یہ نگاہِ مست کی مستیاں کسی بد نصیب پہ ڈال دے،
کسی درد مند کے کام آ، کسی ڈُوبتے کو اُچھال دے!
میں اسی خیال سے آج تک اُسے دِل کی بات نہ کہہ سکا،
کہ وہ دردِ دِل سے ہے بے خبر، کہیں مُسکُرا کے نہ ٹال دے
قید خانے میں آنکھ کھولنے اور زندگی گزارنے وآلا قیدی رہائی سے خوفزدہ ہوتا ھے۔وہ قیاس کرتا ھے۔ کہ آزاد فضا میں جاتے ہی وہ مر جائے گا ۔ بن پانی کے مچھلی کی طرح ۔
تم گُل تھے ہم نکھار ،، ابھی کل کی بات ہے
ہم سے تھی سب بہار ابھی کل کی بات ہے
بیگانہ سمجھو ،،،،،، غیر کہو ،،،،،،،،، اجنبی کہو
اپنوں میں تھا شمار ،، ابھی کل کی بات ہے
آج اپنے پاس سے ہمیں ،رکھتے ہو دُور دُور
ہم بِن نہ تھا قرار ،، ابھی کل کی بات ہے
اِترا رہے ہو ،،،،، آج پہن کر ،،،، نئی قبا
دامن تھا تار تار ،، ابھی کل کی بات ہے
آج اِس قدر غرور ،،،،،، یہ انداز، یہ مزاج
پِھرتے تھے میرخوار ابھی کل کی بات ہے
انجان بن کے پوچھتے ہو،ہے یہ کب کی بات؟
کل کی ہے بات یار ،، ابھی کل کی بات ہے
یہ اتنی رات گئے کون دستکیں دے گا
کہیں ہوا کا ہی اس نے نہ روپ دھارا ہو
یہ بہت مشہور جانور ہے۔ قد میں عقل سے تھوڑا بڑا ہوتا ہے۔ چوپایوں میں یہ واحد جانور ہے کہ موسیقی سے ذوق رکھتا ہے، اسی لیے لوگ اس کے آگے بین بجاتے ہیں۔ کسی اور جانور کے آگے نہیں بجاتے۔بھینس دودھ دیتی ہے لیکن وہ کافی نہیں ہوتا۔ باقی دودھ گوالا دودھ والا دیتا ہے اور دونوں کے باہمی تعاون سے ہم شہریوں کا کام چلتا ہے۔ تعاون اچھی چیز ہے لیکن دودھ کو چھان لینا چاہئیے تاکہ مینڈک نکل جائیں۔بھینس کا گھی بھی ہوتا ہے۔ بازار میں ہر جگہ ملتا ہے۔ آلوؤں، چربی اور وٹامن سے بھرپور۔ نشانی اس کی یہ ہے کہ پیپے پر بھینس کی تصویر بنی ہوتی ہے۔ اس سے زیادہ تفصیل میں نہ جانا چاہئیے۔آج کل بھینسیں انڈے نہیں دیتیں۔ مرزا غالب کے زمانے کی بھینسیں دیتی تھیں۔
اس سے کہنا کہ مرے ساتھ جڑا رہ جائے
رنگ لوگوں کا اڑے اور اڑا رہ جائے۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم تری یاد دہانی میں رہیں گے ایسے۔۔۔۔۔
جیسے کاغذ کوئی کونے سے مڑا رہ جائے
معاف کر دینے والے کے سامنے گناہ کی کیا اہمیت؟ عطاء کے سامنے خطاء کا کیا ذکر؟
اِک شعر کہوں گا جو تمہیں یاد رہے گا
یہ ملک قیامت تلک آباد رہے گا
ڈریں اس وقت سے
جب آپ کے کپڑے ہی آپ پہ پہ تنگ ہو جائیں
کچھ لوگ چھوٹے چھوٹے لطیفوں پر نہیں ہنستے، چھوٹی چھوٹی جگتوں کو انجوائے نہیں کرتے، عام سے شعروں پر واہ واہ نہیں کرتے، معافی کو سزا پر ترجیح نہیں دیتے، عام لوگوں کو وقت دینا پسند نہیں کرتے، بچوں کے ساتھ بچے نہیں بنتے، شکر نہیں کرتے مگر شکوے بہت کرتے ہیں، ہر وقت اپنے من پسند سچ کی تلوار لئے کھڑے ہوتے ہیں دوسروں کو خوش رکھنے کے لئے چھوٹے چھوٹے جھوٹ بھی گناہ عظیم سمجھتے ہیں ۔۔۔
یہ نہ منفرد ہوتے ہیں اور نہ ذہین ہوتے ہیں ، یہ محض احساس کمتری کا شکار ہوتے ہیں جو خود کو اس روئیے میں چھپاتے ہیں
ہو تیرا ساتھ تاحیات میسر اگر مجھے
میں خزاؤں کو بھی باخدا بہار لکھوں
گھر پہ رہنے کا حکم سنتے ہی
بعض بے گھر بہت اُداس ہُوئے
لوگ نیٹ سے دِہی نہ منگوائیں
تُو نے محبوب چُن لیا پاگل؟؟
ضَروری کام اِک بھُولا ہُوا ہے
نجانے کب سے یہ سوچا ہُوا ہے
.
وُہ شب کا کھانا لے کر آ گئے ہیں
اَبھی تو ناشتہ رَکھا ہُوا ہے
.
اَچانک آئینہ حیرت سے بولا
تمہیں پہلے کہیں دیکھا ہُوا ہے
.
مرا کمرہ یہ کہنا چاہتا ہے
ترا جیون بہت بکھرا ہُوا ہے
.
کئی بار اُنگلیوں کو گن کے جانا
قلم تو ہاتھ میں پکڑا ہُوا ہے
.
مجھے تتلی نے اَگلے دِن بتایا
قلم گلدان میں رَکھا ہُوا ہے
.
خیال اَپنا نہ رَکھوں قیسؔ لیکن
کسی نے کام یہ سونپا ہُوا ہے
آپ کو دیکھنے پہ ٹیکس نہیں
یہ حکومت بھی کتنی پاگل ہے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain