحب بچے کو بڑی جان مار کے حساب سکھا رھے تھے. وہ ریاضی کے ٹیچر تھے. اُنھوں نے بچے کو اچھی طرح سمجھایا کہ دو جمع دو چار ہوتے ہیں- مثال دیتے ہوئے انھوں نے اسے سمجھایا کہ یوں سمجھو کہ میں نے پہلے تمھیں دو کبوتر دئے. ..پھر دو کبوتر دئے...تو تمھارے پاس کل کتنے کبوتر ہو گئے؟ بچے نے اپنے ماتھے پہ آئے ہوئے silky بالوں کو ایک ادا سے پیچھے کرتے ہوئے جواب دیاکہ *ماسٹر جی "پانچ"* ماسٹر صاحب نے اسے دو پنسلیں دیں اور پوچھا کہ یہ کتنی ھوئیں؟ بچے نے جواب دیا کہ دو، پھر دو پنسلیں پکڑا کر پوچھا کہ اب کتنی ہوئیں؟ *"چار" بچے نے جواب دیا.*
ماسٹر صاحب نے ایک لمبی سانس لی جو اُن کے اطمینان اور سکون کی کی علامت تھی..... پھر دوبارہ پوچھا... اچھا اب بتاؤ کہ فرض کرو کہ میں نے پہلے تمھیں دو کبوتر دئیے پھر دو کبوتر دیئے تو کُل کتنے ہو گئے....؟ *"پانچ" بچے نے فورًا جواب دیا.* ماسٹر صاحب جو سوال کرنے کے بعد کرسی سیدھی کر کے بیٹھنے کی کوشش کر رہے تھے اس زور سے بدکے کہ کرسی سمیت گرتے گرتے بچے...... اؤ احمق‘‘‘پنسلیں دو اور دو "4" ہوتی ھیں تو کبوتر دو اور دو "5" کیوں ہوتے ہیں ؟ اُنھوں نے رونے والی آواز میں پوچھا... *"ماسٹر جی ایک کبوتر میرے پاس پہلے سے ہی ہے" بچے نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔*
جو حسن حشر بداماں نہیں تو کچھ بھی نہیں جو عشق بے سروسامان نہیں تو کچھ بھی نہیں سنورنا زلف پریشاں کا اک قیامت ہے جو زلف یار پریشاں نہیں تو کچھ بھی نہیں ہزار سال کرے گر کوئی رکوع و سجود نگاہ بر رخِ جاناں نہیں تو کچھ بھی نہیں ہے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain