بعض دفعہ اُس کرب کو لکھنا بڑا مشکل ہوتا ہے جسے ہم مُحسوس کر رہے ہوتے ھیں۔
وہ ہمسفر تھا مگر اس سے ہم نوائی نہ تھی
کہ دھوپ چھاؤں کا عالم رہا جدائی نہ تھی
محبتوں کا سفر اس طرح بھی گزرا تھا
شکستہ دل تھے مسافر شکستہ پائی نہ تھی
عداوتیں تھیں ، تغافل تھا، رنجشیں تھیں بہت
بچھڑنے والے میں سب کچھ تھا ، بے وفائی نہ تھی
بچھڑتے وقت ان آنکھوں میں تھی ہماری غزل
غزل بھی وہ جو کسی کو ابھی سنائی نہ تھی
کسے پکار رہا تھا وہ ڈوبتا ہوا دن
سدا تو آئی تھی لیکن کوئی دہائی نہ تھی
عجیب ہوتی ہے راہ سخن بھی دیکھ نصیر
وہاں بھی آ گئے آخر، جہاں رسائی نہ تھی
حباب کی صورت ہو کہ اغیار کی صورت
ہر چہرے میں آتی ہے نظر یار کی صورت
سینے میں اگر سوز سلامت ہو تو خود ہی
اشعار میں ڈھل جاتی ہے افکار کی صورت
جس آنکھ نے دیکھا تجھے اس آنکھ کو دیکھوں
ہے اس کے سوا کیا تیرے دیدار کی صورت
پہچان لیا تجھ کو تیری شیشہ گری سے
آتی ہے نظر فن ہی سے فنکار کی صورت
اشکوں نے بیاں کر ہی دیا رازِتمنا
ہم سوچ رہے تھے ابھی اظہار کی صورت
اس خاک میں پوشیدہ ہیں ہر رنگ کے خاکے
مٹی سے نکلتے ہیں جو گلزار کی صورت
دل ہاتھ پہ رکھا ہے کوئی ہے جو خریدے؟
دیکھوں تو زرا میں بھی خریدار کی صورت
صورت میری آنکھوں میں سمائے گی نہ کوئی
نظروں میں بسی رہتی ہے سرکار کی صورت
واصف کو سرِدار پکارا ہے کسی نے
انکار کی صورت ہے نہ اقرار کی صورت
کلام ِ واصف علی واصف رح
کاش کہ ہم بڑے نہ ہوتے ، زندگی یونہی خوبصورت رہتی۔۔۔۔۔۔ !!!!!!
ایک روپے کی آٹھ "ٹافیاں"
اور
آٹھ روپے کی ایک ٹافی
کے درمیاں۔۔۔
ہم بڑے ہو گئے
گراؤنڈ میں آجا
اور
آن لائن آجا
کے درمیاں
ہم بڑے ہوگئے
بہن کی چاکلیٹ چرانے
اور
اس کے بچوں کے لئے چاکلیٹ
کے درمیاں
ہم بڑے ہوگئے
اپنی ضد منوانے کے لئے رونے
اور
خواب ٹوٹنے پر آنسو روکنے
کے درمیاں
ہم بڑے ہوگئے
میں بڑا ہونا چاہتا ہوں
اور
کاش میرا بچپن واپس آجائے
کے درمیاں
ہم بڑے ہوگئے
مل کر پلان بنانے کے
اور
پلان بنا کر ملنے
کے درمیاں
ہم بڑے ہوگئے
والدین کے آنے سے ڈرنے کے
اور
اب والدین کے ہمیشہ چلے جانے کے ڈر
کے درمیاں
آخرکار ہم بڑے ہو ہی گئے
اور
اب اس سب کے درمیاں
جب ہم بڑے ہو گئے
ہم خامشی سے کتنا بدل گئے
کہ اب
ہم بڑے ہوگئے
کیا آپ جانتے ہیں کہ چوٹ سے زیادہ آپ کو نقصان آپ کا غصہ کرنا پہنچاتا ہے۔
تو غصہ نہ کیا کریں بس طریقہ یہ ہے کہ
غصہ آۓ تو تھام لیا کریں۔
یہ اعلی ظرفی بھی ہے
صحت کے لیۓ بہت بہتر بھی ہے
رب کی نظر میں پسندیدہ بھی ہے
اور
سنت رسول ﷺ بھی ہے۔
کچھ تمہیں اور بھی اے داغ ۔۔۔ بات آتی ھے
وہی رتوں کی شکایت، وہی گلہ دل کا۔۔۔
میری صورت اُنہیں پسند نہیں
کیا یہ میرا قصور ہے کوئی
وہ ساری خوشیاں جو اس نے چاہی اٹھا کے جھولی میں اپنی رکھ لیں،
ہمارے حصے میں عذر آئے جواز آئے اصول آئے
ہجر میں خون رلاتے ہو کہاں ہوتے ہو ؟
لوٹ کر کیوں نہیں آتے ہو کہاں ہوتے ہو ؟
جب بھی ملتا ہے کوءی شخص بہاروں جیسا
مجھ کو تم کیسے بھلاتے ہو کہاں ہوتے ہو ؟
یاد آتی ہیں اکیلے میں تمھاری نیندیں
کس طرح خود کو سلاتے ہو کہاں ہوتے ہو ؟
مجھ سے بچھڑے ہو تو محبوب نظر ہو کس کے ؟
آج کل کس کو مناتے ہو،،،،،،،،،،، کہاں ہوتے ہو ؟
شب کی تنہائی میں اکثر یہ خیال آتا ہے
اپنے دکھ کس کو سناتے ہو کہاں ہوتے ہو ؟
موسمِ گل میں نشہء ہجر بڑھ جاتا ہے
میرے سب ہوش اڑاتے ہو کہاں ہوتے ہو ؟
تم تو خوشیوں کی رفاقت کے لیے بچھڑے تھے
اب اگر اشک بہاتے ہو،،،،،،،،،، کہاں ہوتے ہو ؟
شہر کے لوگ بھی واثق یہی کرتے ہیں سوال
اب بہت کم نظر آتے ہو،،،،،،، کہاں ہوتے ہو
زندگی ہـم کـو بہـت کـم وقـت کـیلئے ملتـی ہـے، کتنـے وقـت کیلـئے؟ یـہ نہیـں معلـوم، اس کـو ہـم اپنـی مـرضـی سـے کـم یـا زیـادہ نہیـں کـر سکتـے، ہـاں اس کـو ہـم بہتـر ضـرور بنـا سکتـے ہیـں، دنیـاوی خـواہشـات کـو کنٹـرول کـر کـے
Wo Nahi Mera Magar Us Se Mohabat Hai To Hai...
Yeh Agar Rasmo Riwajo Se Baghawat Hai To Hai...
Sach Ko Maine Sach Kaha Jab Keh Diya To Keh Diya...
Ab Zamaneki Nazar Mein Ye Himaakat Hai To Hai...
Dost Ban Kar Dushmano Sa wo Satata Hai Mujhe...
phir Bhi Us Pathar Dil Pe Marna Apni Fitrat Hai To Hai...
Jal Gaya Parvana To Usme Shama Ki Kya Khata...
Yun Raat Bhar Jalna-Jalaana Uski Kismat Hai To Hai...
wo Sath Hai jab tuk To Zinda Hoon main...
Meri Saanso Ko Uski Zaroorat Hai To Hai...
Dur They,Dur Rahenge Har Dum Ye Zameen Asmaan...
Duriyon Ke Baad Bhi Dil Mein Kurbat Hai To Hai...
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain