حکیم صاحب ایک مریض کو اس کے گھر میں چیک کرنے گئے اور ساتھ میں حکیم صاحب کا ایک شاگرد بھی تھا جو کہ پانچ سال لگا کر تقریبا حکمت سیکھ چکا تھا نبض چیک کرنے کے بعد حکیم صاحب نے مریض سے کہا تم نے کیلے کھائے تھے مریض نے کہا جی بلکل شاگرد جو کہ حکمت سیکھ چکا تھا بڑا حیران ہوا اور حکیم صاحب سے کہا کہ یہ بات کیسے معلوم ہوتی ہے کہ مریض نے کیلے کھائے ہیں حکیم نے شاگرد سے کہا کہ اس کے لئے تمہیں مزید ایک سال شاگردی اختیار کرنی پڑے گی شاگرد تو بس اپنی حکمت کی دوکان کھولنے کے چکر میں تھا اب ایک سال پورا اپنے استاد کی خدمت کی دوائیاں کوٹیں اور جب سال پورا ہوا تو کہا کہ اب تو بتادیں گر کی بات کہ کیلے کھائے ہوں تو کیسے علم ہو گا حکیم صاحب نے کہا او کملیا مریض دی منجی تھلے کیلے دے چھلکے پئے سن
کسی زمانے میں ایک بادشاہ تھا جس نے دس جنگلی کتے پالے ہوئے تھے, اس کے وزیروں میں سے جب بھی کوئی وزیر غلطی کرتا بادشاہ اسے ان کتوں کے آگے پھنکوا دیتا کتے اس کی بوٹیاں نوچ نوچ کر مار دیتے- ایک بار بادشاہ کے ایک خاص وزیر نے بادشاہ کو غلط مشورہ دے دیا جو بادشاہ کو بلکل پسند نہیں آیا اس نے فیصلہ سنایا کہ وزیر کو کتوں کے آگے پھینک دیا جائے- وزیر نے بادشاہ سے التجا کی کہ حضور میں نے دس سال آپ کی خدمت میں دن رات ایک کئے ہیں اور آپ ایک غلطی پر مجھے اتنی بڑی سزا دے رہے ہیں, آپ کا حکم سر آنکھوں پر لیکن میری بےلوث خدمت کے عوض مجھے آپ صرف دس دنوں کی مہلت دیں پھر بلاشبہ مجھے کتوں میں پھنکوا دیں-
بادشاہ یہ سن کر دس دن کی مہلت دینے پر راضی ہو گیا وزیر وہاں سے سیدھا رکھوالے کے پاس گیا جو ان کتوں کی حفاظت پر مامور تھا اور جا کر کہا مجھے دس دن ان کتوں کے ساتھ گزارنے ہیں اور ان کی مکمل رکھوالی میں کرونگا, رکھوالا وزیر کے اس فیصلے کو سن کر چونکا لیکن پھر اجازت دے دی- ان دس دنوں میں وزیر نے کتوں کے کھانے پینے, اوڑھنے بچھونے, نہلانے تک کے سارے کام اپنے ذمے لیکر نہایت ہی تندہی کے ساتھ سر انجام دیئے-
دس دن مکمل ہوئے بادشاہ نے اپنے پیادوں سے وزیر کو کتوں میں پھنکوایا لیکن وہاں کھڑا ہر شخص اس منظر کو دیکھ کر حیران ہوا کہ آج تک نجانے کتنے ہی وزیر ان کتوں کے نوچنے سے اپنی جان گنوا بیٹھے آج یہی کتے اس وزیر کے پیروں کو چاٹ رہے ہیں- بادشاہ یہ سب دیکھ کر حیران ہوا اور پوچھا کیا ہوا آج ان کتوں کو ؟ وزیر نے جواب دیا, بادشاہ سلامت میں آپ کو یہی دکھانا چاہتا تھا میں نے صرف دس دن ان کتوں کی خدمت کی اور یہ میرے ان دس دنوں میں کئے گئے احسانات بھول نہیں پا رہے, اور یہاں اپنی زندگی کے دس سال آپ کی خدمت کرنے میں دن رات ایک کر دیئے لیکن آپ نے میری ایک غلطی پر میری ساری زندگی کی خدمت گزاری کو پس پشت ڈال دیا… بادشاہ کو شدت سے اپنی غلطی کا احساس ہوا, اس نے وزیر کو اٹھوا کر مگرمچھوں کے تالاب میں پھنکوا دیا
اب ہے خوشی خوشی میں نہ غم ہے ملال میں دنیا سے کھو گیا ہوں تمہارے خیال میں مجھ کو نہ اپنا ہوش نہ دنیا کا ہوش ہے مست ہو کے بیٹھا ہوں میں تمہارے خیال میں تاروں سے پوچھ لو میری رودادِ زندگی راتوں کو جاگتا ہوں تمہارے خیال میں دنیا کو علم کیا ہے زمانے کو کیا خبر دنیا بھلا چکا ہوں تمہارے خیال میں دنیا کھڑی ہے منتظرِ نغمہِ علم بہزار چپ کھڑا ہے کسی کے خیال میں بہزاد لکھنوی
بے جان چیزوں سے جیسا کہ۔ رنگ ‛ کتابیں ‛ انٹر نیٹ سے گہری دوستی کی ایک وجہ یہ بھی ھے۔کہ یہ آپ کے جاندار دوستوں کی طرح آپ سے اکتاتے نہیں۔اور آپ کے وجود سے ہونے والی اکتاہٹ کو مصروفیت اور طبعیت نہیں ٹھیک جیسے بہانوں سے نہیں چھپاتے۔ بلکہ آپ دنوں اور ہفتوں کی بے اعتنائی کے بعد بھی ان کی طرف متوجہ ہوں۔ تو آپ کو پروین شاکر کے اس شعر کے مصداق ہی ملتے ہیں۔ وہ کہیں بھی گیا لوٹا تو میرے پاس آیا بس یہی بات ھے اچھی میرے ہر جائی کی
جس طرح محفوظ سفر کے لیئے گاڑی کی ونڈ سکرین کا صاف ہونا بہت ضروری ہوتا ھے اسی طرح منصفانہ رائے قائم کرنے کے لیئے بھی ہمارے ذہن کی سکرین کا صاف ہونا بہت ضروری ھے۔ بعض اوقات کسی ایک چہرے کے عکس پہ ہم اپنے اندازوں کی اتنی دھول جما دیتے ہیں کہ پھر کسی بھی معاملے میں وہ چہرہ اگر صاف بھی ہو تو ہمیں گرد آلود ہی دکھتا ھے
ایک دفعہ ابو جان کے ساتھ انڈس ہسپتال جانا ہوا جہاں پر ابو کا معائنہ ایک نوجوان لیڈی ڈاکٹر نے کیا، جو خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ بہت زیادہ بااخلاق بھی تھیں، تمام مریضوں سے بہت اچھے طریقے سے پیش آ رہی تھیں اور مکمل تفصیل سے ابو کا معائنہ کر رہی تھیں۔ ابو کو بلڈ پریشر اور شوگر دونوں کا مسئلہ ہے اور اس دن چونکہ ہم سفر میں تھے تو اتفاقاً ابو نے دونوں کی دوائی بھی نہیں کھائی ہوئی تھی تو اس وجہ سے بلڈ پریشر بھی ہائی تھا اور شوگر بھی تو وہ لیڈی ڈاکٹر صاحبہ ابو جان پر اتنی حجت سے غصہ کرنے لگیں جیسے اپنی بہو یا بیٹی کرتی ہے کہ آپ دوائیاں وقت پر نہیں کھاتے اپنی صحت کا دھیان نہیں رکھتے وغیرہ وغیرہ
اور میں یہ سب کچھ ساتھ کھڑا دیکھ رہا تھا۔ اسی دوران کسی نرس نے اس لیڈی ڈاکٹر کو پکارا " ڈاکٹر سدرہ ذرا اس مریض کے رپورٹ تو چیک کریں"۔ سدرہ نام سنتے ہی میرے دل میں پیدا ہونے والے نیکی کے جذبے نے بروس لی والی قلابازی کھائی اور میں نے ابو کے کان میں جا کر کہا " ابو اگر ڈاکٹر سدرہ ہمارے اپنے گھر میں ہوتیں تو آپکا کتنا دھیان رکھتیں، آپکا بلڈ پریشر اور شوگر وقت پر چیک کرتیں آپکو دوائیاں وقت پر کھلاتی"۔ ابو نے یہ سب سن کر کہا " بیٹا تمہاری بات تو ٹھیک ہے لیکن اب میری شادی کی عمر نہیں ہے اور تمہاری اماں بھی تو نہیں مانیں گی"۔
آج اہل ذوق کو اک غزل سناتا ہوں، وہ غزل جو میں لکھ نہیں پاتا ہوں۔ یہ غزل محبت ہے جس شخصیت کے نام، اس لائق الفاظ میں چن نہیں پاتا ہوں۔ م س محبت، ا سے آنچل، ں جیسے گود ہو انکی، غزل لکھتے لکھتے میں خود بچا بن جاتا ہوں۔ نہیں پسند اس میں نکتا بھی کسی کو، لو دیکھو میں ماں لکھ کر دکھاتا ہوں۔ جب دیکھنی ہو مجھکو حسین شۂ کوئ، میں انکی تبسم کو تصور میں لاتا ہوں۔ دعائیں کرو یا پھر کوئ عبادت کرو تم، بخشنے کی ان کو تمھیں توجہ دلاتا ہوں۔ جب بھی قلم میں اٹھاتا ہوں شہزادؔ، بڑی مشکل سے میں صرف ماں لکھ پاتا ہوں
کوئی فاصلے سے ہیلو بولے آپ مصافحہ کے لیئے ہاتھ بڑھا دو۔ کوئی مصافحہ کرے آپ گلے سے لپٹ جاؤ۔ کوئی دو لفظی کمنٹ کرے آپ رپلائے میں پورا مضمون لکھ ڈالو ۔نہیں معلوم لوگ ایسا کیوں کرتے ہیں۔ اپنی کسی غرض کی خاطر سادگی میں یا خلوص میں یا کسی سے مرعوب ہو کر ۔۔۔۔۔۔۔ !!!!! لیکن یاد رکھئیے ______ تعلق کوئی بھی ہو کسی بھی نوعیت کا ہو ۔اگر اپنی عزت نفس اور ذات کی نفی کی بنیاد پہ استوار کیا گیا ھے دنیا کا سب سے نا پائیدار تعلق ھے یا پھر ایک مسلسل اور مستقل اذیت
دیار نور میں تیرہ شبوں کا ساتھی ہو کوئی تو ہو جو مری وحشتوں کا ساتھی ہو میں اس سے جھوٹ بھی بولوں تو مجھ سے سچ بولے مرے مزاج کے سب موسموں کا ساتھی ہو میں اس کے ہاتھ نہ آؤں وہ میرا ہو کے رہے میں گر پڑوں تو مری پستیوں کا ساتھی ہو وہ میرے نام کی نسبت سے معتبر ٹھہرے گلی گلی مری رسوائیوں کا ساتھی ہو کرے کلام جو مجھ سے تو میرے لہجے میں میں چپ رہوں تو میرے تیوروں کا ساتھی ہو وہ خواب دیکھے تو دیکھے مرے حوالے سے مرے خیال کے سب منظروں کا ساتھی ہو
وہ وقت دور نہیں ۔جب بجلی اتنی مہنگی ہو جائے گی کہ روشنی ‛ اجالا ‛ضیا ‛ نور ‛ نیر ‛ منور ‛ تاباں ‛ اور درخشاں نامی لوگوں کو بجلی کا بل دوسرے صارفین سے زیادہ آیا کرے گا
ہم اپنے وجودی نظام میں بھی مساوات قائم نہیں کر سکتے۔ سیلف کیئر کے معاملے میں چہرہ ہمارا لاڈلا اور پاؤں سوتیلے ہیں __________________________ !!!!!! ایڑیوں کی دراڑیں گن لی ہوں تو جرابیں پہن لیجئے
دل بیتاب کو پھر آس دلا دیتے ھیں یاد آتی ھے تو ھم اشک بہا دیتے ھیں میں تو ھر اک سے چھپاتا ھوں آپکاعشق مگر یہ میرے اشک آپﷺکے در کا پتہ دیتے ھیں ھم خطا کار سہی رحمت عالم ھیں وہ وہ تو عاصی کو بھی دامن کی ھوا دیتے ھیں آپکے صدقے انہیں ولیوں سے بھی مل جاتا ھے جو آپکا واسطہ دے کر کے صدا دیتے ھیں سیّدُنا کریمُُﷺ💖
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain