میں ان کے نازوں پہ لٹ گیا ہوں مگر وہ مجھ پہ فدا نہیں ہیں وہ ایسے ٹھکرا رہیں ہیں مجھکو کہ جیسے میرا خدا نہیں ہے نظر سے جب نظر ملائ کہا انھیں کیا دیکھتے ہو میں دیکھتا ہوں تمھاری منزل سے میری منزل جدا نہیں ہے کہا جو میں مریض غم ہوں کہ میری حالت پہ رحم کھانا وہ چل دیئے صرف اتنا کہہ کر تیرے مرض کی دوا نہیں ہے پکارا میں نے تو رکے نہیں وہ تو میں نے ان سے یہ کہہ دیا تھا میرے مقدر کی بات ہے یہ تمھاری کوئ خطا نہیں ہے
مِیری آنکھیں خریدو گے۔؟ بہت مجبور حالت میں مجھے نِیلام کرنی ہیں، کوئی مجھ سے نقد لے لے تو ، میں تھوڑے دام لے ُلوں گا، جو دِے دے پہلی بولی تو اِسی کے نام کر دوں گا، مجھے بازار والے کہہ رہے ہیں کم عقل تاجر، سنو لوگو۔۔ نہیں ہوں میں حرص کی خواہاں نفع نقصان کی شطرنج نہیں میں کھیلنے آیا، بڑی محبوب ہیں مجھ کو یہ میری نیم تر آنکھیں، مگر اب بیچتا ہوں کہ میں نے اِک خواب دیکھا تھا، اُسے اپنا بنانے کا اُسے دل میں بسانے کا مجھے اِس خواب کا تاوان بھرنا ہے اِنہیں نِیلام کرنا ہے اِنہیں نِیلام کرنا ہے
کبھی کبھی مجھے یوں محسوس ھوتا ہے، جیسے ھمارے سینے میں دھڑکتے دل کا رشتۃ باقی جسم سے کسی سوتیلے جیسا ہوتا ہے۔ سارا جسم اور اعضاء جب ایک دوسرے کے ساتھ تال میل جڑے رہتے ہیں۔ تب یہ سوتیلا تنہا اور اداس کسی روٹھے بچے کی طرح دور بیٹھا کسی اور ہی دنیا میں گم ہوتا ہے