وہ خود ہی کوزہ ہے خود ہی کوزہ بنانے والا بھی ہے خود ہی کوزہ کی مٹی بھی ہے خود ہی کوزہ سے پینے والا بھی ہے خود ہی کوزہ کا خریدار بن کر ظاہر ہوتا ہے اور خود ہی کوزہ کو توڑ بھی دیتا ہے
خوبصورتی، کچھ بھی نہیں ہوتی، یہ محبت ہے جو عام سی چیز کو بھی خاص کر کے خوبصورت بنا دیتی ہے، رات، سیاہ ہی تو ہے مگر محبت ہے تو خوبصورت ہے، خاموشی، گہری ہی تو ہے مگر محبت ہے تو خوبصورت ہے، تم، کچھ بھی نہیں ہو مگر محبت ہے تو سب کچھ ہو، ہاں! تم، سب کچھ ہو
کروں نہ یاد مگر کس طرح بھلاؤں اسے غزل بہانہ کروں اور گنگناؤں اسے وہ خار خار ہے شاخ گلاب کی مانند میں زخم زخم ہوں پھر بھی گلے لگاؤں اسے یہ لوگ تذکرے کرتے ہیں اپنے لوگوں کے میں کیسے بات کروں اب کہاں سے لاؤں اسے مگر وہ زود فراموش زود رنج بھی ہے کہ روٹھ جائے اگر یاد کچھ دلاؤں اسے وہی جو دولت دل ہے وہی جو راحت جاں تمہاری بات پہ اے ناصحو گنواؤں اسے جو ہم سفر سر منزل بچھڑ رہا ہے فرازؔ عجب نہیں ہے اگر یاد بھی نہ آؤں اسے
محبت میں نہ جانے فاصلوں کی ریت کیسی ھے کہیں الفاظ کے انبار ھیں پر لکھ نہیں سکتے کہیں جذبوں کی یورش ھے مگر کچھ کہہ نہیں سکتے کہیں کچھ بھی نہیں ھے پھر بھی کہنا پڑتا ھے کبھی احساس پوروں کے کناروں پر اگا ھے پھر بھی اس کو چھو نہیں سکتے کبھی خود لمس اتنا دور ھے کہ خواب سا محسوس ہوتا ھے کبھی خوش ھیں تو پلکوں کی نمی سے پھوٹتی لرزش نہیں جاتی کبھی دل کرب کی شدت سے جیسے پھٹ رہا ہوتا ھے لیکن ہنسنا پڑتا ھے محبت میں نہ جانے فاصلوں کی ریت کیسی ھے اسے بے چہرگی کا دکھ کہوں یا بے بسی کا دکھ اسے واپس پلٹنا پڑ گیا ھے اور مجھے کہنا پڑا ھے راستے لوٹا نہیں کرتے
لوگوں کے تبصرے اگر ہمارے لئۓ آئینہ ہوں تو چہرے کی دھول صاف کر لیں آئینہ چھوڑ دیں۔ Meanings : always filter the criticism coming to you. And do self evaluation. If there is some correction needed then do the necessary correction and leave the negativity behind of the one who has criticized.