Damadam.pk
Offline's posts | Damadam

Offline's posts:

Offline
 

ایک آدمی نے نئی سائیکل خرید لی. اسے بڑی فکر تھی کوئی اس کی سائیکل چوری نہ کر لے. اس لئے اس نے سب سے پہلے پانچ مختلف قسم کے تالے خرید لئے. اب وہ باہر جاتا تو سائیکل ایسی جگہ کھڑی کرتا جہاں وہ اپنی سائیکل کسی جنگلے یا پول سے باندھ سکتا. اسی پر بس نہ ہوتی وہ اس کے دونوں پہیوں کو بھی تالا لگاتا.
ایک دن اپنی بیگم کو ساتھ بٹھا کر شاپنگ کرنے گیا. حسب معمول اس نے سائیکل کو پانچوں تالے لگا دئے. شاپنگ کے بعد یہ اپنی سائیکل تک آیا اور ترتیب سے پانچوں تالے کھولے. تب اس نے دیکھا ایک چھوٹا سا چھٹا تالا بھی سائیکل

Offline
 

کو لگا ہوا ہے. وہ حیران ہوا یہ تالا کس نے لگا لیا. اس نے سوچا اس کی فکر دیکھ کر یہ ضرور اس کی بیگم نے لگایا ہوگا. بیگم ابھی دکان میں تھی.
یہ بیگم کے پاس گیا کہ اس چھوٹے تالے کی چابی دو. بیگم نے کہا کونسا تالا کیسا تالا تم پہلے کم تالے لگاتے ہو جو میں بھی کوئی تالا لگاتی. پریشان ہو کر یہ واپس سائیکل کے پاس آیا تو سائیکل نہیں تھی. چھوٹا تالا چور نے لگایا تھا اور ان چند لمحوں میں وہ اپنا تالا کھول کر سائیکل لے گیا تھا. کیا آپ کو اس آدمی کے نقصان پر ہنسی آرہی ہے.؟
ویسے ہمیں بھی اللہ نے پانچ خواص دئے ہیں. یعنی دیکھنے سننے سونگھنے

Offline
 

چکنے اور محسوس کرنے کے خواص خمسہ. یہ سب بہترین کام کر رہے ہوں تب ہمیں کسی تالے کی ضرورت ہی نہیں ہوتی بس چھٹا تجربہ کا تالا ہمارے پاس ہو. کیونکہ یہ چھٹی حس نہ ہو تو شیطان ہماری عقل پر کوئی ایک چھوٹا سا تالا ایسا لگا دیتا ہے جہاں ہمارے خواص خمسہ کنفیوز ہو جاتے ہیں
ایسے وقت چھٹی حس یا وجدان انسان کے کام آتا ہے. جو اپنی چھٹی حس یا ضمیر پر یقین نہیں رکھتے شیطان ان سے پھر ان کی کوئی نہ کوئی متاعِ عزیز چوری کر ہی لیتا ہے. تشکیک کی ماری اکثریت پھر ایسے ہی حیران و پریشان کھڑے لوگ ہوتے ہیں جو ایمان کو اپنے خواص خمسہ سے سمجھنا چاہتے ہیں

Offline
 

وہ ہمارا ہے ہمارا ہے ہمارا ہے فقط
.
.
باوجود اس کے ہمارا نہیں ہونے والا

Offline
 

کہانی محبت کی ھے مختصر
گیا دل سے جو وہ پھر نہ آیا ادھر
کبھی کوئی تھا میری راہوں کا اک ہمسفر
کر گیا دل کا وہ سونا نگر
اسے ڈھونڈوں کہاں ۔۔۔۔ اسے پاؤں کہاں
آج میں ھوں یہاں
وہ کہاں

Offline
 

اگر آپ مرد ہیں تو شادی کرنے سے پہلے کم از کم ایک ماه تک بلی پالیں اگر آپ اس کو پالتو بنا لیتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کو جگہ جگہ گرے ہوئے بالوں کو دیکھنے کی عادت ہو چکی ہے... دن ہو یا رات کا کوئی پہر آپ رونے کی ناقابل فہم اور عجیب و غریب آوازوں کے عادی ہو چکے ہیں... بلاوجہ غرابت... پاؤں گھسیٹ کر چلنے.. اور بغیر کسی جواز کے ہر چیز کو ناخنوں کے ساتھ کھرچنے پر آپ کو کوئی مسئلہ نہیں ہوتا... آپ کے چہرے کو بلاوجہ گھورتی رہے . یا خاموشی سے دیکھتی رہے تو آپ گھر کی اور خاموش نگاہوں کا مطلب سمجھنے کے قابل ہوجاتے ہیں کہ بلی اب بھوکی ہے، پیاسی ہے ناراض ہے یا پھر اداس ہے ، اور آپ کو لگنے لگتا ہے کہ وہ اپنی آنکھوں سے یا حرکتوں سے جو کچھ بھی آپ کو بتا رہی ہے آپ بلی کی کہانی کو پوری طرح سے سمجھتے ہیں... اگر آپ بلی کو دلجمعی سے پال لیتے ہیں تو آپ کو

Offline
 

اپنی حالت کا بخوبی اندازہ ہوسکتا ہے یعنی اس کا مطلب ہے کہ شادی کا جو پورا نظام ہے آپ اس کے لیے ہر طرح سے موزوں ہیں. بسم اللہ کریں۔اور فوراً شادی کھڑکا دیں
اگر آپ خاتون ہیں تو شادی سے پہلے... کم از کم ایک عدد مرغ کو پالتو پرندے کی طرح ایک مہینے کے لیے پالیں. اگر آپ کو ہر جگہ پر مرغ کی پھیلائی ہوئی گندگی صاف فرش پر کیچڑ میں لتھڑے پنجوں کے نشان. بے وقت کی بانگیں. دانہ دنکا نہ ملنے پر یا پھر بلاوجہ اونچی آواز میں چیخ و پکار کو آرام و سکون سے سننے اور دیکھنے کی عادت ہوجاتی ہے . بالخصوص جب پڑوس میں کسی مرغی کی کٹ کٹ کٹاک سن کر آپ کا مرغ دوڑ کر کھڑکی کے پاس کھڑا ہوجائے یہ پڑوسی مرغیوں سے تعلق بنائے اور آپ کو غصہ کی بجائے اپنے مرغ پر پیار آئے. تو آپ دیر نہ کریں اور بالکل آنکھیں بند کرکے شادی کرلیں، آپ کی شادی شده زندگی ان شاء اللہ کامیاب ہوگی۔

Offline
 

تم اب پہلے کی طرح
نہیں ہو
مگر تمہاری موجودگی کا احساس
اب پہلے سے کہیں زیادہ ہے
میں اب اکیلے میں تم سے
وہ تمام باتیں کر لیتا ہوں جو
تمہارے "اور" پوچھنے پہ
میں تم سے نہیں کہہ سکا تھا
وہ تمام رنگ جو میں نے
تمہیں تجویز کئے تھے
ان کی نظمیں بنا کر
فضا کو امانت کر دیں ہیں کہ
تمہارے وہ رنگ پہننے کے روز
وہ تمہارے دل پہ اتر جائیں گی
وہ سب دعائیں جو تم نے مجھے
پریشانیوں سے بچنے کو سکھائیں تھیں
میں وہ سب ہر دن تمہارے لئے کرتا ہوں
اور آخری خط کو اختتام سے آغاز کی طرف پڑھ لینا تو
یہ نظم تمہارے من پسند طرز تخاطب پہ ختم ہوگی۔۔

Offline
 

سرِ بام ہجر دیا بُجھا تو خبر ہوئی
سرِشام کوئی جدا ہوا تو خبر ہوئی
مرا خوش خرام ، بلا کا تیز خرام تھا
مری زندگی سے چلا گیا تو خبر ہوئی
مرے سارے حرف تمام حرفِ عذاب تھے
مرے کم سُخن نے سُخن کیا تو خبر ہوئی
کوئی بات بن کے بگڑ گئی تو پتہ چلا
مرے بےوفا نے کرم کیا تو خبر ہوئی
مرے ہمسفر کے سفر کی سمت ہی اور تھی
کہیں راستہ گُم ہوا تو خبر ہوئی
مرے قصہ گو نے کہاں کہاں سے بڑھالی بات
مجھے داستاں کا سرا ملا تو خبر ہوئی

Offline
 

مجھے پتہ ھے
آپ مجھے نہیں پڑھتے
میرا اکاؤنٹ آسیب زدہ ہوگیا ھے

Offline
 

شاموں سے کیا رشتہ ھے
سورج کی کیا لگتی ھو ۔

Offline
 

اچھے اچھوں کی حقیقت کھل جاتی ھے تب۔جب شادی کا کھاناکھل جاتا ھے

Offline
 

سنا ھے اس کے شبستان سے متصل ھے بہشت
مکیں ادھر کے بھی جلوے ادھر کے دیکھتے ھیں

Offline
 

آنگن میں گھنے پیڑ کے نیچے تیری یادیں
میلا سا لگا دیتی ہیں ۔اچھا نہیں کرتیں

Offline
 

اس کے مکھ پہ آنکھیں جیسے تاروں کے دو پھول
ٹھہری ٹھہری گہری گہری قاتل پر ۔۔۔۔۔ مقتول

Offline
 

مرے بس میں ہو تو
میں تیری نگاہوں کی ساری اداسی
ترے دل کے سب رنج آلود موسم
محبت کے رنگوں میں تبدیل کردوں۔۔۔

Offline
 

مسکرانا ایک ایسا فعل ھے۔ جس میں آپ کی ناک پھیل ، گال ابھر ، آنکھیں سکڑ ، اور دانت نمودار ہو جاتے ہیں _____________ مگر ہم پھر بھی دعا گو ہیں ۔ کہ آپ سدا مسکرائیں

Offline
 

تیری جستجو میں نکلے تو عجب سراب دیکھے
کبھی شب کو دن کہا ،کبھی دن کو خواب دیکھے
مجھے دیکھنا ہو جس کو میرے حال پر نہ جائے
میرا ذوق و شوق دیکھے میرا انتخاب دیکھے

Offline
 

پلکیں بھی چمک اٹھتی ہیں سوتے میں ہماری
آنکھوں کو ابھی خواب چھپانے نہیں آتے
شب بخیر

Offline
 

وہ بولے ۔ واؤؤؤؤؤ
میں نے لکھ دیا۔ ہ ء ی ے