سنا ہے جب کسی ندی کے پانی میں بئے کے گھونسلے کا گندمی رنگ لرزتا ہے تو ندی کی روپہلی مچھلیاں اس کو پڑوسن مان لیتی ہیں کبھی طوفان آجائے، کوئی پل ٹوٹ جائے تو کسی لکڑی کے تختے پر گلہری، سانپ، بکری اور چیتا ساتھ ہوتے ہیں سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے خدا وندا جلیل و معتبر دانا و بینا منصف و اکبر مرے اس شہر میں اب جنگلوں ہی کا کوئی قانون نافذ کر
رات کے اس پہر جب زندگی تھک کے سو جاتی ھے ۔ تو رات بو لتی ھے زرد بلب کی مدقو ق روشنی میں چپ چاپ پڑی سیڑھیو ں کے کہیں آخری زینے کے کونے کھدرے میں چھپے ٹڈے کی خو دکلامی اور ریل کی پٹڑ یو ں کے اس پار کرلاتے ھوئے کتے سنسان گلی سے اٹھتی چاپ اور سیٹی پہ بجتی دھن پر کو ئی اجنبی سا گیت کمرے کی وال کلاک کی ٹک ٹک اور پہر یدار کی وہ سیٹی جو شہر کے مضا فا ت سے سنا ئی دیتی شہر کی فصیلو ں کے اس پار معدوم ھو جاتی ھے
حد ادب گلزار کو خط لکھو کہ تمہاری نظمیں کسی بھی طور ڈپریشن کو روکنے میں ناکام ثابت ہو رہی ہیں جان کیٹس اور نزار قبانی کو ای میل کرو کہ تمہیں پڑھنے والے رومانیت کی بجائے خودکشی پہ مائل ہو رہے ہیں حافی کو بتاؤ کہ جب اک بستر کسی جسم کی سلوٹوں کی تھکن سے چور ہو گیا تو نیند کی گولیاں ایجاد ہوئیں لوگ اب راتوں کو اٹھ اٹھ کر روتے نہیں بلکہ آسمان کو شکوہ کناں نظروں سے تکتے رہتے ہیں چاند پہ جانے والوں کو تنبیہہ کرو کہ ٹیکنالوجی کی رفتار آہستہ رکھیں تمہارے قدموں کے نیچے انسانیت مسلتی جا رہی ہے