جب آپ کسی کے بارے میں دل میں برا سوچتے ہیں اور اسکے سامنے اچھا ظاہر کرتے ہیں.اسے منافقت کہتے ہیں.جب آپ کسی کے بارے میں دل میں اچھا سوچتے ہیں لیکن ظاہر برا کر رہے ہیں اسے احتیاط بھی کہہ سکتے ہیں.جب آپ خود کے بارے میں برا سوچتے رہتے ہیں اور زبان سے خود کے بارے میں اچھا ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں اسے کم اعتمادی یا احساس کمتری کہتے ہیں.البتہ جب آپ خود کے بارے میں اندر سے اچھا سوچتے ہیں.خود کو عزت دیتے ہیں لیکن اسکا اظہار زبان سے نہیں کرتے .یا کم کرتے ہیں.ثابت کرنے کی کوشش نہیں کرتے تو اسے عاجزی اور خوش اخلاقی کہتے ہیں.اظہار کرنے سے اور جتانے سے.آپ اگلے کی عزت نفس پر چوٹ لگاتے ہو. اگلا آپکو نیچے کرنے کے لیے ہر حربہ استعمال کرتا ہے .یوں آپ خود اپنے عمل سے دوسرے بندے کو رد عمل کی طاقت دے رہے ہو .تاکہ وہ آپ سے مقابلہ کرے.یہاں آپ کمزور ہو جاتے ہو
ھر ایک حرف ھو امکان ! تیرے جیسا ھو
مری کتاب کا عنوان ۔۔۔۔۔۔ تیرے جیسا ھو
ھزار بار گوارا ھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پارسائی کو
جو میری ذات پہ بہتان تیرے جیسا ھو
کوئی سوال جو مشکل نہ ھو ترے جیسا؟
کوئی جواب جو آسان تیرے جیسا ھو ؟
میں عمر قید بصد ناز کاٹ سکتا ھوں
مرے نصیب میں زندان تیرے جیسا ھو
محبتوں کا صلہ ھو تو ھو ترے جیسا !!
محبتوں میں ھو نقصان ، تیرے جیسا ھو
مجھے قبول ھے ۔۔۔۔۔۔۔ بارِ دگر عنایت ھو
مگر یہ شرط ھے احسان تیرے جیسا ھو
معلوم نہیں بیدم،ؔ میں کون ہوں اور کیا ہوں
یوں اپنوں میں اپنا ہوں، بیگانوں میں بیگانہ
ذہنی دباؤ وہ ہے کہ تمہیں پتـہ ہو تمہارے اندر کچھ صحیح نہيں ہے لیکن پھـر بھی تم اٌسـے ٹھیک کرنا نہ چاہو یہ ہوتا ہے (Depression) اِسی کو کہتے ہیں 'ذہنی دباؤ
مفت میں تجھ کو دیکھ لیتے ہیں
کوئی مہنگائی کی ٹیں ٹیں نہ کرے
مجھ کو بھی بے وَفا سمجھتا ہے
جانے وُہ خود کو کیا سمجھتا ہے
میں تو منزل سمجھتا ہوں اُس کو
وُہ مجھے راستہ سمجھتا ہے
زَخم اَپنا دِکھا رَہا ہُوں اُسے
جو نمک کو دَوا سمجھتا ہے
کیا خبر وُہ نماز ہی ہو قبول
شیخ جس کو قضا سمجھتا ہے
عقل مند آدمی ، محبت کو
عقل سے ماورا سمجھتا ہے
آج کے دور میں جفا کو قیسؔ
کوئی کوئی جفا سمجھتا ہے
لفظ کافی نہی
ہاں مگر
میں رہوں نہ رہوں
میرے الفاظ ہر شب
ستاروں کی مانند
بام فلک پر چمکتے رہیں گے
تمہیں یہ بتاتے رہیں گے کہ
تم میرے وجدان کی روشنی ہو
وہ دل ہی کیا ترے ملنے کی جو دعا نہ کرے
میں تجھ کو بھول کے زندہ رہوں خدا نہ کرے
یہ ٹھیک ہے نہیں مرتا کوئی جدائی میں
خدا کسی کو کسی سے مگر جدا نہ کرے
سنا ہے اس کو محبت دعائیں دیتی ہے
جو دل پہ چوٹ تو کھائے مگر گلہ نہ کرے
اگر وفا پہ بھروسہ رہے نہ دنیا کو
تو کوئی شخص محبت کا حوصلہ نہ کرے
بجھا دیا ہے نصیبوں نے میرے پیار کا چاند
کوئی دیا مری پلکوں پہ اب جلا نہ کرے
زمانہ دیکھ چکا ہے پرکھ چکا ہے اسے
قتیلؔ جان سے جائے پر التجا نہ کرے
ہے دعا یاد مگر حرف دعا یاد نہیں
میرے نغمات کو انداز نوا یاد نہیں
میں نے پلکوں سے در یار پہ دستک دی ہے
میں وہ سائل ہوں جسے کوئی صدا یاد نہیں
میں نے جن کے لیے راہوں میں بچھایا تھا لہو
ہم سے کہتے ہیں وہی عہد وفا یاد نہیں
کیسے بھر آئیں سر شام کسی کی آنکھیں
کیسے تھرائی چراغوں کی ضیا یاد نہیں
صرف دھندلائے ستاروں کی چمک دیکھی ہے
کب ہوا کون ہوا کس سے خفا یاد نہیں
زندگی جبر مسلسل کی طرح کاٹی ہے
جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں
آؤ اک سجدہ کریں عالم مدہوشی میں
لوگ کہتے ہیں کہ ساغرؔ کو خدا یاد نہیں
آپ ہی لکھئے
کہ کیا آ پ کولکھا جائے۔۔۔۔۔۔۔۔؟
کچھ لوگوں کو عادت ہوتی ھے۔ گھر میں تو رکاب میں ٹھونس ٹھونس کر اور فریج میں منہ گھسیڑ گھسیڑ کر کھائیں گے۔لیکن جب کسی دعوت پہ مدعو ہوں گے تو پلیٹ میں چڑیا جتنا نوالہ ڈال کر بیٹھ جائیں گے۔ تانکہ دوران ضیافت " ارے آپ نے تو کچھ لیا ہی نہیں" یا " اور لیجیئے ناں " جیسے جملوں سے میزبان کی خصوصی توجہ اور اہمیت انھیں ملتی رھے۔ اور ان کے ارد گرد بیٹھے مصاحبین یہ سوچ سوچ کر شرمندہ ہوتے رہیں کہ شائد وہ کچھ زیادہ ہی کھا رھے ہیں۔
انسانیت
بلند ترین ہنر
خوبصورت ترین صفت
اور سب سے بہترین عبادت ہے
ایک مدت سے تم نہیں میرے
ایک مدت سے میں تمہارا ہوں
ہے ضرورت مجھ کو سب کی، یہ اہم ہے
ہوں ضرورت میں تو سب کی، یہ وہم ہے
صرف کوشش میں ہے حاصل، یہ اہم ہے
میری مشکل ہے ہی مشکل، یہ وہم ہے
خود کو میں پہچانتا ہوں، یہ اہم ہے
میں سبھی کچھ جانتا ہوں، یہ وہم ہے
جستجو و آگہی ہے ، یہ اہم ہے
آنکھ میرے پاس بھی ہے، یہ وہم ہے
میں کھولتا ہوں درِ دل ، اگر کوئی آ جائے
پر اس کا یہ نہیں مطلب کہ ہر کوئی آ جائے
میں اندھا بن کے گزرتے ہووؤں کو دیکھتا تھا
میں چاہتا تھا مجھے دیکھ کر کوئی آ جائے
کروں گا آج تلافی، سو، مجھ سمیت، اگر
کسی کو پہنچا ہو مجھ سے ضرر کوئی، آ جائے !
میں اُس کو دیکھ کے رستے میں یوں رکا، جیسے
سڑک کے بیچ ،اچانک شجر کوئی آ جائے
یوں آئی وصل کے دوران ایک ہجر کی یاد
کہ جیسے چھٹی کے دن کام پر کوئی آ جائے
یوں آئنے کے مقابل ہوں دم بخود، جیسے
کسی کو دیکھنا ہو اور نظر کوئی آ جائے
یہ سوچ کر نہیں دیتا میں تجھ کو دل میں جگہ
یہی نہ ہو کہ ترے ساتھ ڈر کوئی آ جائے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain