Damadam.pk
Offline's posts | Damadam

Offline's posts:

Offline
 

ایک مرتبہ حجاز کے گورنر کو راستے میں ایک بچہ ملا۔اس کا نام شعیب تھا گورنر نے بچے سے پوچھابچے کیا تجھے قرآت آتی ہے؟بچے نے جواب دیا جی ہاں! والی حجاز نے کہا کچھ پڑھو بچے نے پڑھنا شروع کیا ۔
امیر کو بچے کی اس موقع پہ یہ تلاوت بہت اچھی لگی چناچہ اس نے بچے کو ایک دینار دیا۔بچے نے دینار قبول کرنے سے انکار کردیا۔امیر نے دینار قبول نہ کرنے کی وجہ دریافت کی بچہ بولا کہ مجھے خوف ہے کہ میرے والدمجھے ماریں گے ۔ وہ سمجھیں گے کہ میں نے کہیں سے چوری کیا ہے امیر نے کہا کہ اپنے والد سے کہہ دینا کہ یہ دینار گورنر نے دیا ہے۔بچے نے کہا کہ میری یہ بات میرا والد تسلیم نہیں کرے گاگورنر نے پوچھا وہ کیوں؟بچہ کچھ دیر خاموش رہا پھر بولا:کیوں کہ ایک دینار بادشاہوں کا عطیہ نہیں ہوسکتا،امیر یہ سن کہ ہنس پڑا اور اسے ایک سو 100دینار عطیہ میں دینے کا حکم دیا۔

Offline
 

ہوا چلنے سے پہلے ہلکی سی چھینٹا چھانٹی ہو جائے تو ہوا کی کوالٹی بھی اچھی ہی ہو جاتی ھے۔ ورنہ ہوا بھی میڈ ان چائینہ ہی لگتی ھے۔
دھول گٹے سے اٹی پوسٹ

Offline
 

ایک تم ہو کہ تیرے لئے میں بھی، میری جاں بھی
ایک میں ہوں، کہ مجھے تم بھی میسر نہیں آتے

Offline
 

دیکھو یہ میرے خواب ہیں دیکھو یہ میرا "عزم" ہے
میں نے تو سب حساب جاں بر سر عام رکھ دیا

Offline
 

کسی کے ہمیں برا کہہ دینے سے نہ ہم برے ہو جاتے ہیں، نہ وہ اچھے.
اپنی زبان سے ہر شخص اپنا ظرف دکھاتا ہے، دوسرے کا عکس نہیں."

Offline
 

مجھے کالا رنگ پسند ھے اور بوڑھے پیڑ، پرانی حویلیاں، سردیوں کی راتیں، ساون کی بارش، دسمبر کا مہینہ، ادھورے خواب، ادھوری کہانیاں، چائے کا کپ، خاموشی، زرد پتے، برف باری، اپریل کی دوپہریں، کاغذ کی کشتی، سمندر پر تیرتے پرانے جہاز، بوسیدہ ڈائریاں، پرانے کپڑے، چھوٹے بچے، شاعری، کتابیں، پرانے ریلوے سٹیشن، ریل کی تنہا اداس کوکھ، سیٹی کی جدائی بھری آواز، قصہ گو، رباب کی دھن، پہلی بارش، بھیگی مٹی کی خوشبو، بوڑھے لوگ، لوک داستانوں کے کردار، بادل، گرتے پانی کی آواز
ہائےپرانے زمانے

Offline
 

ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺒﮭﯽ ﺩﻝ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﺗﻨﯽ ﻻ معنی ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮐﯽ ﺟﺎﺋﯿﮟ کہ ﺑﮭﮍﺍﺱ ﺑﮭﯽ ﻧﮑﻞ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﭽﮫ ﺳﻤﺠﮫ ﺑﮭﯽ ﻧﺎ ﭘﺎﺋﮯ

Offline
 

یہ بات ٹھیک، کہ ہر بات ہی بجا مانوں
خطا جو کی ہی نہیں، اس کی بھی سزا مانوں ؟
جی، بھینس اڑتی ہے ، کوا سفید ہوتا ہے
سبھی تو مان لیا، اور بتائیں کیا مانوں ؟

Offline
 

اک شخص کے ہاتھ میں تھا سب کچھ... میرا کھلنا بھی مرجھانا بھی
روتا تھا تو رات اجڑ جاتی.. ہنستا تھا تو دن بن جاتا تھا
مجھے آج بھی یاد ہے بچپن میں... کبھی اس پہ نظر پڑ جاتی
میرے بستے سے پھول برستے تھے... میری تختی پہ دل بن جاتا تھا

Offline
 

میں اپنے گاؤں سے کچھ اس لیے بھی دور ہوا
کہ مجھ سے مل کے سبھی تیرا ذکر کرتے تھے

Offline
 

اشفاق احمد کہتے ہیں
جس پہ کرم ہے .. اُس سے کبھی پنگا نہ لینا
وہ تو کرم پہ چل رہا ہے .. تم چلتی مشین میں ہاتھ دو گے .. اُڑ جاؤ گے
کرم کا فارمولا تو کوئی نہیں ... اُس کرم کی وجہ ڈھونڈو
جہاں تک میرا مشاہدہ ہےجب بھی کوئی ایسا شخص دیکھا جس پر ربّ کا کرم تھا .. اُسے عاجز پایا
پوری عقل کے باوجود .. بس سیدھا سا بندہ
بہت تیزی نہیں دکھائے گا اُلجھائے گا نہیں
رستہ دے دے گا بہت زیادہ غصّہ نہیں کرے گا
سادہ بات کرے گا میں نے ہر کرم ہوئے شخص کو مخلص دیکھا
اخلاص والا .. غلطی کو مان جاتا ہےمعذرت کر لیتا ہے .. سرنڈر کردیتا ہے

Offline
 

جس پر کرم ہوا ہے ناں .. میں نے اُسے دوسروں کے لئے فائدہ مند دیکھا
یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ آپ کی ذات سے نفع ہو رہا ہو
اور اللہ آپ کے لئے کشادگی کو روک دے .. وہ اور کرم کرے گا
میں نے ہر صاحبِ کرم کو احسان کرتے دیکھا ہے
حق سے زیادہ دیتا ہے
اُس کا درجن 13 کا ہوتا ہے .. 12 کا نہیں
اللہ کے کرم کے پہیے کو چلانے کے لئے
آپ بھی درجن 13 کا کرو اپنی زندگی میں
اپنی کمٹمنٹ سے تھوڑا زیادہ احسان کیا کرو
نہیں تو کیا ہو گا ؟ حساب پہ چلو گے تو حساب ہی چلے گا
دل کے کنجوس کے لئے کائنات بھی کنجوس ہے
دل کے سخی کے لئے کائنات خزانہ ہے
آسانیاں دو ... آسانیاں ملیں گی

Paintings image
O  : Shab Bakhair - 
Memes & Satire image
O  : Just parents things - 
Offline
 

مجھ کو خود کلامی کی عادت ھے
کیا کہا ‛‛‛ آپ پوچھا نہ کیجیئے

Offline
 

اک خوش ادا کو مٹھی میں رکھنے کے واسطے
مت پوچھیئے کہ کیا کیا ہاتھ سے نکل گیا

Offline
 

کیک کھاتے ہوئے ہمیشہ میں اہل یورپ پہ سلامتی بھیجا کرتا تھا۔لیکن پھر تحقیق سے پتہ چلا کافی کی طرح کیک کا کریڈٹ بھی ہم نے خوامخواہ میں اہل یورپ کو دے رکھا ھے۔ کیک جیسا لذیذ تحفہ تو اہل مصر کی طرف سے ھے۔ اور تب اس کا نام بھی ککا یا کاکا تھا۔ جو یورپ پہنچ کر مزید تہذیب یافتہ ہو کر کیک کہلایا۔ اب کیک کھاتے میری سلامتی کا رخ مصر کی طرف ہوتا ھے۔

Offline
 

میں نے " عید مبارک "
" آپ کو بھی مبارک"
" خیر مبارک "
کے الفاظ کاپی پیسٹ کر کے رکھ لیئے ہیں

Offline
 

تم بناؤ کسی تصویر میں کوئی رستہ
میں بناتا ہوں کہیں دور سے آتا ہوا میں

Offline
 

ایک بادشاہ نے ایک نہایت خوبصورت باز پال رکھا تھا جس سے وہ شکار کا کام لیتا تھا باز اس کا وفادار اور اس کے اشاروں پر چلنے والا تھا۔ ایک دن وہ گم ہوگیا تلاش کے باوجود بھی نہ ملا بادشاہ نے ملک بھر میں ڈھنڈورا پٹوا دیا۔ باز کی تلاش شروع ہوگئی ادھر باز ایک بُڑھیا کی جھونپڑی میں چلا گیا بُڑھیا ناسمجھ اور تھی اس نے باز کو دیکھا تو کہا تو کِن ناں سمجھ لوگوں کے ہتھے چڑھ گیا ہے جنھوں نے تیرے پروں کی تراش خراش کی نہ تیرے ناخن کاٹے اور نہ تیری ٹیڑھی چونچ کو سیدھا کیا سو اس نے باز کی چونچ پروں اور ناخن کو کاٹ دیا اور اسے بالکل بے کار کردیا بادشاہ کے کارندے باز کو ڈھونڈتے ہوئے بُڑھیا کی جھونپڑی تک پہنچے