Damadam.pk
Offline's posts | Damadam

Offline's posts:

Offline
 

نہ تم آئے شبِ وعدہ، پریشاں رات بھر رکھا
دیا امید کا میں نے جلا کر تا سحر رکھا

Offline
 

وہی دل چھوڑ کر مجھ کو کسی کا ہوگیا آخر
جسے نازوں سے پالا جس کو ارمانوں سے گھر رکھا

Offline
 

کہاں ہر ایک تیرے درد کی خیرات کے لائق
کرم تیرا کہ تو نے مجھ کو برباد نظر رکھا

Offline
 

غمِ دنیا و ما فیها کو میں نے کر دیا رخصت
ترا غم تھا جسے دل سے لگائے عمر بھر رکھا

Beautiful Nature image
O  🔥 : A Walk in the Park - 
Memes & Satire image
O  🔥 : Depressing picture - 
This picture of 42-celsius weather in Novosibirsk Russia
O  : This picture of 42-celsius weather in Novosibirsk Russia - 
Offline
 

خوشی محسوس کرتا ہوں نہ غم محسوس کرتا ہوں
مگر ہاں دل میں کچھ کچھ زیر و بم محسوس کرتا ہوں
تمہارے ذکر پر کب منحصر ہے دل کی بیتابی
کسی کا ذکر ہو میں چشم نم محسوس کرتا ہوں
کبھی پاتا ہوں دل میں ایک حشر درد بیتابی
کبھی میں اپنے دل میں درد و غم محسوس کرتا ہوں
یہ دل میں ہے جو گھبراہٹ یہ آنکھوں میں ہے جو آنسو
اس احساں کو بھی بالائے کرم محسوس کرتا ہوں
خوشی کی مجھ کو اب بہزاد کچھ حاجت نہیں باقی
کہ غم کو بھی میں اب ان کا کرم محسوس کرتا ہوں

Offline
 

اندازہ کیجئے کہ وہ کیا دل فریب ہے
سارے کا سارا شہر ہی میرا رقیب ہے
رہتا ہوں دور دور میں خود سے بھی آج کل
یہ کون آج کل مرے اتنا قریب ہے
جو بھی ہوا مریض ، کہاں بچ سکا یہاں
جانے مرض وجہ کہ وجہ خود طبیب ہے
سائے کا بوجھ بھی نہ اٹھا پائے یہ مرے
گھر کا چراغ بھی مرا کتنا غریب ہے
بک جائیں مال و زر پہ یہاں جسم، جان دل
ہم کو کہا گیا تھا محبت نصیب ہے
جچتی وفا کی بات زمانے کو بھی نہیں
لیکن تمہارے منہ سے تو ازحد عجیب ہے
ابرک کے بارے میرا تو ذاتی خیال ہے
بندہ برا نہ ہو بھی تو شاعر ادیب ہے

Offline
 

تجھے زندگی کا شعور تھا ،،،،،،، تیرا کیا بنا؟
تُو خاموش کیوں ہے مجھے بتا، تیرا کیا بنا؟
نئی منزلوں کی تلاش تھی،،،،، سو تُو بچھڑ گیا
میں بچھڑ کے تجھ سے بھٹک گیا، تیرا کیا بنا؟
مجھے علم تھا کہ شکست میرا نصیب ہے
تُو امیدوار تھا جیت کا ،،،،،، تیرا کیا بنا؟
میں مقابلے میں شریک تھا فقط اس لئے
کوئی آتا مجھ سے یہ پُوچھتا،،،، تیرا کیا بنا؟
جو نصیب سے میری جنگ تھی وہ تیری بھی تھی
میں تو کامیاب نہ ہو سکا ،،،،،،،،،،،،، تیرا کیا بنا؟
تجھے دیکھ کر تو مجھے لگا کہ خوش ہے تُو
تیرے بولنے سے پتہ چلا،،،، تیرا کیا بنا؟
میں الگ تھا سب سے،اس لئے مجھے سزا ملی
تُو بھی دوسروں سے تھا کچھ جُدا،، تیرا کیا بنا؟

Offline
 

ایک ہی صورت ہر تصویر میں ایک دوسرے سے مختلف دکھائی دیتی ھے ۔ کسی تصویر میں انسان اچھا دکھائی دیتا ھے۔کسی میں اور بھی اچھا اور کسی میں بس کوجا سا۔ صرف تصویروں ہی میں نہیں در حقیقت بھی ہمارا ایک ہی چہرہ لباس بدلنے سے موسمی تغیر سے مختلف حالات میں مختلف دکھائی دینے کے باوجود اپنی ایک الگ اور مخصوص شناخت بر قرار رکھتا ھے۔ مگر پھر بھی اس میں عمر کے علاوہ بھی تخفیف ہوتی رہتی ھے۔ قدرت اپنی بناوٹ اور تخلیق میں کتنی ویری ایشنز رکھتی ھے۔ کائنات ایک شاخ یا چند شاخوں کا مجموعہ نہیں ھے ۔اس کے ایک ذرے میں اتنے جہاں آباد ہیں کہ دریافت میں نکلنے وآلا آگے ہی آگے بڑھتا چلا جاتا ھے۔ تجسس اور جستجو کے اس سفر میں صرف موت ہی اس کا فل اسٹاپ ہو سکتی ھے۔

Offline
 

جب ھم کسی سے ملتے ھیں تو نہ تو ہمارے گلے میں ھماری ڈگریاں لٹکی ہوتی ہیں نہ ہما رے ماتھے پہ ہمارے خاندان کا نام کندہ ھوتا ھے یہ صرف ھمارے کردار اخلاق اور اچھے برتاؤ کی خوشبو ھوتی ھے جو دوسروں کو آپ کا گرویدہ بنا دیتی ھے ایسے لوگ ہر زمانے کے ہیرو اور نایاب انسان ہوتے ھیں،
اصل میں ہم نے چھوٹی چھوٹی مہربانیاں کرنی چھوڑدی ہیں۔ ہم نہیں جانتے کہ ہماری ایک مسکراہٹ، ایک درگزر، ہمدردی کا ایک کلمہ، مہربانی کا ایک عمل کبھی چھوٹا نہیں ہوتا۔ یہ عمل ایک کمزور اور محروم انسان کے دل میں ہمارا وہ عکس قائم کرتا ہے جو مدتوں نہیں بھلایا جاتا۔ یہ عکس کبھی ایک انسان تک نہیں رکتا بلکہ روشنی بن کر دوسروں میں منتقل ہوتارہتا ہے

Memes & Satire image
O  🔥 : True Or false - 
Memes & Satire image
O  🔥 : I think they are plotting something - 
Offline
 

زند گی نام ھے کچھ رستوں کا وہ جو ملتے ہیں کہیں
اور کبھی ملتے ھی نہیں مجھ کو بھی مل جا ے کوئی رستہ کہ تم تک پہنچوں

Offline
 

کبھی کبھی یہ دل چاہتا ہے
تمہاری شاموں کا حال پوچھوں
سوال پوچھوں
کہ فکر فردا میں کیسی گزری
یونہی کبھی میرا نام آیا تمھارے ہونٹوں پہ ایک پل کو ؟
میری محبت کی یاد مہکی کبھی تمھارے بھی راستوں میں ؟
مگر میں چپ ہوں
ہمارے مابین یہ جو دردیوار اجنبیت ہے یہ غنیمت ہے
اسی میں توقیر حرف و لب ہے
یہیں پہ ترک طلب کی حد ہے...

Offline
 

دیوانہ بنانا ہے تو دیوانہ بنا دے
ورنہ کہیں تقدیر تماشہ نہ بنا دے
اے دیکھنے والو مجھے ہنس ہنس کے نہ دیکھو
تم کو بھی محبت کہیں مجھ سا نہ بنا دے

Offline
 

بھولے بسرے موسموں کے درمیاں رہتا ہوں میں
اب جہاں کوئی نہیں وہاں رہتا ہوں میں
دن ڈھلے کرتا ہوں بوڑھی ہڈیوں سے ساز باز
جب تلک شب ڈھل نہیں جاتی جواں رہتا ہوں میں
کیا خبر ان کو بھی آتا ہو کبھی میرا خیال
کن ملالوں میں ہوں کیسا ہوں کہاں رہتا ہوں میں
جگمگاتے جاگتے شہروں میں رہتا ہوں ملول
سوئی سوئی بستیوں میں شادماں رہتا ہوں میں
بوتا رہتا ہوں ہوا میں گم شدہ نغموں کے بیج
وہ سمجھتے ہیں کہ مصروف فغاں رہتا ہوں میں

Offline
 

تو اب اداس جو بیٹھے گا سامنے ان کے
تو پھر وہ رحم کریں گے محبتیں تو نہیں

Offline
 

جو لوگ کہتے ہیں پیسوں سے خوشیاں نہیں ملتیں
ان سے گزارش ہے کہ وہ اپنے پیسے

۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔ مجھے دے دیں