ایک انگلش شعر کا ترجمعہ ہے کہ "رات کے وقت دو آدمی کھڑکی سے باہر دیکھتے ہیں تو ایک شخص کیچڑ دیکھتا ہے اور دوسرا ستارہ"۔۔۔ اس دنیا میں کیچڑ بھی ہے اور یہاں ستارے بھی ہیں۔۔ یہ دیکھنے والے پر منحصر ہے کہ وہ کیا دیکھنا چاہتا ہے! عقل مند رات کی تاریکی میں ستاروں کی چمک سے اپنے سفر کےلئے روشنی لیتا ہے تو نادان کیچڑ کو اپنے راستے کی رُکاوٹ سمجھ کر آگے بڑھنے سے رُک جاتا ہے
راکھ کے ڈھیر پہ اب رات بسر کرنی ہے
جل چکے ہیں مرے خیمے،مرے خوابوں کی طرح
ﺗﻢ ﺑﮭﯽ ﺧﻔﺎ ﮨﻮ ﻟﻮﮒ ﺑﮭﯽ ﺑﺮﮨﻢ ﮨﯿﮟ ﺩﻭﺳﺘﻮ
ﺍﺏ ﮨﻮ ﭼﻼ ﯾﻘﯿﮟ ﮐﮧ ﺑﺮﮮ ﮨﻢ ﮨﯿﮟ ﺩﻭﺳﺘﻮ
ﮐﺲ ﮐﻮ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺣﺎﻝ ﺳﮯ ﻧﺴﺒﺖ ﮨﮯ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﯾﮟ
ﺁﻧﮑﮭﯿﮟﺗﻮ ﺩُﺷﻤﻨﻮﮞﮐﯽ ﺑﮭﯽ ﭘﺮﻧﻢ ﮨﯿﮟ ﺩﻭﺳﺘو
ﺍﭘﻨﮯ ﺳﻮﺍ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻧﮧ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﻏﻢ ﮐﺴﮯ
ﺍﭘﻨﯽ ﺗﻼﺵ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﮨﻤﯽ ﮨﻢ ﮨﯿﮟ ﺩﻭﺳﺘﻮ
ﮐﭽﮫ ﺁﺝ ﺷﺎﻡ ﮨﯽ ﺳﮯ ﮨﮯ ﺩﻝ ﺑﮭﯽ ﺑﺠﮭﺎ ﺑﺠﮭﺎ
ﮐﭽﮫ ﺷﮩﺮ ﮐﮯ ﭼﺮﺍﻍ ﺑﮭﯽ ﻣﺪﮬﻢ ﮨﯿﮟ ﺩﻭﺳﺘﻮ
ﺍﺱ ﺷﮩﺮِ ﺁﺭﺯﻭ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﻞ ﭼﻠﻮ
ﺍﺏ ﺩﻝ ﮐﯽ ﺭﻭﻧﻘﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﻡ ﮨﯿﮟ ﺩﻭﺳﺘﻮ
ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﺳﮩﯽ ﻓﺮﺍﺯ ﭘﺮ ﺍﺗﻨﺎ ﺿﺮﻭﺭ ﮨﮯ
ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﺴﮯ ﻟﻮﮒ ﺑﮩﺖ ﮐﻢ ﮨﯿﮟ ﺩﻭﺳﺘﻮ
وہ جب چاہے محکمہ موسمیات کی تمام پیشںن گوئیوں کو جُھٹلا کر فقط اپنے ہنسنے سے موسم کو بدل سکتی ہے
آئینے میں اگر کوئی تھکا ہارا انسان نظر آ رہا ہو__ تو دو منٹ افسوس کرنے کے بعد اس سے کہیے یار افسوس رونے کا تو دل تمہارے ساتھ ساری عمر کر رہا ھے___
مگر کیا کروں میرے پاس ایک ہی زندگی ھے اور مجھے ہنس کر بھی دیکھنا ھے اور آئینے والے کی زندگی بدل دیجئے
عادتیں نسلوں کا پتہ دیتی ہیں ۔
۔۔ ایک بادشاہ کے دربار میں ایک اجنبی،نوکری کی طلب لئےحاضر ھوا، قابلیت پوچھی گئ، کہا ،سیاسی ہوں ۔۔ (عربی میں سیاسی،افہام و تفہیم سے مسئلہ حل کرنے والے معاملہ فہم کو کہتے ھیں) بادشاہ کے پاس سیاست دانوں کی بھر مار تھی، اسے خاص " گھوڑوں کے اصطبل کا انچارج " بنا لیا جو حال ہی میں فوت ھو چکا تھا. چند دن بعد ،بادشاہ نے اس سے اپنے سب سے مہنگے اور عزیز گھوڑے کے متعلق دریافت کیا، اس نے کہا "نسلی نہیں ھے" بادشاہ کو تعجب ھوا، اس نے جنگل سے( سائیس ) کو بلاکر دریافت کیا
اس نے بتایا، گھوڑا نسلی ھے لیکن اس کی پیدائش پر اس کی ماں مرگئ تھی، یہ ایک گائے کا دودھ پی کر اس کے ساتھ پلا ھے. مسئول کو بلایا گیا، تم کو کیسے پتا چلا، اصیل نہیں ھے؟؟؟ اس نے کہا، جب یہ گھاس کھاتا ھےتو گائیوں کی طرح سر نیچے کر کے جبکہ نسلی گھوڑا گھاس منہ میں لےکر سر اٹھا لیتا ھے. بادشاہ اس کی فراست سے بہت متاثر ھوا، مسئول کے گھر اناج،گھی،بھنے دنبے،اور پرندوں کا اعلی گوشت بطور انعام بھجوایا. اس کے ساتھ ساتھ اسے ملکہ کے محل میں تعینات کر دیا
، چند دنوں بعد، بادشاہ نے مصاحب سے بیگم کے بارے رائے مانگی، اس نے کہا. طور و اطوار تو ملکہ جیسے ھیں لیکن "شہزادی نہیں ھے،" بادشاہ کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی ، حواس بحال کئے، ساس کو بلا بیجھا، معاملہ اس کے گوش گذار کیا. اس نے کہا ، حقیقت یہ ھے تمہارے باپ نے، میرے خاوند سے ھماری بیٹی کی پیدائش پر ھی رشتہ مانگ لیا تھا، لیکن ھماری بیٹی 6 ماہ ہی میں فوت ھو گئ تھی، چنانچہ ھم نے تمہاری بادشاہت سے قریبی تعلقات قائم کرنے کے لئے کسی کی بچی کو اپنی بیٹی بنالیا. بادشاہ نے مصاحب سے دریافت کیا، "تم کو کیسے علم ھوا،" اس نے کہا، اس کا "خادموں کے ساتھ سلوک" جاہلوں سے بدتر ھے، بادشاہ اس کی فراست سے خاصا متاثر ھوا، "بہت سا اناج، بھیڑ بکریاں" بطور انعام دیں. ساتھ ہی اسے اپنے دربار میں متعین کر دیا. کچھ وقت گزرا، "مصاحب کو بلایا
"اپنے بارے دریافت کیا،" مصاحب نے کہا، جان کی امان، بادشاہ نے وعدہ کیا، اس نے کہا: "نہ تو تم بادشاہ زادے ھو نہ تمہارا چلن بادشاہوں والا ھے" بادشاہ کو تاؤ آیا، مگر جان کی امان دے چکا تھا، سیدھا والدہ کے محل پہنچا، "والدہ نے کہا یہ سچ ھے" تم ایک چرواہے کے بیٹے ھو،ہماری اولاد نہیں تھی تو تمہیں لے کر پالا ۔ بادشاہ نے مصاحب کو بلایا پوچھا، بتا، "تجھے کیسے علم ھوا" ؟؟؟ اس نے کہا، "بادشاہ" جب کسی کو "انعام و اکرام" دیا کرتے ھیں تو "ہیرے موتی، جواہرات" کی شکل میں دیتے ھیں،،،، لیکن آپ "بھیڑ ، بکریاں، کھانے پینے کی چیزیں" عنایت کرتے ھیں "یہ اسلوب بادشاہ زادے کا نہیں " کسی چرواہے کے بیٹے کا ہی ھو سکتا ھے. عادتیں نسلوں کا پتہ دیتی ہیں ۔۔۔ عادات، اخلاق اور طرز عمل ۔۔۔ خون اور نسل دونوں کی پہچان کرا دیتے ھیں
وہ مرے کاسے میں یادیں چھوڑ کر یوں چل دیا
جس طرح الفاظ جاتے ہوں معانی چھوڑ کر
خوشی نے اپنی طرف مجھ کو بلایا
اور پھر
درد نے دور سے آواز لگائ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔"واپس
بہت دنوں سے نہیں اپنے درمیاں وہ شخص
اداس کر کے ہمیں چل دیا کہاں وہ شخص؟
قریب تھا تو کہا ہم نے سنگدل بھی اسے
ہوا جو دور تو لگتا ہے ﺟﺎﻥِ ﺟﺎﮞ وہ شخص
اس ایک شخص میں تھیں دلربائیاں کیا کیا
ہزار لوگ ملیں گے مگر کہاں وہ شخص؟؟؟
وہ جس کے نقش- قدم سے چراغ جلتے تھے
جلے چراغ تو خود بھی بنا دھواں وہ شخص
چھپا لیا جسے پت جھڑ کے زرد پتوں نے
ابھی تلک ہے بہاروں پہ حکمراں وہ شخص
قتیل_ کیسے بھلائیں گے اہل- درد اسے؟؟؟
دلوں میں چھوڑ گیا اپنی داستاں وہ شخص
تم _____ میری کتاب میں رکھا ہوا مور کا وہ اکلوتا پنکھ ہو میری عمر بیت چلی لیکن وہ بڑا نہیں ہوا
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain