مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کیے ہوئے جوشِ قدح سے بزم چراغاں کیے ہوئے جی ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کہ رات دن بیٹھے رہیں تصورِ جاناں کیے ہوئے غالبؔ ہمیں نہ چھیڑ کہ پھر جوشِ اشک سے بیٹھے ہیں ہم تہیۂ طوفاں کیے ہوئے
تعلیم ‛ ہنر ‛ آزادی ‛ خود اعتمادی بیٹی ہو یا بیٹا اولاد کو دی گئ وہ ڈھال ھے۔ جو اسے حالا ت کی دھوپ اور بارش سے بچاتی ھے۔ورنہ انسان کی ذات پھٹی دھجی جتنی بے وقعت ہو کر رہ جاتی ھے۔جو حالات کی آندھیوں میں سہارا ڈھونڈنے کو اڑتی پھڑپھڑاتی فنا ہو کر رہ جاتی ھے۔
ابھی تک ہم نہیں بولے ابھی تو آپ ہیں، اور آپ کا زورِ خطابت ہے بہت الفاظ ہیں نادر ،،، بہت بے ساختہ جملے ابھی تو لب کشائی،،،،،،،،، آپ کی اپنی گواہی ہے ابھی تو آپ ہیں ظلِّ الٰہی، آپ ہی کی بادشاہی ہے ابھی تو علم و حکمت، لفظ و گوہر آپ ہی کے ہیں ابھی سب فیصلے، سب مُہر و محور آپ ہی کے ہیں ابھی سب زر،، جواہر، مال و دولت آپ ہی کے ہیں ابھی سب شہرت و اسبابِ شہرت آپ ہی کے ہیں
ابھی کیا ہے،،، ابھی تو آپ کا جبروت لہجے میں عیاں ہو گا ابھی تو آپ ہی کے نطق و لب سے آپ کا قصہ بیاں ہو گا ابھی تو محترم بس آپ ہیں، خود اپنی نظروں میں معظم،،، محتشم،، القاب ہیں خود اپنی نظروں میں ابھی تو گونجتے اونچے سُروں میں آپ ہی ہیں نغمہ خواں اپنے سبھی لطف و کرم گھر کے،،،،،،،،،،، مکان و لا مکاں اپنے ابھی تو آپ ہی کہتے ہیں،،،،،، کتنا خوب کہتے ہیں جو دل میں آئے کہتے ہیں، جو ہو مطلوب کہتے ہیں مگر جب آپ کی سیرت پہ، ساری گفتگو ہو لے تو یہ بھی یاد رکھیے گا ، ابھی تک ہم نہیں بولے
بچے کچھ بھی ہوں بس برگر نہ ہوں بھتیجی اسلام آباد سے آئی ابھی 3 سال کی ہوگی بمشکل بات کرتی ہے بکرا زبح کیا تو کمرے سے صحن میں آگئی اور آنکھیں ملتے ہوۓ بولی "اوہو ہمارا بکرا ٹوٹ گیا" ابھی اس بات پر سب ہنس رہے تھے کہ چھوٹے بھائی نے بکرے کی کھال اٹھائی اور لے کے جانے لگا تو بھتیجا جو 4سال کا ہے بولا "چاچو آپ یہ بکرے کے چھلکے کہاں لے کر جارہے ہیں" دسو بھلا
واصف علی واصف نے بھی کیا خوب کہا ہے ''پریشانی حالات سے نہیں خیالات سے پیدا ہوتی ہے'' یاد رکھیں! ہم جو کچھ ہیں اپنے خیالات کی بدولت ہیں۔ یہ دنیا ہماری سوچ ہی کا نتیجہ ہے، اگر ہم منفی خیالات کیساتھ کچھ کریں گے تو نتیجہ پریشانی ہی پریشانی، مثبت خیالات کیساتھ کچھ کریں یا بولیں گے تو نتیجہ خوشی، اطمینان اور سکون ہی ہوگا۔
میری دعائیں پیچیدہ بہت ہیں شام کا وقت ہے، دعاؤں کی منظوری کا وقت ہے میں کیسی دعاؤں کو یاد کروں میری دعائیں پیچیدہ بہت ہیں آپس میں گڈ مڈ ہو کر بے اثر ہو جاتی ہیں میرے دل میں بہت بے اثر دعائیں ہیں بہت دعاؤں کی بجائے میرے دل میں ایک دعا ہوتی تو اچھا ہوتا
درد کے پھول بھی کھلتے ہیں بکھر جاتے ہیں زخم کیسے بھی ہوں کچھ روز میں بھر جاتے ہیں راستہ روکے کھڑی ہے یہی الجھن کب سے کوئی پوچھے تو کہیں کیا کہ کدھر جاتے ہیں چھت کی کڑیوں سے اترتے ہیں مرے خواب مگر میری دیواروں سے ٹکرا کے بکھر جاتے ہیں نرم الفاظ بھلی باتیں مہذب لہجے پہلی بارش ہی میں یہ رنگ اتر جاتے ہیں اس دریچے میں بھی اب کوئی نہیں اور ہم بھی سر جھکائے ہوئے چپ چاپ گزر جاتے ہیں
میں جب اپنے خدا سے ملوں گا یہ پوچھوں گا، "کن" جب پہلی بار کہا تھا۔۔ کونسا لفظ ایجاد کیا تھا؟ دیکھنا اس دن ثابت ہوگا پہلا لفظ "محبت" ہو گا - خلیل الرحمٰن قمر
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain