انہوں نے دل بہت چھوٹا کر لیا
چھوٹے دلوں سے محبت نہیں ہوتی
اور انہوں نے کیا کیا
محبت کو ما ر دیا
زبان کھینچ لی، لفظ کاٹ دیۓ
سوچ روندھ دی، جسم بانٹ دیۓ
کچل کر چلے گۓ جزبات سارے
پیر محبت پر بھی پڑ گۓ
پھر کہتے کیا نہ کرتے فیض
تم نے بھی انکار کیا
جیسے تھے زندہ تو تھے
یہ عشق وشق بیکار کیا
بڑی ذلت ہے عشق میں
بڑی ہمت کرنی پڑتی ہے
اتنی اتنی خوشیوں کی
بھی قیمت بھرنی پڑتی ہے
ہم جنہیں کچھ بھی یاد نہیں رہتا؛؛
تیری صورت کبھی نہیں بھولے،،،!
بعض لوگ آپ کے مرض کی دوا ہوتے ہیں اور دوائیوں سے محبت کرنا نادانی ھے__
ضرورت اور مقدار سے زیادہ دوا کا استعمال
کرنا بھی نقصان دہ ھے
باندی تے بردی او یار
تئیں دلبر دی او یار
جانے ماھی او
محض نہ جانے او یار
جے توں آویں
تے صدقے میں جاواں او یار
نام ترے دا
ورد پکاواں او یار
جند پئی سکدی آھی
تینڈڑے باجھے او یار
تئیں بن سُنجیاں
ڈسن گلزاراں او یار
ھجر ترے وچ
آھواں میں ماراں او یار
جے توں آویں تے
آوّن بہاراں او یار
جگ پیا دیندا ای
تینڈے او طعنے او یار
عشق کہانی
دے انداز او یار
من وچ وجدا
عشق دا ساز او یار
غلام فرید
دسے کی راز او یار
ایتھے سئے سئے بھل گئے
او سگڑ سیانے او یار
باندی تے بردی او یار
تئیں دلبر دی او یار
بہو اور بیٹا باہر جا رہے تھے
بہو ساس سے بولی:
ماں جی۔ چولہے تے دال رکھی اے خیال رکھنا تھلے نہ لگ جائے۔
ساس: خیال تے بیٹا میں اپنے پتر دا وی بڑا رکھیا سی
تم ہوتی تو کیسا ہوتا
تم یہ کہتی تم وہ کہتی تم اس بات پہ حیراں ہوتی تم اس با ت پہ کتنا ہنستی تم ہوتی تو ایسا ہوتا تم ہوتی تو کیسا ہوتا
بھول سکتا ہے انہیں کوئی بھی ایسے کیسے
رفتگاں دل میں بسا کرتے ہیں کیسے کیسے
وہ تو انمول تھا، نایاب تھا، اکلوتا تھا
اس کی تشبیہہ کریں ہم کسی شے سے کیسے؟
لفظوں کا استعمال حفاظت سے کرنا چاہیے
یہ ہماری پرورش کا بہترین ثبوت ہوتے ہیں
میں یہ سوچوں کہ اسے یاد کراؤں بھی تو کیا
تھی محبت تو کوئی بھول کہاں سکتا ہے
جیسپر بلیک کوئی مشہور انسان نہ تھا. نہ ہی اس میں کوئی منفرد خوبی تھی جو اسے چند افراد میں کوئی انفرادیت دیتی. وہ میرے اور آپ کے جیسے ایک عام انسان تھا. یہ عام سا بندہ جارجیا گھومنے چلا گیا. جہاز سے اترتے ہی جیسے اس کی دُنیا بدل گئی. لوگ اس کے استقبال کیلئے کھڑے تھے.
بات صرف استقبال تک ہی نہیں رہی. اسے مکمل وی آئی پی پروٹوکول دیا گیا. ایئرپورٹ میں کسی ملک کے صدر کی طرح اس سے معاملہ کیا گیا. وہ باہر نکلا تو ایک بڑی گاڑی اس کے انتظار میں تھی. پولیس کی پروٹوکول گاڑیاں اس کے آگے
پیچھے تھی. اس کیلئے سڑکوں پر ٹریفک روک دی گئی.
سڑک پر ایک بڑے بورڈ پر اس کی استقبالیہ تصویر تھی. اس کے ہوٹل کی بجائے اسے ایک لگژری ہوٹل لے جایا گیا. اگلے دن ملک کے وزیراعظم نے اس سے ملاقات کی. اس کے ساتھ چائے پی اور نیشنل ٹی وی پر یہ مناظر دکھائے گئے. آپ سوچ رہے ہوں گے آخر کیوں..؟ جیسپر بلیک بھی یہی سوچ رہا تھا.
پھر اسے بتایا گیا وہ اس ملک کا سیاح نمبر 600 ملین ہے. جارجیا نے سیاحت میں چھ سو ملین پورے کرنے والی شخصیت کو یہ سرپرائز استقبال دیا. ایسا استقبال جسے وہ زندگی بھر پھر بھول نہ پائے. جیسپر بلیک اسے واقعی بھول نہ سکا. وہ
پھر جارجیا میں ہی رہنے لگا.
ہمارے ملک میں سرکاری افسران کو یہ شاہی پروٹوکول ملتا ہے. یہ بھی عام سے انسان ہوتے ہیں. کچھ سرکاری افسران کے بچپن پر ہم اور آپ گواہ ہیں جب وہ خود کو عام انسان ہی سمجھتے تھے. لیکن یہ پروٹوکول چونکہ ان کو یہاں روزانہ ملتا ہےتو اکثریت سرکاری افسران پھر خود کو واقعی بادشاہ سمجھ کر ہمیں رعایا سمجھنے لگتی ہے.
جیسپر بلیک اور ہمارے بادشاہوں میں البتہ ایک فرق اور بھی ہے. جیسپر بلیک کو جہاں ایک دن کا پروٹوکول ملا تھا اسے اُس نے اپنا وطن مان لیا. ہمارے والے زندگی بھر یہ پروٹوکول لے کر بھی اسے اپنا وطن نہیں مانتے. ریٹائر ہوتے ہی یہاں سے بھاگ جاتے ہیں
ایک خدا ہی تو ہے جس کے ساتھ ہر بات بلا جھجک کی جا سکتی ہے۔۔۔
میں چاہتا ہوں!!!
اس بڑے شہر کے...
بڑے بازار میں!!!
ادبی کتابوں کی ایک بڑی دکان کھول دوں...
اور روزانہ کھلی چھوڑ کر!!!
شام کو صرف یہ پتا کرنے جاؤں...
کہ کوئی کتاب چوری ہوئی بھی کہ نہیں!!!
اگر ہوئی تو خوشی سے رقص کروں!!!... ۔
۔
دوسری دنیا کے الفاظ
ہم نے چہرے پر مسکراہٹ لا کر
۔
۔
۔
آئینوں کو ہمیشہ گمراہ رکھا ہے
میں بس میں بیٹھا روانگی کا انتظار کررہا تھا کہ ایک آدمی کھڑکی کے پاس آکر بڑی آہستگی سے بولا بابو بھوک لگی ہے کچھ مہربانی کردو_______۔
مجھے اسکی شکل کچھ جانی پہچانی سی لگی۔ غور سے دیکھا تو میں حیران ہو کر اس سے پوچھ بیٹھا تم وہی تو نہیں ہو جس نے وہ کتاب لکھی تھی "پیسے کمانے کے سو آسان طریقے_______" ؟
اس نے میرے قریب آکر سرگوشی کی "بلکل صحیح پہچانا"
میں نے کہا پھر تم اس حال میں ______؟
اس نے کہا ,,, اُن سو طریقوں میں سے ایک طریقہ یہ بھی ہے۔"
تم نے ہاتھ کیا اٹھا لیا محبت سے
محبت نے کتنوں پر ہاتھ اٹھا دیا
جناب انور مسعود اور منیر نیازی ایک مشاعرے سے واپسی پر خاموش بیٹھے تھے ۔۔۔
بات کرنے کی غرض سے انور مسعود صاحب نے کہا۔۔۔
منیر صاحب آپ کو پتا ہے۔۔۔ انسانی جسم میں دو ایسی چیزیں ہیں ۔ جن کو کاٹو تو خون نہیں نکلتا۔۔۔۔
ایک ناخن۔۔۔ اور دوسرے بال۔۔۔
منیر نیازی صاحب کُچھ دیر خاموش رہے پھر بولے۔۔
“ انور۔۔۔ تُوں ہجے ساڈے پنڈ دا نائی نئیں ویکھیا”
تری آنکھوں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے ۔
فیض نے یہ کچھ سوچ کر کہا ہوگا۔
اور راحت اندوری نے بھی کہا
اسکی کالی آنکھوں میں انتر منتر سب
مگر جو جون نے کہا وہ توانداز ہی الگ ہے
تری آنکھیں بھی کیا مصیبت ہیں
میں کوئی بات کہنے آیا تھا۔
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain