Damadam.pk
Offline's posts | Damadam

Offline's posts:

Offline
 

اور باز کو لے کر بادشاہ کی خدمت میں پیش کرکے سارا ماجرا بیان کیا بادشاہ بہت رویا اور باز سے کہنے لگا تیرا یہی علاج تھا جو بُڑھیا نے کردیا۔ تو نے اپنے مالک سے جو تیری ہر ضرورت کو بہتر سمجھتا اور تیرا خیال رکھتا تھا دغا کیا اور ایسی جگہ گیا جہاں نہ تو کوئی تیری ضرورت کو سمجھتا تھا اور نہ تیرا خیال رکھ سکتا تھا۔ پس ذلت تو تیرا مقدر ہونی ہی تھی سو وہ ہوئی
موﻻنا رومی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ باز سے مراد انسان اور بڑھیا سے مراد دنیا داری

Interesting Posts image
O  : Bamboo hat of Taj Mahal During WW2 1942 - 
Offline
 

تیری باتیں ہی سنانے آئے
دوست بھی دل ہی دکھانے آئے
پھول کھلتے ہیں تو ہم سوچتے ہیں
تیرے آنے کے زمانے آئے
ایسی کچھ چپ سی لگی ہے جیسے
ہم تجھے حال سنانے آئے
عشق تنہا ہے سر منزل غم
کون یہ بوجھ اٹھانے آئے
اجنبی دوست ہمیں دیکھ کہ ہم
کچھ تجھے یاد دلانے آئے
دل دھڑکتا ہے سفر کے ہنگام
کاش پھر کوئی بلانے آئے
اب تو رونے سے بھی دل دکھتا ہے
شاید اب ہوش ٹھکانے آئے
کیا کہیں پھر کوئی بستی اجڑی
لوگ کیوں جشن منانے آئے
سو رہو موت کے پہلو میں فرازؔ
نیند کس وقت نہ جانے آئے

Offline
 

احمد فراز معذرت کے ساتھ
سنا ہے لوگ زوم کر کے دیکھتے ہیں
اگر یہ سچ ہے توپھر ایڈ کرکے دیکھتے ہیں
سنا ہے ربط ہے اس کو حسین چہروں سے
سو اپنی پروفا ئل بدل کے دیکھتے ہیں
سنا ہے دوست ہیں اسکے بہت سے دمادم پر
تو ہم بھی فالو روکسٹ کرکے دیکھتے ہیں
سنا ہے بولےتو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں
یہ بات ہے تو چلو چیٹ کر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے حشر ہیں اس کی غزال سی آنکھیں
وہ نقلی پلکیں اتارے تو ہم بھی دیکھتے ہیں
سنا ہے اس کی ہر اک فو ٹو، اک قیامت ہے
سو فوٹو شاپ سے ہم بھی سنور کے دیکھتے ہیں
سنا ہے اس کے لبوں سے گلاب جلتے ہیں
سو لیپسٹک پہ یہ الزام دھر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے مثل آئینہ ہے جبیں اس کی
تو ہم بھی ماتھے پہ پاوڈر رگڑ کے دیکھتے ہیں
وہ سرو قد ہے مگر ھیل پہنے رکھتی ہے
اتارے ھیل تو ہم ناپ کے پھر دیکھتے ہیں

Offline
 

وہ جا چُکا، مگر اب تک برستا رھتا ھے
اُسی کا عکسِ شفق رنگ ، میری شاموں پر

Offline
 

ایک خاتون اپنےبچےکےساتھ سڑک پر جارھی تھی کہ سامنےایک شکستہ حال بھکاری آگیا- اس نےبچےسےکہاکہ " دیکھو اس کو، اگر تم پڑھوگےنہیں تو اس بھکاری کی طرح بن جاوگے" اسی دوران ایک اور خاتون بھی سڑک پر اپنےبچےکےساتھ جارھی تھی- اس نےبھی اپنےبچےسے کہا کہ " دیکھو اگر تم پڑھ لکھ کر بڑے آدمی بن گئےتو ان کی زندگی بدل سکوگے" - - - -
دونوں مائیں تربیت کر رھی تھیں، دونوں کےنتائج لیکن بالکل الگ نکلیں گے، ایک نےبچےکو خوف دیا اور دوسری نےعزم اور ایک خواب - تربیت بہت نازک کام ھےکیونکہ یہ آج کی کونپل کی وہ تراش خراش ھے جو کل ایک تناور درخت کی شکل لےگا- علماء کا منبر ھو یا استاد- ماں کی گود ھو یا والد کی دیکھ بھال ، یہ سب اسی تربیت کےگہوارے ھیں

Memes & Satire image
O  : Shab Bakhair - 
Memes & Satire image
O  : Yearbook - 
Paintings image
O  : Syrian Artist Abdulrahman - 
Memes & Satire image
O  : Overthinking - 
Memes & Satire image
O  : So True - 
Memes & Satire image
O  : It's time - 
Offline
 

بس ایک مقام پر ٹھہرے _ہوئے ہیں مدت سے
ملا نہ تو ہی تو پھر کس کی جستجو کرتے؟؟

Offline
 

تو نہیں ہے تو سارے منظر میں __ اک دل سوختہ اداسی ہے

Offline
 

وے ماہیا تیرے ویکھن نوں
چُک چرخہ گلی دے وچ ڈاہواں
میں لوکاں باہنے سوت کتدی
تند تیریاں یاداں دے پاواں
بابل دی سوں جی نئی لگدا
ساڑے سیک ہجر دی اگ دا
اج میرا دل کردا
گھر چھڈ کے ملنگ بن جاواں
چرخے دی کُو کڑ دے اوہلے
یاد تیری دا تُنبہ بولے
میں نما نما گیت چھیڑ کے
تند کھچدی ہُلارے کھاواں
وسن نئی دیندے سورے پیکے
مینوں تیرے پین پلیکھے
وے ہن مینوں دس ماہیا
تیرے باجوں کدر نوں جاواں
وے ماہیا تیرے ویکھن نوں
چُک چرخہ گلی وچ ڈاہواں
بلھے شاہ

Offline
 

یار تُم نے کتابیں پڑھی ہیں
اور اُن میں فقط “لفظ”پڑھے ہیں
تہہ در تہہ چہرے بھی پڑھتے تو اچھا تھا

Offline
 

تجھے رخصت کرنا کتنا مشکل ہے
کاش دروازے
صرف خوش آمدید کہنے کے لیے بنے ہوتے

Offline
 

ایک ہیڈ ماسٹر کے بارے میں ایک واقعہ مشہور ہے جب وہ کسی سکول میں استاد تعینات تھے تو انہوں نے اپنی کلاس کا ٹیسٹ لیا۔ٹیسٹ کے خاتمے پر انہوں نے سب کی کاپیاں چیک کیں اور ہر بچے کو اپنی اپنی کاپی اپنے ہاتھ میں پکڑکر ایک قطار میں کھڑا ہوجانے کو کہا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ جس کی جتنی غلطیاں ہوں گی، اس کے ہاتھ پر اتنی ہی چھڑیاں ماری جائیں گی۔اگرچہ وہ نرم دل ہونے کے باعث بہت ہی آہستگی سے بچوں کو چھڑی کی سزا دیتے تھے تاکہ ایذا کی بجائے صرف نصیحت ہو، مگر سزا کا خوف اپنی جگہ تھا۔تمام بچے کھڑے ہوگئے۔ ہیڈ ماسٹر سب بچوں سے ان کی غلطیوں کی تعداد پوچھتے جاتے اور اس کے مطابق ان کے ہاتھوں پر چھڑیاں رسید کرتے جاتے۔ایک بچہ بہت گھبرایا ہوا تھا۔ جب وہ اس کے قریب پہنچے اور اس سے غلطیوں کی بابت دریافت کیا تو خوف کے مارے اس کے ہاتھ سے کاپی گرگئی اور گھگیاتے ہوئے بولا

Offline
 

”جی مجھے معاف کر دیں میرا توسب کچھ ہی غلط ہے۔“
معرفت کی گود میں پلے ہوئے ہیڈ ماسٹر اس کے اس جملے کی تاب نہ لاسکے اور ان کے حلق سے ایک دلدوز چیخ نکلی۔ ہاتھ سے چھڑی پھینک کر زاروقطار رونے لگے اور بار بار یہ جملہ دہراتے:
”میرے اللّٰه! مجھے معاف کردینا۔ میرا تو سب کچھ ہی غلط ہے۔“
روتے روتے ان کی ہچکی بندھ گئی۔ اس بچے کو ایک ہی بات کہتے
”تم نے یہ کیا کہہ دیا ہے، یہ کیا کہہ دیا ہے میرے بچے!“”میرے اللّٰه! مجھے معاف کردینا۔ میرا تو سب کچھ ہی غلط ہے""اے کاش ہمیں بھی معرفتِ الٰہی کا ذره نصيب ہو جاۓ اور بہترین اور صرف اللّٰه کے لۓ عمل کر کے بھی دل اور زبان سے نکلے.....میرے اللّٰه! مجھے معاف کردینا۔ میرا تو سب کچھ ہی غلط ہے"

Memes & Satire image
O  : Penguin has a dream -