Damadam.pk
Offline's posts | Damadam

Offline's posts:

Memes & Satire image
O  : Big Brain - 
Offline
 

حافظ خاموش رہ اور یار کے ظلم سے نالاں نہ ہو، تجھ سے کس نے کہا تھا کہ خوبصورت چہرے پر عاشق ہو جا۔

Offline
 

کیا زمانہ تھا کہ ہم روز ملا کرتے تھے
رات بھر چاند کے ہم راہ پھرا کرتے تھے
جہاں تنہائیاں سر پھوڑ کے سو جاتی ہیں
ان مکانوں میں عجب لوگ رہا کرتے تھے
کر دیا آج زمانے نے انہیں بھی مجبور
کبھی یہ لوگ مرے دکھ کی دوا کرتے تھے
دیکھ کر جو ہمیں چپ چاپ گزر جاتا ہے
کبھی اس شخص کو ہم پیار کیا کرتے تھے
اتفاقات زمانہ بھی عجب ہیں ناصر
آج وہ دیکھ رہے ہیں جو سنا کرتے تھے

Offline
 

تجھے خبر ہے ؟ تو بالکل دعاؤں جیسا ہے
دعا بھی وہ جو مصیبت کے وقت کام آئے

Offline
 

یارب غم ہجراں میں اتنا تو کیا ہوتا
جو ہاتھ جگر پر ہے وہ دست دعا ہوتا
اک عشق کا غم آفت اور اس پہ یہ دل آفت
یا غم نہ دیا ہوتا یا دل نہ دیا ہوتا
ناکام تمنا دل اس سوچ میں رہتا ہے
یوں ہوتا تو کیا ہوتا یوں ہوتا تو کیا ہوتا
امید تو بندھ جاتی تسکین تو ہو جاتی
وعدہ نہ وفا کرتے وعدہ تو کیا ہوتا
غیروں سے کہا تم نے غیروں سے سنا تم نے
کچھ ہم سے کہا ہوتا کچھ ہم سے سنا ہوتا

Offline
 

ایک پہاڑی سلسلے کے اوپر رن وے بنا ہوا تھا۔ ایک طیارہ مسافروں سے بھر چکا تھا۔ ابھی تک پائلٹ نہیں آیا تھا۔ کہ اچانک مسافروں نے دیکھا کہ دو افراد ہاتھوں میں سفید چھڑی لئے آنکھوں پر سیاہ چشمے پہنے آئے۔ اور کاک پٹ میں چلے گئے۔مسافروں میں چہ می گوئیاں شروع ہوئیں کہ پائلٹ تو دونوں نابینا ہیں۔ سپیکر پر آواز آئی۔ کہ میں پائلٹ فلاں صاحب جہاز کا کیپٹن بول رہا ہوں اور میرے ساتھ فلاں صاحب میرے معاون پائلٹ ہیں۔ یہ درست ہے کہ ہم دونوں نابینا ہیں۔ لیکن جہاز کے جدید آلات اور ہمارے وسیع تجربے کو دیکھتے ہوئے فکر کی کوئی ضرورت نہیں۔ ہم باآسانی جہاز چلا لیتے ہیں۔ بے شمار پروازیں کر چکے ہیں۔ مسافروں میں بے چینی کچھ کم ہوئی لیکن ان کی تشویش کم نہ ہوئی۔

Offline
 

خیر انجن سٹارٹ ہوا۔ جہاز نے رن وے پر دوڑنا شروع کیا۔ دونوں اطراف میں کھائیاں تھیں۔ مسافر سانس روک کر بیٹھے ہوئے تھے۔ جہاز دوڑتا گیا۔ سامنے بھی کھائی تھی۔ لیکن جہاز دوڑ رہا تھا۔ کھائی کے بالکل قریب جاکر مسافروں کی چیخیں نکل گئیں کہ جہاز نے فلائنگ گیئر لگایا اور ہوا میں بلند ہوگیا۔
مائک کھلا رہ گیا تھا۔ معاون پائلٹ کی آواز آئی۔ پائلٹ سے کہہ رہا تھا۔
“استاد جی کسی دن مسافروں کو چیخنے میں دیر ہوگئی تو پھر کیا بنے گا؟????

Offline
 

آ جاتا ہے خود پاس، بُلانا نہیں پڑتا
ملنے کے لئے ہاتھ بڑھانا نہیں پڑتا
کچھ ایسی سہولت سے مکیں دل میں ہوا وہ
مجھ کو بھی مری ذات سے جانا نہیں پڑتا
یہ خاص رعایت ہے کہ اب دیس میں اپنے
غم مُفت میں ملتا ہے ، کمانا نہیں پڑتا
اِس شہر سے اُس شہر تلک سیدھی سڑک ہے
فی الحال تو رستے میں زمانہ نہیں پڑتا
افسانۂ ہستی بھی بہت خوب ہے جس میں
کردار کوئی سا بھی نبھانا نہیں پڑتا
اک کربِ مسلسل ، کہ مرا پہلو نشیں ہے
اک لطفِ دروں ، جسکو گنوانا نہیں پڑتا
اب لوہا اُگاتے ہیں درختوں کی جگہ ہم
کوئل کو بھی اب شور مچانا نہیں پڑتا

Offline
 

میں تیرے بغیر خستہ حال ہوں
بتا تو میرے بغیر کیسا ہے ؟

Offline
 

اگر معلم کا درس کوئی محبت کا نغمہ ہو تو وہ جمعے (یعنی تعطیل) کے دن بھی (مکتب سے) گریزاں بچے کو مکتب میں لے آئے۔

Memes & Satire image
O  : And You - 
Beautiful Nature image
O  : To the Moon - 
Memes & Satire image
O  : Le nightmare - 
Memes & Satire image
O  : late sone Se Shaadi Bhe Late ho jati Hai - 
Offline
 

خوشی کا تعلق
آپ کے حالات سے نہیں
آپ کے خیالات سے ہے

Offline
 

زندگی میں ہم کبھی کبھار کسی کا نشانہ بن جاتے ہیں اور دھوکہ کھا جاتے ہیں اور پھر ہم آنے والی زندگی میں اُس دھوکے کو بہت یاد رکھتے ہیں خیر رکھنا بھی چاہئیے مگر صرف سبق سیکھنے کئلیے نہ کہ اُس تلخ ماضی کیوجہ سے اپنا حال اور مستقبل خراب کریں کیونکہ ماضی سے صرف سبق حاصل کِیا جاتا اُس میں جا کہ رہا نہیں جاتا چلو جو ہونا تھا ہو چُکا اب وہ باب زندگی سے مِٹ نہیں سکتا دوہرا نقصان ہمارا تب ہوتا جب ہم اُس تلخ ماضی کو ساتھ لے کر گھومتے ہیں اور پھر کچھ آگے زندگی میں پوری ہمت سے کُچھ کر نہیں سکتے،

Offline
 

جو بھیجی تھی دعا وہ جا کے آسماں سے یوں ٹکڑا گئی

Offline
 

دل میرا مصر کا بازار بھی ہو سکتا ہے
کوئی دھڑکن کا خریدار بھی ہو سکتا ہے
کوئی ہو سکتا ہے قاتل بھی صف یاراں میں
کوئی ہمدرد سر دار بھی ہو سکتا ہے
اب تلک اشک گرا کرتے تھے تنہائی میں
یہ تماشا، سر بازار بھی ہو سکتا ہے۔
مجھہ پہ طعنے نہ کسو، مجھکو نہ پاگل سمجھو،
میں بھی انساں ہوں مجھے پیار بھی ہو سکتا ہے۔
اس کی چوکھٹ پہ جانا ہے، ذرا تھام لے دل،
وہاں اقرار بھی، انکار بھی. . ہو سکتا ہے۔

Offline
 

اس لئے آ پ کو بھیجا تھا وہ... سادہ کاغذ
کو ئی بھی حرف منا سب سا میسر ہی نہ تھا
اجنبی جیسے تھے انداز تخاطب سارے
کو ئی پیکر بھی مری سو چ سا پیکر ہی نہ تھا
کتنے القاب تھے
لکھ لکھ کے مٹا ئے ہم نے
کتنے اوراق لکھے، پھاڑے ، جلا ئے ہم نے
"دل کی ضد برتا ہوا حرف نہ برتا جائے
اک الگ سب سے کوئی لفظ ترا شا جا ئے
آپ پا بندی آ داب کی شرطیں رکھیں
دل گراں بارئ الفا ظ سے الجھا جا ئے "
سو چتے سوچتے بس سادہ ورق بھیج دیا
آپ ہی لکھئے
کہ کیا آ پ کولکھا جائے۔۔۔۔۔۔۔۔؟

Offline
 

Raat yun dil mein teri, khoyi hui yaad aayi۔
Jaise viraane mein chupke se bahaar aa jaye۔
Jaise sahraon mein haule se chale baad-ae-naseem۔
Jaise bimaar ko be-wajaah quraar aa jaaye۔