مُنہ سے جب نکلا کہ اچھا الوداع
چشمِ تر سے کیا گرا کچھ یاد ہے
اس قدر اب بے رُخی اچھی نہیں
میں وہی ہُوں آشنا کچھ یاد ہے
تم تو کہتے تھے مری تم جَان ہو
کیا یہ سچ میں نے کہا کچھ یاد ہے
پھیر لی ہیں تو نے آنکھیں کِس لیے
کیا یہی تھا فیصلہ کچھ یاد ہے
آنکھوں آنکھوں میں اشارے کیا ہوۓ
کیا دیا اور کیا لیا کچھ یاد ہے
ہم نہ بچھڑیں گے کبھی تا عُمر بھر
یہ بھلا کِس نےکہا کچھ یاد ہے
جس ادا و ناز سے سودا کیا
اس دل مُشؔتاقؒ کا کچھ یاد ہے
اللہ تو بندے کے ساتھ اسکے گمان کے مطابق معاملہ کرتا ہے اگر دعائیں قبول نہیں ہو رہی مشکلات ختم نہیں ہو رہیں تو بہتر ہے اپنے گمان اور نیت پر بھی ایک نظر ڈال لیں۔
لب پہ آتی ھے دعا بن کے تمنا میری
داستان غم دل ان کو سنائی نہ گئی
بات بگڑی تھی کچھ ایسی کہ بنائی نہ گئی
سب کو ہم بھول گئے جوش جنوں میں لیکن
اک تری یاد تھی ایسی جو بھلائی نہ گئی
عشق پر کچھ نہ چلا دیدۂ تر کا قابو
اس نے جو آگ لگا دی وہ بجھائی نہ گئی
پڑ گیا حسن رخ یار کا پرتو جس پر
خاک میں مل کے بھی اس دل کی صفائی نہ گئی
کیا اٹھائے گی صبا خاک مری اس در سے
یہ قیامت تو خود ان سے بھی اٹھائی نہ گئی
یاد رکھیں
اگر آپ کبھی ناکام نہیں ہوئے تو
اس کا مطلب ہے آپ نے کبھی کوشش ہی نہیں کی
بات سن کر ہماری وہ بولے
ہم سے تکرار کرنا منع ہے
ایک بادشاہ کو خبر ملی کہ اس کے شہر میں بہت ہی نیک بزرگ آئے ہیں . بادشاہ نے ان سے ملنے کی کوشش کی ، لیکن ان سے ملاقات نہ ہو سکی . شہر کے کئی دروازے تھے . بادشاہ کبھی کسی دروازے کے پاس تو کبھی کسی دروازے کے پاس اُن بزرگ کا انتظار کرتا ، لیکن دوسرے دن پتا چلا کہ وہ تو کسی اور دروازے سے شہر میں داخل ہوگئے ..
آخر کار بادشاہ نے سارے دروازے بند کروادئیے اور ایک دروازہ کھلا رکھ کر وہاں ان کا انتظار کرنے لگا . جب ایک ہی دروازہ کھلا رہ گیا تو بزرگ کا وہیں سے گزر ہوا . جب بادشاہ کی ان سے ملاقات ہوئی تو بادشاہ نے کہا : اب جا کر آپ سے ملاقات ہوئی جب میں نے شہر کے سارے دروازے بند کر وادئیے .. بزرگ
نے جواب میں بادشاہ کو ایک خوبصورت نصیحت کی کہ : انسان کو رب کی راہ بھی اس وقت نصیب ہوتی ہے جب وہ سارے دروازے بند کرکے صرف ایک دل کا دروازہ کھلا رکھتا ہے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain