میری محبوبہ نے پوچھا
میرے اور آسمان کے درمیان کیا فرق ہے ؟
ائے میری محبت
تمہارے اور آسمان کے درمیان فرق یہ ہے کہ جب تم ہنستی ہو تو میں آسمان کو بھول جاتا ہوں۔۔۔۔
لفظوں کی طرح مجھ سے
کتابوں میں ملا کر
دنیا کا تجھے ڈر ہے
تو خوابوں میں ملا کر
اور پھولوں سے تو خوشبو
کا تعلق ہے ضروری
تو مجھ سے مہک بن کے
گلابوں میں ملا کر
نہیں نگاہ میں منزل تو جستجو ہی سہی
نہیں وصال میسر تو آرزو ہی سہی
سنا ہے دن کو اسے تتلیاں ستاتی ہیں۔۔۔!
"خدا میری روح کو اس جگہ لے جائے,جہاں میں بغیر الفاظ کے بول سکوں"
او کج نین سوالی کج نین سوداگر تے کج نیناں پائیاں ہٹیاں
نین نیناں دے سودے کردے اتے نین بھریندے چٹیاں
نین نیناں نوں زخمی کردے اتے نین کریندے پٹیاں
سائیں غلام فریدا لڑ نین جے ونجنڑ اساں ہور کی کرنیاں کھٹیاں
جب نام ترا لیجیے تب چشم بھر آوے
اس زندگی کرنے کو کہاں سے جگر آوے
سورج نے کسی سے چمکنے کا وعدہ نہیں کیا لیکن وہ پھر بھی سیاہ بادلوں کے ہوتے ہوۓ ساری دنیا کو اپنی كرنوں سے روشن کر رہا ہے سورج کا مقصدِ تخلیق ہی روشنی دینا ہے یہی اس کی قسمت ہے میرا تم سے محبت کرنے کا کوئی وعدہ نہیں لیکن میں تم سے محبت کرتا ہوں اور میں تمہارے لئے جلتا رہوں گا جب تک کہ میں مزید جلنے کے قابل نہ رہ سکوں یہی میری قسمت ہے اور یہی میرا مقصدِ تخلیق
تو نے دل میں جو درد بویا تھا
اس کی ٹہنی پہ پھول آئے ہیں
اور ہے جانے تعلق کتنے
آپ سے صرف محبت نہیں
تیرے قول و قرار سے پہلے اپنے کچھ اور بھی سہارے تھے
سمجھوتہ ایک ایسی وقتی شکست ھے جو آپ کو ایک دن دائمی فتح تک لے جاتا ھے
کہاں سے آکر دل میں میرے بسنے لگے ہو تم،
سادہ سی میری سوچ کو الجھا دیا ہےتم نے
وہ جب یہاں تھا تو ہم دیکھتے نہ تھے اس کو
وہ جا رہا ہے تو ہم کھڑکیاں بدلتے ہیں
"بس اِک خیالاتی دنیا ہی تو ہے، یہاں سب کچھ ویسا ہے جیسا میں چاہتا ہوں."
آ وے ماہی تینوں اللہ گِھن آوے
ہوئیاں مُدتاں گِن گِن گھڑیاں
ہجر تیڈے وچ برسن اکھیاں
جیویں ساون میہنہ دیاں جھڑیاں
ایناں اکھیاں نے رووناں اودوں سکھیا
جدوں واقف تیریاں بنڑیاں
غلام فریدا روونا اودوں مُکسی
جدوں وجیاں کفن دیاں تنڑیاں
دنیا کی ریل میں
خواہ کتنی بھیڑ ہو
زندگی کے مسافر کو
موت کے اسٹیشن پہ
تنہا اترنا پڑتا ھے
یہ ناموں کا موجد کون ہوتا ھے بھلا
لغت میں کہیں بھی ان الفاظ کا ذکر نہیں ملتا۔ لیکن پھر اچانک سے سننے میں آتا ھے۔ سفریشمیا ‛ خصخرا ‛ گلدمشیمیہ ۔ معنی معلوم کرنے پہ پتہ چلتا ھے۔ جنت میں آپ کے ہمسائے کے پائیں باغ میں صبح کاذب کے وقت کھلنے والی کلی ‛ رات کے سوا تین بجے چلنے وآلا ہوا کا جھونکا ‛صحرائی سفر میں اچانک سے مل جانے وآلا کوئی نخلستان ۔ آخر یہ سب الفاظ ہماری سماعتوں میں اترنے سے پہلے کہاں ہوتے ہیں۔مترجمین ان کا ذکر لغت میں کرنا کیوں بھول جاتے ہیں۔ ماہر لسانیات ان سے لا علم کیوں ہوتے ہیں۔ یہ سب نام ‛ نام بننے سے پہلے اتنے بے نام کیوں ہوتے ہیں
اپنی کتابیں دوسروں کو عاریت پر مت دو؛ کیوں کہ پھر وہ تمھیں نہیں لوٹائیں گے۔ میرے کتب خانے میں بہت کتابیں ہیں، اور یہ وہ ہیں جو میں نے دوسروں سے مستعار لی تھی۔۔
سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے
سنا ہے شیر کا جب پیٹ بھر جائے تو وہ حملہ نہیں کرتا
درختوں کی گھنی چھاؤں میں جا کر لیٹ جاتا ہے
ہوا کے تیز جھونکے جب درختوں کو ہلاتے ہیں
تو مینا اپنے بچے چھوڑ کر
کوے کے انڈوں کو پروں سے تھام لیتی ہے
سنا ہے گھونسلے سے کوئی بچہ گر پڑے تو سارا جنگل جاگ جاتا ہے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain