ارب پتی صنعت کار، ایک مچھیرے کو دیکھ کر بہت حیران ہوا جو مچھلیاں پکڑنے کی بجائے اپنی کشتی کنارے سگریٹ سُلگائے بیٹھا تھا۔ صنعت کار۔ تم مچھلیاں کیوں نہیں پکڑ رہے؟ مچھیرا۔ کیونکہ آج کے دن میں کافی مچھلیاں پکڑ چکا ہوں۔ صنعت کار۔ تو تم مزید کیوں نہیں پکڑ رہے؟ مچھیرا۔ میں مزید مچھلیاں پکڑ کر کیا کروں گا؟
صنعت کار۔ تم زیادہ پیسے کما سکتے ہو، پھر تمہارے پاس موٹر والی کشتی ہوگی جس سے تم گہرے پانیوں میں جاکر مچھلیاں پکڑ سکو گے. تمہارے پاس نائیلون کے جال خریدنے کے لئے کافی پیسے ہوں گے۔ اس سے تم زیادہ مچھلیاں پکڑو گے اور زیادہ پیسے کماؤ گے۔ جلد ہی تم ان پیسوں کی بدولت دو کشتیوں کے مالک بن جاؤ گے۔ ہوسکتا ہے تمہارا ذاتی جہازوں کا بیڑا ہو۔ پھر تم بھی میری طرح امیر ہو جاؤ گے۔ مچھیرا۔ اس کے بعد میں کیا کروں گا؟ صنعت کار۔ پھر تم آرام سے بیٹھ کر زندگی کا لُطف اُٹھانا۔ مچھیرا۔ تمہیں کیا لگتا ہے، میں اس وقت کیا کر رہا ہوں؟
کبھی وقت آزاد بھی تھا۔ پھر ہم نے اپنی سہولت کے لیے اسے گھڑیوں میں قید کر دیا۔۔۔ اور پھر خود بھی گھڑیوں کے قیدی بن کے رہ گئے۔ اب حال یہ ہے کہ دائرہ بناتی سوئیوں کو دیکھ دیکھ کر زندگی اپنی ضروریات کا طواف کرتی گزرتی جاتی ہے۔۔۔ مگر انہیں پکڑ نہیں پاتی۔ لہٰذا جو اب جتنا سوئیوں کے ساتھ مطابقت پذیر ہے اتنا ہی کامیاب ہے اور جو پیچھے ہے۔۔۔ وہ بیٹھا وقت کو کوسنے میں لگا ہے۔
چھوٹی سی بے رخی پہ شکایت کی بات ہے اور وہ بھی اس لیے کہ محبت کی بات ہے میں نے کہا کہ آئے ہو کتنے دنوں کے بعد؟ کہنے لگے " حضور ! یہ فرصت کی بات ہے " میں نے کہا کہ مل کے بھی ہم کیوں نہ مل سکے کہنے لگے " حضور ! یہ قسمت کی بات ہے " میں نے کہا کہ رہتے ہو ہر بات پر خفا کہنے لگے " حضور ! یہ قربت کی بات ہے " میں نے کہا کہ دیتے ہیں دل، تم بھی لاؤ دل کہنے لگے کہ " یہ تو تجارت کی بات ہے میں نے کہا کبھی ہے ستم اور کبھی کرم کہنے لگے کہ " یہ تو طبیعت کی بات ہے " (قمر جلال آبادی)
دوڑنے کے ایک مقابلے میں افریقی ملک کینیا کی نمائندگی کرنے والے ایتھلیٹ ہابیل مطائی، اختتامی لائن سے صرف چند فٹ کے فاصلے پر تھا، لیکن وہ الجھن کا شکار ہو گیا اور سمجھا کہ اس نے ریس مکمل کر لی ہے۔ اس کے پیچھے آنے والے ہسپانوی کھلاڑی کو اندازہ ہو گیا کہ کیا ہوا ہے، اس نے چلا کر مطائی کو دوڑ مکمل کرنے کا کہا لیکن مطائی ہسپانوی زبان نہ سمجھا تو ہسپانوی کھلاڑی ایون نے اسے فتح یابی کی لکیر کی طرف دھکیل دیا اور یوں مطائی دوڑ کا مقابلہ جیت گیا۔ اس بابت ایک صحافی نے ایون سے پوچھا ، "آپ نے ایسا کیوں کیا؟ ایون نے جواب دیا ، "میرا خواب یہ ہے کہ کسی دن ہم سب انسان مشترکہ معاشرتی زندگی گزار سکیں"۔ صحافی نے اصرار کیا "لیکن آپ نے کینیا کے کھلاڑی کو کیوں جیتنے دیا؟" ایون نے جواب دیا ، "میں نے اسے جیتنے نہیں دیا وہ خود جیتنے والا تھا"۔
صحافی نے پھر زور دے کر کہا ، "لیکن آپ جیت سکتے تھے!" ایون نے صحافی کی طرف دیکھا اور جواب دیا ، "لیکن میری ایسی جیت کا اخلاقی طور پر کیا جواز و مقام ہوتا؟ اگر میں اس طرح تمغہ حاصل کر لیتا تو کیا وہ اعزاز ہوتا؟ اور میری ماں میری اس حرکت کی بابت کیا سوچتی؟ میں اپنی ماں کو شرمسار نہیں کر سکتا۔" اخلاقی اقدار نسل در نسل منتقل ہوتی ہیں۔ کیا ہم اپنے بچوں کی کردار سازی کر رہے ہیں؟ ہم اپنے بچوں کو کون سی اقدار کی تعلیم دے رہے ہیں؟ اپنے بچوں کی اپنے کردار و عمل سے تربیت کیجئے۔ انہیں وقت دیجئے ورنہ جو انہیں وقت دے گا وہ انہیں اپنے مطابق ڈھال لے گا۔
شیخ صاحب اپنے شہ زور ٹرک پر بیٹھ کر شہر کے چوک میں پہنچے اور لگے وہاں بیٹھے مزدوروں کو آوازیں دینے: کون کون جانا چاہتا ہے میرے ساتھ مزدوری پر، دو دو سو روپے دیہاڑی دونگا۔ پہلے پہل تو لوگ شیخ صاحب پر خوب ہنسے، پھر اسے سمجھانے کیلیئے اٹھ کھڑے ہوئے کہ جناب والا: آجکل مزدور کی دیہاڑی پانچ سو روپے سے کم نہیں ہے۔ کیوں آپ ظلم کرنے پر تُلے ہوئے ہیں، کوئی نہیں جائے گا آپ کے ساتھ۔ نہ بنوائیے اپنا مذاق۔ شیخ صاحب اپنے موقف پر ڈٹے اور سُنی ان سُنی کر کے مزدوروں کو اپنے ساتھ چلنے کی دعوت دیتے رہتے ۔ شور کم ہوا اور بہت سارے مزدور تھک کر واپس جا بیٹھے تو تین ناتواں قسم کے بوڑھے مزدور، جن کے چہروں سے ہی تنگدستی اور مجبوری عیاں تھی، شیخ صاحب کی گاڑی میں ا کر بیٹھ گئے اور بولے: شیخ صاحب، چلیئے ہم کرتے ہیں مزدوری۔ اس بے روزگاری سے بہتر ہے کہ آپ کے پاس مزدوری
چلو کچھ کما لیں اور گھر کیلیئے دال روٹی بنا جائیں۔ شیخ صاحب نے ان تینوں کو ساتھ لیجا کر ایک یوٹیلیٹی سٹور پر روکا، تینوں کو ایک ایک تھیلا بیس کلو کے آٹے کا، پانچ پانچ کلو چینی اور پانچ پانچ کلو گھی لیکر دیا، تینوں کی ہتھیلی پر پانچ پانچ روپیہ بھی رکھا اور اجازت دیتے ہوئے کہا؛ بس آپ کا اتنا ہی کام تھا، آپ لوگ اپنے اپنے گھروں کو جا سکتے ہیں۔ دوسرے دن شیخ صاحب دوبارہ اپنا شہ زور ٹرک لیکر اسی جگہ پہنچے اور آواز دی: کون کون جانا چاہتا ہے میرے ساتھ مزدوری پر۔ دو دو سو روپے دیہاڑی دونگا سب کو۔ مزدور تو گویا تیار ہی بیٹھے تھے، سب سے پہلے چڑھنے کیلیئے ایک دوسرے سے لڑتے جھگڑتے سب ٹرک پر سوار ہو گئے۔ سنا ہے شیخ صاحب نے سب کو مغرب تک کام کرا کے پورے دو دو سو رہپے مزدوری دیکر چھٹی دی تھی
“ہمیں ٹوٹ پھوٹ کر بالآخر خاموش ہو جانے تک بڑی اذیتیں جھیلنا اور بےشمار تلخیاں نگلنا پڑتی ہیں۔ اس کے برعکس کسی پٹاخے کی زندگی زیادہ خوبصورت ہوتی ہے، وہ ایک ٹھاہ کر کے ختم ہو جاتا ہے، عین اسی وقت جب اپنے وجود کی خوبصورت ترین حالت میں ہوتا ہے۔”
بابا جی یہ شیطان پیچھا نہیں چھوڑتا ۔ہر وقت ساتھ لگا رہتا ہے ۔کیا کروں ؟ بابا جی نے میری بات سنی اور قریب بیٹھے لوگوں کو آواز دینے لگا ۔میں نے پوچھا کیوں بلا رہا ہے سب کو؟ ہاتھ کے اشارے سے مجھے چپ رہنے کا کہا۔کچھ ہی دیر میں سب آدمی جمع ہوگے ۔بابا جی نے سب سے معذرت کی اور واپس بھیج دیا ۔ پھر کہنے لگے بیٹے آپ نے دیکھا میں نے جس کو یاد کیا آواز دی ۔وہ آ گیا نہ ~~ ہم لوگ بھی عجیب ہیں ۔۔ ہر وقت شیطان کو برا بھلا کہتے ہیں ۔اس کا ذکر کرتے ہیں ۔۔ حالانکہ ہم کو چاہے اللّه سوہنے کا ذکر کریں اس کا شکر کریں بیٹا یہ بڑے راز کی بات ہے ۔۔ آپ جس کا ذکر کرو گے وہ ہی متوجہ ہو گا اور اگر اللّه سوہنے کا ذکر کرو گے تو رب سوہنا متوجہ ہوگا۔
مولانا حسرت موہانی سراپا شگفتگی تھے۔ ان کے چہرے سے اس کا قطعاً اندازہ نہیں ہوتا تھا مگر جب بولتے تو طنز ومزاح کے معیار قائم کردیتے تھے۔ ایک مرتبہ کافی ہاؤس میں انہوں نے کافی کا آرڈر دیا اور دیر تک کافی نہ آئی تو انہوں نے کافی ہاؤس کے منیجر سے شکایت کی۔ منیجر بولا کہ آپ نے کس ویٹر کو کافی کا آرڈر دیاتھا، کیا سفید داڑھی والے کو؟ مولانا بولے جب ہم نے آرڈر دیا تھا تو ا س کی داڑھی سیاہ تھی اب سفید ہو چکی ہو تو کچھ نہیں کہا جا سکتا 😒😂😀😺😹 *(احمد ندیم قاسمی کی کتاب "میرے ہمسفر" سے اقتباس)*
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain