ایک نئے نئے وکیل کے پاس ایک سائل آیا اور اپنا مدعا کچھ یوں بیان کیا وکیل صاحب۔۔۔میری زوجہ کو ورغلانے میں میری خوشدامن کا برابر ہاتھ ھے، اور میری خوشدامن کو بھڑکانے میں میرے ھم زلف کا کردار ھے، میرا برادر نسبتی اس سارے معاملے میں غیر جانبدار ھے، جبکہ میری خواہر نسبتی صلح صفائی کے حق میں ھے وکیل صاحب ساری بات سننے کے بعد بولے۔۔۔۔ ھن توں اے ساری گل مینوں پنجابی وچ دس،،
1960 کی دہائی میں جرمن جیل میں یہ واقعہ پیش آیا ، قیدیوں کو جیل کے گارڈز کی طرف سے ظلم اور ہر لحاظ سے بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ قیدیوں میں ایک شمٹ نامی قیدی بھی شامل تھا جس کو طویل مدت تک کے لیے سزا سنائی گئی تھی لیکن اس قیدی کو جیل میں اچھی مراعات مل رہی تھیں اور محافظ اس کے ساتھ عزت اور احترام سے پیش آیا کرتے تھے۔ جس کی وجہ سے باقی قیدی یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے کہ وہ ان محافظوں کا ایک ایجنٹ ہے۔ شمٹ نے قیدیوں کو یقین دلانے کے لیے حلف اٹھایا کہ وہ ان جیسا ہی ایک قیدی ہے اور اس کا سیکیورٹی سروسز سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ لیکن کسی نے بھی اس کی بات پر یقین نہ کیا، چنانچہ قیدیوں نے کہا ، "ہم جاننا چاہتے ہیں کہ جیل کے محافظ آپ کے ساتھ ہم سے مختلف سلوک کیوں کرتے ہیں؟" شمٹ نے قیدیوں سے کہا: "ٹھیک ہے، مجھے یہ بتائیں کہ آپ اپنے رشتہ
داروں کو ہفتہ وار جو خطوط لکھتے ہیں اس میں کیا لکھ کر بھیجتے ہیں؟" سب نے ایک زبان ہوکر کہا : "ہم ان لعنتی محافظوں کے ہاتھوں جیل میں ہم پر ہونے والے ظلم اور زیادتی کی داستان کے بارے میں لکھتے ہیں-" شمٹ نے قیدیوں کو جواب میں کہا : "میں ہر ہفتے اپنی بیوی کو خط لکھتا ہوں اور خط کی آخری سطروں میں جیل کے محافظوں اور محسنوں اور ان کے حسن سلوک کا ذکر کرتا ہوں اور بعض اوقات اپنے خطوط میں کچھ محافظوں کے نام بھی لکھ دیتا ہوں اور ان کی تعریف بھی کردیتا ہوں." قیدیوں نے شمٹ کو جواب دیا : اس سب کا کیا لینا دینا جب کہ تمہیں معلوم ہے کہ ہمارے ساتھ یہاں بہت ظلم کیا جاتا ہے؟ شمٹ نے کہا کہ ذہین لوگو، ہمارے تمام خطوط اور پیغامات جیل سے اس وقت تک باہر نہیں بھیجے جاتے جب تک کہ محافظ ان کو خود پڑھ نہ لیں اور اس طرح وہ ہر چھوٹی بڑی بات کا پتہ لگا لیتے ہیں اور
خطوط میں درج باتوں کو بدل بھی دیتے ہیں۔ اگلے ہفتے قیدیوں کو یہ دیکھ کر حیرت سے شدید دھچکا لگا کہ تمام جیل گارڈز نے قیدیوں کے ساتھ پہلے سے بھی کہیں زیادہ بدترین سلوک کیا، حتی کہ شمٹ کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا گیا اور اس کے ساتھ جیل کا عملہ نہایت سختی سے پیش آیا۔ کچھ دن بعد شمٹ نے قیدیوں سے پوچھا : "تم نے اس ہفتے کے خطوط میں ایسا کیا لکھ دیا تھا؟" سب نے جواب میں کہا : "ہم نے لکھا تھا کہ شمٹ نے ہمیں ملعون محافظوں کو دھوکہ دینے اور ان کا اعتماد اور یقین حاصل کرنے کا ایک نیا طریقہ سکھایا ہے-" یہ سن کر شمٹ نے دکھ کے مارے اپنے گال پیٹ لیے اور اپنے بال پاگلوں کی طرح نوچنے شروع کردیے۔ ~ حاصل کلام :- دوسروں کی مدد کرنا اچھا ہے، لیکن یہ جاننا زیادہ ضروری ہے کہ آپ جس شخص سے بات کر رہے ہیں، وہ کس فطرت کا مالک ہے۔ ماخوذ جرمن ادب
دور کسی دیس میں ایک پرنده هوا کرتا تھا آزاد بے فکر بے نیاز ہو کر وہ کھلے آسمانوں میں اڑتا۔ ہوا میں اڑتے چھوٹے چھوٹے کیڑے پکڑ کر کھاتا اور زندگی کا لطف لیتا۔ ایک دن اسے خیال آیا کہ اسے ایسی بے فکری میں اپنی زندگی ضائع نہیں کرنی چاہیے۔ اسے ایک ذمہ دار پرندے کی حیثیت سے اپنی خوشیاں اور اپنے غم سنبھال کر رکھنے چاہئیں۔ اب وہ معصوم پرندہ پڑھنا لکھنا تو جانتا نہیں تھا کہ اپنی ڈائری لکھ لیتا۔ لیکن تھا وہ بڑا سیانا۔ اس نے سوچا کہ جب بھی اسے کوئی خوشی یا غم ملے گا، تو اسے ہمیشہ یاد رکھنے کے لیے وہ اس کی یادگار کے طور پر ایک کنکر اٹھا
کر اپنے پاس رکھ لیا کرے گا۔ یادوں کے اس خزانے کو رکھنے کے لیے اس نے ایک تھیلی لی اور جب بھی اسے کوئی چیز اچھی یا بری لگتی، وہ اسی تھیلی میں ایک نیا کنکر اس کی یادگار کے طور پر رکھ لیتا۔ ہر شام کو وہ اپنی یادوں کی پٹاری کھولتا اور اچھی یادوں والے کنکروں کو دیکھ کر خوش ہوتا اور بری یادوں کو دیکھ کر غمگین ہوتا۔ یہ اس کی ایک پختہ عادت بن گئی۔ جیسے جیسے اس کے پاس یادیں جمع ہوتی گئیں، اس کی تھیلی کا وزن بڑھتا گیا۔ وہ اب زیادہ دور تک نہ اڑ سکتا تھا۔ اور پھر ایک دن یادیں اتنی زیادہ ہو گئیں کہ وہ اڑنے سے
لاچار ہو گیا۔ وہ ابھی بھِی آزاد تھا، مگر اب وہ اڑ نہیں پاتا تھا۔ وہ بس زمین پر چلتا تھا۔ کبھی کبھار کوئی کیڑا مکوڑا نظر آ جائے تو اس کو کھا کر پیٹ کی آگ بجھا لیتا تھا۔ کبھی بارش ہو جائے یا اوس زیادہ پڑ جائے تو چونچ بھر پانی پی لیتا تھا۔ لیکن اس نے ان سب مشکلات کے باوجود اپنی یادوں سے جدا ہونا گوارا نہ کیا۔ پھر ایک دن وہ بھوک اور پیاس سے نڈھال ہوا اور اپنی یادوں کے ڈھیر پر گر کر مر گیا۔ وہاں کچھ بھی باقی نہ بچا۔ بس ایک ننھا سا پروں کا ڈھیر تھا اور کچھ بیکار سی کنکریاں۔ " دوستو! ماضی مستقبل سے ہٹ کر بہتے دریا کی طرح حال میں جینے کا فن اصل زندگی کا لطف ہوتا ہے۔ "
صرف ایک نظر تیری ، درکار ھے موسم کو ورنہ یہ گل و غنچہ ، گُلفام نہ ہو جائیں دیکھا ہی نہیں اُس نے، اس سمت عدمؔ ورنہ سب زخم نہ بھر جائیں, سب کام نہ ہو جائیں
سیّانے کہتے ہیں جس گھر کے دروازے غریبوں پر بند کر دیے جائیں وہ طبیبوں اور ڈاکٹروں کے لیے کھلے جاتے ہیں۔ لہذا صدقہ کرتے رہا کریں اپنے لیے اپنے گھر والوں کے لیے۔
ایک فوجی صاحب کی بیوی سرائیکی تھیں۔ ان فوجی صاحب کو شوق تھا بیگم کو انگلش سکھانے کا... ابتدائی طور پر دوپہر کا کھانا لنچ اور رات کا کھانا ڈنر سکھا دیا... بیگم نے کھانا لگایا اور انگلش کے دل دادہ فوجی صاحب سے بولی: گِھنو مِیا صیب، ڈنر کر گِھنو ... فوجی بولا: وئے شودی بھولی، میڈی مِٹھڑی، ایہہ ڈنر کئے نئیں لنچ اے۔ ڈوپہراں کُوں لنچ تِھیندا ہوندے ... بیگم فوراً تصحیح کرتے ہوئے بولی: وئے نامراد جاہلا، شودا ہوسِیں تُوں، جاہل ہوسِی تیڈا پَیو، شودی ہوسِی تیڈی ما۔ مر پَوویں شالا ایہہ رات دا بچیا پیا ٹُکر ہا، میں اُوہو چا آئی آں۔ ہنڑ ڈسا ایہہ لنچ اے یا پَیو تیڈے دا ڈِنر اے.