Damadam.pk
Offline's posts | Damadam

Offline's posts:

Offline
 

قربتوں میں دوری آئی ھے
میں تم سے آپ ھوا ہوں

Offline
 

ہمارے بارے میں اچھی رائے رکھنے والوں کی اکثریت ہمیں اچھی طرح سے نہیں جانتی ____________!!!

Offline
 

یہ بارشیں جو روتی رہتی ہیں
کیا ان کا کوئی بچھڑ گیا ھے

Offline
 

نامور شاعر ، صحافی اور ڈرامہ نگار مُنو بھائی نے جو ٹی وی کے لیے بھی لکھتے ھیں ایک ڈرامہ سیریل ”پ سے پہاڑ“ کے نام سے لکھی ۔ یہ سیریل ایک انگریزی خیال سے مُستعار تھی جو بری طرح ناکام رھی ۔
ایک دن منو بھائی کو ایک خاتون نے فون کیا اور دونوں کے درمیان یہ مکالمہ ھُوا۔
خاتون: آپ منو بھائی بول رھے ھیں؟
مُنو بھائی: جی بول رھا ھُوں.
خاتون: ڈرامہ سیریل ”پ سے پہاڑ“ آپ ھی لکھ رھے ھیں؟
مُنو بھائی: جی میں ھی لکھ رھا ھُوں.
خاتون: تو ”د“ سے ”دُر فٹے منہ“۔
(”ھم بھی وھیں موجود تھے“ سے ایک اقتباس)
منقول

Offline
 

میں نے دیکھا تھا اُن دنوں میں اُسے
جب وہ کھلتے گُلاب جیسا تھا
اُس کی پلکوں سے نیند چھنتی تھی
اُس کا لہجہ شراب جیسا تھا
اُس کی زلفوں سے بھیگتی تھی گھٹا
اُس کا رخ ماہتاب جیسا تھا
لوگ پڑھتے تھے خدوخال اس کے
وہ ادب کی کتاب جیسا تھا
بولتا تھا زباں خوشبو کی
لوگ سُنتے تھے دھڑکنوں میں اُسے
میں نے دیکھا تھا اُن دنوں میں اُسے
ساری آنکھیں تھیں آئینے اُس کے
سارے چہروں میں انتخاب تھا وہ
سب سے گھل مل کے اجنبی رہنا
ایک دریا نما سراب تھا وہ
خواب یہ ہے ، وہ حقیقت تھا

Offline
 

یہ حقیقت ہے ، کوئی خواب تھا وہ
دِل کی دھرتی پہ آسماں کی طرح
صورتِ سایہ و سحاب تھا وہ
اپنی نیندیں اُس کی نذر ہوئیں
میں نے پایا تھا رتجگوں میں اُسے
میں نے دیکھا تھا اُن دنوں میں اُسے
جب وہ ہنس ہنس کے بات کرتا تھا
دِل کے خیمے میں رات کرتا تھا
رنگ پڑتے تھے آنچلوں میں اُسے
میں نے دیکھا تھا اُن دنوں میں اُسے
یہ مگر دیر کی کہانی ہے
یہ مگر دُور کا فسانہ ہے
اُس کے ، میرے ملاپ میں حائل
اب تو صدیوں بھرا زمانہ ہے
اب تو یوں ہے کہ حال اپنا بھی
دشتِ ہجراں کی شام جیسا ہے
کیا خبر ، اِن دنوں وہ کیسا ہے
میں نے دیکھا تھا اُن دنوں میں اُسے
جب وہ کھلتے گُلاب جیسا تھا۔

Offline
 

کیوں شکن ڈالتے ہو ماتھ پر
.
بھول کر آ گئے ہیں جاتے ہیں
شب بخیر

Offline
 

میں داستانِ وقت ہوں ، یہ اور بات ہے
اک شخص کے لئے بھی نہیں دلنشیں ہوں میں

Offline
 

مشتاق احمد یوسفی صاحب لکھتے ہیں۔
میں آفس میں آتے ہی ایک کپ چائے ضرور پیتا ہوں۔ اُس روز ابھی میں نے پہلا گھونٹ ہی بھرا تھا کہ اطلاع ملی: کوئی صاحب مجھ سے ملنا چاہتے ہیں۔
میں نے کہا: بھجوا دیجیے۔ تھوڑی دیر بعد دروازہ کھلا اور شلوار قمیض پہنے گریبان کے بٹن کھولے گلے میں کافی سارا ٹیلکم پاؤڈر لگائےہاتھوں میں مختلف قسم کی مُندریاں اور کانوں میں رِنگ پہنے ہوئے ایک نیم کالے صاحب اندر داخل ہوئے۔ سلام لیا اور سامنے بیٹھ گئے۔ ان کا ڈیل ڈول اچھا تھا، اس لیے میں نے خود کو قابو میں رکھا اور آنے کا مقصد پوچھا۔ اُس نے محتاط نظروں سے اِدھر اُدھر دیکھا‘ پھر ٹیبل پر آگے کو جھک کر بولا ''میں بھی ایک مراثی ہوں۔ میں بوکھلا گیا، کیا مطلب.؟ وہ تھوڑا قریب ہوئے اور بولے ''مولا خوش رکھے میں کافی

Offline
 

دنوں سے آپ سے ملنا چاہ رہا تھا سنا ہے آپ بھی میری طرح... میرا مطلب ہے آپ بھی لوگوں کو ہنساتے ہیں؟‘‘
میں نے جلدی سے کہا، ہاں لیکن میں مراثی نہیں ہوں۔ “اچھی بات ہے‘‘ وہ اطمینان سے بولے ''میں نے بھی کبھی کسی کو اپنی حقیقت نہیں بتائی. میرا خون کھول اٹھا۔ عجیب آدمی ہو تم، تمہیں لگتا ہے کہ میں جھوٹ بول رہا ہوں؟ یہ دیکھو میرا شناختی کارڈ... ہم یوسفزئی ہیں ۔وہ کارڈ دیکھتے ہی چہکا. “مولا خوش رکھے... وہی بات نکلی ناں.. میرا دل چاہا کہ اچھل کر اُس کی گردن دبوچ لوں‘ لیکن کم بخت ڈیل ڈول میں میرے قابو آنے والا نہ تھا۔ وہ پھر بولا مجھے نوکری چاہیے‘‘۔ میں پہلے چونکا‘ پھر غصے سے بھڑک اٹھا ''یہ کوئی کمرشل تھیٹر کا دفتر نہیں ہے‘تم نے کیسے سوچ لیا کہ یہاں مراثی بھرتی کیے جاتے ہیں؟‘‘
وہ کچھ دیر مجھے گھورتا رہا‘ پھر اپنی مندری گھماتے ہوئے بولا ''یہاں نہ سہی

Offline
 

‘ کسی دوسرے دفتر میں ہی کام دلوا دیں۔ میں کوئی سخت جواب دینے ہی والا تھا کہ اچانک میرے ذہن میں ایک اچھوتا خیال آیا اور میں مسکرا اٹھا۔ آفس بوائے سے اُس کے لیے بھی چائے لانے کے لیے کہا اور خود اُٹھ کر اُس کے ساتھ والی کرسی پر آ کر بیٹھ گیا۔ اس کی آنکھوں میں الجھن سی اُتر آئی۔ میں نے اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا، سنو! تمہیں بہت اچھی نوکری مل سکتی ہے‘ اگر تم مجھے ہنسا کے دکھا دو۔ وہ ہونقوں کی طرح میرا منہ دیکھنے لگا۔ میں نے اُس کی حالت کا مزا اٹھاتے ہوئے اُسے زور سے ہلایا ''ہیلو! ہوش کرو بتاؤ‘ یہ چیلنج قبول ہے؟؟ اُس نے کچھ دیر پھر مندری گھمائی اور نفی میں سر ہلا دیا. میں حیران رہ گیا‘ وہ مراثی ہونے کے باوجود مجھ جیسے اچھے خاصے معزز انسان سے ہار مان رہا تھا۔ میں نے وجہ پوچھی تو اُس نے عجیب سا جواب دیا ''میں نے لوگوں کو ہنسانا چھوڑ دیا ہے

Offline
 

میں اچھل پڑا ''یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ اُس نے لمبا سانس لیا اور بیزاری سے بولا ''لوگ اب ہنسنا چھوڑ چکے ہیں۔ میں نے ایک زوردار قہقہہ لگایا ''یہ تمہاری غلط فہمی ہے.. دنیا آج بھی ہنستی ہے، مزاحیہ تحریریں پڑھتی ہے‘ مزاحیہ ڈرامے دیکھتی ہے، جگتیں پسند کرتی ہے۔ اُس نے اپنی مندری نکال کر دوسری انگلی میں پہنی. اور اپنی بڑھی ہوئی شیو پر خارش کرتے ہوئے بولا ''دنیا ہنستی نہیں دوسروں کی ذلت پر خوش ہوتی ہے‘‘
میں نے پھر قہقہہ لگایا وہ کیسے؟ اُس نے قمیض کی سائیڈ والی جیب سے سستے والے سگریٹ کی مسلی ہوئی ڈبی نکالی اور میری طرف اجازت طلب نظروں سے دیکھا‘ میں نے ایش ٹرے اُس کے سامنے رکھ دی.
اُس نے شکریہ کہا اور سگریٹ سلگا کر گہرا کش لیا۔ میں اُس کےجواب کا منتظر تھا۔ تھوڑی دیر خاموشی رہی پھر اُس کی آواز آئی ''آپ کا منہ فل ست ین کے لومڑ جیسا ہے۔

Offline
 

مجھے گویا ایک کرنٹ سا لگا اور میں کرسی سے پھسل گیا۔ میری رگ رگ میں طوفان بھر گیا۔ وہ میرے دفتر میں بیٹھ کر مجھے ہی لومڑ کہہ رہا تھا‘ بات تو سچ تھی مگر بات تھی رسوائی کی۔ میرا چہرہ سرخ ہو گیا‘ اس سے پہلے کہ میں اُس پر چائے کا گرم گرم کپ انڈیل دیتا‘ وہ جلدی سے بولا ''آپ کا ایک جگری دوست شہزاد ہے ناں؟‘‘
میں پوری قوت سے چلایا ''ہاں ہے...پھر؟ وہ فوراً بولا ''اُس کی شکل بینکاک کے جمعدار جیسی ہے۔ میں نے بوکھلا کر اُس کا یہ جملہ سنا ... کچھ دیر غور کیا اور پھر بے اختیار میری ہنسی چھوٹ گئی... میں ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو گیا۔ تین چار منٹ تک آفس میں میرے قہقہے گونجتے رہے بڑی مشکل سے میں نے خود پر قابو پایا اور دانت نکالتے ہوئے کہا ''شرم کرو... وہ میرا دوست ہے۔ میری بات سنتے ہی مراثی نے پوری سنجیدگی سے کہا ''ایسی ہنسی آپ کو اپنے اوپر لگنے والی جگت پر

Offline
 

کیوں نہیں آئی؟ میں یکدم چونک اٹھا‘ ساری بات میری سمجھ میں آ گئی تھی...ہمارے معاشرے میں واقعی وہ چیز زیادہ ہنسی کا باعث بنتی ہے جس میں کسی دوسرے کی ذلت کا سامان ہو‘ یہی وجہ ہے کہ سٹیج ڈراموں اور عام زندگی میں جب ہم کسی دوسرے کو ذلیل ہوتے دیکھتے ہیں تو ہمارے دل و دماغ فریش ہو جاتے ہیں۔ کوئی بندہ چلتے ہوئے گر جائے، کسی کی گاڑی خراب ہو جائے کسی کے پیچھے کتا دوڑ لگا دے، کسی کی بس نکل جائے اور وہ آوازیں لگاتا رہ جائے تو ہماری ہنسی نہیں رکتی۔ یہی عمل اگر ہمارے ساتھ ہو اور دوسرے ہنسیں تو ہم غصے سے بھر جاتے ہیں۔
گویا ہنسنے کے لیے کسی کا ذلیل ہونا لازمی امر قرار پا چکا ہے۔ یہی رویہ ہماری زندگی کے ہر پہلو میں در آیا ہے. ہمیں اپنے سکھ سے اتنی راحت نہیں ملتی جتنے کسی کے دکھ ہمیں سکون دیتے ہیں۔
کیا ہم واقعی ایک اذیت پسند قوم بن چکے ہیں

Offline
 

جو شخص انتقام کے طریقوں پر غور کرتا رہتا ہے اس کے زخم ہمیشہ تازہ رہتے ہیں

Offline
 

شادی کے بعد "فدا خان لالہ" اور "قدوسی صاحب" کی ملاقات ہوئی۔ دونوں بغل گیر ہوئے اور ایک دوسرے کی شادی شدہ زندگی کا حال پوچھنے لگے۔
فدا خان لالہ: " سناؤ! کیسا گزر رہا ہے لائف؟
قدوسی صاحب: " الحمد للّٰہ سب فٹ ہے۔ آپس میں بہت انڈر سٹینڈنگ ہے۔ صبح ہم دونوں مل کر ناشتہ بناتے ہیں پھر باتوں باتوں میں برتن دھو لیتے ہیں پھر پیار پیار سے مل بانٹ کر کپڑے دھو لیتے ہیں۔ کبھی وہ کسی خاص ڈِش کی فرمائش کر دیتی ھے اور کبھی میں اپنی مرضی سے کچھ پکا لیتا ہوں ماشاء ﷲ میری بیوی بہت صفائی پسند ہے بس اسی وجہ سے گھر کی صفائی ستھرائی میری ذمہ داری ہے۔
تم سناؤ خان لالہ تمہاری کیسی گزر رہی ہے ؟۔"
فدا خان لالہ: او یارا ذلالت تو ہمارا بھی اتنا ہی ہو رہا ہے جتنا تمہارا لیکن ام کو یوں مِیٹھے لفظوں میں بیان کرنا نہیں آتا۔"

Offline
 

دل تانگ تانگ اے اللہ جوڑ سانگ اے
.
.
.
سجناں دا ملنامشکل مانگ اے

Offline
 

بس یہی ایپس ہے جو بتاتی ہیں آپ ایک اچھے انسان ہیں

Offline
 

“عورتوں کا دل جیتنے کے معاملے میں عامل حضرات ڈاکٹروں سے زیادہ چالاک ہوتے ہیں۔ ان کا ایک جملہ کافی ہوتا ہے کہ ٫ آپ کو نظر لگی ہے ”
مشتاق احمد یوسفی

Offline
 

اداسیاں اور بھی بڑھ جاتی ھے بند مکانوں کی
.
.
.
برسات کی شاموں میں جب مغرب کی اذاں گونجتی ھے