کوئی آکر پوچھے تمہیں کیسے بھلایا ہے
تمہارے خط کو اشکوں سے شبِ غم میں جلایا ہے
ہزاروں غم ایسے ہیں اگر سلتے تو اچھا تھا
تمہی کو ہم نے چاہا تھا تمہی ملتے تو اچھا تھا
تمہیں جتنا بھلایا ہے تمہاری یاد آئی ہے
بہارِ نو جو آئی ہے وہی خوشبو سی لائی ہے
تمہارے لب میری خاطر اگر ہلتے تو اچھا تھا
تمہی کو ہم نے چاہا تھا تمہی ملتے تو اچھا تھا
جہاں پھولوں کو کھلنا تھا وہیں کھلتے تو اچھا تھا
تمہی کو ہم نے چاہا تھا تمہی ملتے تو اچھا تھا......
تمہارے ﻗﺪﻣﻮﮞ ﮐﯽ ﺁﮨﭧ ﺳﮯ ﯾﻮﮞ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ
.
.
.
تم ﻣﯿﺮﯼ ﭘﻮسٹوں ﮐﮯ ﺁﺱ ﭘﺎﺱ رہتی ہو
سوچتا ہوں کہ بہت سادہ و معصوم ہے وہ ،
سوچتا ہوں میں اُسے واقفِ اُلفت نہ کروں ...
ﺍﯾﮏ ﺑﺰﺭﮒ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺳﺮِ ﺑﺎﺯﺍﺭ ﭼﻠﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﭨﺨﻨﮯ ﭘﺮ ﮈﻧﮉﮮ ﺳﮯ ﭼﻮﭦ ﻟﮕﺎﺋﯽ ﺩﺭﺩ ﺍﻭﺭ ﻏﻀﺐ ﮐﯽ ﮐﯿﻔﯿﺖ ﻣﯿﮟ ﭘﻠﭧ ﮐﺮ ﺟﻮ ﻣﺎﺭﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﻧﺎﺑﯿﻨﺎ ﺍﭘﻨﮯ ﮈﻧﮉﮮ ﺳﮯ ﺭﺳﺘﮧ ﭨﭩﻮﻝ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ..
ﻏﺼﮯ ﮐﯽ ﮐﯿﻔﯿﺖ ﺟﮭﭧ ﺳﮯ ﺷﻔﻘﺖ و مہربانی ﻣﯿﮟ ﺗﺒﺪﯾﻞ ﮨﻮﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﻧﺎﺑﯿﻨﺎ ﮐﺎ ﮨﺎﺗﮫ ﭘﮑﮍﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻣﻨﺰﻝ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﮐﺮ ﺁﯾﺎ -
ﺍﺱ ﺩﻥ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺟﺐ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﺎ ﻧﻘﻄﮧ ﻧﻈﺮ ﺗﺒﺪﯾﻞ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺟﺬﺑﺎﺕ ﺑﮭﯽ ﺗﺒﺪﯾﻞ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﮨﻤﯿﮟ ﺁﺝ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﻧﻘﻄﮧ ﻧﻈﺮ ﺗﺒﺪﯾﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮨﮯ، ﺟﺬﺑﺎﺕ ﺧﻮﺩ ﮨﯽ اچھے ﮨﻮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ- ﺍﻥ ﺷﺎﺀ اللّٰہ
آپ ہی اپنے لیئے باعث آزار ہیں ہم
نہ ہم ہوتے نہ دل ہوتا نہ دل آزاریاں ہوتیں
شب بخیر
"وہم"
.
وہ نہیں ہے
تو اُ س کی چاہت میں
کس لیے
رات دن سنورتے ہو
خود سے بے ربط باتیں کرتے ہو
اپنا ہی عکس نوچنے کے لیے
خود اُلجھتے ہو، خود سے ڈرتے ہو
ہم نہ کہتے تھے
ہجر والوں سے ، آئینہ گفتگو نہیں کرتا
لکھوں تو کیا __؟ ؟؟ تخیل تو سو رہا ھے ابھی سوچوں کی طنابیں سر پھری ہیــــــــں محبت کے دیس میں خوشیاں دھونڈنے نکلی ہیــــــــں ___
لیکن میں جانتا ہوں محبت کے دیس میں خوشیوں کی عمریں ہمیشہ کم ہی ہوتی ہیــــــــں اور غموں کی عمریں دراز ہوتی ہیــــــــں ہاں ایک کام ہو سکتا ھے اگر تم کر سکوں تو میں تم کو بتاتا ہوں ____
ایسا کروں جاو میر سے کہوں میرے پاس لفظوں کا قحط پڑ گیا ھے کچھ لفظ ادھا دے مجھے نہیں تو جا کر غالب کی منت کرو نا مانے تو ہاتھ پکڑ لینا شاعر سمجھ کر رعايت کر دے گا __
اچھا چلو ایک کم کروں تم ہی کچھ لفظ ادھار دے دو دل کے آپریشن کے لیے ادھار ضروری ھے وقت کالا جادو ھے تم اس کے زیر اثر ہو عاشق کا یہ ادھار سودا مہنگا پڑگیا مجھے تین آنسوؤں کے بدلے ڈیڑھ لفظ
اے موسم گر یہ چل اب کی با ر ہم ہی تیری انگلی پکڑ تے ھیں
تجھےگھر لے کے چلتے ھیں
جہا ں ہر چیز ویسی کی ویسی ھے جیسی اسے تو چھو ڑ آیا تھا
کو ئی بھی منظر نہیں بد لا
تیر ا کمر ہ بھی ویسا کا ویسا ھے
جس طر ح تو نے اسے دیکھا تھا
جس طر ح تو نے اسے چھو ڑا تھا
تیرے بستر کے پہلو میں رکھی میز پر دھر ا کا فی کا وہ مگ جس کے کنا رے پر وسو سو ں اور خو اہشو ں کی جھا گ کے دھبے نما یا ں ھیں
،
اور تیرے وہ چپل بھی رکھے ھیں
جن کے بے ثمر تلو ئو ں سے اب بھی وہ خو اب لپٹے ھیں
جو اتنا روندے جا نے پر اب تک سا نس لیتے ھیں ،
اور تیرے کپڑ ے جو غمو ں کی با رشو ں سے دھل کر آئے تھے ،
میر ی الما ریو ں کے ہینگر میں اب تک لٹکے ھیں ،
دریچے کے سا تھ والی د یوار پر لٹکی گھڑی اب بھی آ دھا منٹ پیچھے ہی رہتی ھے ،
اور کیلنڈ ر پر رکی تا ریخ نے اب تک آ نکھیں نہیں جپکھیں ،
،
وہ آ نکھیں جو تمنا سے ہر دم مسکر اتیں تھیں اب شا ئد کبھی مسکرا ئیں ،
ان آنکھو ں کے کنا روں پر نمی تم کو شا ئد نظر آئے
محترمہ کو علامہ اقبال بہت پسند تھے
ایک دن پوچھا : آپ کو علامہ کی کونسی نظم سب سے زیادہ پسند ہے؟
کہنے لگیں : ویسے تو اقبال کی سبھی نظمیں بہت اچھی ہیں اور اکثر تو مجھے زبانی یاد بھی ہیں مگر ان کی نظم شکوہ کا تو کوئی جواب ہی نہیں
میں نے پوچھا : اچھا! تو پھر شکوہ سے کوئ پسندیدہ شعر ہی سنا دیجیے ۔ ۔ ۔
کچھ دیر ذہن پر زور دینے کے بعد گویا ہوئیں
شکوہ نہیں کسی سے ، کسی سے گلہ نہیں
نصیب میں نہیں تھا جو ہم کو ملا نہیں
منقول
اور ہم بچھڑ گئے
ہم ملے
ایک دوسرے سے
اور ایک دوسرے کو
چاہنے کی حد کر دی،
ہم نے اشاروں کی
زبان سیکھی
اور ایک دوسرے کی آنکھوں میں
دیکھتے رہے
شدت دکھانے کیلئے
ہر میسج کے آخر میں
فل سٹاپ لگایا،
ہم ایک دوسرے کی خوشی میں
خوش ہوئے
اور اداس ہوتے تھے ایک ساتھ۔
ہم نے ایک دوسرے کا
بچوں جیسے خیال رکھا،
ایک دوسرے کو نظمیں بھیجی
اور کچھ تصویریں بھی،
میلوں دوری سے ایک دوسرے کی
دھڑکنیں تیز کی
ہم نے کچھ نامکمل خواب بھی دیکھیں
اور ایک وش لسٹ بنائی
جو کہ وش لسٹ ہی رہی
ہم نے ایک دوسرے کو
پھول اور تتلی سے تشبیہ دی
ہم اتنے خوش تھے کہ ہمیں
اپنی ہی نظر لگ گئی۔
"اور ہم بچھڑ گئے"
لیکن ایک بات بتائیں
جو کبھی مکمل ملے ہی نہیں
وہ بچھڑ کیسے گئے ؟
منو بھائی نے فیض صاحب سے پوچھا۔ میں کس زبان میں شاعری کروں؟؟ ۔۔
فیض صاحب نے جواب میں فرمایا۔۔ جس زبان میں خواب دیکھتے ھو۔۔
ننانوے فیصد پاکستانی لڑکیوں کے نام کے آخر میں "آآآآآآآ ‛ کی پکار آتی ھے۔۔۔۔۔
یقین نہیں ھوتا تو ۔۔۔۔ اپنا نام پکار کے دیکھیں ذرا _____ !!!
میں ڈرتا ڈرتا میس میں داخل ہوا۔ بڑا کوٹ اتارا۔ پوستین اتاری۔ کھڑکی سے جھانکا۔ موڈی جونز انگھیٹھی کے پاس بیٹھا اپنے بچپن کے قصے سنا رہا تھا۔ کہ میں جب چھوٹا سا تھا۔ تو میرے بزرگوں نے میری آئندہ تعلیم کے بارے میں تصفیہ کرنا چاہا۔ کہ میں انجینئرنگ پڑھوں گا یا قانون ۔ دادا جان نے فرمایا کہ بچہ اپنی پسند خود بتائے گا۔ انہوں نے میری نرس آیا کے ایک ہاتھ میں ترازو دی اور دوسرے ہاتھ میں انجینئرنگ کا ایک آلا۔ اور فرمایا جو پسند آئےچن لو۔ میں کچھ دیر سوچتا رہا۔ آخر کچھ دیر غور خوض کے بعد
جانتے ھو میں نے کیا کیا۔ میں نے کمال کا انتخاب کیا۔۔۔۔۔۔
۔
میں آگے بڑھا اور میں نے نرس کو چن لیا۔
حماقتیں
شفیق الرحمن کی۔
دن اپنے آخر میں نتائج لاتے ھیں ۔ اور کچھ دنوں کے نتائج میں صرف شرمندگی ہوتی ھے ___________ شرمندگی جو ایک مثبت عمل ھے۔ لیکن ملتی صرف منفی عمل سے ھے
میں نیتی نماز عشق دی
تے مینوں آستایا وسوسیاں
ویسے تو اس سے پہلے بھی خانہ خراب تھا
پھر یوں ہؤا کہ ہم کو محبت بھی ہو گئی
ایک عزیزہ سے ہماری بے تکلفی تھی لہذا ہم نے ان سے کہا کہ آپ کی زیادتی ہے کہ پانچ سال پہلے بھی آپ تیس برس کی تھی اب بھی تیس برس کی خود کو بتاتی ہیں !
بولیں:
جناب انسان کی ایک زبان ہوتی ہے یہ نہیں کہ آج
کچھ کہا اور کل کچھ بیان دے دیا آپ پانچ سال بعد بھی
پوچھیں گے تو ان شاءاللہ یہی جواب ملے گا
ہم شرمندہ ہو کر رہ گئے……
ابن انشاء
مدحتِ گفتار کو سمجھو نہ اخلاقی سند
خوب کہنا اور ہے اور خوب ہونا اور ہے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain