Damadam.pk
Offline's posts | Damadam

Offline's posts:

Offline
 

میں نے سَب راستوں کو مَاپا ہے
.
.
.
تُم سے بَس چَاند تَک کی دُوری ہے

Offline
 

مجھے تو آج تک سیانوں کی باتوں کی سمجھ نہیں آئی۔مثال دیکھیں ذرا۔۔اخے سانپ کا تو کام ہی ڈسنا ہوتا۔۔
۔نہیں مطلب سانپ ہے تو ڈسے گا ہی نا اور کیا وہ ہوائی جہاز چلائے۔۔۔۔
یا آکسفورڈ یونیورسٹی میں لیکچرار لگ جائے۔۔۔؟
نہیں مطلب آپ سانپ سے اور کیا کروانا چاپ رہے ڈسنے کے علاوہ۔۔۔۔؟
اسکو کچھ تو بتائیں آخر اس نے ڈسنا نہیں تو کچھ تو کرنا ہی ہے نا۔۔۔۔؟
نہیں اب سانپ کیا لوہے لینن سے آپکی گلی میں پاپڑ بیچے۔۔۔؟
نہیں مطلب اب سانپ کیا لاہور سے ملتان کی بس چلائے یا آپکی گلی میں پتیسہ بیچے۔۔۔۔؟
یا کنگی سے اترے بال تین ہزار کے ایک پاؤ گلیوں سے اکٹھے کرکے آگے پانچ ہزار کے بیچے۔۔۔؟
کیا کرے آخر وہ بیچارہ جب اسے بس ڈسنا ہی آتا ہے۔۔۔؟

Offline
 

اس نےکہا کہ آئے یقیں مجھ کو کس طرح ؟
میں نےکہا کہ نام مرا اعتبار ہے

Offline
 

مزاحیہ شاعر
آج ایک مہربان فرما رہے تھے کہ پاکستان کے قومی ترانے کے خالق جناب حفیظ جالندھری مرحوم ایک بلند پاۓ کے مزاحیہ شاعر تھے۔
میں نے گذارش کی کہ ان کا کوٸی مزاحیہ کلام مجھے بھی عنایت فرما دیں تو بولے۔۔۔۔۔!!!
”پاک سر زمین کا نظام
قوت اخوت عوام “
منقولڈ

Offline
 

میرے پاس سنی ڈے ھے
تمہارے پاس کیا ھے

Offline
 

بستی خیال ۔۔ اور
خیال یار کو
کسی زمینی پلاٹ کی ضرورت نہیں ھوتی۔ یہ
کہیں بھی بسایا جاسکتا ھے۔۔

Offline
 

آج مجھے ایک دوست کی بات سے قدرت ﷲ شہاب صاحب یاد آگئے - اُنکی ایک نہایت خوبصورت اور سہولت کی زندگی عطاء کرنے والی عادت تھی کہا کرتے تھے
" اگر میں کسی شخص سے خوش نہ ہو سکوں تو ناراض بھی نہیں رہتا- "

Offline
 

کیا ہوا اگر زندگی ذرا
بھول سی گئی
سوچو تو ذرا
جنگلوں میں بھی راستے تو ہیں
ہمیں بھی کوئی مل ہی جائے گا
چلو تو سہی، چلو تو سہی
پیار ویار بھی ہو ہی جائے گا
ملو تو سہی
راستہ کوئی مل ہی جائے گا
چلو تو سہی، چلو تو سہی
اعتبار بھی آ ہی جائے گا

Offline
 

لوگو! جان رکھو کہ حرص و ہوس انسان کو دست نگر بنا دیتی ہے اور بے رغبتی آدمی کو غنی بنادیتی ہے نیز گوشہ گیر رہنے سے بُرے ساتھیوں سے امن رہتا ہے یہ بھی سمجھ لو کہ جو خدا سے ان معاملات میں راضی نہ ہو سکا جن میں قضائے الٰہی اس پر گراں گزری ہو وہ حسبِ منشا ہونے والے معاملات میں خاطر خواہ شکر ادا کرنے سے محروم رہا۔ تمہیں معلوم ہونا چاہئیے کہ ﷲ کے ایسے بندے بھی ہیں جو باطل سے کنارہ کش رہ کر اسے مٹا دیتے ہیں اور حق کا چرچا کرکے اسے زندہ رکھتے ہیں ان کو شوق دلوایا گیا تو انکو رغبت پیدا ہوگئی ہے اور

Offline
 

انکو ڈرایا گیا تو وہ لرزتے رہتے ہیں ایک بار ڈر کر وہ کبھی خود کو خطرے سے باہر نہیں سمجھتے۔ انہوں نے ایسی حقیقتوں کا پتا پالیا ہے جسکا مشاہدہ انہیں نصیب نہیں ہوا۔ پھر وہ ایسے مقام پر جا پہنچے جہاں سے کبھی نہیں ہٹے موت نے انہیں مخلص اور یکسو بنا دیا ہے جو کچھ ان سے چھن گیا ہے اس سے کنارہ کش ہوگئے اور اسے اختیار کرلیا جو انکے پاس سدا باقی رہے گا زندگی انکے لئے ایک نعمت ہے اور موت انکے لئے ایک اعزاز ہے"۔

Offline
 

آپ سب کو میری طرف سے بھی خیر مبارک

Offline
 

یہ جنت نہیں دُنیا ہے یہاں منفی رویے آئیں گے منفی بول آئیں گے سن کر سہ جاؤ مُسکرادو

Offline
 

داستان غم دل ان کو سنائی نہ گئی
بات بگڑی تھی کچھ ایسی کہ بنائی نہ گئی
سب کو ہم بھول گئے جوش جنوں میں لیکن
اک تری یاد تھی ایسی جو بھلائی نہ گئی
عشق پر کچھ نہ چلا دیدۂ تر کا قابو
اس نے جو آگ لگا دی وہ بجھائی نہ گئی
پڑ گیا حسن رخ یار کا پرتو جس پر
خاک میں مل کے بھی اس دل کی صفائی نہ گئی
کیا اٹھائے گی صبا خاک مری اس در سے
یہ قیامت تو خود ان سے بھی اٹھائی نہ گئی

Offline
 

" حالات کی کٹھنائیوں کے باوجود آپکے چہرے کی مُسکراہٹ بتاتی ہے کہ آپ کمزور حریف نہیں- "

Offline
 

الصبرُ علاج لکلی شییء
Patience is the cure for everything.
شب بخیر

Offline
 

تُم یقیناً ، وہیں پہ رہتے ہو
پُھول،خُوشبُو جہاں سے لاتے ہیں

Offline
 

کتنا مزہ آتا ہے رات کو کچن میں جاؤ تو برتن جب اچانک رولا ڈال دیتے ہیں

Offline
 

لڑکی : میں تم سے پیارکرتی ہوں
لڑکا میں بھی
لڑکی : تم مجھ سےکتناپیارکرتےہو
لڑکا : جتنا تم مجھ سےکرتی ہو
لڑکی دفع ہوجاؤ میں سمجھی تم مجھ سے سچا پیار کرتے ہو کمینے

Offline
 

میں کہیں بھی کسی نگر میں رہا
تیرے آسیب کے اثر میں رہا
وہ بھی پاگل ہوا جُدا ہو کر
عُمر بھر میں بھی پِھر سفر میں رہا
ایک جادُوگری تو تھی تُجھ میں
میں بھی کُچھ دِن ترے اثر میں رہا
بِھیگتا ڈُوبتا رہا دِل میں
تیرا چہرہ مری نظر میں رہا
پیش کش مان لی زمانے نے
اور اِک میں، اگر مگر میں رہا

Offline
 

ماموں کا اپنا ایک فلسفہ تھا وہ مجھ سے اکثر کہا کرتے تھے
لوگوں کو اپنے سے اچھا صلہ لے لینے دو، اُنھیں تمھیں ٹھگ لینے دو
اگر تم اُن سے جھگڑا نہیں کرو گے، مباحثہ نہیں کرو گے۔ تو وہ صلح جو ہو جائیں گے
ہتھیار پھینک دیں گے۔ اچھے اور شریف ہو جائیں گے
اور یقین کرو بیٹا، انسان اچھا اور شریف ہونا چاہتا ہے لیکن اُس کو موقع نہیں ملتا۔ کم از کم تم اُنہیں اچھا ہونے کا موقع ضرور فراہم کرنا-
اشفاق احمد زاویہ " خدا سے زیادہ جراثیموں کا خوف"