ایک مرتبہ حجاز کے گورنر کو راستے میں ایک بچہ ملا۔اس کا نام شعیب تھا گورنر نے بچے سے پوچھابچے کیا تجھے قرآت آتی ہے؟بچے نے جواب دیا جی ہاں! والی حجاز نے کہا کچھ پڑھو بچے نے پڑھنا شروع کیا ۔
امیر کو بچے کی اس موقع پہ یہ تلاوت بہت اچھی لگی چناچہ اس نے بچے کو ایک دینار دیا۔بچے نے دینار قبول کرنے سے انکار کردیا۔امیر نے دینار قبول نہ کرنے کی وجہ دریافت کی بچہ بولا کہ مجھے خوف ہے کہ میرے والدمجھے ماریں گے ۔ وہ سمجھیں گے کہ میں نے کہیں سے چوری کیا ہے امیر نے کہا کہ اپنے والد سے کہہ دینا کہ یہ دینار گورنر نے دیا ہے۔بچے نے کہا کہ میری یہ بات میرا والد تسلیم نہیں کرے گاگورنر نے پوچھا وہ کیوں؟بچہ کچھ دیر خاموش رہا پھر بولا:کیوں کہ ایک دینار بادشاہوں کا عطیہ نہیں ہوسکتا،امیر یہ سن کہ ہنس پڑا اور اسے ایک سو 100دینار عطیہ میں دینے کا حکم دیا۔
ہوا چلنے سے پہلے ہلکی سی چھینٹا چھانٹی ہو جائے تو ہوا کی کوالٹی بھی اچھی ہی ہو جاتی ھے۔ ورنہ ہوا بھی میڈ ان چائینہ ہی لگتی ھے۔
دھول گٹے سے اٹی پوسٹ
ایک تم ہو کہ تیرے لئے میں بھی، میری جاں بھی
ایک میں ہوں، کہ مجھے تم بھی میسر نہیں آتے
دیکھو یہ میرے خواب ہیں دیکھو یہ میرا "عزم" ہے
میں نے تو سب حساب جاں بر سر عام رکھ دیا
کسی کے ہمیں برا کہہ دینے سے نہ ہم برے ہو جاتے ہیں، نہ وہ اچھے.
اپنی زبان سے ہر شخص اپنا ظرف دکھاتا ہے، دوسرے کا عکس نہیں."
مجھے کالا رنگ پسند ھے اور بوڑھے پیڑ، پرانی حویلیاں، سردیوں کی راتیں، ساون کی بارش، دسمبر کا مہینہ، ادھورے خواب، ادھوری کہانیاں، چائے کا کپ، خاموشی، زرد پتے، برف باری، اپریل کی دوپہریں، کاغذ کی کشتی، سمندر پر تیرتے پرانے جہاز، بوسیدہ ڈائریاں، پرانے کپڑے، چھوٹے بچے، شاعری، کتابیں، پرانے ریلوے سٹیشن، ریل کی تنہا اداس کوکھ، سیٹی کی جدائی بھری آواز، قصہ گو، رباب کی دھن، پہلی بارش، بھیگی مٹی کی خوشبو، بوڑھے لوگ، لوک داستانوں کے کردار، بادل، گرتے پانی کی آواز
ہائےپرانے زمانے
ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺒﮭﯽ ﺩﻝ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﺗﻨﯽ ﻻ معنی ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮐﯽ ﺟﺎﺋﯿﮟ کہ ﺑﮭﮍﺍﺱ ﺑﮭﯽ ﻧﮑﻞ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﭽﮫ ﺳﻤﺠﮫ ﺑﮭﯽ ﻧﺎ ﭘﺎﺋﮯ
یہ بات ٹھیک، کہ ہر بات ہی بجا مانوں
خطا جو کی ہی نہیں، اس کی بھی سزا مانوں ؟
جی، بھینس اڑتی ہے ، کوا سفید ہوتا ہے
سبھی تو مان لیا، اور بتائیں کیا مانوں ؟
اک شخص کے ہاتھ میں تھا سب کچھ... میرا کھلنا بھی مرجھانا بھی
روتا تھا تو رات اجڑ جاتی.. ہنستا تھا تو دن بن جاتا تھا
مجھے آج بھی یاد ہے بچپن میں... کبھی اس پہ نظر پڑ جاتی
میرے بستے سے پھول برستے تھے... میری تختی پہ دل بن جاتا تھا
میں اپنے گاؤں سے کچھ اس لیے بھی دور ہوا
کہ مجھ سے مل کے سبھی تیرا ذکر کرتے تھے
اشفاق احمد کہتے ہیں
جس پہ کرم ہے .. اُس سے کبھی پنگا نہ لینا
وہ تو کرم پہ چل رہا ہے .. تم چلتی مشین میں ہاتھ دو گے .. اُڑ جاؤ گے
کرم کا فارمولا تو کوئی نہیں ... اُس کرم کی وجہ ڈھونڈو
جہاں تک میرا مشاہدہ ہےجب بھی کوئی ایسا شخص دیکھا جس پر ربّ کا کرم تھا .. اُسے عاجز پایا
پوری عقل کے باوجود .. بس سیدھا سا بندہ
بہت تیزی نہیں دکھائے گا اُلجھائے گا نہیں
رستہ دے دے گا بہت زیادہ غصّہ نہیں کرے گا
سادہ بات کرے گا میں نے ہر کرم ہوئے شخص کو مخلص دیکھا
اخلاص والا .. غلطی کو مان جاتا ہےمعذرت کر لیتا ہے .. سرنڈر کردیتا ہے
جس پر کرم ہوا ہے ناں .. میں نے اُسے دوسروں کے لئے فائدہ مند دیکھا
یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ آپ کی ذات سے نفع ہو رہا ہو
اور اللہ آپ کے لئے کشادگی کو روک دے .. وہ اور کرم کرے گا
میں نے ہر صاحبِ کرم کو احسان کرتے دیکھا ہے
حق سے زیادہ دیتا ہے
اُس کا درجن 13 کا ہوتا ہے .. 12 کا نہیں
اللہ کے کرم کے پہیے کو چلانے کے لئے
آپ بھی درجن 13 کا کرو اپنی زندگی میں
اپنی کمٹمنٹ سے تھوڑا زیادہ احسان کیا کرو
نہیں تو کیا ہو گا ؟ حساب پہ چلو گے تو حساب ہی چلے گا
دل کے کنجوس کے لئے کائنات بھی کنجوس ہے
دل کے سخی کے لئے کائنات خزانہ ہے
آسانیاں دو ... آسانیاں ملیں گی
مجھ کو خود کلامی کی عادت ھے
کیا کہا ‛‛‛ آپ پوچھا نہ کیجیئے
اک خوش ادا کو مٹھی میں رکھنے کے واسطے
مت پوچھیئے کہ کیا کیا ہاتھ سے نکل گیا
کیک کھاتے ہوئے ہمیشہ میں اہل یورپ پہ سلامتی بھیجا کرتا تھا۔لیکن پھر تحقیق سے پتہ چلا کافی کی طرح کیک کا کریڈٹ بھی ہم نے خوامخواہ میں اہل یورپ کو دے رکھا ھے۔ کیک جیسا لذیذ تحفہ تو اہل مصر کی طرف سے ھے۔ اور تب اس کا نام بھی ککا یا کاکا تھا۔ جو یورپ پہنچ کر مزید تہذیب یافتہ ہو کر کیک کہلایا۔ اب کیک کھاتے میری سلامتی کا رخ مصر کی طرف ہوتا ھے۔
میں نے " عید مبارک "
" آپ کو بھی مبارک"
" خیر مبارک "
کے الفاظ کاپی پیسٹ کر کے رکھ لیئے ہیں
تم بناؤ کسی تصویر میں کوئی رستہ
میں بناتا ہوں کہیں دور سے آتا ہوا میں
ایک بادشاہ نے ایک نہایت خوبصورت باز پال رکھا تھا جس سے وہ شکار کا کام لیتا تھا باز اس کا وفادار اور اس کے اشاروں پر چلنے والا تھا۔ ایک دن وہ گم ہوگیا تلاش کے باوجود بھی نہ ملا بادشاہ نے ملک بھر میں ڈھنڈورا پٹوا دیا۔ باز کی تلاش شروع ہوگئی ادھر باز ایک بُڑھیا کی جھونپڑی میں چلا گیا بُڑھیا ناسمجھ اور تھی اس نے باز کو دیکھا تو کہا تو کِن ناں سمجھ لوگوں کے ہتھے چڑھ گیا ہے جنھوں نے تیرے پروں کی تراش خراش کی نہ تیرے ناخن کاٹے اور نہ تیری ٹیڑھی چونچ کو سیدھا کیا سو اس نے باز کی چونچ پروں اور ناخن کو کاٹ دیا اور اسے بالکل بے کار کردیا بادشاہ کے کارندے باز کو ڈھونڈتے ہوئے بُڑھیا کی جھونپڑی تک پہنچے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain