Damadam.pk
Offline's posts | Damadam

Offline's posts:

Offline
 

کیاخوب کہاکسی نے۔
اگر پھول دینے سے محبت بڑھتی ۔۔۔۔۔تو مالی سارے شہر کا محبوب ھوتا

Offline
 

آپ کو چاہے کتنی ہی زبانیں کیوں نہ آتی ہوں، بچھڑتے وقت آپ کی زبان پر رونے، چیخنے اور سسکیاں لینے کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا۔
شب بخیر ۔۔ ۔

Offline
 

تم اس وقت کیا کرو گے جب تمھیں ادراک ہو گا کہ تم نے اپنے کمرے میں موجود جس مکڑی کو مار دیا تھا وہ آخری لمحات تک تم کو دوست سمجھتی رہی تھی۔

Offline
 

اپنے محلے کے ڈاکٹر سے کہا میرے سینے میں جلن ہو رہی ہے
اس نے پوچھا کیا کھایا تھا.
میں نے کہا کیک ہی کھایا تھا.
ڈاکٹر کہتا،
اگلی بار جب کیک کھائو تو موم بتی اوپر سے اتار لینا

Offline
 

یادیں ہمارے پسندیدہ لمحات کی لاشیں ہوتی ہیں مگر ہم انھیں دفناتے نہیں کیونکہ ہمیں ان کے مرنے کا یقین نہیں ہوتا _________
منقول

Offline
 

کیا ہو اگر ہم دونوں منطق سے تھوڑا آگے بڑھیں۔
تم مجھے لکھو ,, تم کیسے ہو،، اور میں تمھیں بے ساختہ جواب دوں۔۔۔۔۔ ,, میں تمھارے بغیر ٹھیک نہیں ہوں،،
شب بخیر ۔۔ ۔۔۔

Offline
 

میں جیسا ہوں مجھے ویسے قبول کرو
میں نے اپنے ہاتھ خود نہیں بناۓ
اور نہ ہی آنکھیں کسی نیلامی میں خریدی ہیں
کیا اس انسان کو محبت کرنے کا کوئی حق نہیں
جو ریاضی میں بمشکل پاس ہوتا رہا ہو
میں لکھنا ضرور جانتا ہوں
مگر اپنی تقدیر میں نے نہیں لکھی
تم مجھے حاصل کر سکتی تھیں
اس کم سے کم قیمت پر
جو کسی آدمی کی لگائی جا سکتی ہے
شب بخیر ۔ ۔۔ ۔

Offline
 

گر امید سے زیادہ خوبصورت بیوی مل جائے تو
مرد میں برتن دھونے کی خواہش اپنے اپ جاگ اُٹھتی ہے
نوٹ؛ میرا اس پوسٹ سے کوئی لینا دینا نہیں ہے

Offline
 

میں اس عقیدے کی اوسط عمر پار کر چکا ہوں
جو میرے شناختی کارڈ پر لکها ہے
محبت کی نظمیں لکھنے کا وقت
دل کے پلے کارڈ پر تمھاری یادوں کو تھامے
زندہ رہنے کا حق
مانگنے میں خرچ ہو گیا
وقت میرے پاس سے گولی کی طرح گزرتا رہا
زندگی 120 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے کم پر چلانا منع ہے
اسلئے کوئی یہ پوچھنے کو نہیں رکا کہ
میرے حلق کے کاسے میں تمھاری محبت کے سکے ہی کیوں کھنکھناتے ہیں
میں دل کے بینر کے لٹھے پر
لکھنے کو وہ مقدس لفظ کہاں سے لاؤں
جو تمھیں مجھ سے قریب کر سکتے ہیں۔
دل میں جتنی قبریں بنی ہیں
میں اتنی نظمیں نہیں لکھ سکا
سو دکھ نیا ہے نظم پرانی

Offline
 

دو گھڑی بیٹھو مرے پاس،کہو کیسے ہو
۔
۔
دو گھڑی بیٹھنے سے پیار نہیں ہوتا یار

Offline
 

مجھے یقین ھے۔ محبت کی اس ٹیلی پیتھی پہ جو بغیر کسی مواصلاتی ذرائع کے پیغام رسانی کرتی ھے۔ اور خدا جیسے اس احساس پہ جو کبھی کسی کو دکھائی نہیں دیا
شب بخیر ۔۔ ۔

Offline
 

ہر شخص کو آج کے اندر داخل ہونے کی دعوت ہے ۔ ہم سب حال کے اندر بیٹھے مزے لے رہے ہیں ۔ نہ ماضی کی یاد ہے نہ مُستقبل کا خوف ۔ آج کے اندر رہنا اور آج میں داخل ہونا صاحبِ حال ہونا ہے ۔ ماضی مُستقبل کو چھوڑ کا عطاء کردہ حال میں رہنا ۔ کچھ لوگ مُستقبل کے بارے میں فِکر کر کے اپنے حال کو تباہ کر لیتے ہیں ۔ کچھ ماضی کو یاد کر کے حال سے لُطف اندوز نہیں ہوتے ۔ پھر چند سال بعد اُسی گذرے حال کو یاد کرنے لگ جاتے ہیں

Offline
 

اے دل پہلے بھی تنہا تھے
اے دل ہم تنہا آج بھی ہیں
اِن زخموں سے
اِن داغوں سے
اب اپنی باتیں ہوتی ہیں
جو زخم کہ سُرخ گُلاب ہوئے
جو داغ کہ بدر منیر ہوئے
اِس طرح سے کب تک جینا ہے
میں ہار گیا اِس جینے سے
کوئی ابر اُٹھے کِسی قُلزم سے
رَس برسے میرے ویرانے پر

Offline
 

کوئی جاگتا ہو کوئی کُڑھتا ہو
میرے دیر سے واپس آنے پر
کوئی سانس بھرے میرے پہلو میں
اور ہاتھ دھرے میرے شانے پر
اور دبے دبے لہجے میں کہے
تُم نے اب تک بڑے درد سہے
تُم تنہا، تنہا چلتے رہے
تُم تنہا تنہا جلتے رہے
سُنو تنہا چلنا کھیل نہیں
چلو آؤ میرے ہم راہ چلو
چلو نئے سفر پر چلتے ہیں
چلو مُجھ کو بنا کے گواہ چلو...
شب بخیر ۔۔ ۔

Offline
 

اگر تم اپنی پوری زندگی کوشش کے باوجود اُجالا نہ لاسکو...
"تو کوئی بات نہیں لیکن " اندھیروں" سے صلح نہ کرنا

Offline
 

تھکن قرض کی طرح ھے ۔ جو اگر بر وقت اتاری نہ جائے۔تو سود کی طرح بڑھتی ھے _____
شب بخیر ۔۔ ۔

Offline
 

لوگ سمجھتے ہیں کہ اگر وہ کہیں اور رہنے گئے تو وہ خوش ہو جائیں گے، لیکن ایسا نہیں ہوتا، کیونکہ جہاں بھی جاتے ہیں خود کو ساتھ لے جاتے ہیں

Offline
 

ہم فراز شعروں سے دل کے زخم بھرتے ہیں
.
.
کیا کریں مسیحا کو جب دوا نہیں معلوم
شب بخیر ۔۔ ۔

Offline
 

"دل بھی چڑیا کی طرح ہوتے ہیں، وہی اترتے ہیں جہاں خود کو محفوظ محسوس کرتے ہیں

Offline
 

خاموش انسان،
سب کچھ کہہ چکا ہوتا ہے،
مگر
اس کے الفاظ سننے کے لیے
دل کی سماعت چاہیے
اور روح کی بینائی۔