کوئی تو راستہ بتاؤ مجھے
میں نے خود کو گلے لگانا ہے
بادشاہ کے دروازے پہ ایک فقیر نے, ایک نکتہ میرے کام کا کہا
اس نے کہا کہ میں جس دسترخواں پہ بھی بیٹھا مجھے رزق عطا کرنے والا خُدا ہی تھا
میرا درد بھی دوست کی جانب سے ہے،اور دوا بھی
دل،اس پہ فدا ہو گیا،اور جان بھی۔۔
مُسکراہٹ کے عالمی دِن پر
آپ کی یاد میں بہت روئے
خاموشی ان پرندوں کی آوازوں کی طرف متوجہ کرتی ہے۔
خاموشی رب کی تسبیح کی طرف راغب کرتی ہے۔
خاموشی دوسرے کی بات سننے کا سبب بنتی ہے۔
خاموشی میں انسان غیبت سے بچ جاتا ہے۔
خاموشی میں انسان سوچنے کی طرف راغب ہوتا ہے۔
خاموشی میں انسان ماحول کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔
اچھی خاموشی کی عادت اپنائیۓ۔
ہر کسی کے نام پر نہیں رُکتیں
دھڑکنیں با اصول ہوتی ہیں
ایک گاؤں کے چوہدری کے بیٹے کی شادی تھی چوہدری صاحب نے ایک انوکھا فیصلہ کیا کہ پورے گاؤں کو اس شادی کی خوشی میں شامل کیا جائےاس کے لیے انہوں نے اعلان کروا دیا کہ بیٹے کی شادی کی خوشی میں پنڈ کے ہر گھر کو ایک جانور تحفے میں دیا جائے گا۔
مزید یہ کہ جس گھر میں مرد کا راج ہو گا وہاں ایک گھوڑا دیا جائے گا
اور جس گھر میں عورت کا راج ہوگا وہاں ایک مرغی دی جائیگی۔
چوہدری صاحب نے اپنے کار خاص گامے کو جانوروں کی ترسیل کا کام سونپ دیا۔
پہلے ہی گھر میں گاما دونوں میاں بیوی کو سامنے بٹھا کر پوچھتا ہے کہ گھر کے فیصلے کون کرتا ہے۔۔؟
مرد بولا : میں
گامے نے جواب دیا کہ جناب سارے گھوڑے کسی نا کسی کے ہو گئے ہیں، اب صرف تین باقی ہیں؛ ایک کالا، ایک سرخ اور ایک چینا۔ جو تمھیں پسند ہے وہ بتا دو؛
مرد نے فوراً جواب دیا کہ مجھے چیٹا پسند ہے۔
پاس ہی بیٹھی بیوی نے برا سا منہ بناتے ہوئے اپنے خاوند کو ٹوکا اور اونچی آواز میں بولی۔ نہیں۔۔ نہیں۔۔ ہم کالا لیں
گے،
میں نے دیکھا ہوا ہے، اس کے ماتھے پہ سفید پھلی ہے، وہ بڑا سوہنا ہے۔
مرد نے کہا کہ چلو کالا ہی دے دو
گاما آرام سے اٹھا،
تھیلے سے ایک مرغی نکالی، عورت کو پکڑائی اور اگلے گھر کو چل دیا۔
گاما بتاتاہے کہ پورے گاؤں میں مرغیاں ہی تقسیم کیں
محوِ خواب ہوں نیند سے نہ جگائے کوئی
بازوِ یار میں ہوں ابھی حقیقت نہ بتائے کوئی
جو ملتا ہے کبھی کبھی نہیں شکوہ اْس سے کوئی
مصروف زمانہ سارا کیوں اسی کا گلہ کرے کوئی
یہ شوقِ تمنا کیوں گناہ ٹھہرا
مجھے بھی اپنی سانسوں میں بسائے کوئی
میرا بھی نام آئے کسی کی دعاؤں میں
میرے لیے بھی سجدے میں سر جھکائے کوئی
جو بھی ملتا ہے اپنا ہی قصہ سناتا ہے
حالِ دل میرا بھی اْسے سنائے کوئی
ہٹتا ہی نہیں ذہن سے خیال اْس کا
کاش ایک بار اْسے منا لائے کوئی
وہ بھائی والی بات یاد آ گئی اسے غصہ بہت آتا تھا تو میں اسے کہتا تھا تمہاری اتنی لمبی ناک ہے تھوڑی سی کٹوا لو ناک ہے مکھی بھی نہیں بیٹھنے دیتے
زَخم اَپنانا کتنا مشکل ہے
ٹیس دَفنانا کتنا مشکل ہے
کتنی آساں ہے صبر کی تلقین
صبر آ جانا کتنا مشکل ہے
عید کے دِن مجھے ہُوا معلوم
خوش نظر آنا کتنا مشکل ہے
آپ نے بھی کبھی کیا محسوس ؟
بات پلٹانا کتنا مشکل ہے
کاش سمجھانے والے بھی سمجھیں
خود کو سمجھانا کتنا مشکل ہے
مرنے والا پلٹ کے آئے گا
اُف یہ اِحساس کیسے جائے گا
راضی نہیں وُہ تجھ سے تو خود کو نہ اِتنا کوس
بیوی کو خوش نہ رَکھ سکے ، بل گیٹ ، جیف بیزوس
ھوٹل پر بیٹھے ایک شخص نے دوسرے سے کہا، "یہ ہوٹل پر کام کرنے والا بچہ اتنا بیوقوف ہے کہ میں پانچ سو اور 50 کا نوٹ رکھوں گا تو یہ پچاس کا نوٹ ہی اٹھاۓ گا۔"اور ساتھ ہی بچے کو آواز دی اور دو نوٹ سامنے رکھتے ہوئے بولا، "ان میں سے زیادہ پیسوں والا نوٹ اٹھا لو۔"بچے نے پچاس کا نوٹ اٹھا لیا ۔دونوں نے قہقہہ لگایا اور بچہ واپس اپنے کام میں لگ گیا۔پاس بیٹھے شخص نے ان دونوں کے جانے کے بعد بچے کو بلایا اور پوچھا کہ تم اتنے بڑے ہو گئے ہو۔ تم کو پچاس اور پانچ سو کے نوٹ میں فرق کا نہیں پتا
یہ سن کر بچہ مسکرایا اور بولا، "یہ آدمی اکثر کسی نا کسی دوست کو میری بیوقوفی دکھا کر انجوائے کرنے کے لیے یہ کام کرتا ہے اور میں پچاس کا نوٹ اٹھا لیتا ہوں۔ وہ خوش ہو جاتے ہیں اور مجھے پچاس روپے مل جاتے ہیں۔ جس دن میں نے پانچ سو اٹھا لیا، اس دن یہ کھیل بھی ختم ھوجائے گا اور میری آمدنی بھی۔زندگی بھی اس کھیل کی طرح ہی ہے۔ ہر جگہ سمجھدار بننے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ جہاں سمجھدار بننے سے اپنی ہی خوشیاں متاثر ہوتی ہوں، وہاں بیوقوف بن جانا ھی سمجھداری ھے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain