مدحتِ گفتار کو سمجھو نہ اخلاقی سند
خوب کہنا اور ہے اور خوب ہونا اور ہے
اردو سے نا بلد ایک صاحب اپنے نوکر سے دو بطخیں منگوانا چاہتے تھے ۔
نوکر نے بطخ کبھی دیکھی نہیں تھی بلکہ بطخ کے نام سے بھی واقف نہیں تھا۔
ان صاحب نے سوچا دُکان دار کو چِٹھی لکھ کر دیں۔
اب ان کے سامنے مشکل یہ تھی کہ چٹھی میں کیا لکھیں۔
پہلے تو انہوں نے دُکان دار کو لکھا۔
میرے نوکر کے ذریعے دو بطائخ روانہ کیجیے۔
ان کو یہ کچھ عجیب لگا۔
پھر انہوں نے نے لکھا۔
براہ کرم! دو بطوخ روانہ کیجیے۔
یہ بھی کچھ عجیب لگا۔
تنگ آکر انہوں نے ذرا بڑا کاغذ لیا اور اس پر لکھا ۔
براہ کرم! ایک بطخ روانہ کیجیے اور اسی بطخ کے ہمراہ ایک اور بطخ روانہ کیجیے
منقول ۔۔۔۔
وہ کہہ نہیں سکتی..
اسکی بڑی بڑی آنکھیں اسکے دل کا حال سنا دیتی ہیں،
وہ جب رونا نہ بھی چاہے تو،
وہ آنکھیں ڈھیر سارے آنسو بہا دیتی ہیں۔
تم وہ آنکھیں پڑھ لوگے نا ؟
وہ کیا ہے نا،
وہ کہہ نہیں سکتی۔
وہ دن بھر بہت باتیں کرتی ہے،
کبھی دل اداس ہوجائے تو بس خاموش ہوجاتی ہے۔
اسکی خاموشی کے پیچھے ہمیشہ ایک طوفان ہوتا ہے،
تم اس طوفان کو روک لوگے نا ؟
وہ کیا ہے نا،
وہ کہہ نہیں سکتی۔
اسکا سانولا چہرہ سفید پڑھ جاتا ہے،
جب وہ دل میں بات لئے بیٹھی ہو۔
اسکی رنگت اسکے دل کی بیچینی بیان کرتی ہے،
تم وہ چہرہ سمجھ لو گے نا ؟
وہ کیا ہے نا،
وہ کہہ نہیں سکتی۔
ایک ٹیچر نے پیپر چیکنگ کی ڈیوٹی کی تو
وہ بتاتی ہیں کہ
ایک بچے نے پیپر میں 'ناسا' کے بارے میں پوچھے جانے والے سوال کا جواب کچھ اس طرح لکھا ہوا تھا۔
"ہمارے چہرے پر موجود دو سوراخوں کو پنجابی میں 'ناسا' کہتے ہیں۔
یہ سانس لینے اور سونگھنے کا کام کرتے ہیں۔
اردو میں اسے ناک کہتے ہیں"
زندگی کی ہر تلخ حقیقت کو صرف پہلی بار قبول کرنا مشکل ہوتا ھے۔لیکن گرمی ایسی تلخ حقیقت ھے جسے ہر سال قبول کرنا مشکل ہوتا ھے۔
جو کوئی جس راہ پر چلتا ہے اسے اسی راہ کے مسافر ملتے ہیں۔
پریتم ایسی پریت نہ کریو
جیسی کرے کھجُور
دُھوپ لگے تو سایہ نہ ھی
بھُوک لگے , پھل دُور
پریت کبیرا !! ایسی کریو
جیسی کرے کپاس
جیو تو تن کو ڈھانکے
مرو تو , نہ چھوڑے ساتھ
پریت نا کریو پنچھی جیسی
جل سوکھے اُڑ جائے
پریت تو کریو مچھلی جیسی
جل سوکھے مر جائے
تُو میرا ہے بھی نہیں... اور عالم یہ ہے کہ
.
.
.
میں تیرے کھو جانے کے خدشات میں گم ہوں
آخر میں، صرف وہ ہی تمہارے ساتھ رہیں گے جنہوں نے تمہاری روح کی خوبصورتی کو دیکھا ہوگا اور وہ جو تمہارے ظاہر سے متاثر ہوئے تھے وہ چلے جائیں گے
In English we say: I'm feeling tired from everything
But in Urdu we say :
جہاں سے کوئی لوٹ کر نہیں آتا
آج کل میرا وہاں جانے کو جی چاہتا ہے
ایک جملے میں سما جاتا ھے تعارف میرا
کتنے مختصر حوالے ہیں میری ذات کے
اِک اُسی کا پتا نہیں معلوم
اور بندے کو کیا نہیں معلوم
اُن کی تصویر جب سے دیکھی ہے
ہو گیا دِل کو کیا نہیں معلوم
نرم میری طرف سے دِل اُس کا
کب کرے گا خُدا نہیں معلوم
اُس سے رکھتا ہُوں مَیں اُمیدِ وفا
جِس کو رسمِ وفا نہیں معلوم
کیا کہیں کب سے تم پہ مرتے ہیں
اِبتدا اِنتہا نہیں معلوم
درد کی دِل میں اِک چمک سی ہے
کون ہے رُونما نہیں معلوم
ذِکر پر میرے چونک کر بولے
لا پتہ کا پتا نہیں معلوم
روز کرنا دُعائے وصل مُجھے
کب سُنے گا خُدا نہیں معلوم
جب کہا مَیں نے وصل کب ہو گا
جل کے وہ بول اُٹھا نہیں معلوم
میری حالت کو دیکھ کر بولے
نبض کہتی ہے کیا نہیں معلوم
حیرتِ جَلوہ تو ذرا دیکھو
کس کا ہے سامنا نہیں معلوم
مَیں ہُوا اُن کا یا وہ میرے ہُوئے
کیسے سودا چُکا نہیں معلوم
رحم کی تھی اپیل ظالم سے
کیا ہوا فیصلہ نہیں معلوم
دِل گیا ہاتھ سے کہ دِل آیا
کیا دِیا کیا لِیا نہیں معلوم
کِس ادا سے چلے وہ مقتل کو
آئی کِس کی قضا نہیں معلوم
میں ہُوں مُشتاؔق جِس کا مُدّت سے
اُس کو میرا پتا نہیں معلوم۔
قاضی کے پاس دو آدمی اپنا مقدمہ لے کر آئے، ان میں سے ایک کا کہنا تھا: جناب! میں روٹی کا ٹکڑا اٹھائے گھر کی طرف جا رہا تھا کہ چلتے ہوئے رستے میں اس شخص کی دکان کے پاس سے گزرا، یہ اپنی دکان میں دہکتے کوئلوں پر کباب بھون رہا تھا، بھنے ہوئے گوشت کی مہک نے میرے قدموں کو جکڑ لیا، تو میںنے وہیں کھڑے کھڑے روٹی کے لقمے بنائے اور اسی مہک کے تصور میں مزے لے کر روٹی کھانے لگا. میں نے جب وہاں سے جانا چاہا تو دکان کے مالک نے مجھے پکڑ لیا اور کبابوں کی مہک کی قیمت مانگی، کیا یہ مناسب ہے جناب؟
قاضی نے دکان کے مالک سے اس بات کی تصدیق کے بعد کہا: بالکل تم اس خوشبو قیمت لینے کے حقدار ہو اور اجر کی مقدار ہمیشہ کام کے برابر ہو تو انصاف ہوتا ہے، لہٰذا تم طے کرو کہ اس مہک کے لیے کتنا چاہتے ہو؟
اس نے جواب دیا: پانچ درہم جناب۔
قاضی روٹی کھانے والے شخص کی طرف متوجہ ہوا اور کہا: پانچ درہم نکال کر زمین پر پھینک دو۔
اس آدمی نے ایسا کیا اور اپنےدرہم یکے بعد دیگرے پھینکے حتیٰ کہ زمین پر درہم گرنے کی آواز سب نے اچھی طرح سن لی۔
قاضی نے دکان کے مالک سے کہا ، کیا تم نے پانچ سکوں کی آواز سنی ہے؟
اس نے جواب دیا: ہاں جناب، میں نے درہم زمین پر گرنے کی آواز کو سنا ہے ۔۔قاضی نے کہا: سکوں کی وہ آواز اس بو کی قیمت ہے۔ اس نے ناک سے کھایا، اور اب تم نے اپنے کانوں سے اپنی قیمت وصول کر لی ہے۔۔۔۔
عربی ادب سے ماخوذ
ٹوٹی ھے میری نیند مگر
تم کو اس سے کیا
شب بخیر
ہم کسی تیسرے کی منزل ہیں
دل کسی دوسرے کی راہ میں ہے
کبھی سوچا ھے۔ ان کے بارے میں
۔
۔
بسکٹ جو چائے میں مر جاتے ہیں ۔
میری خاموشیاں احساس ہیں
.
.
.
محسوس تو ہوتی ہوں گی
محبت کا ایک عجیب پہلو یہ بھی ہے کہ آپ کو وہ شخص بھی اپنی عدم دستیابی کا خوف دلاتا ہے جو میسر ہی نہیں ہوتا۔ اور حیرت انگیز طور پر آپ ڈر بھی جاتے ہیں۔
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain