Damadam.pk
Offline's posts | Damadam

Offline's posts:

Offline
 

ماموں کا اپنا ایک فلسفہ تھا وہ مجھ سے اکثر کہا کرتے تھے
لوگوں کو اپنے سے اچھا صلہ لے لینے دو، اُنھیں تمھیں ٹھگ لینے دو
اگر تم اُن سے جھگڑا نہیں کرو گے، مباحثہ نہیں کرو گے۔ تو وہ صلح جو ہو جائیں گے
ہتھیار پھینک دیں گے۔ اچھے اور شریف ہو جائیں گے
اور یقین کرو بیٹا، انسان اچھا اور شریف ہونا چاہتا ہے لیکن اُس کو موقع نہیں ملتا۔ کم از کم تم اُنہیں اچھا ہونے کا موقع ضرور فراہم کرنا-
اشفاق احمد زاویہ " خدا سے زیادہ جراثیموں کا خوف

Offline
 

سورۂ یوسف سکھاتی ہے۔ بیمار صحت یاب ہو جاتے ہیں۔ کھوئے ہوئے مل جاتے ہیں۔ مُشکلیں آسانیوں میں بدل جاتی ہیں۔ غم خوشیوں میں بدل جاتے ہیں۔ اور بیشک سب اللّٰه ربّ العزت کے حکم سے ہوتا ہے۔
شب بخیر

Offline
 

اگر تم مجھ سے پوچھتے ہو کہ تم کتنی بار میرے خیال میں آئے ، تو میں کہوں گا فقط ایک بار کیوں کہ تم آئے پھر کبھی گئے ہی نہیں

Offline
 

لفظ چنتا ہوں تو مفہوم بدل جاتا ہے
اک نہ اک خوف بھی ہے جرأت اظہار کے ساتھ

Offline
 

اس کا کہنا تھا تیرے بارے مجھے جاننا ہے
میں نہیں جانتا خود آئی یا پھر بھیجی گئی
ہنستے چہرے میری کمزوری ہیں جب جان چکی
پھر تو وہ ہنستی گئی، ہنستی گئی، ہنستی گئی۔

Offline
 

بن بلائے آ جاتا ہے سوال نہیں کرتا
کیوں تیرا خیال آخر میرا خیال نہیں کرتا

Offline
 

عمر بھی مسلسل گھٹ رہی ہے اور تم بھی ہمیشہ خفا رہتے ہو

Offline
 

ﻣﻮﻻﻧﺎ ﺟﻼﻝ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﺭﻭﻣﯽ ﺭﺣﻤﺔ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ
ﺍﯾﮏ ﮐﺎﻧﭩﺎ ﺭﻭﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﭘﺎﮎ ﺳﮯ ﮐﮩﮧ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺻﻠﺤﺎﺀﮐﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﺳﮯ ﺳﻨﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺁﭖ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺳﺘﺎﺭ ﺍﻟﻌﯿﻮﺏ ﮨﮯ ﯾﻌﻨﯽ ﻋﯿﺒﻮﮞ ﮐﻮ ﭼﮭﭙﺎﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﻟﯿﮑﻦ ﺁﭖ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺗﻮ ﮐﺎﻧﭩﺎ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﻋﯿﺐ ﮐﻮﻥ ﭼﮭﭙﺎﺋﮯ ﮔﺎ؟
ﻣﻮﻻﻧﺎ ﺭﻭﻣﯽ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ :
ﺍﺱ ﮐﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﺣﺎﻝ ﮐﯽ ﺩﻋﺎ ﭘﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﭘﮭﻮﻝ ﮐﯽ ﭘﻨﮑﮭﮍﯼ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﺩﯼ ﺗﺎﮐﮧ ﻭﮦ ﭘﮭﻮﻝ ﮐﮯ ﺩﺍﻣﻦ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﺎ ﻣﻨﮧ ﭼﮭﭙﺎﻟﮯ۔
ﺑﺘﺎﺋﯿﮯ ﮔﻼﺏ ﮐﮯ

Offline
 

ﭘﮭﻮﻝ ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﮐﺎﻧﭩﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ؟
ﻣﮕﺮ ﺑﺎﻏﺒﺎﻥ ﺍﻥ ﮐﺎﻧﭩﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﺎﻍ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﻧﮑﺎﻟﺘﺎ , ﺑﺎﻍ ﺳﮯ ﺻﺮﻑ ﻭﮦ ﮐﺎﻧﭩﮯ ﻧﮑﺎﻟﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺧﺎﻟﺺ ﮐﺎﻧﭩﮯ ﮨﻮﮞ ﺟﻨﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﺴﯽ ﭘﮭﻮﻝ ﮐﮯ ﺩﺍﻣﻦ ﻣﯿﮟ ﭘﻨﺎﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﯽ .
ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺟﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﮍﺗﮯ ﺍﻥ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺗﻮ ﺧﻄﺮﮦ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺟﻮ ﮔﻨﮩﮕﺎﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﺍﻣﻦ ﺳﮯ ﺟﮍ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺑﺮﮐﺖ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻭﺍﻟﮯ ﺑﻦ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﮐﺎﻧﭩﮯ ﺗﻮ ﭘﮭﻮﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﺍﻣﻦ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻧﭩﮯ ﮨﯽ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﻟﻠﮧ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﭘﮭﻮﻝ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺻﺤﺒﺖ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﺎﻧﭩﮯ ﺑﮭﯽ ﭘﮭﻮﻝ ﺑﻦ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ

Offline
 

کون جانے کہ نئے سال میں تو کس کو پڑھے
تیرا معیار بدلتا ہے نصابوں کی طرح

Offline
 

ایک دن کہنے لگے
"میں تم سے اس لیے بات نہیں کرتا کہ اخلاقی ،معاشرتی،سیاسی مسائل پر گفتگو کر سکوں
میں تو تم سے اس لیے بات کرتا ہوں تاکہ کچھ دیر کے لیے دنیا کے جھمیلوں کو بھلا سکوں، ہر فکر سے آزاد ہو سکوں تم میرے ساتھ صرف مسکرایا کرو

Offline
 

چاند خاموش جا رہا تھا کہیں
ہم نے بھی اس سے کوئی بات نہ کی

Offline
 

لڑکی : میں تم سے پیارکرتی ہوں
لڑکا میں بھی
لڑکی : تم مجھ سےکتناپیارکرتےہو
لڑکا : جتنا تم مجھ سےکرتی ہو
لڑکی دفع ہوجاؤ میں سمجھی تم مجھ سے سچا پیار کرتے ہو کمینے

Offline
 

ہم نہ مجنوں ہیں نہ فرہاد کے کچھ لگتے ہیں
ہم کسی دشت تماشے میں نہیں آئیں گے

Offline
 

کسی گاوں کا ایک لڑکا اپنی سادگی کیلئے مشہور تھا. اس کے سامنے لوگ ہزار اور دس کا نوٹ رکھتے کہ کونسا نوٹ بڑا ہے یا کونسا لینا ہے. وہ دس کا نوٹ اٹھالیتا. سب دیکھنے والے قہقہے لگاتے اس کی سادگی پر ہنستے. گاوں والوں نے اسے کھیل ہی بنا لیا. اسے دیکھتے ہی لوگوں کو یہ کھیل یاد آجاتا.
ایک دن کسی اجنبی نے اسے بٹھایا اور سمجھانے کی کوشش کی. دیکھو اس تصویر اور اس رنگ کے نوٹ کی قیمت زیادہ ہے. تم اس سے زیادہ چیزیں خرید سکتے ہو. لڑکے نے آنکھ مار کر کہا مجھے سب پتہ ہے. لیکن جس دن میں نے بڑا نوٹ اٹھالیا اس دن یہ کھیل بند ہو جائے گا. مجھے دس دس کے نوٹ بھی پھر نہیں ملیں گے.
ہماری اکثریت لیکن گاوں کے اس سادہ لڑکے

Offline
 

سے زیادہ سادہ ہوتی ہے. وہ زندگی بھر دوسروں کو یہ یقین دلانے میں گزار جاتے ہیں کہ مجھ سے زیادہ عقل مند کوئی نہیں. لوگ بھی پھر سادگی کی بجائے ان کی عقل آزمانے پر تل جاتے ہیں. کنفیوشس نے کہا تھا ہم دو زندگیاں جیتے ہیں. دوسری زندگی اس دن شروع ہوتی ہے جس دن ہمیں پتہ چلتا ہے زندگی بس ایک بار ہی ملتی ہے.
آپ اپنے آس پاس دیکھیں وہ لوگ جو معاشرے میں بے وقوف مشہور ہوتے ہیں. بہت سادہ ہوتے ہیں ان پر زندگی بڑی مہربان ہوتی ہے. جبکہ

Offline
 

وہ جو عقل کے دعویدار ہوتے ہیں جو دعویٰ کرتے ہیں وہ بڑے چالاک ہیں ان کی زندگی ایک مشقت بن جاتی ہے. یہ جو سادہ لوگ ہوتے ہیں یہ بڑے عقل مند ہوتے ہیں. یہ اس بے وقوف معاشرے کو سمجھ لیتے ہیں. وہ ان کے معیار پر پورا اترنے کی کوشش ہی نہیں کرتے.
بقول کنفیوشس یہی لوگ دوسری زندگی جیتے ہیں. وہ جو مانتے ہیں یہ زندگی بس ایک بار ہی ملتی ہے اسے دوسروں کو متاثر کرنے پر خرچ نہ کرو. نہ یہ دوسروں کے دئے خوف مانتے ہیں. یہ اس ایک زندگی کیلئے بے دھڑک فیصلے کرتے ہیں. ان کو کوئی ڈر نہیں ہوتا کہ ناکامی پر لوگ ان کے اوپر ہنسیں گے.

Offline
 

ہماری محبت افواہ ہے
جو کسی نے نہیں پھیلائی
تم پھیلاؤ

Offline
 

محبت اور انا کا سسٹم کچھ ایسا ہے کہ اگر ایک بڑھے گی تو دوسری کم ہوگی دونوں بیک وقت بڑھ یا گھٹ نہیں سکتے

Offline
 

تمھارے بعد سلیقے سے ھم نے رکھے ہیں
یہاں خیال، وہاں یاد، اس طرف آنکھیں