Damadam.pk
Offline's posts | Damadam

Offline's posts:

Offline
 

مدحتِ گفتار کو سمجھو نہ اخلاقی سند
خوب کہنا اور ہے اور خوب ہونا اور ہے

Offline
 

اردو سے نا بلد ایک صاحب اپنے نوکر سے دو بطخیں منگوانا چاہتے تھے ۔
نوکر نے بطخ کبھی دیکھی نہیں تھی بلکہ بطخ کے نام سے بھی واقف نہیں تھا۔
ان صاحب نے سوچا دُکان دار کو چِٹھی لکھ کر دیں۔
اب ان کے سامنے مشکل یہ تھی کہ چٹھی میں کیا لکھیں۔
پہلے تو انہوں نے دُکان دار کو لکھا۔
میرے نوکر کے ذریعے دو بطائخ روانہ کیجیے۔
ان کو یہ کچھ عجیب لگا۔
پھر انہوں نے نے لکھا۔
براہ کرم! دو بطوخ روانہ کیجیے۔
یہ بھی کچھ عجیب لگا۔
تنگ آکر انہوں نے ذرا بڑا کاغذ لیا اور اس پر لکھا ۔
براہ کرم! ایک بطخ روانہ کیجیے اور اسی بطخ کے ہمراہ ایک اور بطخ روانہ کیجیے
منقول ۔۔۔۔

Offline
 

وہ کہہ نہیں سکتی..
اسکی بڑی بڑی آنکھیں اسکے دل کا حال سنا دیتی ہیں،
وہ جب رونا نہ بھی چاہے تو،
وہ آنکھیں ڈھیر سارے آنسو بہا دیتی ہیں۔
تم وہ آنکھیں پڑھ لوگے نا ؟
وہ کیا ہے نا،
وہ کہہ نہیں سکتی۔
وہ دن بھر بہت باتیں کرتی ہے،
کبھی دل اداس ہوجائے تو بس خاموش ہوجاتی ہے۔
اسکی خاموشی کے پیچھے ہمیشہ ایک طوفان ہوتا ہے،
تم اس طوفان کو روک لوگے نا ؟
وہ کیا ہے نا،
وہ کہہ نہیں سکتی۔
اسکا سانولا چہرہ سفید پڑھ جاتا ہے،
جب وہ دل میں بات لئے بیٹھی ہو۔
اسکی رنگت اسکے دل کی بیچینی بیان کرتی ہے،
تم وہ چہرہ سمجھ لو گے نا ؟
وہ کیا ہے نا،
وہ کہہ نہیں سکتی۔

Offline
 

ایک ٹیچر نے پیپر چیکنگ کی ڈیوٹی کی تو
وہ بتاتی ہیں کہ
ایک بچے نے پیپر میں 'ناسا' کے بارے میں پوچھے جانے والے سوال کا جواب کچھ اس طرح لکھا ہوا تھا۔
"ہمارے چہرے پر موجود دو سوراخوں کو پنجابی میں 'ناسا' کہتے ہیں۔
یہ سانس لینے اور سونگھنے کا کام کرتے ہیں۔
اردو میں اسے ناک کہتے ہیں"

Offline
 

زندگی کی ہر تلخ حقیقت کو صرف پہلی بار قبول کرنا مشکل ہوتا ھے۔لیکن گرمی ایسی تلخ حقیقت ھے جسے ہر سال قبول کرنا مشکل ہوتا ھے۔

Offline
 

جو کوئی جس راہ پر چلتا ہے اسے اسی راہ کے مسافر ملتے ہیں۔

Offline
 

پریتم ایسی پریت نہ کریو
جیسی کرے کھجُور
دُھوپ لگے تو سایہ نہ ھی
بھُوک لگے , پھل دُور
پریت کبیرا !! ایسی کریو
جیسی کرے کپاس
جیو تو تن کو ڈھانکے
مرو تو , نہ چھوڑے ساتھ
پریت نا کریو پنچھی جیسی
جل سوکھے اُڑ جائے
پریت تو کریو مچھلی جیسی
جل سوکھے مر جائے

Offline
 

تُو میرا ہے بھی نہیں... اور عالم یہ ہے کہ
.
.
.
میں تیرے کھو جانے کے خدشات میں گم ہوں

Offline
 

آخر میں، صرف وہ ہی تمہارے ساتھ رہیں گے جنہوں نے تمہاری روح کی خوبصورتی کو دیکھا ہوگا اور وہ جو تمہارے ظاہر سے متاثر ہوئے تھے وہ چلے جائیں گے

Offline
 

In English we say: I'm feeling tired from everything
But in Urdu we say :
جہاں سے کوئی لوٹ کر نہیں آتا
آج کل میرا وہاں جانے کو جی چاہتا ہے

Offline
 

ایک جملے میں سما جاتا ھے تعارف میرا
کتنے مختصر حوالے ہیں میری ذات کے

Offline
 

اِک اُسی کا پتا نہیں معلوم
اور بندے کو کیا نہیں معلوم
اُن کی تصویر جب سے دیکھی ہے
ہو گیا دِل کو کیا نہیں معلوم
نرم میری طرف سے دِل اُس کا
کب کرے گا خُدا نہیں معلوم
اُس سے رکھتا ہُوں مَیں اُمیدِ وفا
جِس کو رسمِ وفا نہیں معلوم
کیا کہیں کب سے تم پہ مرتے ہیں
اِبتدا اِنتہا نہیں معلوم
درد کی دِل میں اِک چمک سی ہے
کون ہے رُونما نہیں معلوم
ذِکر پر میرے چونک کر بولے
لا پتہ کا پتا نہیں معلوم
روز کرنا دُعائے وصل مُجھے
کب سُنے گا خُدا نہیں معلوم

Offline
 

جب کہا مَیں نے وصل کب ہو گا
جل کے وہ بول اُٹھا نہیں معلوم
میری حالت کو دیکھ کر بولے
نبض کہتی ہے کیا نہیں معلوم
حیرتِ جَلوہ تو ذرا دیکھو
کس کا ہے سامنا نہیں معلوم
مَیں ہُوا اُن کا یا وہ میرے ہُوئے
کیسے سودا چُکا نہیں معلوم
رحم کی تھی اپیل ظالم سے
کیا ہوا فیصلہ نہیں معلوم
دِل گیا ہاتھ سے کہ دِل آیا
کیا دِیا کیا لِیا نہیں معلوم
کِس ادا سے چلے وہ مقتل کو
آئی کِس کی قضا نہیں معلوم
میں ہُوں مُشتاؔق جِس کا مُدّت سے
اُس کو میرا پتا نہیں معلوم۔

Offline
 

قاضی کے پاس دو آدمی اپنا مقدمہ لے کر آئے، ان میں سے ایک کا کہنا تھا: جناب! میں روٹی کا ٹکڑا اٹھائے گھر کی طرف جا رہا تھا کہ چلتے ہوئے رستے میں اس شخص کی دکان کے پاس سے گزرا، یہ اپنی دکان میں دہکتے کوئلوں پر کباب بھون رہا تھا، بھنے ہوئے گوشت کی مہک نے میرے قدموں کو جکڑ لیا، تو میںنے وہیں کھڑے کھڑے روٹی کے لقمے بنائے اور اسی مہک کے تصور میں مزے لے کر روٹی کھانے لگا. میں نے جب وہاں سے جانا چاہا تو دکان کے مالک نے مجھے پکڑ لیا اور کبابوں کی مہک کی قیمت مانگی، کیا یہ مناسب ہے جناب؟
قاضی نے دکان کے مالک سے اس بات کی تصدیق کے بعد کہا: بالکل تم اس خوشبو قیمت لینے کے حقدار ہو اور اجر کی مقدار ہمیشہ کام کے برابر ہو تو انصاف ہوتا ہے، لہٰذا تم طے کرو کہ اس مہک کے لیے کتنا چاہتے ہو؟

Offline
 

اس نے جواب دیا: پانچ درہم جناب۔
قاضی روٹی کھانے والے شخص کی طرف متوجہ ہوا اور کہا: پانچ درہم نکال کر زمین پر پھینک دو۔
اس آدمی نے ایسا کیا اور اپنےدرہم یکے بعد دیگرے پھینکے حتیٰ کہ زمین پر درہم گرنے کی آواز سب نے اچھی طرح سن لی۔
قاضی نے دکان کے مالک سے کہا ، کیا تم نے پانچ سکوں کی آواز سنی ہے؟
اس نے جواب دیا: ہاں جناب، میں نے درہم زمین پر گرنے کی آواز کو سنا ہے ۔۔قاضی نے کہا: سکوں کی وہ آواز اس بو کی قیمت ہے۔ اس نے ناک سے کھایا، اور اب تم نے اپنے کانوں سے اپنی قیمت وصول کر لی ہے۔۔۔۔
عربی ادب سے ماخوذ

Offline
 

ٹوٹی ھے میری نیند مگر
تم کو اس سے کیا
شب بخیر

Offline
 

ہم کسی تیسرے کی منزل ہیں
دل کسی دوسرے کی راہ میں ہے

Offline
 

کبھی سوچا ھے۔ ان کے بارے میں
۔
۔
بسکٹ جو چائے میں مر جاتے ہیں ۔

Offline
 

میری خاموشیاں احساس ہیں
.
.
.
محسوس تو ہوتی ہوں گی

Offline
 

محبت کا ایک عجیب پہلو یہ بھی ہے کہ آپ کو وہ شخص بھی اپنی عدم دستیابی کا خوف دلاتا ہے جو میسر ہی نہیں ہوتا۔ اور حیرت انگیز طور پر آپ ڈر بھی جاتے ہیں۔