جس کے پھندے میں پھنسا ہے دل ہمارا آج کل وہ نظر آتا نہیں صیّاد پیارا آج کل کیا بتاؤں اِس دلِ بیتاب کی بیتابیاں کر لیا ہے اُس سِتمگر نے کنارہ آج کل اس ادا سےاُس نے دکھلائی مجھے اپنی جھلک ہو گیا جان سے بھی وہ پیارا آج کل آئینہ اس بت کی صورت کا بنا کر سامنے کر رہا ہوں قدرتِ حق کا نظارہ آج کل اب سنوارو یا بگاڑو بات اتنی جان لو ہے تمہارے ہاتھ میں بیچارے کا چارہ آج کل الله الله اس دل مجبور کی مجبوریاں کر رہا ہے جو نہ کرنا تھا گوارہ آج کل دشتِ غربت میں اکیلا چھوڑ کر وہ چل دئیے پھر رہا ہوں مارا مارا بے سہارا آج کل یہ نہیں معلوم تو میرا ہوا ہے یا نہیں جان و دل سے ہو چکا ہوں میں تمہارا آج کل اب تو اپنا لیجیۓ حضرت دلِ مشتاق کو کھا رہا ہے ٹھوکریں قسمت کا مارا آج کل
کیوں نہ اشکبار ہوا کروں ، کیوں نہ بے قرار رہا کروں نہ قرار آئے تیرے سوا ، تو تُو ہی بتا کہ میں کیا کروں میرے دل کو درد عطا کیا ، مجھے درد والا بنا دیا تیرا شکریہ میرے دلربا ، بھلا کس طرح سے ادا کروں میں مروں تو تیرے لیے مروں، میں جیئوں تو تیرے لیے جیئوں تیرے واسطے میری موت ہو تیرے واسطے میں جیا کروں میرے پیارے مجھ کو تو ہی بتا کہ ہے بے کلی کا علاج کیا کوئی پھانس ہو تو نکل سکے کوئی درد ہو تو دوا کروں میں نے رنج و غم سے وضو کیا میں نے کلمہ تیرا صنم پڑھا ذرا بیٹھ جا میرے سامنے ، کہ نماز عشق ادا کروں تجھے فکر درماں ہے چارہ گر مجھے درد اپنا عزیز ہے یہ نشانی دی ہوئی یار کی بھلا کس طرح سے جدا کروں مجھے خادم ان کی جو دید ہو تو مراد دل کی نصیب ہو کبھی صدقے جان حزیں کروں کبھی دل کو اپنے فدا کروں
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain