Damadam.pk
Offline's posts | Damadam

Offline's posts:

Offline
 

قل لي دائما أنك تحبني، ربما انا لستُ بخير وحديثك ينقذني وأنت لا تدري..
.
"مجھے ہمیشہ کہو کہ تم مجھ سے محبت کرتے ہو، شاید میں ٹھیک نہیں ہوں اور تمہاری بات مجھے بچا لے اور تمہیں پتہ نہ چلے"

Offline
 

ایک عُمر ہے جو بیتانی ہے اُسکے بغیر
اور ایک لمحہ ہے جو مجھ سے گزارا نہیں جاتا

Offline
 

میں نے دیکھا سائنس نے بہت ترقی کرلی ہے۔
لوگ چاند پر جا کر رہ سکیں گے!
سیاروں سے لے کر اب کہکشاں سے بھی باہر جانے کو تیار ہیں
اب نیٹ ورک بھی اتنا تیز چلے گا ایک سیکنڈ میں وڈیو ڈاؤنلوڈ ہوجایا کرے گی۔۔۔۔
مگر جب میں نے جانا یہ سائنس تمہیں اس دنیا سے جانے سے نہیں روک سکی
نا جانے کے بعد تمہاری آواز سنا سکتی
نہ تمہارا پیغام مجھہ تک پہنچا سکتی
نہ ایک جھلک دکھلا سکتی کہ تم کہاں ہو؟
تو میں نے اس ترقی کو زیرو سے ضرب کر دیا

Offline
 

بس اُن کا قرب پائیں جو آپ کی رُوح میں نُور کی کھڑکیاں کھول دیتے ھیں اور وہ جو آپ کو بتاتے ھیں کہ آپ سارا جہاں روشن کر سکتے ھیں

Offline
 

اگر ہیں پھول تو ہم اس کی کھڑکیوں میں کھلیں
ہیں گر چراغ تو مشكات پر دھرے جائیں

Offline
 

”جب تمہیں میری یاد آئے تو میرے لیے دعاء کرنا جب تم مجھے یاد آؤ گے تو میں تمہارے لیے دعاء کروں گا یوں ملے بغیر ہی ہماری ملاقات ہو جایا کرے گی

Offline
 

ایک بار ابنِ صفی سے پوچھا گیا کہ انہوں نے اتنے جاسوسی
ناول لکھے ہیں۔
کبھی خود بھی جاسوسی کی ہے؟
اس کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ
ایک بار ان کے گھر میں چوری ہو گئی تھی۔
چور گھر کا سارا قیمتی سامان چرا کر لے گئے تھے۔
انہوں نے تھانے میں رپورٹ لکھوا دی، لیکن کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔
چنانچہ انہوں نے خود سراغ لگانے کی کوشش کی۔ پھر انہوں نے گھر کا چپا چپا چھان مارا کہ کوئی ایسی چیز ہاتھ لگے
جس سے سراغ لگایا جاسکے۔
تلاشی کے دوران انہیں گھر کی ڈیوڑھی سے لانڈری کی ایک رسید ملی۔
انہوں

Offline
 

نے سمجھ لیا کہ ایک سرا ہاتھ لگ گیا۔
ابنِ صفی نے اسے خاموشی سے اٹھا لیا اور جا کر پولیس اسٹیشن میں جمع کر دیا۔
اور یہ شک ظاہر کیا کہ چور کی جیب سے یہ رسید گر گئی ہے پولیس نے اپنے کئی آدمیوں کو لانڈری پر کھڑا کر دیا
کہ جب بھی وہ شخص اپنے کپڑے لینے آئے ،تو اسے گرفتار کر لیا جائے۔
ابن ِصفی رسید پر پڑی ہوئی تاریخ کو پولیس اسٹیشن میں جا کر بیٹھ گئے۔
تھوڑی دیر بعد پولیس ان کے بہنوئی کو گرفتار کر کے لے آئی اور انہیں بتایا کہ یہ رسید کے کپڑے لینے آئے تھے۔
تب ابن ِصفی بہت شرمندہ ہوئے
اور انہوں نے بہنوئی سے معافی مانگی
اور یہ تہیہ کر لیا کہ آئندہ جاسوسی نہیں کریں گے اور صرف جاسوسی ناول ہی لکھیں گے۔
~کتاب’’ابنِ صفی‘‘ ~

Offline
 

ہری چند اختر جوش صاحب سے ملنے گئے، جاتے ہی پوچھا، “جناب! آپ کے مزاج کیسے ہیں؟“
جوش صاحب نے فرمایا، “آپ تو غلط اردو بولتے ہیں، یہ آپ نے کیسے کہا کہ آپ کے مزاج کیسے ہیں، جب کہ میرا تو ایک مزاج ہے نا کہ بہت سے مزاج۔“
کچھ دن بعد اختر کی پھر جوش سے ملاقات ہوئی۔ جوش نے فرمایا، “ابھی ابھی جگن ناتھ آزاد صاحب کے والد تشریف لائے تھے۔“
اس پر اختر صاحب نے فرمایا، “کتنے؟“

Offline
 

خدا اس شخص پہ مہربان رہے جس نے کہا
"حتیٰ کہ اک خوشبو بھی انسان کو ماضی میں لے جاتی ہے ۔"
اس خوشبو کے تعاقب میں لازم نہیں عہدِ رفتہ کو آواز دینا سہل ٹھہرے ۔ یادوں کا آزاد شہر کیسی صدائیں دینے لگے کِسے معلوم

Offline
 

1970 کی بات ہے کہ تیز گام میں سفر کر رہا تھا۔ مسافروں سے پوچھا دینہ کب آئے گا مجھے اترنا ہے ایک دوست سے ملنا ہے۔
تو مسافروں نے بتایا بھائی یہ تیز گام ہے دینہ سے گزرے گی مگر رُکے گی نہیں۔
یہ سن کر میں گھبرا گیا مگر مسافروں نے کہا گھبراؤ نہیں
دینہ اسٹیشن سے گزرتے ہوئے یہ ٹرین سلو ہو جاتی ہے تم ایک کام کرنا جیسے ہی ٹرین آہستہ ہو تو تم دوڑتے ہوئے ٹرین سے اتر کر آگے کی طرف بھاگ پڑنا۔ جس طرف ٹرین جا رہی ہے اس طرح کرو گے تو تم گِرو

Offline
 

گے نہیں۔
دینہ آنے سے پہلے ہی مسافروں نے مجھے گیٹ پر کھڑا کر دیا۔
اب دینہ آتے ہی ٹرین آہستہ ہوئی تو میں ان کے بتانے کے مطابق پلیٹ فارم پر کُودا اور کچھ زیادہ ہی تیزی سے دوڑ گیا۔
اتنا تیز دوڑا کہ اگلے ڈبے تک جا پہنچا۔
اگلے ڈبے کے کچھ مسافر دروازے میں کھڑے تھے۔ مسافروں میں سے کسی نے میرا ہاتھ پکڑا تو کسی نے شرٹ پکڑی اور مجھے کھینچ کر ٹرین میں چڑھا لیا۔
اب ٹرین رفتار پکڑ چکی تھی اور سب مسافر کہے رہے تھے تیرا نصیب اچھا ہے جو تجھے یہ گاڑی مل گئی۔ ورنہ یہ تیزگام ہے اور دینہ میں نہیں رُکتی۔

Offline
 

خُوبصورت لہجے میں بات کریں ورنہ خاموش رہ کر اپنی خُوبصورتی کو برقرار رکھیں۔
ماخوذ

Offline
 

چلیں اب خواتین کی ڈکشنری سے کچھ ایسے الفاظ سیکھتے ہیں جو مردوں کو صحیح سے نہیں پتہ!!
ہاں=نہیں
نہیں=ہاں
شاید=نہیں
آئی ایم سوری= افسوس تو تہمیں کرنا ہوگا
ضرورت ہے = مجھے چاہیے یہ
جو دل کرے وہ کرو= بعد میں پچھتانا پڑے گا
مجھے بات کرنی= مجھے گلے شکوے کرنے ہیں
میں تو ٹھیک ٹھاک ہوں= شدید غصّہ ہوں پاگل!
یہ کچن تنگ ہے=نیا گھر چاہیے
مجھے عجیب آواز سنائی دی= مجھے دیکھنا تھا کہ جاگ تو نہیں رہے تھے
تم پیار کرتے ہو نا= شاپنگ کراؤ
مجھ سے کتنا پیار کرتے ہو= کوئی بونگی ماری ہے آج
میں بس دو منٹ میں آئی = دو گھنٹے سو جاؤ
مجھے سمجھنے کی کوشش کرو= بس میری ہی مانو
تم سن رہے ہو نا= بس اب بہت ہوگیا، تمہیں بتاتی ہوں

Offline
 

میں نے زندگی میں کبھی پیچھے مُڑ کر نہیں دیکھا
"پیچھے مُڑ کر دیکھنے والے پتھر کے ہو جاتے ہیں"
لیکن تم میرے ماضی کی وہ واحد آواز ہو جسے مُڑ کر, پیچھے دیکھ کر کبھی پتھر کا ہو جانے کا جی چاہتا ہے۔۔۔
معصوم مسکراہٹ۔۔

Offline
 

کون کہتا ہے کہ کسی شخص سے ایک بار محبت ہونے کے بعد اس سے نفرت ہوسکتی ہے ۔ جو کہتا ہےوہ دنیا کا سب سے بڑا جھوٹا ہے۔
Cycle of Replacement
میں صرف محبت کی ریپلیسمنٹ نہیں ہوتی ۔خود کو فریب دینے کے باوجود ہم جانتے ہیں کہ ہمارے وجود میں خون کی گردش کی طرح بسنے والا نام کس کا ہوتا ہے۔ہم کبھی بھی اسے اپنے وجود سے نکال کر باہر نہیں پھینک سکتے .تہ در تہہ اس کے اوپر دوسری محبتوں کا ڈھیر لگائے جاتے ہیں' کہتے جاتے ہیں۔ اب ہم اس سے محبت کرتے ہیں ۔ اب ہم اس سے محبت کرتے ہیں لیکن جو زیادہ دور ہوتا جاتا ہے وہ زیادہ قریب آتا جاتا ہے اور وہ ہمارے دل و دماغ کے اس حصے میں جا پہنچتا ہے کہ کبھی اس کو وہاں سے نکالنا پڑے تو پھر اس کے بعد ہم نارمل زندگی گزارنے کے قابل ہی نہیں رہتے۔

Offline
 

اب کے تجدید وفا کا نہیں امکاں جاناں
یاد کیا تجھ کو دلائیں ترا پیماں جاناں
یوں ہی موسم کی ادا دیکھ کے یاد آیا ہے
کس قدر جلد بدل جاتے ہیں انساں جاناں
زندگی تیری عطا تھی سو ترے نام کی ہے
ہم نے جیسے بھی بسر کی ترا احساں جاناں
دل یہ کہتا ہے کہ شاید ہے فسردہ تو بھی
دل کی کیا بات کریں دل تو ہے ناداں جاناں
اول اول کی محبت کے نشے یاد تو کر
بے پیے بھی ترا چہرہ تھا گلستاں جاناں
آخر آخر تو یہ عالم ہے کہ اب ہوش نہیں
رگ مینا سلگ اٹھی کہ رگ جاں جاناں

Offline
 

مدتوں سے یہی عالم نہ توقع نہ امید
دل پکارے ہی چلا جاتا ہے جاناں جاناں
ہم بھی کیا سادہ تھے ہم نے بھی سمجھ رکھا تھا
غم دوراں سے جدا ہے غم جاناں جاناں
اب کے کچھ ایسی سجی محفل یاراں جاناں
سر بہ زانو ہے کوئی سر بہ گریباں جاناں
ہر کوئی اپنی ہی آواز سے کانپ اٹھتا ہے
ہر کوئی اپنے ہی سائے سے ہراساں جاناں
جس کو دیکھو وہی زنجیر بہ پا لگتا ہے
شہر کا شہر ہوا داخل زنداں جاناں
اب ترا ذکر بھی شاید ہی غزل میں آئے
اور سے اور ہوئے درد کے عنواں جاناں
ہم کہ روٹھی ہوئی رت کو بھی منا لیتے تھے
ہم نے دیکھا ہی نہ تھا موسم ہجراں جاناں
ہوش آیا تو سبھی خواب تھے ریزہ ریزہ
جیسے اڑتے ہوئے اوراق پریشاں جاناں

Offline
 

کبھی آپ نے تعلقات کی کیمسٹری پر غور کیا ہے؟
وہ تعلقات جہاں خون کا یا رحم کا رشتہ نہیں ہوتا۔ جہاں احساس، خیال، محبت اور چاہت کا بے لوث رشتہ بغیر کسی کوشش کے قائم ہو جاتا ہے۔ ایسے رشتے کی موجودگی آپ کو سکون کا وہ نرم گرم احساس دلاتی ہے جو سرما کی بارش میں بھیگے جسم کو گرم لباس اور کافی کا کپ ملنے پر ہوتا ہے۔
ان کی طرف سے خوشی غم کا خیال رکھا جانا آپ کے دل کو تشکر کی پھوار میں ہلکا پھلکا کر دیتا ہے۔ ان کا بغیر کچھ جتائے آپ کے دل پر مرہم رکھنے کی کوشش کرنا درد کو جیسے فراموش کر

Offline
 

دیتا ہے۔ جن خوش نصیب لوگوں کے پاس ایسے انمول تعلق موجود ہیں وہ ان کی قدر کریں اور جن کے پاس یہ نعمت نہیں ہے۔ وہ بجائے افسردہ اور بے مایہ محسوس کرنے کے ،کسی کے لئے ایسا تعلق، رشتہ بن جائیں جہاں سے دوسروں کو راحت ملتی رہے۔
اس انتظار میں نہ رہیں کہ کوئی آپ کے لئے دستیاب کیوں نہیں ہے۔ آپ پہل کرنا شروع کر دیں۔ تسلی دینے میں، دکھ سکھ بانٹنے میں، دلاسہ دینے،حوصلہ افزائی کرنے میں پہل کریں۔ وہ کندھا بن جائیں جہاں تھکے ماندے وجود سہارا لے سکیں۔ یقین کریں زندگی بہت آسان ہو جائے گی.
منقول