بھلا چکا ہوں بظاہر اسے مگر پھر بھی
وہ اضطراب کی صورت مرے قرار میں ہے
محبت کے بغیر ہر موسیقی ایک شور ہے
رقص پاگل پن ہے
ساری عبادتیں بوجھ ہیں
یہ بھی کیا کم ہے کہ دونوں کا بھرم قائم ہے
اس نے بخشش نہیں کی ہم نے گزارش نہیں کی
زندگی میں وقت ٹھہر جائے اور شب و روز گزرتے رہیں ۔ دن ہفتے اور ہفتے مہینوں اور مہینے سالوں کی گلک میں جمع ھوتے رہیں۔ مگر وقت کے فریم میں ایک ہی منظر ٹھہرا ھو تو عمریں شمار نہیں کرنا چاہئیں
ہسپتال سے واپس آیا تو اسکو سب کے روئیے بدلے ہوۓ لگے
اس کے ساتھ کوئی روک ٹوک نہیں کی جا رہی تھی... وہ جہاں بھی جانا چاہتا تھا اسکو جانے دیا جاتا تھا، جو کھانا چاہتا تھا کھا سکتا تھا... جو بھی پہن لیتا کوئی اسپر تنقید نہیں کرتا تھا... جو بھی کہہ دیتا کوی اسپر طنز نہیں کرتا تھا...
ہر طرف خوشی تھی.... ہر کوئی مہربان تھا....
وہ یہ سب دیکھتا اور مسکرا دیتا.... کیونکہ وہ جانتا تھا، اسکو جینے کا حق دے دیا گیا یے... کیونکہ..... بہت جلد وہ مرنے والا تھا
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain