Damadam.pk
Offline's posts | Damadam

Offline's posts:

Offline
 

"تم کو هی لکھ رها هوں"
یہ خط میں تم کو هی لکھ رها هوں
مگر مجهے یہ یقین بهی هے
کہ اس نوشتے کو تاقیامت
تمهاری آنکهیں نہ پڑھ سکیں گی
یہ خط عجیب اور منفرد هے
جو قاصدوں اور ڈاکخانوں سے تا ابد اجنبی رهے گا
میں اس کو لکھ کر
طویل جاڑوں کی یخ گزیدہ اداس راتوں میں خود پڑهوں گا
پهر ایک دن پارہ پاره کر کے
عدم کی بهٹی میں پهینک دوں گا
یہ خط جو تم هی کو لکھ رها هوں
کہ جس میں خود محوری کا پہلو چهپا هوا هے

Offline
 

میں سوچتا هوں
کہ روز و شب کی رفاقتوں نے
همارےاندر طویل اُکتاہٹوں کے خاشاک بهر دیے هیں
همارےجذبے جماہیاں لے رهے هیں
اور باہمی تفاهم پہ برفباری کی کیفیت هے
'کہیں تعلق نہ ٹوٹ جائے'
سو اب یہی فیصلہ هےمیرا
تم اپنے آنگن میں جا بسو تو
میں اپنےصحرا کی وسعتوں میں
خوشی خوشی دن گزارنے کا
کوئی طریقہ نکال لوں گا
یہ مرے حرفِ آخری هیں
میں اس کے بعد کچھ بهی نہیں لکهوں گا
مگر یہ میرا لکها هوا خط
تمهارے گهر کے پتے پہ تم کو
کبهی نہ موصول هو سکے گا.

Offline
 

دل چاہتا ہے کچھ تمھاری آنکھوں پہ لکھ سکوں ۔۔ مگر لکھوں کیسے ۔۔۔ کہ میرے پاس نہ تتلیوں جیسے رنگ ہیں ، نہ سفید موتیوں جیسے الفاظ، نہ سیف الملوک جیسی ٹھنڈک

Offline
 

اسے کہو
لوگ کچھ اور نہیں پڑھتے
ڈائریوں مين کچھ لکھا نہ کرے
اسے کہو
فلک کے تاروں سا ہو جاؤنگا
یوں شب بھر جاگا نہ کرے
اسے کہو
خُد پے بوجھ بن جاتا ہوں
کبھی مجھ سے روٹھا نہ کرے

Offline
 

درد کے صحرا میں
کوئی پھول نہیں کھلتا
کبھی بارش نہیں ہوتی
بس گرد سی اڑتی ہے
بے نام سی یادوں کی
خاموش سے منظر کچھ
آنکھوں میں یوں چبھتے ہیں
گر دیکھنا چاہیں بھی تو
دھندلائے ہوے چہرے
بس گھومتے جاتے ہیں
اس درد کے صحرا میں
کبھی مٹنے نہیں پاتے ہیں

Offline
 

اہل عرب جب شادی بیاہ کرتے تھے تو قدیم رواج کے مطابق دعوت کی تقریب میں شامل مہمانوں کی تواضع کے لیے بھنے ہوئے گوشت کے ٹکڑے کو روٹی کے اندر لپیٹ کر پیش کرتے تھے .
اگر کسی تقریب میں گھر کے سربراہ کو پتا چلتا کہ اس شادی میں شریک افراد کی تعداد دعوت میں تیار کیے گوشت کے ٹکڑوں کی تعداد سے زیادہ ہے ، یا زیادہ ہوسکتی ہے ، تو وہ کھانے کے وقت دو روٹیاں (گوشت کے بغیر) ایک دوسرے کے ساتھ لپیٹ کر اپنے اہلِ خانہ، رشتہ داروں اور انتہائی قریبی دوستوں میں تقسیم کرتے جبکہ گوشت روٹی کے اندر لپیٹ کر صرف باہر سے آئے ہوئے اجنبیوں کو پیش کیا جاتا تھا...
ایسا ہی ایک بار غریب شخص کے ہاں شادی کی تقریب تھی جس میں اس شخص نے دعوت کے دن احتیاطاً بغیر گوشت کے روٹی کے اندر روٹی لپیٹ کر اپنے گھر والوں، رشتہ داروں اور متعدد قریبی قابلِ بھروسہ دوستوں کو کھانے میں پیش کی

Offline
 

تاکہ اجنبیوں کو کھانے میں روٹی کے ساتھ گوشت مل سکے اور کسی بھی قسم کی شرمندگی سے بچا جاسکے..
جنہیں صرف روٹی ملی تھی تو انہوں نے ایسے کھانا شروع کردیا گویا اس میں گوشت موجود ہے ، سوائے اس کے ایک انتہائی قریبی رشتہ دار کے اس نے روٹی کھولی گھر کے سربراہ کو بلایا اور غصے سے بلند آواز میں اس سے کہا ، "اے عبداللہ کے باپ یہ کیا مذاق ہے یہ تو روٹی گوشت کے بغیر ہے میں تو آج کے دن ہرگز یہ نہیں کھاؤں گا"
غریب شخص نے تحمل سے سنا اور مسکرا کر جواب دیا ، "اجنبیوں کا مجھ پر حق ہے کہ میرے دسترخوان پر انہیں ہر حال میں گوشت پیش کیا جائے" . یہ لیجئے گوشت کا ٹکڑا اور معافی چاہتا ہوں مجھ سے غلطی ہوئی میں آپ کو اپنے اہلِ خانہ میں شمار کررہا تھا

Offline
 

حکمت
ہمارے موجودہ دور میں ہم بہت سارے لوگوں پر بھروسہ کرتے ہیں. ان کو گھر کے فرد جیسا سمجھتے ہوئے یہ یقین رکھتے ہیں کہ یہ مشکل وقت میں ہمارے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے، ہماری پیٹھ پیچھے ہماری عزت کی حفاظت کرتے ہوئے ہر حال میں وفاداری نبھائیں گے. لیکن عین ضرورت کے وقت ہمارے اندازے غلط ثابت ہوجاتے ہیں اس لیے
اس بات کو یقینی بنائیں کہ
" کون سی روٹی کون سے بندے کو دینی ہے.."

Memes & Satire image
O  : True story about procrastinating - 
How to fix this
O  : How to fix this - 
Which spy do you prefer
O  : Which spy do you prefer - 
Memes & Satire image
O  : I see nothing I hear nothing I know nothing - 
Memes & Satire image
O  : I will do it later till it is art - 
Offline
 

ہماری زمینیں الگ الگ ہیں مگر میں مطمئن ہوں
ہمارا آسمان ایک ھے ہمارا جہاں ایک ھے

Offline
 

تیرا مذاق میں کہنا کہ چھوڑ دونگا تجھے
اور ایک دم سے میرا مسکرا کے رو پڑنا
ایک ہی درد کے دو مختلف حوالے ہیں
کسی سے چھپ کر کسی کو بتا کے رو پڑنا
وہ آئینے میں بہت دیر دیکھنا خود کو
پھر اپنے ضبط پہ تالی بجا کے رو پڑنا

Offline
 

کبھی کبھی سوچتا ھوں۔کہ یہ رواج کس نے شروع کیا ہو گا ۔ کہ کوئی جائے اس کے بعد ۔ اس کے با رے میں میٹھا کہا جا ئے۔اس کے ھوتے ھوئے کیوں نہیں۔ کیوں ایسا نہ ہو کہ اسے یاد دلا یا جا ئےکبھی کبھارکہ یارکہ تجھ میں یہ با ت بہت بہترین ہے۔کہ تو نے جب یہ کہا تھا نا۔ تو مجھے بہت اچھا لگا تھا۔ ایسا کیوں نہیں کر تے ہم ۔ھم کیوں انتظار کرتے ہیں کہ کو ئی شہر چھوڑ کر جا ئے تب اسے یا د دلا دیا جا ئے کہ اس نے آپ کے لیے کیا کیا ہے ۔کوئی دنیا چھوڑ کر جائے تو اس کے بعد اس کی یا د کہ بھئی ھم اسکو ایسے ملے تھے ایسا کیو ں؟؟؟یہ رواج کس نے شروع کیا۔ سوچوکتنا اچھا لگتا ہے۔اس چارسا ل کے بچے کو ۔جسکو ٹیچر کلا س میں ایسا بو ل دیتی ھے۔ یو آر اے گڈ بوائے۔ وہ گھر آتا ھے کتنا خوش ھوتا ھے۔ھم میں اور اس بچے میں کچھ خاص فرق نہیں۔

Offline
 

ھمیں بھی اگر کبھی کبھی یا د دلا د یا جائےکہ ھم کیا اچھا کرتے ھیں۔ یا ھم میں کو ئی ایک اچھی با ت بھی ھے۔ تو ھمیں بہت اچھا لگے گا۔ اس کے لیےجا نا ضر وری نہیں ھے۔ ھو تے ھو ئے لو گو ں کے ان کی حیا تی میں اگر انہیں یا د دلا دیا جا ئے کبھی کبھا تو بہت اچھا لگتا ھے۔ ہر مرض کی دواھو تی ھے۔ میرے خیا ل سے یہ پری کا شن ھے۔دوائی نہیں ھے لیکن پری کا شن ھے۔ ہر کو ئی اپنی اپنی لڑائی لڑ رھا ھے۔اگر کبھی کبھار اپنےدوستوں کو اوراپنے اپنوں کو یاد دلا دیا جا ئےکہ ان میں ایک اچھی با ت ھے تومجھے نہیں لگتا کوئی نقصان ھے۔ با ئی دی وے اگر آپ کو اپنی زند گی میں کو ئی ایسا ملا ھے جو کبھی کبھی آپ کو ایسا یاد دلا دیتےھیں یا آپ کو اچھا محسو س کر وا دیتے ھیں تو لکھ کر لے لو آپ کو کسی نیکی کے بدلے میں ملے ہیں۔ ان کو کبھی جا نے مت دینا بہت سنبھال کے رکھنا

Beautiful Structures image
O  : Yeh Nice - 
Moroccan spice store
O  : Moroccan spice store - 
Memes & Satire image
O  : Always tempted to do this -