اور باز کو لے کر بادشاہ کی خدمت میں پیش کرکے سارا ماجرا بیان کیا بادشاہ بہت رویا اور باز سے کہنے لگا تیرا یہی علاج تھا جو بُڑھیا نے کردیا۔ تو نے اپنے مالک سے جو تیری ہر ضرورت کو بہتر سمجھتا اور تیرا خیال رکھتا تھا دغا کیا اور ایسی جگہ گیا جہاں نہ تو کوئی تیری ضرورت کو سمجھتا تھا اور نہ تیرا خیال رکھ سکتا تھا۔ پس ذلت تو تیرا مقدر ہونی ہی تھی سو وہ ہوئی
موﻻنا رومی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ باز سے مراد انسان اور بڑھیا سے مراد دنیا داری
تیری باتیں ہی سنانے آئے
دوست بھی دل ہی دکھانے آئے
پھول کھلتے ہیں تو ہم سوچتے ہیں
تیرے آنے کے زمانے آئے
ایسی کچھ چپ سی لگی ہے جیسے
ہم تجھے حال سنانے آئے
عشق تنہا ہے سر منزل غم
کون یہ بوجھ اٹھانے آئے
اجنبی دوست ہمیں دیکھ کہ ہم
کچھ تجھے یاد دلانے آئے
دل دھڑکتا ہے سفر کے ہنگام
کاش پھر کوئی بلانے آئے
اب تو رونے سے بھی دل دکھتا ہے
شاید اب ہوش ٹھکانے آئے
کیا کہیں پھر کوئی بستی اجڑی
لوگ کیوں جشن منانے آئے
سو رہو موت کے پہلو میں فرازؔ
نیند کس وقت نہ جانے آئے
احمد فراز معذرت کے ساتھ
سنا ہے لوگ زوم کر کے دیکھتے ہیں
اگر یہ سچ ہے توپھر ایڈ کرکے دیکھتے ہیں
سنا ہے ربط ہے اس کو حسین چہروں سے
سو اپنی پروفا ئل بدل کے دیکھتے ہیں
سنا ہے دوست ہیں اسکے بہت سے دمادم پر
تو ہم بھی فالو روکسٹ کرکے دیکھتے ہیں
سنا ہے بولےتو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں
یہ بات ہے تو چلو چیٹ کر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے حشر ہیں اس کی غزال سی آنکھیں
وہ نقلی پلکیں اتارے تو ہم بھی دیکھتے ہیں
سنا ہے اس کی ہر اک فو ٹو، اک قیامت ہے
سو فوٹو شاپ سے ہم بھی سنور کے دیکھتے ہیں
سنا ہے اس کے لبوں سے گلاب جلتے ہیں
سو لیپسٹک پہ یہ الزام دھر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے مثل آئینہ ہے جبیں اس کی
تو ہم بھی ماتھے پہ پاوڈر رگڑ کے دیکھتے ہیں
وہ سرو قد ہے مگر ھیل پہنے رکھتی ہے
اتارے ھیل تو ہم ناپ کے پھر دیکھتے ہیں
وہ جا چُکا، مگر اب تک برستا رھتا ھے
اُسی کا عکسِ شفق رنگ ، میری شاموں پر
ایک خاتون اپنےبچےکےساتھ سڑک پر جارھی تھی کہ سامنےایک شکستہ حال بھکاری آگیا- اس نےبچےسےکہاکہ " دیکھو اس کو، اگر تم پڑھوگےنہیں تو اس بھکاری کی طرح بن جاوگے" اسی دوران ایک اور خاتون بھی سڑک پر اپنےبچےکےساتھ جارھی تھی- اس نےبھی اپنےبچےسے کہا کہ " دیکھو اگر تم پڑھ لکھ کر بڑے آدمی بن گئےتو ان کی زندگی بدل سکوگے" - - - -
دونوں مائیں تربیت کر رھی تھیں، دونوں کےنتائج لیکن بالکل الگ نکلیں گے، ایک نےبچےکو خوف دیا اور دوسری نےعزم اور ایک خواب - تربیت بہت نازک کام ھےکیونکہ یہ آج کی کونپل کی وہ تراش خراش ھے جو کل ایک تناور درخت کی شکل لےگا- علماء کا منبر ھو یا استاد- ماں کی گود ھو یا والد کی دیکھ بھال ، یہ سب اسی تربیت کےگہوارے ھیں
بس ایک مقام پر ٹھہرے _ہوئے ہیں مدت سے
ملا نہ تو ہی تو پھر کس کی جستجو کرتے؟؟
تو نہیں ہے تو سارے منظر میں __ اک دل سوختہ اداسی ہے
وے ماہیا تیرے ویکھن نوں
چُک چرخہ گلی دے وچ ڈاہواں
میں لوکاں باہنے سوت کتدی
تند تیریاں یاداں دے پاواں
بابل دی سوں جی نئی لگدا
ساڑے سیک ہجر دی اگ دا
اج میرا دل کردا
گھر چھڈ کے ملنگ بن جاواں
چرخے دی کُو کڑ دے اوہلے
یاد تیری دا تُنبہ بولے
میں نما نما گیت چھیڑ کے
تند کھچدی ہُلارے کھاواں
وسن نئی دیندے سورے پیکے
مینوں تیرے پین پلیکھے
وے ہن مینوں دس ماہیا
تیرے باجوں کدر نوں جاواں
وے ماہیا تیرے ویکھن نوں
چُک چرخہ گلی وچ ڈاہواں
بلھے شاہ
یار تُم نے کتابیں پڑھی ہیں
اور اُن میں فقط “لفظ”پڑھے ہیں
تہہ در تہہ چہرے بھی پڑھتے تو اچھا تھا
تجھے رخصت کرنا کتنا مشکل ہے
کاش دروازے
صرف خوش آمدید کہنے کے لیے بنے ہوتے
ایک ہیڈ ماسٹر کے بارے میں ایک واقعہ مشہور ہے جب وہ کسی سکول میں استاد تعینات تھے تو انہوں نے اپنی کلاس کا ٹیسٹ لیا۔ٹیسٹ کے خاتمے پر انہوں نے سب کی کاپیاں چیک کیں اور ہر بچے کو اپنی اپنی کاپی اپنے ہاتھ میں پکڑکر ایک قطار میں کھڑا ہوجانے کو کہا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ جس کی جتنی غلطیاں ہوں گی، اس کے ہاتھ پر اتنی ہی چھڑیاں ماری جائیں گی۔اگرچہ وہ نرم دل ہونے کے باعث بہت ہی آہستگی سے بچوں کو چھڑی کی سزا دیتے تھے تاکہ ایذا کی بجائے صرف نصیحت ہو، مگر سزا کا خوف اپنی جگہ تھا۔تمام بچے کھڑے ہوگئے۔ ہیڈ ماسٹر سب بچوں سے ان کی غلطیوں کی تعداد پوچھتے جاتے اور اس کے مطابق ان کے ہاتھوں پر چھڑیاں رسید کرتے جاتے۔ایک بچہ بہت گھبرایا ہوا تھا۔ جب وہ اس کے قریب پہنچے اور اس سے غلطیوں کی بابت دریافت کیا تو خوف کے مارے اس کے ہاتھ سے کاپی گرگئی اور گھگیاتے ہوئے بولا
”جی مجھے معاف کر دیں میرا توسب کچھ ہی غلط ہے۔“
معرفت کی گود میں پلے ہوئے ہیڈ ماسٹر اس کے اس جملے کی تاب نہ لاسکے اور ان کے حلق سے ایک دلدوز چیخ نکلی۔ ہاتھ سے چھڑی پھینک کر زاروقطار رونے لگے اور بار بار یہ جملہ دہراتے:
”میرے اللّٰه! مجھے معاف کردینا۔ میرا تو سب کچھ ہی غلط ہے۔“
روتے روتے ان کی ہچکی بندھ گئی۔ اس بچے کو ایک ہی بات کہتے
”تم نے یہ کیا کہہ دیا ہے، یہ کیا کہہ دیا ہے میرے بچے!“”میرے اللّٰه! مجھے معاف کردینا۔ میرا تو سب کچھ ہی غلط ہے""اے کاش ہمیں بھی معرفتِ الٰہی کا ذره نصيب ہو جاۓ اور بہترین اور صرف اللّٰه کے لۓ عمل کر کے بھی دل اور زبان سے نکلے.....میرے اللّٰه! مجھے معاف کردینا۔ میرا تو سب کچھ ہی غلط ہے"
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain