Damadam.pk
Offline's posts | Damadam

Offline's posts:

Offline
 

اس سے آپ یہ سمجھ سکتے ہیں کہ اگر ایک لمبے عرصے دتک جاگتے رہیں گے تو آپ کا دماغ خود کو کھانا شروع کر دے گا۔یہی وجہ ہے کہ بے خوابی یا انسومنیا کے شکار مریضوں میں ڈپریشن، انزائٹی، بھول جانا ، کسی چیز پہ توجہ نا دینا اور غلطیوں کا تناسب زیادہ ہونے جیسی علامات پائی جاتی ہیں۔
دوستوں اللہ کا واسطہ ہے اس موبائل کا استعمال کم کر دو موبائل نے ہم سے سکونِ بھی چھین لیا ہے

Offline
 

درد اگر جذباتی نوعیت کا ہو تو پہلا آنسو بائییں آنکھ سے گرتا ھے۔ تکلیف جسمانی ہو تو پہلا آنسو دائیں آنکھ سے گرتا ھے۔

Offline
 

کیا حال سناواں دل دا
کوئی محرم راز نہ مِلدا
منہ دھوڑ مٹی سر پائم
سارا ننگ نمود ونجائم
کوئی پچھن نہ ویڑھے آئم
ہتھوں الٹا عالم کھلدا
منہ پر دھول،سر پہ مٹی ہے
عزت آبرو برباد ہے
میرا حال پوچھنے آنگن میں کوئی نہیں آتا
اُلٹا سب میری ہنسی اُڑا رہے ہیں

Offline
 

گیا بار برہوں سر باری
لگی ہو ہو شہر خواری
روندی عمر گزاری ساری
نہ پائم ڈس منزل دا
عشق کا بھاری بوجھ سر پر اُٹھایا ہے
گلی گلی خوار و رسوا ہو رہا ہوں
روتے روتے عمر گزار دی ہے
لیکن منزل کا پتا ابھی تک نہیں چلا

Offline
 

دل یار کیتے کُر لاوے
تڑ پھاوے تے غم کھاوے
ڈکھ پاوے سول نبھاوے
ایہو طور تیڈے بیدل دا
دل محبوب کے لئے فریاد کرتا ہے
تڑپتا ہے اور غمگین کرتا ہے
دکھ اور مصبتیں برداشت کرتا ہے
تیرے عاشق کا یہی طور طریقہ ہے

Offline
 

سن لیلیٰ دیہانہہ پکارے
تیڈا مجنوں زار نزارے
سوہنا یار تو نے ہک وارے
کڈیں چا پردہ محمل دا
اے لیلیٰ مجنوں کی فریادیں سن
تیرا مجنوں زارو قطار روتا ہے
پیاریا! کبھی ایک بار
محمل کا پردہ ہٹا کر دیدار کرا دے

Offline
 

دل پریم نگر ڈوں تانگھے
جتھاں پیندے سخت اڑانگے
نہ راہ فرید نہ لانگھے
ہے پندھ بہوں مشکل دا
دل پریم نگر کی طرف کھنچا جارہا ہے
جہاں پر دشوار گزار راستے ہیں
فرید نہ راستہ ہے نہ پڑاؤ ہے
بڑا ہی مشکل سفر ہے

Offline
 

اسکا چہرہ اداس دیکھا تھا
کیا کروں گر نکل پٹرے آنسو

Offline
 

انسان کی چاہت کے اُڑنے کو پر ملے اور پرندے کی چاہت رہنے کو گھر ملے

Offline
 

مرے یار ....
میں نا ....
ترے موسموں کے بدلتے ہوئے
ایک اک رنگ پر
اپنی عمروں کا جهولا بناوں...
ابد کے کناروں کو چهولوں
اور اگلے ہلارے میں
اس سے بهی آگے ....
بہت آگے جاوں...
مگر ... لوٹ کے پهر ترے پاس آوں

Offline
 

کبھی یہ دعوہ کہ وہ میرا ہے فقط میرا
کبھی یہ ڈر کہ وہ مجھ سے جدا تو نہیں
کبھی یہ دعا کہ اسے مل جاۓ سارے جہاں کی خوشیاں
کبھی یہ خوف کہ خوش وہ میرے بنا تو نہیں
کبھی یہ تمنا کہ بس جاؤں اس کی نگاہوں میں
کبھی یہ ڈر کہ اُس کی آنکھوں کو کسی نے دیکھا تو نہیں
کبھی یہ خواہش کہ زمانہ ہو منتظر اُس کا
کبھی یہ وہم کہ وہ کس سے مِلا تو نہیں
کبھی یہ آرزو کہ وہ جو مانگے مل جاۓ اسے
کبھی یہ وسوسے کہ اس نے میرے سوا کچھ مانگا تو نہیں

Offline
 

خود کو بدلو"
خود سے یہ سوال کرنے میں کبھی تاخیر نہیں کرنی چاہیے کہ کیا میں اپنی موجودہ زندگی میں کوئی تبدیلی لانا چاہتا ہوں؟ کیا میں حقیقتاً خود کو اندر سے بدلنا چاھتا ہوں ؟ اگر تمہارا مزید ایک دن بھی پہلے دنوں جیسا ہی گذرتا ہے تو تم واقعی قابل رحم ہو۔ ہر لمحہ ، ہر سانس اپنی خودی کی تجدید کرتے رہو اور نئی زندگی جینے کا ایک ہی راستہ ہے کہ موت سے پہلے فنا پا جاؤ۔

Offline
 

میں کچھ بھی نہ کہوں اور چاہوں کہ میری بات
خوشبو کی طرح اڑ کر تیرے دل میں اتر جائے

Offline
 

ﮐﭧ ﺗﻮ ﺟﺎﺗﯽ ﮬﮯ، ﻣﮕﺮ ﺭﺍﺕ ﮐﯽ ﻓﻄﺮﺕ ﮬﮯ ﻋﺠﯿﺐ
ﺍﺱ ﮐﻮ ﭼُﭗ ﭼﺎﭖ ﺟﻮ ﮐﺎﭨﻮ، ﺗﻮ ﺻﺪﯼ ﺑﻦ ﺟﺎﺋﮯ

Offline
 

یوں ہی بے سبب نہ پھرا کرو کوئی شام گھر میں رہا کرو
وہ غزل کی سچی کتاب ہے اسے چپکے چپکے پڑھا کرو
کوئی ہاتھ بھی نہ ملائے گا جو گلے ملو گے تپاک سے
یہ نئے مزاج کا شہر ہے ذرا فاصلہ سے ملا کرو
ابھی راہ میں کئی موڑ ہیں کوئی آئے گا کوئی جائے گا
تمہیں جس نے دل سے بھلا دیا اسے بھولنے کی دعا کرو
مجھے اشتہار سی لگتی ہیں یہ محبتوں کی کہانیاں
جو کہا نہیں وہ سنا کرو جو سنا نہیں وہ کہا کرو
کبھی حسن پردہ نشیں بھی ہو ذرا عاشقانہ لباس میں
جو میں بن سنور کے کہیں چلوں مرے ساتھ تم بھی چلا کرو
نہیں بے حجاب وہ چاند سا کہ نظر کا کوئی اثر نہ ہو
اسے اتنی گرمیٔ شوق سے بڑی دیر تک نہ تکا کرو
یہ خزاں کی زرد سی شال میں جو اداس پیڑ کے پاس ہے
یہ تمہارے گھر کی بہار ہے اسے آنسوؤں سے ہرا کرو

Offline
 

ایک آدمی اپنے پیر صاحب کے پاس گیا اور عرض کی کہ مجھے طاقت دیں، اسمِ اعظم عطا کریں۔ انہوں نے فرمایا "آج کا دن سیر و تفریح
کرلو، کل دیکھیں گے۔وہ شخص پھرتا پھراتا جنگل میں چلا گیا۔ وہاں اس نے دیکھا کہ ایک لکڑہارا، لکڑیوں کا گٹھا اُٹھائے چلا جا رہا ہے، تھکا تھکا آیا۔ وہاں سے شہر کا کوتوال گزرا۔ اس نے کہا "بابا! یہ لکڑیاں مجھے دے دو، مجھے ضرورت ہے۔" بوڑھے نے اس سے معاوضہ مانگا۔ کوتوال نے کہا "تُو مجھے نہیں جانتا، میں شہر کا کوتوال ہوں۔" بوڑھے نے کہا "کوتوال ضرور ہوگا مگر پیسے تو دو۔" قصہ کوتاہ، کوتوال نے بوڑھے کو مارا، پیسے بھی نہیں دیئے اور لکڑی بھی لے گیا

Offline
 

بے چارہ مرید دوسرے دن پیر کے پاس گیا۔ انہوں نے پوچھا "تم نے کیا دیکھا؟ مرید نے سارا واقعہ کہہ سنایا۔ انہوں نے دوبارہ فرمایا "اگر تمہارے پاس اسمِ اعظم ہوتا تو تم کیا کرتے، کہنے لگا "میں یہ ظلم نہ ہونے دیتا" فرمایا "بات سنو! وہ جو بوڑھا لکڑہارا ہے وہ میرا پیر ہے اور مینے اسمِ اعظم اس سے لیا ہے۔"
(گفتگو والیم 3، صفحہ 146_147)
سرکار حضرت امام واصف علی واصف

Memes & Satire image
O  : Speeding ... - 
Offline
 

اے لیلی سے بھی زیادہ حسین

Offline
 

یہ کہاں تھی میری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا
میری طرح کاش انہیں بھی میرا انتظار ہوتا
یہ ہے میرے دل کی حسرت یہ ہے میرے دل کا ارماں
ذرا مجھ سے ہوتی الفت ذرا مجھ سے پیار ہوتا
اسی انتظار میں ہوں کسی دن وه دن بھی ہوگا
تجھے آرزو یہ ہوگی کہ میں ہم کنار ہوتا
تیرا دل کہیں نہ لگتا تجھے چین کیونکر آتا
تو اداس اداس رہتا جو تو بے قرار ہوتا
تیری بات مان لیتا کبھی تجھ سے کچھ نہ کہتا
میرے بے قرار دل کو جو ذرا قرار ہوتا