نہ تم آئے شبِ وعدہ، پریشاں رات بھر رکھا
دیا امید کا میں نے جلا کر تا سحر رکھا
وہی دل چھوڑ کر مجھ کو کسی کا ہوگیا آخر
جسے نازوں سے پالا جس کو ارمانوں سے گھر رکھا
کہاں ہر ایک تیرے درد کی خیرات کے لائق
کرم تیرا کہ تو نے مجھ کو برباد نظر رکھا
غمِ دنیا و ما فیها کو میں نے کر دیا رخصت
ترا غم تھا جسے دل سے لگائے عمر بھر رکھا
خوشی محسوس کرتا ہوں نہ غم محسوس کرتا ہوں
مگر ہاں دل میں کچھ کچھ زیر و بم محسوس کرتا ہوں
تمہارے ذکر پر کب منحصر ہے دل کی بیتابی
کسی کا ذکر ہو میں چشم نم محسوس کرتا ہوں
کبھی پاتا ہوں دل میں ایک حشر درد بیتابی
کبھی میں اپنے دل میں درد و غم محسوس کرتا ہوں
یہ دل میں ہے جو گھبراہٹ یہ آنکھوں میں ہے جو آنسو
اس احساں کو بھی بالائے کرم محسوس کرتا ہوں
خوشی کی مجھ کو اب بہزاد کچھ حاجت نہیں باقی
کہ غم کو بھی میں اب ان کا کرم محسوس کرتا ہوں
اندازہ کیجئے کہ وہ کیا دل فریب ہے
سارے کا سارا شہر ہی میرا رقیب ہے
رہتا ہوں دور دور میں خود سے بھی آج کل
یہ کون آج کل مرے اتنا قریب ہے
جو بھی ہوا مریض ، کہاں بچ سکا یہاں
جانے مرض وجہ کہ وجہ خود طبیب ہے
سائے کا بوجھ بھی نہ اٹھا پائے یہ مرے
گھر کا چراغ بھی مرا کتنا غریب ہے
بک جائیں مال و زر پہ یہاں جسم، جان دل
ہم کو کہا گیا تھا محبت نصیب ہے
جچتی وفا کی بات زمانے کو بھی نہیں
لیکن تمہارے منہ سے تو ازحد عجیب ہے
ابرک کے بارے میرا تو ذاتی خیال ہے
بندہ برا نہ ہو بھی تو شاعر ادیب ہے
تجھے زندگی کا شعور تھا ،،،،،،، تیرا کیا بنا؟
تُو خاموش کیوں ہے مجھے بتا، تیرا کیا بنا؟
نئی منزلوں کی تلاش تھی،،،،، سو تُو بچھڑ گیا
میں بچھڑ کے تجھ سے بھٹک گیا، تیرا کیا بنا؟
مجھے علم تھا کہ شکست میرا نصیب ہے
تُو امیدوار تھا جیت کا ،،،،،، تیرا کیا بنا؟
میں مقابلے میں شریک تھا فقط اس لئے
کوئی آتا مجھ سے یہ پُوچھتا،،،، تیرا کیا بنا؟
جو نصیب سے میری جنگ تھی وہ تیری بھی تھی
میں تو کامیاب نہ ہو سکا ،،،،،،،،،،،،، تیرا کیا بنا؟
تجھے دیکھ کر تو مجھے لگا کہ خوش ہے تُو
تیرے بولنے سے پتہ چلا،،،، تیرا کیا بنا؟
میں الگ تھا سب سے،اس لئے مجھے سزا ملی
تُو بھی دوسروں سے تھا کچھ جُدا،، تیرا کیا بنا؟
ایک ہی صورت ہر تصویر میں ایک دوسرے سے مختلف دکھائی دیتی ھے ۔ کسی تصویر میں انسان اچھا دکھائی دیتا ھے۔کسی میں اور بھی اچھا اور کسی میں بس کوجا سا۔ صرف تصویروں ہی میں نہیں در حقیقت بھی ہمارا ایک ہی چہرہ لباس بدلنے سے موسمی تغیر سے مختلف حالات میں مختلف دکھائی دینے کے باوجود اپنی ایک الگ اور مخصوص شناخت بر قرار رکھتا ھے۔ مگر پھر بھی اس میں عمر کے علاوہ بھی تخفیف ہوتی رہتی ھے۔ قدرت اپنی بناوٹ اور تخلیق میں کتنی ویری ایشنز رکھتی ھے۔ کائنات ایک شاخ یا چند شاخوں کا مجموعہ نہیں ھے ۔اس کے ایک ذرے میں اتنے جہاں آباد ہیں کہ دریافت میں نکلنے وآلا آگے ہی آگے بڑھتا چلا جاتا ھے۔ تجسس اور جستجو کے اس سفر میں صرف موت ہی اس کا فل اسٹاپ ہو سکتی ھے۔
جب ھم کسی سے ملتے ھیں تو نہ تو ہمارے گلے میں ھماری ڈگریاں لٹکی ہوتی ہیں نہ ہما رے ماتھے پہ ہمارے خاندان کا نام کندہ ھوتا ھے یہ صرف ھمارے کردار اخلاق اور اچھے برتاؤ کی خوشبو ھوتی ھے جو دوسروں کو آپ کا گرویدہ بنا دیتی ھے ایسے لوگ ہر زمانے کے ہیرو اور نایاب انسان ہوتے ھیں،
اصل میں ہم نے چھوٹی چھوٹی مہربانیاں کرنی چھوڑدی ہیں۔ ہم نہیں جانتے کہ ہماری ایک مسکراہٹ، ایک درگزر، ہمدردی کا ایک کلمہ، مہربانی کا ایک عمل کبھی چھوٹا نہیں ہوتا۔ یہ عمل ایک کمزور اور محروم انسان کے دل میں ہمارا وہ عکس قائم کرتا ہے جو مدتوں نہیں بھلایا جاتا۔ یہ عکس کبھی ایک انسان تک نہیں رکتا بلکہ روشنی بن کر دوسروں میں منتقل ہوتارہتا ہے
زند گی نام ھے کچھ رستوں کا وہ جو ملتے ہیں کہیں
اور کبھی ملتے ھی نہیں مجھ کو بھی مل جا ے کوئی رستہ کہ تم تک پہنچوں
کبھی کبھی یہ دل چاہتا ہے
تمہاری شاموں کا حال پوچھوں
سوال پوچھوں
کہ فکر فردا میں کیسی گزری
یونہی کبھی میرا نام آیا تمھارے ہونٹوں پہ ایک پل کو ؟
میری محبت کی یاد مہکی کبھی تمھارے بھی راستوں میں ؟
مگر میں چپ ہوں
ہمارے مابین یہ جو دردیوار اجنبیت ہے یہ غنیمت ہے
اسی میں توقیر حرف و لب ہے
یہیں پہ ترک طلب کی حد ہے...
دیوانہ بنانا ہے تو دیوانہ بنا دے
ورنہ کہیں تقدیر تماشہ نہ بنا دے
اے دیکھنے والو مجھے ہنس ہنس کے نہ دیکھو
تم کو بھی محبت کہیں مجھ سا نہ بنا دے
بھولے بسرے موسموں کے درمیاں رہتا ہوں میں
اب جہاں کوئی نہیں وہاں رہتا ہوں میں
دن ڈھلے کرتا ہوں بوڑھی ہڈیوں سے ساز باز
جب تلک شب ڈھل نہیں جاتی جواں رہتا ہوں میں
کیا خبر ان کو بھی آتا ہو کبھی میرا خیال
کن ملالوں میں ہوں کیسا ہوں کہاں رہتا ہوں میں
جگمگاتے جاگتے شہروں میں رہتا ہوں ملول
سوئی سوئی بستیوں میں شادماں رہتا ہوں میں
بوتا رہتا ہوں ہوا میں گم شدہ نغموں کے بیج
وہ سمجھتے ہیں کہ مصروف فغاں رہتا ہوں میں
تو اب اداس جو بیٹھے گا سامنے ان کے
تو پھر وہ رحم کریں گے محبتیں تو نہیں
جو لوگ کہتے ہیں پیسوں سے خوشیاں نہیں ملتیں
ان سے گزارش ہے کہ وہ اپنے پیسے
.۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔ مجھے دے دیں
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain