ذکر کرتی تھی ہر جگہ تیرا
میں نے خوشبو کے کان کھینچے ہیں
اسکے پاس نقوش و نگار جیسی عارضی چیزوں کی خوبصورتی نہ تھی، بلکہ
اس کا قلب خوبصورت تھا،
اس کی روح خوبصورت تھی۔
اور جب کوئی اس کو دیکهتا یا جانچتا، تو بےاختیار کہہ اٹھتا:
"من در عشق باشما ہستم
"مجھے تم سے محبت ہو گئی ہے
مثبت سوچنا ایک کمال ہے اور
منفی سوچنا ایک مرض ہوتا ہے۔
شب بخیر
تیرے ہجر میں پتہ چلا
میری عمر کتنی دراز ہے
الفاظ میں اظہارِ محبت کے طریقے
خود عشق کی نظروں میں بھی معیوب رہے ہیں
تارڑ صاحب آلو بخارے کسی راہگیر نے آواز کسی
میں نے پیچھے مڑکر دیکھنا مناسب نہ سمجھا کہ پتہ نہیں کون ناہنجارہے جو دن دہاڑ مجھے آلو بخارے کے لقب سے نواز رہا ہے ۔زیادہ سے زیادہ یہی کر سکتا تھا کہ موٹرسائیکل روکتا اور فٹ پاتھ پر چلتے لوگوں سے دریافت کرتا کہ صاحبو آپ میں سے وہ کون بدتمیز شخص ہے جس نے راہ چلتے مجھے آلو بخارہ کہا ہے اول تو سب لوگ مسکراتے اور ان میں وہ شخص بھی شامل ہوتا جس نے مجھے اس القاب سے نوازا تھا اور ظاہر ہے مسکراتے ہی چلے جاتے اور اگر بفرض محال وہ شخص اپنے جرم کا اقرار کر بھی لیتا تو میں اس کا کیا بگاڑ سکتا تھا،یہی کہہ سکتا تھا کہ بھئی آپ کو شرم نہیں آتی ایک شریف آدمی کو آلو بخارہ کہتے ہوئے اور آپ خود آلو بخارے ہوں گے۔چنانچہ میں پیچھے مڑے بغیر
اپنے کان لپیٹ کرمائل سفر رہا
بالآخر جب گھر سامنے آیا تو میں نے اپنے ایکسیلڑ کو زور زور سے گھمایا تا کہ انجن کی گھوں گھوں کی آواز سن کر بچوں میں سے کوئی باہر آئے اور گیٹ کھولے ہارن اس لئے نہ بجایا کہ وہ بجتا نہ تھا بیٹری بے حدکمزور ہوچکی تھی خاصی دیر بعد میری بیٹی قرةالعین باہر آئی اور مجھے دیکھتے ہی کہنے لگی ابو آلوبخارے چنانچہ میں نے جلدی سے موٹرسائیکل سٹینڈ پر کھڑاکیا اور عینی پر برس پڑا اگر ابو صبح کے گئے ہوئے شام کو خیر سے آجائیں تو انہیں آلو بخارہ کہتے ہیں ؟کتنی بری بات ہے بس آج سے پاری بند ،ٹافیاں بند اور خبردار جو میرے ساتھ بات کی تو میں بے حد ناراض ہوں اور غصے میں ہوں اور اتنی دیر میں میری بیگم باہر آگئیں اور چڑھی ہوئی تیوڑی کو مزید چڑھا کر بولیں خواہ مخواہ کیوں ڈانٹ رہے عینی کو ؟
”کیوں عینی ؟اس نے حیرت سے بچی کی طرف دیکھا عینی
نے اس قسم کی شکل بنا رکھی تھی جس قسم کی شکل پکار پکار کہہ رہی ہوتی ہے کہ مجھے ڈانتے ہو شرم نہیں آتی چھوٹی سی بچی کو ڈانتے ہوئے اور میں ابھی رونے والی ہوں۔
عینی آپ نے کیا کہا تھا ابوکو میری بیگم نے پھر پوچھا۔
امیّ عینی منہ بسورتے ہوئے بولی میں نے آج صبح جب ابو جارہے تھے تو ان سے کہا تھا کہ واپسی پر میرے لئے آلوبخارا لے کرآنا․․․اب آئے ہیں تو میں نے صرف یہ کہا ہے کہ ابو آلوبخارے بس امیّ یہی کہا تھا۔
اوہو “میں جہاں تھا وہیں بیٹھ گیا ۔عینی درست کہ رہی تھی اس نے آج صبح مجھ سے آلو بخارے لانے کی فرمائش کی تھی․․ اور میں نے بطور خاص گوالمنڈی سے ایک کلو آلوبخارا خرید کر لفافے میں ڈال کر کیرئرکے پیچھے بڑے اہتمام سے باندھا تھا۔
بالکل آلو بخارے عینی ابھی دیتا ہوں میں نے کیریر کی طرف دیکھا تو وہاں ایک پھٹا ہوا لفافہ میرا منہ چڑا
رہا تھا۔ہوا یہ کہ آلوبخاروں کے پچکنے سے لفافہ راستے میں پھٹ گیا اور وہ ایک ایک کرکے مال روڈ اور نہر کے کنارے گرتے چلے گئے۔کوئی یہاں گراکوئی وہاں گرا۔اور وہ تمام حضرات جو تارڑ صاحب آلوبخارے کے نعرے لگارہے تھے دراصل مجھے خبردار کررہے تھے کہ تمہارے آلوبخارے گررہے ہیں اور میں ان کی آوازوں پر کان دھرے بغیر سفر کرتا رہا۔اور اب اپنی بیٹی کے سامنے شرمندہ کھڑا تھا۔میں نے اپنے آپ کو سچ مچ ہی ایک آلوبخارا محسوس کیا ۔میں ایک ایسی قوم کی طرح تھا جو اپنا درخت سفر باندھتی ہے۔سفر کا آغاز کرتی ہے اور اس کی تہذیب اخلاقی اودار نظریات ایک ایک کر کے گرتے چلے جاتے ہیں ۔کچھ لوگ آواز دیتے ہیں کہ دیکھو تم بہت کچھ کھورہے ہو لیکن وہ ان آوازوں پر کان نہیں دھرتی اور بالآخر جب منزل پر پہنچتی ہے تو اس کے ہاتھ خالی ہوتے ہیں ․․بالکل میری طرح۔
اکثر کہا جاتا ہے کہ محبت صرف ایک بار ہوتی ہے، بار بار نہیں. اگر کسی کو پھر سے محبت ہوجائے تو وہ کیا کرے؟ کیا ایسا شخص مجرم ہے جو دوبارہ چاہنے کی، پسند کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے؟ ایک شخص ایک انسان سے بے تحاشا محبت کر لیتا ہے تو بعد میں اسکے دل کی زمیں بنجر کیسے ہو جاتی ہے؟ کیا بارش بار بار نہیں برستی؟ کیا آگ بجھ کر پھر سے نہیں لگ سکتی؟ کیا پیاس جی بھر کے پانی پی لینے کے بعد کبھی دوبارہ نہیں لگتی؟
میر ظفراللہ خان جمالی وزیراعظم بنے تو کچھ دن بعد جماعتِ اِسلامی کی قیادت سے مِلنے منصُورہ گئے۔
دورانِ ملاقات اُنہوں نے قاضی حسین احمّد سے پُوچھا: قاضی صاحب! مجھے ایسا کون سا کام کرنا چاھیے جس سے اِس مُلک کا بھلا ھو؟۔
قاضی صاحب نے جواب دیا: جو کام بھی کریں ، بس فُل میرٹ پر کریں۔
یہ سُن کر جمالی صاحب نے قاضی صاحب کی طرف مُسکراتے ھُوئے دیکھا اور ایک تاریخی جُملہ کہا: “میں تو خود بھی میرٹ پر وزیراعظم نہیں بنا”
اور محفل میں ایک قہقہہ گُونج اُٹھا۔
سنو۔۔۔
ناراض ہو ہم سے۔۔؟
مگر ہم وہ ہیں جن کو تو
منانا بھی نہیں آتا۔۔!
کسی نے آج تک ہم سے۔۔
محبت جو نہیں کی ہے۔۔!!!
محبت کس طرح ہوتی۔۔؟
ہمارے شہر کے اطراف میں تو
سخت پہرہ تھا خزاؤں کا۔۔
اور اسی شہرِ پریشاں کی فصیلیں
زرد بیلوں سے لدی تھیں۔۔
اور اُن میں نہ کوئی خوشبو تھی،
نہ کوئی پھول تم جیسا۔۔!
مہک اٹھتے ہمارے دیدہ و دل
جس کی قربت سے۔۔!
ہم ایسے شہر کی سنسان گلیوں میں
کسی سوکھے ہوئے ویران
پتّے کی طرح سے تھے۔۔
کہ جب۔۔۔
ظالم ہوا ہم پر قدم رکھتی
تو اس کے پاؤں کے نیچے،
ہمارا دم نکل جاتا۔۔!!
مگر،
پت جھڑ کا وہ ویران موسم۔۔
سُنا ہے ٹل چکا اب تو۔۔
مگر جو ہار ہونا تھی،
سو وہ تو ہو چکی ہم کو۔۔
سنو۔۔!!
ہارے ہوئے لوگوں سے تو
روٹھا نہیں کرتے
الطیبــون فی حیاتکـ رزق
" اچھے لوگ آپکی زندگی میں رزق کی طرح ہیں۔ "
ماخوذ
How do I believe in love? The person I believed to be my everything finally he took my life.
میں محبت میں کیسے یقین کروں؟ جس شخص کو میں اپنا سب کچھ سمجھتا تھا آخر میں اس نے میری جان لے لی۔
آپکے والد کی ہر چیز مقدس ہے،یہاں تک کہ ان کے انکی جوتی بھی جس کو دروازے کے سامنے دیکھ کر آپ کو تحفظ کا احساس ہوتا ہے ۔
قاصد نے کہا یاد وہ کرتے ہیں آپ کو
ہم خوش ھوئے تو کہنے لگا کوس رہے تھے
ایک جواں سالہ بیوہ خاتون اپنے اکلوتے بچے کے حوالے سے سکول میں شکایات کا انبار لے کر تشریف لائیں.
اسکول سٹاف جب خاتون کو مطمئن نہیں کر پایا تو انہیں پرنسپل صاحب کے پاس بھیج دیا جو کہ ایک پروفیسر تھے.
خاتون اندر آئیں اور غصے میں شروع ہو گئیں خوب گرجی ،برسیں اور اپنے بچے کو سکول میں درپیش مسائل کا بے باکانہ اظہار کیا.پروفیسر صاحب پرسکون بیٹھ کر خاتون کی گفتگو سنتے رہے اور ایک بار بھی قطع کلامی نہیں کی.
جب خاتون اپنی بات مکمل کر چکیں تو پروفیسر صاحب کچھ یوں گویا ہوئے دیکھئے خاتون مت سمجھئے گا کہ میں آپ کے حسن کے رعب میں آ گیا ہوں، یا یہ کہ آپ کے چاند جیسے چہرے نے مجھ پر جادو کر دیا ہے، اور ایسا بھی نہیں ہے کہ میں آپ کی جھیل جیسی نشیلی آنکھوں میں کھو گیا ہوں، اور نا ہی آپ کی ناگن جیسی زلفوں نے میرے دل کو ڈسا
ہے.آپ یہ سوچئے گا بھی مت کہ آپ کے گال کے کالے تل نے میری دل کے تار بجا دئیے ہیں، اور آپ کی مترنم آواز نے میری دھڑکنیں تہہ و بالا کر دی ہیں .میں غالب نہیں ہوں جو آپ کے شیریں لبوں سے گالیاں کھا کر بد مزہ نہ ہوں اور نہ ہی میں میر ہوں کہ آپ کی لبوں کی نازکی کو گلاب کی پنکھڑی سے تشبیہ دے دوں.نہ ہی میں نے آپ کی تمام تر گفتگو اس نیت سے سنی کہ آپ کو بولتے ہوئے سنتا رہوں، اور کچھ دیر آپ کو اپنے سامنے بٹھا کر تکتا رہوں.میرا یہ مزاج نہیں ہے کہ میں کسی خاتون کو متاثر کرنے کی کوشش کروں. میں اپنے سٹاف سے پوچھوں گا کہ ایک حسین و جمیل خاتون کو برہم کیوں کیا گیا ؟.خاتون جو اتنی دیر سے پروفیسر صاحب کو غور سے سن رہی تھی, خاموشی سے اٹھی اور باہر چلی گئیں.آج وہ خاتون پروفیسر صاحب کی بیوی ہیں اور اسکول کی وائس پرنسپل ہیں.بندہ ایویں ہی پروفیسر نہیں بن جاتا.
اُس کے دشمن ہیں بہت آدمی اچھّا ہوگا
وہ بھی میری ہی طرح شہر میں تنہا ہوگا
اِتنا سچ بول کہ ہونٹوں کا تبسّم نہ بُجھے
روشنی ختم نہ کر آگے اندھیرا ہوگا
پیاس جس نہر سے ٹکرائی وہ بنجر نکلی
جس کو پیچھے کہیں چھوڑ آئے وہ دریا ہوگا
مِرے بارے میں کوئی رائے تو ہوگی اُس کی
اُس نے مجھ کو بھی کبھی توڑ کے دیکھا ہوگا
ایک محفل میں کئی محفلیں ہوتی ہیں شریک
جس کو بھی پاس سے دیکھو گے اکیلا ہوگا
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain