اصلاح یہ ہے کہ یہ سب فانی ہے۔فانی چیزوں کے لیے نہ روئیں، نہ چلائیں، نہ تکلیف میں رہیں...خدا نے اشرف بناکر جو شرف دیا ہے اسے واویلوں کی نظر نہ کریں...."
ایک درویش کے مزار پر کسی نے جہالت دیکھی، کسی نے خدا دیکھا، کسی نے فنا دیکھی، کسی نے بقا دیکھی، کسی نے شرک دیکھا، کسی نے وحدت کو دیکھا، کسی نے رقص کو دیکھا ، کسی نے پرواز کو دیکھا، کسی نے گناہ دیکھا، کسی نے ثواب دیکھا ، کسی نے بدعت دیکھی، کسی نے راز و نیاز دیکھا، کسی نے غیر الله دیکھا، کسی نے عین الله دیکھا، الغرض جس کا جو حال تھا اس نے وہی حال دیکھا
نہ وہ اقرار کرتا ہے نہ وہ انکار کرتا ہے ہمیں پھر بھی گماں ہے وہ ہمیں سے پیار کرتا ہے میں اس کے کس ستم کی سرخیاں اخبار میں دیکھوں وہ ظالم ہے مگر ہر ظلم سے انکار کرتا ہے منڈیروں سے کوئی مانوس سی آواز آتی ہے کوئی تو یاد ہم کو بھی پس دیوار کرتا ہے یہ اس کے پیار کی باتیں فقط قصے پرانے ہیں بھلا کچے گھڑے پر کون دریا پار کرتا ہے ہمیں یہ دکھ کہ وہ اکثر کئی موسم نہیں ملتا مگر ملنے کا وعدہ ہم سے وہ ہر بار کرتا ہے حسنؔ راتوں کو جب سب لوگ میٹھی نیند سوتے ہیں تو اک خواب آشنا چہرہ ہمیں بیدار کرتا ہے حسن رضوی
میرا بہت جی چاہتا ہے کہ سب "فائدہ مند" کام چھوڑ دوں، صرف بیکار کام کیا کروں جیسے کتابیں پڑھنا، پڑھی ہوئی باتوں پر گھنٹوں غور کرنا اور کسی سمجھ میں نہ آنے والے نکتے کو سمجھنے کے لئے مزید پڑھنا اور گوگل پر سرچ کرنا، لمبی لمبی تحریریں لکھنا، ریلوے لائن پر ٹہلنا، بے مقصد سفروں پر نکلنا، آنکھیں بند کر کے بیٹھے یا لیٹے ہوئے تخیلاتی دنیاؤں کی سیر کرنا اور چائے خانوں میں بیٹھ کر دوستوں سے گپ شپ، ہزاروں خواہشیں ایسی کہ
بچپن میں پڑھی کہانیوں سے متاثر ہو کر نجانے کتنے ہی فیروز اور شمروز ہوں گے۔ جنھوں نے اپنی کلہاڑیاں پانی میں ڈال دی ہوں گی ۔ اور جواب میں کوئی سونے چاندی کی تو کیا اپنی کلہاڑی وآلا ہاتھ بھی نہ نکلا ہوگا۔ اور بچپن سے ہی ہم اپنے گھروں میں ایسی مچھلی کے منتظر رہتے ہیں۔جس کا پیٹ چاک کرنے پہ کوئی قیمتی ہیرا پتھر برآمد ہو جائے۔ کاش ہمارے ادباء نے بچوں کو پڑھایا ہوتا۔ کہ دیانتداری اضافی خوبی نہیں ہوتی۔ جس کا انعام ملے۔ دیانتداری فرض ھے جس کا انعام اجتماعی فائدہ ھے
چل جھوٹی میں اُس وقت صرف دو سال کی تھی جب سن دو ہزار پانچ میں زلزلہ آیا میں اُسوقت انگوٹھا چوستی ہوئی جھولے میں پڑی تھی جب زلزلہ آیا میں اُسوقت ٹو کلاس میں تھی جب زلزلہ۔۔ میں اُسوقت شاید تین سال کی تھی جب۔۔ آپ یہ نہ سمجھیں کہ کل ہم خواتین خود کو چھوٹا بتانے کی جدوجہد میں رہیں کیونکہ ایسا کسی نے بھی نہیں کہا کہ “میں تو ابھی پیدا بھی نہیں ہوئی تھی کہ زلزلہ آیا اور مجھے بہت پہلے پیدا ہونا پڑا “ ویسے میری درخواست ہے کہ وہ سب خواتین جو زلزلے کا سُنتے ہی اپنا فیڈر لئے جھولے میں جا پڑیں تھیں اب نکل آئیں اُنہیں کچھ نہیں کہا جائے گا