میں چھوٹاسا تھا مسجد میں اعلان ہوا فلاں ابن فلاں فوت ہو گیا میں نے ماں سے پوچھا ماں بندہ مرتا کیسے ہے ؟؟ ماں نے بتایا ہائی ہوتی ہے اور بندہ مر جاتا ہے۔ پھر پوچھا ماں یہ ہائی کیسے ہوتی ہے؟؟ ماں بولیں جب بندہ ٹائم پر دودھ نہیں پیتا، کھانانہیں کھاتا تو ہائی ہوتی ہے۔ میں نے پوچھا مجھے بھی ہائی ہو گی تو مر جاوں گا؟؟ ماں تھی جواب نہیں دے سکی ماتھا چوم کر بولیں تم وقت پر دودھ پیا کرو کھانا کھایا کرو تمھیں ہائی نہیں ہوگی۔ آج سوچتا ہوں ماں سے پوچھوں ماں مجھے ہائی بہت ہوتی ہے میں مرتا کیوں نہیں۔؟؟؟
کوئی نہیں ہے جو اس کو جا کر یقین دلائے کہ اب بھی اس کے گماں میں اکثر ذرا سی آہٹ پہ چونکتے ہیں. جو اس کی قامت کے شک میں ڈالے ہم اس کو مڑ مڑ کے دیکھتے ہیں .. ...
برگد پچھلی گلی کے کونے والے سنسان مکان میں بالاخر لوگ بس گئے ہیں۔تم تو کہتی تھیں کہ برگد کا درخت اس گھر کو بسنے نہیں دیتا ہے؟؟ کہ برگد اپنے پرانے مالک کے انتظار میں ہے۔ وہ اپنے مکان میں کسی اور کو نہیں بسائے گا۔ پر نئے مکینوں نے برگد پر جھولا لگایا ہے۔اس کی چھاوں میں چارپائیاں ڈالی ہیں۔ انھوں نے برگد سے دوستی کر لی ہے یا شاید برگد نے ان سے دوستی کر لی ہے۔ شاید برگد بھی تھک گیا ہو، تنہائی برگد کی شام کا سبب بن رہی ہو، وحشت اسے کھوکلا کر رہی ہو، اکیلا پن جڑوں کو کاٹ ڈالتا ہے، دل بوڑھا کر دیتا ہے۔ سنو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تم مجھے برگد مت ہونے دینا۔۔۔۔۔۔۔۔۔تم میرے دل کے بوڑھا ہونے سے پہلے لوٹ آنا۔۔۔ شب بخیر ۔۔ ۔
کیا آپ نے دیکھا ہے جب تعلقات کے درمیان سے محبت نکل جاتی ہے تو گفتگو کیسے رسمی سی ہو جاتی ہے، پھیکے پھیکے سے بے جان لہجے اس قدر سرد ہو جاتے ہیں کہ دور دور تک ان کی حرارت ہی محسوس نہیں ہوتی، کسی بھی گرمجوشی سے خالی فقط ضرورت کی بات کی جاتی ہے، اک دوجے سے نہ دکھ درد کو بیان کیا جاتا ہے اور نہ ہی خوشی و خوشخبریاں بانٹی جاتی ہیں محبت کیا مر جاتی ہے تعلق کی روح ہی ختم ہوجاتی ہے اور قریب سے قریب تر رشتہ بھی پرائے سے پرایا ہو کر رہ جاتا ہے۔ شب بخیر ۔۔ ۔
میں عرصہ دراز سے بھول جانے کے مرض میں مبتلا ہوتا جا رہا ہوں۔ مگر میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں تمھارے شہر کا نام کبھی نہیں بھولونگا۔ میں یہ اعتراف جرم ضرور کروں گا کہ تمھارے شہر آنے کے تمام ارادے ملتوی کر چکا ہوں۔ میں نے جتنی محبت تم سے کی اگر اس کا آدھا بھی ان سے کی ہوتی جنھوں نے مجھ سے کی ہے تو میں نروان پا چکا ہوتا۔ مگر المیہ یہ تھا کہ مجھے تمھارے لمس کے علاوہ کائنات میں کچھ نہیں چاہیے تھا۔ میں فنا ہونے کا مطلب سمجھ گیا تھا۔ میں غیر سنجیدہ اور غیر یقینی قسم کے جھوٹ بولنے کے مرض میں مبتلا ہوتا
جا رہا ہوں۔میں نے کچھ دیر پہلے ہی کسی سے جھوٹ بولا ہے کہ مجھے کسی اور سے محبت ہو گئی ہے۔ تمھارے شہر کو جانے والے تمام رستوں پر میں نے اپنے قدموں کے نشان چھوڑے ہیں اور تختہ سیاہ پر غلط پتہ لکھا ہے میں چاہتا ہوں تمھارے شہر جانے کا ارادہ کرنے والے تمام لوگ بھٹک جائیں
ہمارے پاس کیا ہے ..؟ کسی کے پاس منظر ہے، سنہرے روپ سا منظر ، کسی کے سامنے حدِ نظر، صحرا ہی صحرا ہے۔۔ کسی کے پاس، تاروں کی قبا پہنے، دمکتا آسمان ہے، دیر تک فرصت سے تکنے کو.... ہمارے پاس کیا ہے؟ ہمارے پاس تو بس دور تک پھیلے ہوئے تم ہو