ماموں کا اپنا ایک فلسفہ تھا وہ مجھ سے اکثر کہا کرتے تھے
لوگوں کو اپنے سے اچھا صلہ لے لینے دو، اُنھیں تمھیں ٹھگ لینے دو
اگر تم اُن سے جھگڑا نہیں کرو گے، مباحثہ نہیں کرو گے۔ تو وہ صلح جو ہو جائیں گے
ہتھیار پھینک دیں گے۔ اچھے اور شریف ہو جائیں گے
اور یقین کرو بیٹا، انسان اچھا اور شریف ہونا چاہتا ہے لیکن اُس کو موقع نہیں ملتا۔ کم از کم تم اُنہیں اچھا ہونے کا موقع ضرور فراہم کرنا-
اشفاق احمد زاویہ " خدا سے زیادہ جراثیموں کا خوف
سورۂ یوسف سکھاتی ہے۔ بیمار صحت یاب ہو جاتے ہیں۔ کھوئے ہوئے مل جاتے ہیں۔ مُشکلیں آسانیوں میں بدل جاتی ہیں۔ غم خوشیوں میں بدل جاتے ہیں۔ اور بیشک سب اللّٰه ربّ العزت کے حکم سے ہوتا ہے۔
شب بخیر
اگر تم مجھ سے پوچھتے ہو کہ تم کتنی بار میرے خیال میں آئے ، تو میں کہوں گا فقط ایک بار کیوں کہ تم آئے پھر کبھی گئے ہی نہیں
لفظ چنتا ہوں تو مفہوم بدل جاتا ہے
اک نہ اک خوف بھی ہے جرأت اظہار کے ساتھ
اس کا کہنا تھا تیرے بارے مجھے جاننا ہے
میں نہیں جانتا خود آئی یا پھر بھیجی گئی
ہنستے چہرے میری کمزوری ہیں جب جان چکی
پھر تو وہ ہنستی گئی، ہنستی گئی، ہنستی گئی۔
بن بلائے آ جاتا ہے سوال نہیں کرتا
کیوں تیرا خیال آخر میرا خیال نہیں کرتا
عمر بھی مسلسل گھٹ رہی ہے اور تم بھی ہمیشہ خفا رہتے ہو
ﻣﻮﻻﻧﺎ ﺟﻼﻝ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﺭﻭﻣﯽ ﺭﺣﻤﺔ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ
ﺍﯾﮏ ﮐﺎﻧﭩﺎ ﺭﻭﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﭘﺎﮎ ﺳﮯ ﮐﮩﮧ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺻﻠﺤﺎﺀﮐﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﺳﮯ ﺳﻨﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺁﭖ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺳﺘﺎﺭ ﺍﻟﻌﯿﻮﺏ ﮨﮯ ﯾﻌﻨﯽ ﻋﯿﺒﻮﮞ ﮐﻮ ﭼﮭﭙﺎﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﻟﯿﮑﻦ ﺁﭖ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺗﻮ ﮐﺎﻧﭩﺎ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﻋﯿﺐ ﮐﻮﻥ ﭼﮭﭙﺎﺋﮯ ﮔﺎ؟
ﻣﻮﻻﻧﺎ ﺭﻭﻣﯽ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ :
ﺍﺱ ﮐﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﺣﺎﻝ ﮐﯽ ﺩﻋﺎ ﭘﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﭘﮭﻮﻝ ﮐﯽ ﭘﻨﮑﮭﮍﯼ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﺩﯼ ﺗﺎﮐﮧ ﻭﮦ ﭘﮭﻮﻝ ﮐﮯ ﺩﺍﻣﻦ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﺎ ﻣﻨﮧ ﭼﮭﭙﺎﻟﮯ۔
ﺑﺘﺎﺋﯿﮯ ﮔﻼﺏ ﮐﮯ
ﭘﮭﻮﻝ ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﮐﺎﻧﭩﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ؟
ﻣﮕﺮ ﺑﺎﻏﺒﺎﻥ ﺍﻥ ﮐﺎﻧﭩﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﺎﻍ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﻧﮑﺎﻟﺘﺎ , ﺑﺎﻍ ﺳﮯ ﺻﺮﻑ ﻭﮦ ﮐﺎﻧﭩﮯ ﻧﮑﺎﻟﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺧﺎﻟﺺ ﮐﺎﻧﭩﮯ ﮨﻮﮞ ﺟﻨﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﺴﯽ ﭘﮭﻮﻝ ﮐﮯ ﺩﺍﻣﻦ ﻣﯿﮟ ﭘﻨﺎﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﯽ .
ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺟﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﮍﺗﮯ ﺍﻥ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺗﻮ ﺧﻄﺮﮦ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺟﻮ ﮔﻨﮩﮕﺎﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﺍﻣﻦ ﺳﮯ ﺟﮍ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺑﺮﮐﺖ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻭﺍﻟﮯ ﺑﻦ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﮐﺎﻧﭩﮯ ﺗﻮ ﭘﮭﻮﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﺍﻣﻦ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻧﭩﮯ ﮨﯽ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﻟﻠﮧ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﭘﮭﻮﻝ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺻﺤﺒﺖ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﺎﻧﭩﮯ ﺑﮭﯽ ﭘﮭﻮﻝ ﺑﻦ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ
کون جانے کہ نئے سال میں تو کس کو پڑھے
تیرا معیار بدلتا ہے نصابوں کی طرح
ایک دن کہنے لگے
"میں تم سے اس لیے بات نہیں کرتا کہ اخلاقی ،معاشرتی،سیاسی مسائل پر گفتگو کر سکوں
میں تو تم سے اس لیے بات کرتا ہوں تاکہ کچھ دیر کے لیے دنیا کے جھمیلوں کو بھلا سکوں، ہر فکر سے آزاد ہو سکوں تم میرے ساتھ صرف مسکرایا کرو
چاند خاموش جا رہا تھا کہیں
ہم نے بھی اس سے کوئی بات نہ کی
لڑکی : میں تم سے پیارکرتی ہوں
لڑکا میں بھی
لڑکی : تم مجھ سےکتناپیارکرتےہو
لڑکا : جتنا تم مجھ سےکرتی ہو
لڑکی دفع ہوجاؤ میں سمجھی تم مجھ سے سچا پیار کرتے ہو کمینے
ہم نہ مجنوں ہیں نہ فرہاد کے کچھ لگتے ہیں
ہم کسی دشت تماشے میں نہیں آئیں گے
کسی گاوں کا ایک لڑکا اپنی سادگی کیلئے مشہور تھا. اس کے سامنے لوگ ہزار اور دس کا نوٹ رکھتے کہ کونسا نوٹ بڑا ہے یا کونسا لینا ہے. وہ دس کا نوٹ اٹھالیتا. سب دیکھنے والے قہقہے لگاتے اس کی سادگی پر ہنستے. گاوں والوں نے اسے کھیل ہی بنا لیا. اسے دیکھتے ہی لوگوں کو یہ کھیل یاد آجاتا.
ایک دن کسی اجنبی نے اسے بٹھایا اور سمجھانے کی کوشش کی. دیکھو اس تصویر اور اس رنگ کے نوٹ کی قیمت زیادہ ہے. تم اس سے زیادہ چیزیں خرید سکتے ہو. لڑکے نے آنکھ مار کر کہا مجھے سب پتہ ہے. لیکن جس دن میں نے بڑا نوٹ اٹھالیا اس دن یہ کھیل بند ہو جائے گا. مجھے دس دس کے نوٹ بھی پھر نہیں ملیں گے.
ہماری اکثریت لیکن گاوں کے اس سادہ لڑکے
سے زیادہ سادہ ہوتی ہے. وہ زندگی بھر دوسروں کو یہ یقین دلانے میں گزار جاتے ہیں کہ مجھ سے زیادہ عقل مند کوئی نہیں. لوگ بھی پھر سادگی کی بجائے ان کی عقل آزمانے پر تل جاتے ہیں. کنفیوشس نے کہا تھا ہم دو زندگیاں جیتے ہیں. دوسری زندگی اس دن شروع ہوتی ہے جس دن ہمیں پتہ چلتا ہے زندگی بس ایک بار ہی ملتی ہے.
آپ اپنے آس پاس دیکھیں وہ لوگ جو معاشرے میں بے وقوف مشہور ہوتے ہیں. بہت سادہ ہوتے ہیں ان پر زندگی بڑی مہربان ہوتی ہے. جبکہ
وہ جو عقل کے دعویدار ہوتے ہیں جو دعویٰ کرتے ہیں وہ بڑے چالاک ہیں ان کی زندگی ایک مشقت بن جاتی ہے. یہ جو سادہ لوگ ہوتے ہیں یہ بڑے عقل مند ہوتے ہیں. یہ اس بے وقوف معاشرے کو سمجھ لیتے ہیں. وہ ان کے معیار پر پورا اترنے کی کوشش ہی نہیں کرتے.
بقول کنفیوشس یہی لوگ دوسری زندگی جیتے ہیں. وہ جو مانتے ہیں یہ زندگی بس ایک بار ہی ملتی ہے اسے دوسروں کو متاثر کرنے پر خرچ نہ کرو. نہ یہ دوسروں کے دئے خوف مانتے ہیں. یہ اس ایک زندگی کیلئے بے دھڑک فیصلے کرتے ہیں. ان کو کوئی ڈر نہیں ہوتا کہ ناکامی پر لوگ ان کے اوپر ہنسیں گے.
ہماری محبت افواہ ہے
جو کسی نے نہیں پھیلائی
تم پھیلاؤ
محبت اور انا کا سسٹم کچھ ایسا ہے کہ اگر ایک بڑھے گی تو دوسری کم ہوگی دونوں بیک وقت بڑھ یا گھٹ نہیں سکتے
تمھارے بعد سلیقے سے ھم نے رکھے ہیں
یہاں خیال، وہاں یاد، اس طرف آنکھیں
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain