زندگی اتنی بھی تلخ اور سنجیدہ نہیں ہوتی جتنا دماغ( زیادہ سوچنے کی وجہ سے) اسے بنا دیتا ہے
فاصلے کے معنی کا کیوں فریب کھاتے ہو
جتنے دور جاتے ہو، اتنے پاس آتے ہو
رات ٹوٹ پڑتی ہے جب سکوتِ زنداں پر
تم مرے خیالوں میں چھپ کے گنگناتے ہو
میری خلوتِ غم کے آہنی دریچوں پر
اپنی مسکراہٹ کی مشعلیں جلاتے ہو
جب تنی سلاخوں سے جھانکتی ہے تنہائی
دل کی طرح پہلو سے لگ کے بیٹھ جاتے ہو
تم مرے ارادوں کے ڈوبتے ستاروں کو
یاس کی خلاؤں میں راستہ دکھاتے ہو
کتنے یاد آتے ہو، پوچھتے ہو کیوں مجھ سے
جتنا یاد کرتے ہو، اتنے یاد آتے ہو
زندگی کو سادگی کے فلیور میں انجوائے کرنا چاہتے ہیں۔ تو رات کی باسی روٹی کے ساتھ ٹماٹر اور ہری مرچوں پہ نمک اور کالی مرچ چھڑک کر کھائیں۔ ایک بار سمجھ آجائے گی۔ کسی بابے نے کیوں فرمایا تھا۔
سوکھی روٹی کھا تے ٹھنڈا پانی پی
نا ویکھ پرایا پیزا تے نا ترسا جی
جس میں عقل ‛ منطق اور استدلال کی مقدار 99.9 فی صد ہو۔ اور احساسات و جذبات کا دورانیہ 0.1 فی صد ہو۔ اور جس سے جی میل پہ اکاؤنٹ بناتے ہوئے گوگل نے پوچھا ہو۔آپ روبوٹ تو نہیں۔تو اس نے پوری صداقت سے اعتراف کر لیا ہو۔جی ہاں ۔میں روبوٹ ہی ہوں۔اور گوگل نے اس کی اس سچائی سے متاثر ہو کر پہلی اور آخری بار کسی روبوٹ کو اکاؤنٹ بنانے کی اجازت دیدی ہو۔
جی ہاں۔ بالکل ۔ بالکل اسی روبوٹ کے نام
استاد کیوں مارتا ہے
میرے ٹیچر نے ایک دن مجھے بہت مارا ۔۔۔میں نے دل میں انہیں جتنی گالیاں دے سکتا تھا دیں ارادہ کیا جب بھی زرا بڑا ہوا تو انہیں قتل کر دو گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لازم کرنا ۔۔۔۔۔۔لیکن وہ مجھے سکھا گئے ، ایک دن ملے سائیکل پر تھے ، کافی بزرگ ہو چکے تھے ۔۔۔ان کے پاؤں شوگر کی وجہ سے سوجے رہتے کبھی کبھی بنا جوتوں کے سائیکل چلاتے ۔۔۔۔۔مجھے دیکھتے ہی بولے رضوان ۔۔۔میں گاڑی سے بھاگ کر اترا
بڑے خوش ہوے مجھے دیکھ کر ۔۔۔ایک دم ہاتھ جوڑ کر بولے ۔۔۔۔۔۔۔۔کمزور آواز میں یار مجھے معاف کر دینا تجھے بہت مارا ۔پر اس لیے مارتا تھا کہ تم کچھ بن جاؤ اور آج تمہیں کسی مقام پر دیکھ کر رو پڑا ہوں کہ میرا شاگرد آج بڑی گاڑی میں بیٹھا ہے ۔۔بیٹا تم میری خوشی کا اندازہ نہیں کر سکتے ۔۔۔اور رو پڑے
میرے سینے پر گھونسہ لگا ۔۔۔تڑپ کر انہیں سینے سے لگا لیا ۔۔۔سارا روڈ یہ منظر دیکھ رہا تھا ۔۔۔پھر ان کے پاؤ چومے ۔۔ہم۔دونوں استاد شاگرد گلے لگ کر روتے رہے ۔۔۔۔۔
عجب سی مہک تھی ان کے سینے سے آتی ، مجھے ان کی چھاتی میں سکون محسوس ہو رہا تھا ۔۔ابدی سکون ۔۔۔جس جس راہ چلتے بندے کو پتہ چلا وہ رو پڑا استاد شاگرد کا پیار دیکھ کر ۔۔۔۔۔
بات یہ ہے کہ آپ اچھے نمبرز نہ بھی لیں ۔۔اچھے گریڈز نہ بھی لیں ۔۔۔صرف اپنے ٹیچر کا ادب کریں تو اجر ٹیچر نہیں خدا دیتا ہے ۔۔۔مجھے یہ ملاقات کبھی نہیں بھول سکتی ۔۔۔مجھے تراشنے والے وہی تو تھے ۔۔۔میں اک گمنام بے شکل پتھر تھا......
اس لیئے جتنا ہو سکے صرف استاد کے احترام کو ترجیح دیں اور یہی فقط کامیابی کی سیڑھی ہے.
منقول
سامنے اُس کے کبھی اُس کی ستائش نہیں کی
دل نے چاہا بھی اگر ہونٹوں نے جُنبِش نہیں کی
اہلِ محفل پہ کب احوال کھُلا ہے اپنا
ہم بھی خاموش رہے اُس نے بھی پُرسش نہیں کی
جس قدر اُس سے تعلق تھا چلے جاتا ہے
اُس کا کیا رنج جس کی کبھی خواہش نہیں کی
یہ بھی کیا کم ہے کہ دونوں کا بھرم قائم ہے
اُس نے بخشش نہیں کی، ہم نے گزارش نہیں کی
ایک تو ہم کو ادب آداب نے پیاسا رکھا
اُس پر محفل میں صُراحی نے بھی گردش نہیں کی
اے میرے ابرِ کرم دیکھ کہ ویرانہ جان
کیا کسی دشت پہ تو نے کبھی بارش نہیں کی
ہم کہ دکھ اوڑھ کر خلوت میں پڑے رہتے ہیں
ہم نے بازار میں زخموں کی نمائش نہیں کی
کٹ مرے اپنے قبیلے کی حفاظت کے لئے
مقتلِ شہر میں ٹہرے رہے ہجرت نہیں کی
چارلی چپلن کہتے ہیں
جب میں چھوٹا تھا اپنے بابا کے ساتھ سرکس دیکھنے گیا، ٹکٹس کے لیے ایک لمبی قطار میں کھڑا ہونا پڑا، ہمارے سامنے ایک فیملی تھی چھ بچے اور ماں باپ، غریب گھرانے سے تعلق تھا، ان کے کپڑے پرانے تھے لیکن صاف تھے۔
بچے سرکس کے بارے میں بات کر رہے تھے، بہت خوش دکھائی دے رہے تھے، جب ان کی باری آئی، ان کا باپ ٹکٹس کے لیے کھڑکی کی طرف بڑھا اور ٹکٹ کی قیمت پوچھی، پھر اپنی بیوی کے کان میں کچھ کہنے لگا، اس کے چہرے پر شرمندگی اور دکھ تھا۔۔
پھر میں نے دیکھا، بابا نے اپنی جیب سے بیس ڈالر نکالے اور زمین پر پھینک دیے، اپنا ہاتھ اس آدمی کے کندھے پر رکھا اور کہا
'تمھارے پیسے گر گئے۔۔!!"
اس نے بابا کی طرف دیکھا (اس کی آنکھوں میں آنسو تھے) اور کہا: "بہت شکریہ۔۔!!"
جب وہ سرکس کے لیے اندر چلے گئے، بابا نے مجھے میرے ہاتھ سے پکڑا اور ہم پیچھے ہٹ آئے؛ کیوں کہ بابا کے پاس بس وہی بیس ڈالر تھے جو اس شخص کو دے دیے۔۔!!
اور اس دن سے مجھے میرے باپ پہ فخر ہے، وہ میری زندگی کا سب سے پیارا سین تھا، اس سرکس سے بھی پیارا جو میں نہیں دیکھ پایا۔
کیوں تو اچھا لگتا ہے، وقت ملا تو سوچیں گے
تجھ میں کیا کیا دیکھا ہے، وقت ملا تو سوچیں گے
سارا شہر شناسائ کا دعویدار تو ہےلیکن وقت ملا تو سوچیں گے
اور ہم نے اُس کو لکھا تھا، کچھ ملنے کی تدبیر کرو
اُس نے لکھ کر بھیجا ہے، وقت ملا تو سوچیں گے
اور موسم خوشبو، بادِ صبا، چاند، شفق اور تاروں میں
کون تمھارے جیسا ہے، وقت ملا تو سوچیں گے
یا تو اپنے دل کی مانو یا پھر دنیا والوں کی
مشورہ اُس کا اچھا ہے، وقت ملا تو سوچیں گے
کیوں تو اچھا لگتا ہے، وقت ملا تو سوچیں گے
کبھی کبھی سکون کے لئے دوا کی نہیں ,
بلکہ کسی کے محبت بھرے لفظوں
کی اشد ضرورت ہوتی ہے,
اگر لہجے شیرین ہوں تو
لفظ خدا کے حکم سے شفا دیتے ہیں۔“
دوا کی تلاش میں رہا "دعا" کو چھوڑ کر۔۔۔
میں چل نہ سکا دنیا میں خطاؤں کو چھوڑ کر۔۔۔
حیران ھوں میں اپنی حسرتون پر۔۔۔
ھر چیز "ربّ" سے مانگ لی مگر۔۔۔۔۔۔"ربّ" کو چھوڑ کر۔۔۔۔
اے اللہ ہم سب کو سیدھی راہ پر چلنے کی توفیق عطا فرما۔ ہمیں بالخصوص وطن عزیز پاکستان سمیت پوری امت مسلمہ کو ہر قسم کی آفات سے محفوظ فرما۔۔۔
آمیـــــن یاربــُـــ العالمیـــــن
محبت تقسیم کرنے سے ضرب ہوتی ہے ، بڑھتی ہی چلی جاتی ہے، بڑھتی ہی چلی جاتی ہے۔ اس لیے گوشت کے ساتھ ساتھ محبت اور احترام بھی تقسیم کریں۔
عید مبارک
کوئی تمہاراسفر پہ گیا تو پوچھیں گے
کہ ریل گزرے تو ہم ہاتھ کیوں ہلاتے ہیں
ہم غریبوں کی عیدگاہ، اے دوست تیری گلی ہے اور عید کی خوشی ہمیں تیرے چہرے کو دیکھنے سے ملتی ہے
عید کے سو چاند میں تجھ پر قربان کرتا ہوں، ہماری عید کا چاند تیرے ابرو کا خم ہے
سنبھل کر زندگی میں آگے بڑھیں ۔۔ کہیں آپ کی انا آپ کے اپنوں کو نہ توڑ رہی ہو۔
کوشش کیجیۓ کہ آپ کی ذات سے کسی کو تکلیف نہ پہنچے۔
حقوق مانگنا تو آسان ہے ۔ دینے والے ادا کرنے والے بنیۓ
قدیم عربی ادب سے اردو ترجمہ
اگر کسی میں 99 برائیاں ہیں اور ایک اچھی عادت ہے تو آپ کے سینس آف جسٹس کا امتحان وہ ایک خوبی ہے کہ آپ اس کا اعتراف کرتے ہیں یا نہیں۔ اگر آپ اس ایک خوبی کو خوبی کہنے سے کنی کتراتے ہیں تو اس کی نناوے خامیوں کا تذکرہ محض ایک تعصب ہی سمجھا جائے گا عادلانہ بیان نہیں
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain