یہی میری بے کلی پھر میری بے کلی نہ ہوتی
جو تو دل نواز ہوتا جو تو غمگسار ہوتا
کبھی اپنی آنکھ سے وه میرا حال دیکھ لیتے
مجھے ہے یقین ان کا یہی حالِ زار ہوتا
کبھی ان سے جا لپٹتا کبھی ان کے پاوں پڑتا
سر رہگزر پہ ان کی جو مرا غبار ہوتا
تری مہربانیوں سے مرے کام بن رہے ہیں
جو تو مہرباں نہ ہوتا میں ذلیل و خوار ہوتا
یہ ہے آپ کی نوازش کہ ادھر ہے آپ کا رخ
نہ تھی مجھ میں کوئی خوبی کے امیدوار ہوتا
جو معین میرا ان سے کسی دن ملاپ ہوتا
کبھی جان صدقے ہوتی کبھی دل نثار ہوتا
نہایت خوبصورت ہے یہ دُنیا،
مگر ہنگامہ آرائی بہت ہے۔
تجھ کو پسند نہیں ورنہ
میں ٹھیک ٹھاک ہوں __اچھا دکھائی دیتا ہوں
______نام کا پنگا ________
جیسلمیر سے بیکانیر بس روڈ پر ایک بڑا سا گاؤں پڑتاہے، جس کا نام ہے "ناچنے"
وہاں سے بس آتی ہے تو لوگ کہتے ہیں ناچنے والی بس آگئی.
کنڈیکٹر بھی بس رکتے ہی زور زور سے چلانے لگتا ہے_ناچنے والی سواری اتر جائیں بس آگے جائے گی.
ایمرجنسی کے دور میں کسی ایجنسی کا ایک آفیسر جیسلمیر آیا، رات بہت ہوچکی تھی، وہ سیدھا تھانے ہی پہنچا اور ڈیوٹی پر مامور ایک سپاہی سے پوچھا "داروغہ کہاں ہے؟"
سپاہی نے جواب دیا" داروغہ صاحب" ناچنے" گئے ہیں" .
افسر کا ماتھا ٹھنکا، اور تلخ لہجے میں پوچھا، ڈپٹی صاحب کہاں ہیں؟
سپاہی نے جواب دیا "صاحب! وہ بھی" ناچنے" گئے ہیں.
افسر موصوف کو لگا کہ شاید سپاہی افیم کے نشے میں ہے،اس نے ایس پی کی رہائش گاہ پر فون کیا.
ہیلو، ہیلو
ایس پی صاحب ہیں؟
ادھر سے ایک موٹی آواز کی محترمہ نے جواب دیا _جی نہیں، وہ" ناچنے" گئے ہیں.
افسر کا دماغ خراب ہوگیا، یار یہ کیا ہو رہاہے اس سرحدی ضلعے میں اور وہ بھی ایمرجنسی کے وقت!
پاس کھڑا منشی دھیان سے سن رہا تھا،تو وہ بولا"صاحب آج کوئی منسٹر" ناچنے" آئے ہیں، اسی لئے سب افسر لوگ بھی" ناچنے" گئے ہیں-
پھول تو ہیں مگر بہار نہیں
بادہ رنگیں ہے اور خمار نہیں
اس نے تیر ِ نظر کا وار کیا
ہائے افسوس دل کے پار نہیں
ان کے آنے کی ہے خبر لیکن
زندگانی کا اعتبار نہیں
آمنا سامنا تو ہوتا ہے
اپنوں جیسا مگرا پیار نہیں
میں وہ بیکس ہوں کا دنیا میں
کوئی غم خوار و غمگسار نہیں
اک وہ ہیں جن سے پیار ہے تم کو
ایک ہم ہیں کہ ہم سے پیار نہیں
پل کے پل رونقیں یہ ساری ہیں
اس جہاں میں سدا بہار نہیں
کون سی بات کا کروں شکوہ
اک نہیں دو نہیں ہزار نہیں
چھوڑئیے کیسی باتیں کرتے ہو
صاف کہہ دو کہ تم سے پیار نہیں
دیکھنا دیکھ کر قدم رکھنا
دل کے ٹکڑے ہیں یہ غبار نہیں
ذرے ذرے میں اس کے جلوے ہیں
کون سی جا پہ آشکار نہیں
آج مشتاق ماجرا کیا ہے
چشم پر نم ہے اشکبار نہیں
ڪسے ڈھونڈو گے ان گلیوں میں ناصرؔ
چلو اب گھر چلیں ۔ دن جا رہا ہے
کاش کہ میں پلٹ جاؤں، اُسی بچپن کی وادی میں
جہاں نہ کوئی ضرورت تھی، نہ کوئی ضروری تھا
گلیاں سنجیاں اُجاڑ دسن میں کوں ، ویڑا کھاون آوے
غلام فریدا اُوتھے کی وسنا جتھے یار نظرنہ آوے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain