Mainey Kab Kaha Tu Mil Hi Jae Mujhe...
Par Gair Na Ho Jaye Itni Si Hasrat Hai To Hai...
Vo Nahi Mera Magar Us Se Mohabat Hai To Hai
Bay-Banawat Ada Per Hazaron Durood.
Bay-Takalluf Malahat pe Lakhon Salam.
ﷺ
پا لینا کمال نہیں __
صدا پاس رکھنا سوال ہے
محبت خدا سے ہو یا کسی شخص سے اس میں غرض نہیں ہوتی
آنکھیں کبھی کبھی انسان سے ناراض ہو جاتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور پھر اس کو بد بخت نظاروں کی طرف لے جاتی ہیں ۔ وہ آواره پھرنے لگ جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ برہنگئ اجسام کا دلداده ہو جاتا ہے ۔ آنکھیں ایسا ایسا منظر تلاش کر کے انسان کے آگے پیش کرتی ہیں کہ وہ کہیں نہیں رہتا ۔۔۔۔۔ بد بخت نظاروں کا متلاشی انہی بد بختیوں کا حصہ بنتا چلا جاتا ہے اور پھر وہ اس عاقبت تک جا پہنچتا ہے ، جو ان نظاروں کی ہوتی ہے
نفس کو اکسانے کا عمل آنکھوں سے شروع ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔ اور پھر انسان ایک درندے کی طرح اپنے شکار کی تلاش میں سرگرداں ہو جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گناہ کی تلاش ہی تو گناہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آنکھوں کا یہ عمل کبھی کبھی قوموں کو تباہ کر دیتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اگر خدا نہ کرے ، کبھی نہ کرے ، ہماری قوم کو کبھی کسی فرض کے پورا کرنے کی کوتاہی کی سزا ہوئی تو اس کی وجہ وی سی آر بھی ہو سکتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ نظاروں کا گناہ ختم ہو جائے تو وجود کا گناہ ختم ہو سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایسی باطل شناس آنکھیں شفایاب ہو سکتی ہیں ۔ اگر ان کو وہ سرمہ مل جائے ، جسے خاکِ مدینہ و نجف کہا گیا ہے ۔
(حرف حرف حقیقت)
حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ
رومی نے گفتگو کے تین دروازے بتائے تھے !
آپ کہا کرتے تھے !
آپ کا کلام جب تک ان تین دروازوں سے گزر نہ جائے آپ اس وقت تک اپنا منہ نہ کھولیں ! آپ اپنی گفتگو کو سب سے پہلے سچ کے دروازے سے گزاریں اپنے آپ سے پوچھیں آپ جو بولنے لگے ہیں کیا وہ سچ ہے؟
اگر اس کا جواب ہاں آئے تو پھر آپ اس کے بعد اپنے کلام کو اہمیت کے دروازے سے گزاریں. آپ اپنے آپ سے پوچھیں! آپ جو کہنے جا رہے ہیں کیا وہ ضروری ہے؟ اگر جواب ہاں آئے تو آپ اس کے بعد اپنے کلام کو مہربانی کے دروازے سے گزاریں آپ اپنے آپ سے پوچھیں ! کیا آپ کے الفاظ نرم اور لہجہ مہربان ہے؟
اگر لفظ نرم اور لہجہ مہربان نہ ہو تو آپ خاموشی اختیار کریں خواہ آپ کے سینے میں کتنا ہی بڑا سچ کیوں نہ ہو اور آپ کا کلام خواہ کتنا ہی ضروری کیوں نہ ہو ____!
دنیا کا ہر انسان درد کا تجربہ رکھتا ہے
مگر پھر بھی کسی کے دردکو محسوس نہیں کرتا۔
جب خیالوں میں رخِ یار ھوا کرتا ھے
ھر طرف موسمِ بہار ھوا کرتا ھے
تیراعشق تیری محبتیں
میرے روزوشب کی عبادتیں!
تو نماز عشق ھے جان جاں تجھے رات دن میں ادا کروں!
یہ جو بھولنے کا سوال ھے،میری جان یہ بھی کمال ھے
جونجات چاھوں حیات سے تجھے بھولنے کی دعا کروں۔
عشق دربار جب لگاتا ہے
عقل پھر ہاتھ باندھ لیتی ہے
برِ تحیرِ عشق سن نہ جنوں رہا نہ پری رہی
نہ تو تُو رہا نہ تو میں رہا جو رہی سو بے خبری رہی
چلی سمتِ غیب سے کیا ہوا کہ چمن ظہور کا جل گیا
مگر ایک شاخِ نہالِ غم جسے دل کہیں سو ہری رہی
وہ عجب گھڑی تھی کہ جس گھڑی لیا درس نسخۂ عشق کا
کہ کتاب عقل کی طاق پر جو دھری تھی سو وہ دھری رہی
کیا خاک آتشِ عشق نے دلِ بے نوائے سراج کو
نہ خطر رہا نہ حذر رہا جو رہی سو بے خطری رہی
ایک شام پھر یوں ہوا کہ ہواؤں کے ضد پر
بجھتے ہوئے اک چراغ نے جلنے کی ٹھان لی
ایک تو خواب لیے پھرتے ہو گلیوں گلیوں
اس پہ تکرار بھی کرتے ہو خریدار کے ساتھ
آئینے سے رہا کرے کوئی
مجھ کو مجھ سے جدا کرئے کوئی
بے وفائی کے سرخ موسم میں
کیا کسی سے وفا کرے کوئی
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain