"تم کو هی لکھ رها هوں"
یہ خط میں تم کو هی لکھ رها هوں
مگر مجهے یہ یقین بهی هے
کہ اس نوشتے کو تاقیامت
تمهاری آنکهیں نہ پڑھ سکیں گی
یہ خط عجیب اور منفرد هے
جو قاصدوں اور ڈاکخانوں سے تا ابد اجنبی رهے گا
میں اس کو لکھ کر
طویل جاڑوں کی یخ گزیدہ اداس راتوں میں خود پڑهوں گا
پهر ایک دن پارہ پاره کر کے
عدم کی بهٹی میں پهینک دوں گا
یہ خط جو تم هی کو لکھ رها هوں
کہ جس میں خود محوری کا پہلو چهپا هوا هے
میں سوچتا هوں
کہ روز و شب کی رفاقتوں نے
همارےاندر طویل اُکتاہٹوں کے خاشاک بهر دیے هیں
همارےجذبے جماہیاں لے رهے هیں
اور باہمی تفاهم پہ برفباری کی کیفیت هے
'کہیں تعلق نہ ٹوٹ جائے'
سو اب یہی فیصلہ هےمیرا
تم اپنے آنگن میں جا بسو تو
میں اپنےصحرا کی وسعتوں میں
خوشی خوشی دن گزارنے کا
کوئی طریقہ نکال لوں گا
یہ مرے حرفِ آخری هیں
میں اس کے بعد کچھ بهی نہیں لکهوں گا
مگر یہ میرا لکها هوا خط
تمهارے گهر کے پتے پہ تم کو
کبهی نہ موصول هو سکے گا.
دل چاہتا ہے کچھ تمھاری آنکھوں پہ لکھ سکوں ۔۔ مگر لکھوں کیسے ۔۔۔ کہ میرے پاس نہ تتلیوں جیسے رنگ ہیں ، نہ سفید موتیوں جیسے الفاظ، نہ سیف الملوک جیسی ٹھنڈک
اسے کہو
لوگ کچھ اور نہیں پڑھتے
ڈائریوں مين کچھ لکھا نہ کرے
اسے کہو
فلک کے تاروں سا ہو جاؤنگا
یوں شب بھر جاگا نہ کرے
اسے کہو
خُد پے بوجھ بن جاتا ہوں
کبھی مجھ سے روٹھا نہ کرے
درد کے صحرا میں
کوئی پھول نہیں کھلتا
کبھی بارش نہیں ہوتی
بس گرد سی اڑتی ہے
بے نام سی یادوں کی
خاموش سے منظر کچھ
آنکھوں میں یوں چبھتے ہیں
گر دیکھنا چاہیں بھی تو
دھندلائے ہوے چہرے
بس گھومتے جاتے ہیں
اس درد کے صحرا میں
کبھی مٹنے نہیں پاتے ہیں
اہل عرب جب شادی بیاہ کرتے تھے تو قدیم رواج کے مطابق دعوت کی تقریب میں شامل مہمانوں کی تواضع کے لیے بھنے ہوئے گوشت کے ٹکڑے کو روٹی کے اندر لپیٹ کر پیش کرتے تھے .
اگر کسی تقریب میں گھر کے سربراہ کو پتا چلتا کہ اس شادی میں شریک افراد کی تعداد دعوت میں تیار کیے گوشت کے ٹکڑوں کی تعداد سے زیادہ ہے ، یا زیادہ ہوسکتی ہے ، تو وہ کھانے کے وقت دو روٹیاں (گوشت کے بغیر) ایک دوسرے کے ساتھ لپیٹ کر اپنے اہلِ خانہ، رشتہ داروں اور انتہائی قریبی دوستوں میں تقسیم کرتے جبکہ گوشت روٹی کے اندر لپیٹ کر صرف باہر سے آئے ہوئے اجنبیوں کو پیش کیا جاتا تھا...
ایسا ہی ایک بار غریب شخص کے ہاں شادی کی تقریب تھی جس میں اس شخص نے دعوت کے دن احتیاطاً بغیر گوشت کے روٹی کے اندر روٹی لپیٹ کر اپنے گھر والوں، رشتہ داروں اور متعدد قریبی قابلِ بھروسہ دوستوں کو کھانے میں پیش کی
تاکہ اجنبیوں کو کھانے میں روٹی کے ساتھ گوشت مل سکے اور کسی بھی قسم کی شرمندگی سے بچا جاسکے..
جنہیں صرف روٹی ملی تھی تو انہوں نے ایسے کھانا شروع کردیا گویا اس میں گوشت موجود ہے ، سوائے اس کے ایک انتہائی قریبی رشتہ دار کے اس نے روٹی کھولی گھر کے سربراہ کو بلایا اور غصے سے بلند آواز میں اس سے کہا ، "اے عبداللہ کے باپ یہ کیا مذاق ہے یہ تو روٹی گوشت کے بغیر ہے میں تو آج کے دن ہرگز یہ نہیں کھاؤں گا"
غریب شخص نے تحمل سے سنا اور مسکرا کر جواب دیا ، "اجنبیوں کا مجھ پر حق ہے کہ میرے دسترخوان پر انہیں ہر حال میں گوشت پیش کیا جائے" . یہ لیجئے گوشت کا ٹکڑا اور معافی چاہتا ہوں مجھ سے غلطی ہوئی میں آپ کو اپنے اہلِ خانہ میں شمار کررہا تھا
حکمت
ہمارے موجودہ دور میں ہم بہت سارے لوگوں پر بھروسہ کرتے ہیں. ان کو گھر کے فرد جیسا سمجھتے ہوئے یہ یقین رکھتے ہیں کہ یہ مشکل وقت میں ہمارے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے، ہماری پیٹھ پیچھے ہماری عزت کی حفاظت کرتے ہوئے ہر حال میں وفاداری نبھائیں گے. لیکن عین ضرورت کے وقت ہمارے اندازے غلط ثابت ہوجاتے ہیں اس لیے
اس بات کو یقینی بنائیں کہ
" کون سی روٹی کون سے بندے کو دینی ہے.."
ہماری زمینیں الگ الگ ہیں مگر میں مطمئن ہوں
ہمارا آسمان ایک ھے ہمارا جہاں ایک ھے
تیرا مذاق میں کہنا کہ چھوڑ دونگا تجھے
اور ایک دم سے میرا مسکرا کے رو پڑنا
ایک ہی درد کے دو مختلف حوالے ہیں
کسی سے چھپ کر کسی کو بتا کے رو پڑنا
وہ آئینے میں بہت دیر دیکھنا خود کو
پھر اپنے ضبط پہ تالی بجا کے رو پڑنا
کبھی کبھی سوچتا ھوں۔کہ یہ رواج کس نے شروع کیا ہو گا ۔ کہ کوئی جائے اس کے بعد ۔ اس کے با رے میں میٹھا کہا جا ئے۔اس کے ھوتے ھوئے کیوں نہیں۔ کیوں ایسا نہ ہو کہ اسے یاد دلا یا جا ئےکبھی کبھارکہ یارکہ تجھ میں یہ با ت بہت بہترین ہے۔کہ تو نے جب یہ کہا تھا نا۔ تو مجھے بہت اچھا لگا تھا۔ ایسا کیوں نہیں کر تے ہم ۔ھم کیوں انتظار کرتے ہیں کہ کو ئی شہر چھوڑ کر جا ئے تب اسے یا د دلا دیا جا ئے کہ اس نے آپ کے لیے کیا کیا ہے ۔کوئی دنیا چھوڑ کر جائے تو اس کے بعد اس کی یا د کہ بھئی ھم اسکو ایسے ملے تھے ایسا کیو ں؟؟؟یہ رواج کس نے شروع کیا۔ سوچوکتنا اچھا لگتا ہے۔اس چارسا ل کے بچے کو ۔جسکو ٹیچر کلا س میں ایسا بو ل دیتی ھے۔ یو آر اے گڈ بوائے۔ وہ گھر آتا ھے کتنا خوش ھوتا ھے۔ھم میں اور اس بچے میں کچھ خاص فرق نہیں۔
ھمیں بھی اگر کبھی کبھی یا د دلا د یا جائےکہ ھم کیا اچھا کرتے ھیں۔ یا ھم میں کو ئی ایک اچھی با ت بھی ھے۔ تو ھمیں بہت اچھا لگے گا۔ اس کے لیےجا نا ضر وری نہیں ھے۔ ھو تے ھو ئے لو گو ں کے ان کی حیا تی میں اگر انہیں یا د دلا دیا جا ئے کبھی کبھا تو بہت اچھا لگتا ھے۔ ہر مرض کی دواھو تی ھے۔ میرے خیا ل سے یہ پری کا شن ھے۔دوائی نہیں ھے لیکن پری کا شن ھے۔ ہر کو ئی اپنی اپنی لڑائی لڑ رھا ھے۔اگر کبھی کبھار اپنےدوستوں کو اوراپنے اپنوں کو یاد دلا دیا جا ئےکہ ان میں ایک اچھی با ت ھے تومجھے نہیں لگتا کوئی نقصان ھے۔ با ئی دی وے اگر آپ کو اپنی زند گی میں کو ئی ایسا ملا ھے جو کبھی کبھی آپ کو ایسا یاد دلا دیتےھیں یا آپ کو اچھا محسو س کر وا دیتے ھیں تو لکھ کر لے لو آپ کو کسی نیکی کے بدلے میں ملے ہیں۔ ان کو کبھی جا نے مت دینا بہت سنبھال کے رکھنا
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain