جو لوگ کہتے ہیں پیسوں سے خوشیاں نہیں ملتیں
ان سے گزارش ہے کہ وہ اپنے پیسے
.۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔ مجھے دے دیں
کوئی مجازی پر رک گیا
تو کوئی حقیقی کو پا گیا
رودادِ ستم کہہ کر جب میں نے کہا سمجهے
منہ پهیر کے فرمایا جهوٹے کو خدا سمجھے
وہ میری دعاؤں کو سمجھے کہ شکایت ہے
کیوں میں نے شکایت کی یہ ان کی بلا سمجهے
جو مجھ پہ مصیبت ہے سب دل کی بدولت ہے
اس دل نے مجهے کهویا اس دل کو خدا سمجے
سوچو تو امام' دل میں جو قدر ہے وفا کی
جو چاہنے والے کو مجبور خدا سمجھے
ہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو بھی
کچھ ہماری خبر نہیں آتی
یہ حقیقت ھے !
اِنسان کو من چاھے کی ہی طلب ہوتی ھے ..
پھر اُس کو کتنا بھی سمجھا لو, یہ اچھا ھے, وہ خوبصورت ھے, یہ لے لو, وہ مانگ لو ..
مگر نہیں !
من چاہا ہی چاہیے بسسسسس
میں شام کے کسی منظر میں ہوں تحلیل شدہ
اور تم دور کسی گاؤں میں مغرب کی اذان
ہماری زندگیوں میں بے چینی کی سب سے بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ہم جہاں موجود ہیں وہاں ہم نے رہنا سیکھا ہی نہیں __
ہر وقت یا تو ماضی میں ہوتے ہیں یا پھر مستقبل میں اگر کہیں نہیں ہوتے تو بس حال میں ____
الفاظ کی اپنی ہی ایک دنیا ہوتی ہےـ ہر لفظ اپنی ذمہ داری نبھاتا ہے
کچھ لفظ حکومت کرتے ہیں
کچھ غلامی
کچھ لفظ حفاظت کرتے ہیں ـ
اور کچھ وار ـ
ہر لفظ کا اپنا ایک مکمل وجود ہوتا ہے ـ جب سے میں نے لفظوں کو پڑھنے کے ساتھ ساتھ سمجھنا شروع کیا،
تو سمجھا
لفظ صرف مہنی نہیں رکھتے،
یہ تو دانت رکھتے ہیں ـ جو کاٹ لیتے ہیں،
یہ ھاتھ رکھتے ہیں ـ جو گریبان کو چاک کر دیتے ہیں،
یہ پاؤں رکھتے ہیں،
جو ٹھوکر لگا دیتے ہیں ـ
اور ان لفظوں کے ھاتھوں میں لہجہ کا اسلحہ تھما دیا جائے، تو یہ وجود کو چھلنی کرنے پر بھی قدرت رکھتے ہیں، اپنے لفظوں کے بارے میں محتاظ ہوجائیں.
انہیں ادا کرنے سے پہلے سوچ لیں کہ ہہ کیسی کے وجود کو سمیٹیں گے یہ کرچی کرچی بکھیر دیں گے ـ کیوں کے
یہ ہمہاری ادائیگی کے غلام ہیں اور ہم ان کے بادشاہ .
اور بادشاہ اپنی رعایا کا ذمہ دار ہوتا ہے اور اپنے سے بڑے کو جواب دہ بھی سکتا ہے.
پتہ نہیں آپ لوگوں کے ساتھ بھی ایسا ہوتا ہے کہ نہیں پر جب کبھی مجھے لگتا ہے ناں کہ آگے زندگی مشکل ہے ،تکلیف ہو گٸی ۔۔یاں چیزیں مجھ سے سنبھالی نہیں جاٸیں گی ۔۔یاں کسی شخص کا رویہ یاں بات مجھے بہت پریشان کرے ۔۔یاں اپنے ہی نفس کی غلامی سے بیزار ہو جاٶ ۔۔تو تبھی کوٸی نہ تحریر سامنے سے گزر جاتی ہے ۔۔اور مجھےتسلی دے جاتی ہے ۔۔ایک نیا حوصلہ ایک نٸی امید کہ اللہ تو ہے ناں ۔۔ہر حال میں میرے ساتھ ۔۔میرے گناہوں میری خطاٶ میری من مانیوں سے بے نیاز میرا اللہ ۔۔
جو ہر حال میں محبت کرتا ہے اور کرتا جاتا۔۔میرا ودود اللہ ۔۔میرا اللہ کے جنکا کبھی میں نے مان نہیں رکھا ۔۔اور انہوں نے ہمیشہ میرا مان رکھا ۔۔۔
ہر دکھ محرم ۔۔جب اللہ محرم ۔۔
پانی زیادہ پیا کرو ، پانی عاجز ہوتا ہے۔ مٹی سوکھ جائے تو اکڑ جاتی ہے ۔ اور اکڑ پہ پکڑ ہے ۔
سوچ کی انتہا یہی ہے کے میں ابھی ابتدا پہ ہوں
یہ اچھی پردہ داری ھے یہ اچھی راز داری ھے
کہ جو آئے تمہاری بزم میں دیوانہ ہو جائے
ہنسو تو رنگ ھوں چہرے کا ، روؤ تو چشمِ نم میں ھوں
تم مجھ کو محسوس کرو تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ھر موسم میں ھوں
ایمان کا لیول ایک سا نہیں رہتا۔
کبھی ہر لمحہ میں اس سے باتیں کرتا ہوں کبھی دنیا میں الجھ جاتا ہوں۔
انسان ہوں نہ۔۔۔۔۔۔!
تقریباً ہر انسان ایسے ہی مراحل سے گزرتا ہے۔ کوئی بہت آگے ہوتا ہے کوئی درمیان میں اور کوئی شروع کے مدارج میں۔
بس نسبت قائم رہنی چاہیے۔
اللہ کے راستے پہ بھاگ نہ سکیں تو چل لیں چل نہ سکیں تو خود کو گھسیٹ لیں مگر راستہ نہ بدلیں
یاد رکھنا پُتر......
محبت میں محبوب اگر انسان ہو تو اُسکی مِنّت نہیں کیا کرتے۔ انسان پتھر ہو جایا کرتا ہے۔...بار بار مُڑ کر دیکھتا ہے کہ کبھی تو اُسکی مِنّتوں اور التجاوں کی لاج رکھی جائے گی۔وہ انتظار کرتا ہے کہ کب محبوب کے دل پہ لگا قفل ٹوٹے گا۔حالانکہ قفل تو خود اُسکے اپنے دل پہ لگ چکا ہوتا ہے۔محبت میں بس پیدا کرنے والے کی مِنّتیں کرتے ہیں۔ پتہ ہے کیوں؟؟کیونکہ وہ آزما رہا ہوتا ہے میرا بندہ خود کو میرا کتنا محتاج سمجھتا ہے۔اور محتاج کیوں نہ ہو بندہ۔ وہ خالق ہے، رازق ہےپھر جب تم اسکے آگے گڑگڑاو گے تو وہ پتہ ہے کیا کرے گا؟وہ تمہارا بھرم رکھ لے گاانسان یہ نہیں کرتے ...یہ بس رب کرتا ہےکیونکہ وہ بے نیاز ہے
مولانا رومی فرماتے ہیں؛
جب طالبعلم دل سے علم کے لئے تیار ہو جاتا ہے، تو قدرت استاد کی طرح اسکی راہنمائ کرنے لگتی ہے۔
میرا رب مشرق والوں کو دیکھتا ہے تو مغرب والوں کو نہیں بھولتا ہے __ جو آسمانوں کے نظام چلاتے ہوئے سمندروں کو چلانا نہیں بھولتا ___
جو رات کو سجدہ کرنے والوں کو دیکھتا ہے تو برائ کی محفلوں سے غافل نہیں ہوتا___ جو ایسا معاف کرنے والا ہے جو سو سال کے گناہ ایک پل میں معاف کر دیتا ہے اور پلٹ کر یہ بھی نہیں پوچھتا __ کہ پلٹ کر تو نہیں کروں گے
وقت رُخصت کیا ہوا کچھ یاد ہے
کیسے بچھڑے ہم بھلا کچھ یاد ہے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain