اس سے آپ یہ سمجھ سکتے ہیں کہ اگر ایک لمبے عرصے دتک جاگتے رہیں گے تو آپ کا دماغ خود کو کھانا شروع کر دے گا۔یہی وجہ ہے کہ بے خوابی یا انسومنیا کے شکار مریضوں میں ڈپریشن، انزائٹی، بھول جانا ، کسی چیز پہ توجہ نا دینا اور غلطیوں کا تناسب زیادہ ہونے جیسی علامات پائی جاتی ہیں۔
دوستوں اللہ کا واسطہ ہے اس موبائل کا استعمال کم کر دو موبائل نے ہم سے سکونِ بھی چھین لیا ہے
درد اگر جذباتی نوعیت کا ہو تو پہلا آنسو بائییں آنکھ سے گرتا ھے۔ تکلیف جسمانی ہو تو پہلا آنسو دائیں آنکھ سے گرتا ھے۔
کیا حال سناواں دل دا
کوئی محرم راز نہ مِلدا
منہ دھوڑ مٹی سر پائم
سارا ننگ نمود ونجائم
کوئی پچھن نہ ویڑھے آئم
ہتھوں الٹا عالم کھلدا
منہ پر دھول،سر پہ مٹی ہے
عزت آبرو برباد ہے
میرا حال پوچھنے آنگن میں کوئی نہیں آتا
اُلٹا سب میری ہنسی اُڑا رہے ہیں
گیا بار برہوں سر باری
لگی ہو ہو شہر خواری
روندی عمر گزاری ساری
نہ پائم ڈس منزل دا
عشق کا بھاری بوجھ سر پر اُٹھایا ہے
گلی گلی خوار و رسوا ہو رہا ہوں
روتے روتے عمر گزار دی ہے
لیکن منزل کا پتا ابھی تک نہیں چلا
دل یار کیتے کُر لاوے
تڑ پھاوے تے غم کھاوے
ڈکھ پاوے سول نبھاوے
ایہو طور تیڈے بیدل دا
دل محبوب کے لئے فریاد کرتا ہے
تڑپتا ہے اور غمگین کرتا ہے
دکھ اور مصبتیں برداشت کرتا ہے
تیرے عاشق کا یہی طور طریقہ ہے
سن لیلیٰ دیہانہہ پکارے
تیڈا مجنوں زار نزارے
سوہنا یار تو نے ہک وارے
کڈیں چا پردہ محمل دا
اے لیلیٰ مجنوں کی فریادیں سن
تیرا مجنوں زارو قطار روتا ہے
پیاریا! کبھی ایک بار
محمل کا پردہ ہٹا کر دیدار کرا دے
دل پریم نگر ڈوں تانگھے
جتھاں پیندے سخت اڑانگے
نہ راہ فرید نہ لانگھے
ہے پندھ بہوں مشکل دا
دل پریم نگر کی طرف کھنچا جارہا ہے
جہاں پر دشوار گزار راستے ہیں
فرید نہ راستہ ہے نہ پڑاؤ ہے
بڑا ہی مشکل سفر ہے
اسکا چہرہ اداس دیکھا تھا
کیا کروں گر نکل پٹرے آنسو
انسان کی چاہت کے اُڑنے کو پر ملے اور پرندے کی چاہت رہنے کو گھر ملے
مرے یار ....
میں نا ....
ترے موسموں کے بدلتے ہوئے
ایک اک رنگ پر
اپنی عمروں کا جهولا بناوں...
ابد کے کناروں کو چهولوں
اور اگلے ہلارے میں
اس سے بهی آگے ....
بہت آگے جاوں...
مگر ... لوٹ کے پهر ترے پاس آوں
کبھی یہ دعوہ کہ وہ میرا ہے فقط میرا
کبھی یہ ڈر کہ وہ مجھ سے جدا تو نہیں
کبھی یہ دعا کہ اسے مل جاۓ سارے جہاں کی خوشیاں
کبھی یہ خوف کہ خوش وہ میرے بنا تو نہیں
کبھی یہ تمنا کہ بس جاؤں اس کی نگاہوں میں
کبھی یہ ڈر کہ اُس کی آنکھوں کو کسی نے دیکھا تو نہیں
کبھی یہ خواہش کہ زمانہ ہو منتظر اُس کا
کبھی یہ وہم کہ وہ کس سے مِلا تو نہیں
کبھی یہ آرزو کہ وہ جو مانگے مل جاۓ اسے
کبھی یہ وسوسے کہ اس نے میرے سوا کچھ مانگا تو نہیں
خود کو بدلو"
خود سے یہ سوال کرنے میں کبھی تاخیر نہیں کرنی چاہیے کہ کیا میں اپنی موجودہ زندگی میں کوئی تبدیلی لانا چاہتا ہوں؟ کیا میں حقیقتاً خود کو اندر سے بدلنا چاھتا ہوں ؟ اگر تمہارا مزید ایک دن بھی پہلے دنوں جیسا ہی گذرتا ہے تو تم واقعی قابل رحم ہو۔ ہر لمحہ ، ہر سانس اپنی خودی کی تجدید کرتے رہو اور نئی زندگی جینے کا ایک ہی راستہ ہے کہ موت سے پہلے فنا پا جاؤ۔
میں کچھ بھی نہ کہوں اور چاہوں کہ میری بات
خوشبو کی طرح اڑ کر تیرے دل میں اتر جائے
ﮐﭧ ﺗﻮ ﺟﺎﺗﯽ ﮬﮯ، ﻣﮕﺮ ﺭﺍﺕ ﮐﯽ ﻓﻄﺮﺕ ﮬﮯ ﻋﺠﯿﺐ
ﺍﺱ ﮐﻮ ﭼُﭗ ﭼﺎﭖ ﺟﻮ ﮐﺎﭨﻮ، ﺗﻮ ﺻﺪﯼ ﺑﻦ ﺟﺎﺋﮯ
یوں ہی بے سبب نہ پھرا کرو کوئی شام گھر میں رہا کرو
وہ غزل کی سچی کتاب ہے اسے چپکے چپکے پڑھا کرو
کوئی ہاتھ بھی نہ ملائے گا جو گلے ملو گے تپاک سے
یہ نئے مزاج کا شہر ہے ذرا فاصلہ سے ملا کرو
ابھی راہ میں کئی موڑ ہیں کوئی آئے گا کوئی جائے گا
تمہیں جس نے دل سے بھلا دیا اسے بھولنے کی دعا کرو
مجھے اشتہار سی لگتی ہیں یہ محبتوں کی کہانیاں
جو کہا نہیں وہ سنا کرو جو سنا نہیں وہ کہا کرو
کبھی حسن پردہ نشیں بھی ہو ذرا عاشقانہ لباس میں
جو میں بن سنور کے کہیں چلوں مرے ساتھ تم بھی چلا کرو
نہیں بے حجاب وہ چاند سا کہ نظر کا کوئی اثر نہ ہو
اسے اتنی گرمیٔ شوق سے بڑی دیر تک نہ تکا کرو
یہ خزاں کی زرد سی شال میں جو اداس پیڑ کے پاس ہے
یہ تمہارے گھر کی بہار ہے اسے آنسوؤں سے ہرا کرو
ایک آدمی اپنے پیر صاحب کے پاس گیا اور عرض کی کہ مجھے طاقت دیں، اسمِ اعظم عطا کریں۔ انہوں نے فرمایا "آج کا دن سیر و تفریح
کرلو، کل دیکھیں گے۔وہ شخص پھرتا پھراتا جنگل میں چلا گیا۔ وہاں اس نے دیکھا کہ ایک لکڑہارا، لکڑیوں کا گٹھا اُٹھائے چلا جا رہا ہے، تھکا تھکا آیا۔ وہاں سے شہر کا کوتوال گزرا۔ اس نے کہا "بابا! یہ لکڑیاں مجھے دے دو، مجھے ضرورت ہے۔" بوڑھے نے اس سے معاوضہ مانگا۔ کوتوال نے کہا "تُو مجھے نہیں جانتا، میں شہر کا کوتوال ہوں۔" بوڑھے نے کہا "کوتوال ضرور ہوگا مگر پیسے تو دو۔" قصہ کوتاہ، کوتوال نے بوڑھے کو مارا، پیسے بھی نہیں دیئے اور لکڑی بھی لے گیا
بے چارہ مرید دوسرے دن پیر کے پاس گیا۔ انہوں نے پوچھا "تم نے کیا دیکھا؟ مرید نے سارا واقعہ کہہ سنایا۔ انہوں نے دوبارہ فرمایا "اگر تمہارے پاس اسمِ اعظم ہوتا تو تم کیا کرتے، کہنے لگا "میں یہ ظلم نہ ہونے دیتا" فرمایا "بات سنو! وہ جو بوڑھا لکڑہارا ہے وہ میرا پیر ہے اور مینے اسمِ اعظم اس سے لیا ہے۔"
(گفتگو والیم 3، صفحہ 146_147)
سرکار حضرت امام واصف علی واصف
اے لیلی سے بھی زیادہ حسین
یہ کہاں تھی میری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا
میری طرح کاش انہیں بھی میرا انتظار ہوتا
یہ ہے میرے دل کی حسرت یہ ہے میرے دل کا ارماں
ذرا مجھ سے ہوتی الفت ذرا مجھ سے پیار ہوتا
اسی انتظار میں ہوں کسی دن وه دن بھی ہوگا
تجھے آرزو یہ ہوگی کہ میں ہم کنار ہوتا
تیرا دل کہیں نہ لگتا تجھے چین کیونکر آتا
تو اداس اداس رہتا جو تو بے قرار ہوتا
تیری بات مان لیتا کبھی تجھ سے کچھ نہ کہتا
میرے بے قرار دل کو جو ذرا قرار ہوتا
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain