Damadam.pk
Offline's posts | Damadam

Offline's posts:

Offline
 

جب آپ کسی کے بارے میں دل میں برا سوچتے ہیں اور اسکے سامنے اچھا ظاہر کرتے ہیں.اسے منافقت کہتے ہیں.جب آپ کسی کے بارے میں دل میں اچھا سوچتے ہیں لیکن ظاہر برا کر رہے ہیں اسے احتیاط بھی کہہ سکتے ہیں.جب آپ خود کے بارے میں برا سوچتے رہتے ہیں اور زبان سے خود کے بارے میں اچھا ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں اسے کم اعتمادی یا احساس کمتری کہتے ہیں.البتہ جب آپ خود کے بارے میں اندر سے اچھا سوچتے ہیں.خود کو عزت دیتے ہیں لیکن اسکا اظہار زبان سے نہیں کرتے .یا کم کرتے ہیں.ثابت کرنے کی کوشش نہیں کرتے تو اسے عاجزی اور خوش اخلاقی کہتے ہیں.اظہار کرنے سے اور جتانے سے.آپ اگلے کی عزت نفس پر چوٹ لگاتے ہو. اگلا آپکو نیچے کرنے کے لیے ہر حربہ استعمال کرتا ہے .یوں آپ خود اپنے عمل سے دوسرے بندے کو رد عمل کی طاقت دے رہے ہو .تاکہ وہ آپ سے مقابلہ کرے.یہاں آپ کمزور ہو جاتے ہو

Memes & Satire image
O  : Some People - 
Offline
 

ھر ایک حرف ھو امکان ! تیرے جیسا ھو
مری کتاب کا عنوان ۔۔۔۔۔۔ تیرے جیسا ھو
ھزار بار گوارا ھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پارسائی کو
جو میری ذات پہ بہتان تیرے جیسا ھو
کوئی سوال جو مشکل نہ ھو ترے جیسا؟
کوئی جواب جو آسان تیرے جیسا ھو ؟
میں عمر قید بصد ناز کاٹ سکتا ھوں
مرے نصیب میں زندان تیرے جیسا ھو
محبتوں کا صلہ ھو تو ھو ترے جیسا !!
محبتوں میں ھو نقصان ، تیرے جیسا ھو
مجھے قبول ھے ۔۔۔۔۔۔۔ بارِ دگر عنایت ھو
مگر یہ شرط ھے احسان تیرے جیسا ھو

Offline
 

معلوم نہیں بیدم،ؔ میں کون ہوں اور کیا ہوں
یوں اپنوں میں اپنا ہوں، بیگانوں میں بیگانہ

Offline
 

ذہنی دباؤ وہ ہے کہ تمہیں پتـہ ہو تمہارے اندر کچھ صحیح نہيں ہے لیکن پھـر بھی تم اٌسـے ٹھیک کرنا نہ چاہو یہ ہوتا ہے (Depression) اِسی کو کہتے ہیں 'ذہنی دباؤ

Offline
 

مفت میں تجھ کو دیکھ لیتے ہیں
کوئی مہنگائی کی ٹیں ٹیں نہ کرے

Offline
 

مجھ کو بھی بے وَفا سمجھتا ہے
جانے وُہ خود کو کیا سمجھتا ہے
میں تو منزل سمجھتا ہوں اُس کو
وُہ مجھے راستہ سمجھتا ہے
زَخم اَپنا دِکھا رَہا ہُوں اُسے
جو نمک کو دَوا سمجھتا ہے
کیا خبر وُہ نماز ہی ہو قبول
شیخ جس کو قضا سمجھتا ہے
عقل مند آدمی ، محبت کو
عقل سے ماورا سمجھتا ہے
آج کے دور میں جفا کو قیسؔ
کوئی کوئی جفا سمجھتا ہے

Offline
 

لفظ کافی نہی
ہاں مگر
میں رہوں نہ رہوں
میرے الفاظ ہر شب
ستاروں کی مانند
بام فلک پر چمکتے رہیں گے
تمہیں یہ بتاتے رہیں گے کہ
تم میرے وجدان کی روشنی ہو

Offline
 

وہ دل ہی کیا ترے ملنے کی جو دعا نہ کرے
میں تجھ کو بھول کے زندہ رہوں خدا نہ کرے
یہ ٹھیک ہے نہیں مرتا کوئی جدائی میں
خدا کسی کو کسی سے مگر جدا نہ کرے
سنا ہے اس کو محبت دعائیں دیتی ہے
جو دل پہ چوٹ تو کھائے مگر گلہ نہ کرے
اگر وفا پہ بھروسہ رہے نہ دنیا کو
تو کوئی شخص محبت کا حوصلہ نہ کرے
بجھا دیا ہے نصیبوں نے میرے پیار کا چاند
کوئی دیا مری پلکوں پہ اب جلا نہ کرے
زمانہ دیکھ چکا ہے پرکھ چکا ہے اسے
قتیلؔ جان سے جائے پر التجا نہ کرے

Offline
 

ہے دعا یاد مگر حرف دعا یاد نہیں
میرے نغمات کو انداز نوا یاد نہیں
میں نے پلکوں سے در یار پہ دستک دی ہے
میں وہ سائل ہوں جسے کوئی صدا یاد نہیں
میں نے جن کے لیے راہوں میں بچھایا تھا لہو
ہم سے کہتے ہیں وہی عہد وفا یاد نہیں
کیسے بھر آئیں سر شام کسی کی آنکھیں
کیسے تھرائی چراغوں کی ضیا یاد نہیں
صرف دھندلائے ستاروں کی چمک دیکھی ہے
کب ہوا کون ہوا کس سے خفا یاد نہیں
زندگی جبر مسلسل کی طرح کاٹی ہے
جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں
آؤ اک سجدہ کریں عالم مدہوشی میں
لوگ کہتے ہیں کہ ساغرؔ کو خدا یاد نہیں

Offline
 

آپ ہی لکھئے
کہ کیا آ پ کولکھا جائے۔۔۔۔۔۔۔۔؟

Offline
 

کچھ لوگوں کو عادت ہوتی ھے۔ گھر میں تو رکاب میں ٹھونس ٹھونس کر اور فریج میں منہ گھسیڑ گھسیڑ کر کھائیں گے۔لیکن جب کسی دعوت پہ مدعو ہوں گے تو پلیٹ میں چڑیا جتنا نوالہ ڈال کر بیٹھ جائیں گے۔ تانکہ دوران ضیافت " ارے آپ نے تو کچھ لیا ہی نہیں" یا " اور لیجیئے ناں " جیسے جملوں سے میزبان کی خصوصی توجہ اور اہمیت انھیں ملتی رھے۔ اور ان کے ارد گرد بیٹھے مصاحبین یہ سوچ سوچ کر شرمندہ ہوتے رہیں کہ شائد وہ کچھ زیادہ ہی کھا رھے ہیں۔

Offline
 

انسانیت
بلند ترین ہنر
خوبصورت ترین صفت
اور سب سے بہترین عبادت ہے

Memes & Satire image
O  : Did U 9 - 
Memes & Satire image
O  : Welcome to Pakistan - 
Memes & Satire image
O  : Oh No ... - 
Interesting Posts image
O  : Jurasic World behind the scene - 
Offline
 

ایک مدت سے تم نہیں میرے
ایک مدت سے میں تمہارا ہوں

Offline
 

ہے ضرورت مجھ کو سب کی، یہ اہم ہے
ہوں ضرورت میں تو سب کی، یہ وہم ہے
صرف کوشش میں ہے حاصل، یہ اہم ہے
میری مشکل ہے ہی مشکل، یہ وہم ہے
خود کو میں پہچانتا ہوں، یہ اہم ہے
میں سبھی کچھ جانتا ہوں، یہ وہم ہے
جستجو و آگہی ہے ، یہ اہم ہے
آنکھ میرے پاس بھی ہے، یہ وہم ہے

Offline
 

میں کھولتا ہوں درِ دل ، اگر کوئی آ جائے
پر اس کا یہ نہیں مطلب کہ ہر کوئی آ جائے
میں اندھا بن کے گزرتے ہووؤں کو دیکھتا تھا
میں چاہتا تھا مجھے دیکھ کر کوئی آ جائے
کروں گا آج تلافی، سو، مجھ سمیت، اگر
کسی کو پہنچا ہو مجھ سے ضرر کوئی، آ جائے !
میں اُس کو دیکھ کے رستے میں یوں رکا، جیسے
سڑک کے بیچ ،اچانک شجر کوئی آ جائے
یوں آئی وصل کے دوران ایک ہجر کی یاد
کہ جیسے چھٹی کے دن کام پر کوئی آ جائے
یوں آئنے کے مقابل ہوں دم بخود، جیسے
کسی کو دیکھنا ہو اور نظر کوئی آ جائے
یہ سوچ کر نہیں دیتا میں تجھ کو دل میں جگہ
یہی نہ ہو کہ ترے ساتھ ڈر کوئی آ جائے