کیا زمانہ تھا کہ ہم روز ملا کرتے تھے رات بھر چاند کے ہم راہ پھرا کرتے تھے جہاں تنہائیاں سر پھوڑ کے سو جاتی ہیں ان مکانوں میں عجب لوگ رہا کرتے تھے کر دیا آج زمانے نے انہیں بھی مجبور کبھی یہ لوگ مرے دکھ کی دوا کرتے تھے دیکھ کر جو ہمیں چپ چاپ گزر جاتا ہے کبھی اس شخص کو ہم پیار کیا کرتے تھے اتفاقات زمانہ بھی عجب ہیں ناصر آج وہ دیکھ رہے ہیں جو سنا کرتے تھے
یارب غم ہجراں میں اتنا تو کیا ہوتا جو ہاتھ جگر پر ہے وہ دست دعا ہوتا اک عشق کا غم آفت اور اس پہ یہ دل آفت یا غم نہ دیا ہوتا یا دل نہ دیا ہوتا ناکام تمنا دل اس سوچ میں رہتا ہے یوں ہوتا تو کیا ہوتا یوں ہوتا تو کیا ہوتا امید تو بندھ جاتی تسکین تو ہو جاتی وعدہ نہ وفا کرتے وعدہ تو کیا ہوتا غیروں سے کہا تم نے غیروں سے سنا تم نے کچھ ہم سے کہا ہوتا کچھ ہم سے سنا ہوتا
ایک پہاڑی سلسلے کے اوپر رن وے بنا ہوا تھا۔ ایک طیارہ مسافروں سے بھر چکا تھا۔ ابھی تک پائلٹ نہیں آیا تھا۔ کہ اچانک مسافروں نے دیکھا کہ دو افراد ہاتھوں میں سفید چھڑی لئے آنکھوں پر سیاہ چشمے پہنے آئے۔ اور کاک پٹ میں چلے گئے۔مسافروں میں چہ می گوئیاں شروع ہوئیں کہ پائلٹ تو دونوں نابینا ہیں۔ سپیکر پر آواز آئی۔ کہ میں پائلٹ فلاں صاحب جہاز کا کیپٹن بول رہا ہوں اور میرے ساتھ فلاں صاحب میرے معاون پائلٹ ہیں۔ یہ درست ہے کہ ہم دونوں نابینا ہیں۔ لیکن جہاز کے جدید آلات اور ہمارے وسیع تجربے کو دیکھتے ہوئے فکر کی کوئی ضرورت نہیں۔ ہم باآسانی جہاز چلا لیتے ہیں۔ بے شمار پروازیں کر چکے ہیں۔ مسافروں میں بے چینی کچھ کم ہوئی لیکن ان کی تشویش کم نہ ہوئی۔
خیر انجن سٹارٹ ہوا۔ جہاز نے رن وے پر دوڑنا شروع کیا۔ دونوں اطراف میں کھائیاں تھیں۔ مسافر سانس روک کر بیٹھے ہوئے تھے۔ جہاز دوڑتا گیا۔ سامنے بھی کھائی تھی۔ لیکن جہاز دوڑ رہا تھا۔ کھائی کے بالکل قریب جاکر مسافروں کی چیخیں نکل گئیں کہ جہاز نے فلائنگ گیئر لگایا اور ہوا میں بلند ہوگیا۔ مائک کھلا رہ گیا تھا۔ معاون پائلٹ کی آواز آئی۔ پائلٹ سے کہہ رہا تھا۔ “استاد جی کسی دن مسافروں کو چیخنے میں دیر ہوگئی تو پھر کیا بنے گا؟????
آ جاتا ہے خود پاس، بُلانا نہیں پڑتا ملنے کے لئے ہاتھ بڑھانا نہیں پڑتا کچھ ایسی سہولت سے مکیں دل میں ہوا وہ مجھ کو بھی مری ذات سے جانا نہیں پڑتا یہ خاص رعایت ہے کہ اب دیس میں اپنے غم مُفت میں ملتا ہے ، کمانا نہیں پڑتا اِس شہر سے اُس شہر تلک سیدھی سڑک ہے فی الحال تو رستے میں زمانہ نہیں پڑتا افسانۂ ہستی بھی بہت خوب ہے جس میں کردار کوئی سا بھی نبھانا نہیں پڑتا اک کربِ مسلسل ، کہ مرا پہلو نشیں ہے اک لطفِ دروں ، جسکو گنوانا نہیں پڑتا اب لوہا اُگاتے ہیں درختوں کی جگہ ہم کوئل کو بھی اب شور مچانا نہیں پڑتا
زندگی میں ہم کبھی کبھار کسی کا نشانہ بن جاتے ہیں اور دھوکہ کھا جاتے ہیں اور پھر ہم آنے والی زندگی میں اُس دھوکے کو بہت یاد رکھتے ہیں خیر رکھنا بھی چاہئیے مگر صرف سبق سیکھنے کئلیے نہ کہ اُس تلخ ماضی کیوجہ سے اپنا حال اور مستقبل خراب کریں کیونکہ ماضی سے صرف سبق حاصل کِیا جاتا اُس میں جا کہ رہا نہیں جاتا چلو جو ہونا تھا ہو چُکا اب وہ باب زندگی سے مِٹ نہیں سکتا دوہرا نقصان ہمارا تب ہوتا جب ہم اُس تلخ ماضی کو ساتھ لے کر گھومتے ہیں اور پھر کچھ آگے زندگی میں پوری ہمت سے کُچھ کر نہیں سکتے،
دل میرا مصر کا بازار بھی ہو سکتا ہے کوئی دھڑکن کا خریدار بھی ہو سکتا ہے کوئی ہو سکتا ہے قاتل بھی صف یاراں میں کوئی ہمدرد سر دار بھی ہو سکتا ہے اب تلک اشک گرا کرتے تھے تنہائی میں یہ تماشا، سر بازار بھی ہو سکتا ہے۔ مجھہ پہ طعنے نہ کسو، مجھکو نہ پاگل سمجھو، میں بھی انساں ہوں مجھے پیار بھی ہو سکتا ہے۔ اس کی چوکھٹ پہ جانا ہے، ذرا تھام لے دل، وہاں اقرار بھی، انکار بھی. . ہو سکتا ہے۔
اس لئے آ پ کو بھیجا تھا وہ... سادہ کاغذ کو ئی بھی حرف منا سب سا میسر ہی نہ تھا اجنبی جیسے تھے انداز تخاطب سارے کو ئی پیکر بھی مری سو چ سا پیکر ہی نہ تھا کتنے القاب تھے لکھ لکھ کے مٹا ئے ہم نے کتنے اوراق لکھے، پھاڑے ، جلا ئے ہم نے "دل کی ضد برتا ہوا حرف نہ برتا جائے اک الگ سب سے کوئی لفظ ترا شا جا ئے آپ پا بندی آ داب کی شرطیں رکھیں دل گراں بارئ الفا ظ سے الجھا جا ئے " سو چتے سوچتے بس سادہ ورق بھیج دیا آپ ہی لکھئے کہ کیا آ پ کولکھا جائے۔۔۔۔۔۔۔۔؟