Damadam.pk
Offline's posts | Damadam

Offline's posts:

Offline
 

محبت اور انا کا سسٹم کچھ ایسا ہے کہ اگر ایک بڑھے گی تو دوسری کم ہوگی دونوں بیک وقت بڑھ یا گھٹ نہیں سکتے

Offline
 

تمھارے بعد سلیقے سے ھم نے رکھے ہیں
یہاں خیال، وہاں یاد، اس طرف آنکھیں

Offline
 

کہتے ہیں کہ پُرانے زمانے کے ایک استاد صاحب بڑی ثقیل قسم کی اردو بولا کرتے تھے اور ان کی اپنے شاگردوں کو بھی نصیحت تھی کہ جب بھی بات کرنی ہو تو تشبیہات ، استعارات ، محاورات اور ضرب المثال سے آراستہ پیراستہ اردو زبان استعمال کیا کرو۔
ایک بار دورانِ تدریس یہ استاد صاحب حقہ پی رہے تھے
انہوں نے جو زور سے حقہ گڑگڑایا تو اچانک چلم سے ایک چنگاری اڑی اور استاد جی کی پگڑی پر جا پڑی۔
ایک شاگرد اجازت لے کر اٹھ کھڑا ہوا

Offline
 

بڑے ادب سے گویا ہوا:۔
"حضورِ والا،! یہ بندہ ناچیز حقیر فقیر، پر تقصیر ایک روح فرسا حقیقت حضور کے گوش گزار کرنے کی جسارت کر رہا ہے ۔ وہ یہ کہ آپ لگ بھگ نصف گھنٹہ سے آپ حقہ نوشی ادا فرما رہے ہیں ۔ چند ثانیے قبل ایک شرارتی آتشی پتنگا آپ کی چلم سے بلند ہو کرچند لمحے ہوا میں ساکت رہا اور پھر آپ کی دستارِ فضیلت پر براجمان ہو گیا ۔ اگر اس فتنہ کی بر وقت اور فی الفور سرکوبی نہ کی گئی تو حضورِ والا کی جان کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔"

Offline
 

تنہائی دنیا کی بہترین چیز ہے ۔اس میں آپ کو لوگوں کے رویوں کا تجزیہ کرنے میں مدد ملتی ہے کہ آپ ان کے ساتھ ضرورت سے زیادہ ہی اچھے ہیں۔
تنہائی ہمیں باوقار ہونا سکھاتی ہے ۔
یہ سمجھاتی ہے کہ لوگوں کی نظر سے چھپے رہنے میں ہی بھلائی ہے۔
تنہائی ہمیں خود سے متعلق کئی جھوٹ بولنے سے بچاتی ہے ۔جیسا کہ :
"میں ٹھیک ہوں"
تنہا رہنے ، اور دکھی رہنے میں بہت فرق ہوتا ہے ، دکھ ہمیں چُنتے ہیں مگر تنہائی کو ہم خود چُنتے ہیں۔

Offline
 

تم مجھ کو اپنا کہتے ہو
کہہ لینے سے کیا ہوتا ہے

Offline
 

ایک دن ایک مہمان نے میرا اور امروز کا ہاتھ دیکھا، مجھے کہنے لگے " تمہارے ہاتھ پر دولت کی بڑی گہری اور لمبی لکیر ہے تمہیں زندگی میں دولت کی کمی نہیں ہو سکتی".
لیکن امروزسے کہنے لگے " تمہارے پاس دولت کبھی نہیں جمع ہو گی. تمہارے ہاتھ کی لکیر جگہ جگہ ٹوٹتی ہے.
". امروز نے اپنے ہاتھ میں میرا ہاتھ پکڑ کر کہا."
"اچھا تو پھر ہم دونوں ایک ہی لکیر پر گزارہ کر لیں گے" .
امرتا پریتم

Offline
 

ہوتے ہیں نا کچھ محبوب دوست۔۔
انکی مسکراہٹ آپکے ہونٹوں پر مسکراتی ہے۔
انکے آنسو آپکی آنکھوں میں جگمگاتے ہیں۔
انکی پریشانیاں آپکے ماتھے کی شکنوں میں اضافہ کرتی ہیں۔
انکے سکون سے آپکو دل سینے میں پھیلتا سا محسوس ہوتا ئے۔
جن کی دعا آپکے دل سے نکلتی ہے، آنکھوں سے چھلکتی ہے، ہونٹوں پر مچلتی ہے۔
آپ انکے لئے سراپا دعا ہوتے ہیں اور کسی بے قرار لمحے تڑپ کر اللہ سے

Offline
 

کہتے ہیں کہ آپ تو ہاتھوں میں لوہا نرم کرنے جیسے معجزے عطا کرنے والے ہیں، لوگوں کے دل ہمارے پیاروں کے حق میں نرم کر دیں۔
آپ دریاؤں کے رخ موڑنے پر قادر ہیں، انسانوں کے شر کا رخ ہمارے پیاروں سے پرے موڑ دیں۔
آپ الفتاح ہیں۔ جو دروازے ہمیں بند نظر آتے ہیں، کھول دیں یا رب۔۔
آپ وہاں سے ان کے لئے آسانی فرما دیں جہاں سے انہوں نے گمان نہ کیا ہو۔
آپ اپنی رحمتوں سے ڈھانپ لیں۔ ہمیں اور ہمارے پیاروں کو۔
آمین

Offline
 

عرب کہا کرتے تھے : ”اپنا دل مجھے تھما دو، ملاقات جب مرضی کر لینا۔“ یعنی تعلق میں اخلاصِ قلب معتبر ہے، کثرتِ ملاقات نہیں۔

Offline
 

پھول، پرندے، بادل، خوشبو، کچھ بھی نہیں
کچھ بھی نہیں، سیلاب نہ آنسو، کچھ بھی نہیں
جس کا جو بھی جی چاہے قانون وہی
نہ پیمانہ کوئی ترازو، کچھ بھی نہیں
میں اک ایسے پریم نگر آ پہنچا ہوں
بوجھل پلکیں، بکھرے گیسو، کچھ بھی نہیں
میں نے اپنے اندر جھانکا تو دیکھا
چاروں سُو سب کچھ ہے، ہر سُو کچھ بھی نہیں
کوہ قاف سے آئی ہے وہ شہزادی
اس پہ چلے گا سحر نہ جادو، کچھ بھی نہیں
ان بوسیدہ ہڈیوں میں کیا رکھا ہے
عمرِ رواں نہ زور نہ بازو، کچھ بھی نہیں

Offline
 

چور گھر کا سارا سامان جمع کر رہے تھے جب جائے نماز اٹھانے لگے تو مالک مکان بولا
" اسے تو چھوڑ دو میں نماز کیسے پڑھوں گا؟ "
چور بولا
" نماز تیرے کَلّے تے فرض ہوئی اے ، اَسی وی مسلمان آں "

Offline
 

کل رات بزم میں جو مِلا، گُلبدن سا تھا
خوشبو سے اُس کے لفظ تھے، چہرہ چمن سا تھا
دیکھا اُسے تو بول پڑے اُس کے خدّوخال
پوچھا اُسے تو چپ سا رہا، کم سُخن سا تھا
تنہائیوں کی رُت میں بھی لگتا تھا مُطمئن
وہ شخص اپنی ذات میں اِک انجمن سا تھا
سوچا اُسے، تو میں کئی رنگوں میں کھو گیا
عالم تمام اُس کے حسِیں پیرہن سا تھا
جو شاخ شوخ تھی، وہ اُسی کے لبوں سی تھی
جو پھول کھِل گیا، وہ اُسی کے دہن سا تھا

Offline
 

عارف عالاں سے شادی کرنے سے انکار کرتا ہے کیونکہ عالاں خُوبصورت نہیں تھی۔
اُس پر عالاں عارف سے کہتی ہے: تم نے مجھ میں کیا دیکھا جو تم نے مجھے نا پسند کر دیا ؟؟
کیا تم نے میرے ہاتھ کا پُھلکا کھایا ، میرا مٹر پلاؤ چکھا؟ کیا تم نے میرے دِل کا درد دیکھا ؟ اور وہ بچہ جو تمہیں دیکھتے ہی میری کوکھ میں ہُمک کر آ گیا تھا، دیکھا ؟ تم نے وہ ہاتھ کیوں نہیں دیکھے جو زندگی بھر تمہارے پاؤں دھوتے ؟ اور بٹن جو میں تمہاری قمیض پہ ٹانکنے والی تھی۔ تم میرے جسم کی رنگت سے ڈر گئے مگر تم نے اس سویٹر کا اُجلا رنگ نہ دیکھا جو میں تمہارے لیے بُننا چاہتی تھی۔
تم نے میری ہَنسی نہیں سُنی، میرے آنسُو نہیں دیکھے، میری انگلیوں کے لمس کو اپنے خُوبصورت بالوں میں محسُوس نہیں کیا، تو پھر تم نے کیسے مجھے نا پسند کر دیا؟

Offline
 

”مُحبت اور ضرورت“
میں اپنے دل کی سب سچائیوں کے ساتھ
یہ اقرار کرتا ھوں
”میں تم سے پیار کرتا ھُوں“
مگر جو کہ رھا ھُوں میں
بہت ممکن ھے کہ پورے سچ کی آنچ
اس سے نہ گذری ھو
میرے ھونٹوں پہ جو لفظِ محبت ھے
بہت ممکن ھے وہ میری ضرورت ھو
محبت اور ضرورت
اپنی اپنی سرحدوں میں قید ھیں
دونوں کی دنیائیں الگ ھیں
میں اک دنیا میں ھُوں
اور دوسری دنیا کے خواب

Offline
 

آتے ھیں آنکھوں میں۔
ادھوری چاھتیں میری
ادھوری داستاں میری
میرے جذبے ادھورے ھیں
میری خواھش کے پیمانے ادھورے ھیں
محبت کے میرے ھونٹوں پہ
افسانے ادھورے ھیں
ادھورے پن کی اِک دنیا
میرے چاروں طرف ھے
پھر اپنے دل کی
سب گہرائیوں کے ساتھ
سب سچائیوں کے ساتھ
یہ اقرار کرتا ھُوں
”میں تم سے پیار کرتا ھُوں“
”اشفاق حسین“

Offline
 

جنوبی امریکہ کا کیپی بارا ایک نیم آبی جانور ہے. اسے آپ کوئی بڑا چوہا بھی سمجھ سکتے ہیں یا اس کے نرم بال وغیرہ دیکھ کر اسے خرگوش کی کوئی نسل بھی سمجھ لیں تو مضائقہ نہیں. کیپی بارا کو آپ کی سمجھ پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا. کیونکہ یہ بہت دوست قسم کا جانور ہے. یہ مگرمچھ سے بھی دوستی کر لیتا ہے تو چھوٹے چھوٹے پرندے اور کچھوے بھی اس کے دوست ہوتے ہیں.
کیپی بارا گھاس کھاتا ہے. کھانے میں یہ بہت نفاست پسند ہے. ہر قسم کا پودا یا گھاس یہ نہیں کھاتا بس جو اسے پسند ہو اسی پر گزارہ کرتا ہے. غالباً جنگل کے کتے بلیاں پرندے وغیرہ سب یہ جانتے ہیں. اسی لئے کسی کو اس سے ڈر نہیں لگتا کوئی اس کے اوپر سوار ہوتا ہے تو کسی نے اسے اپنا تکیہ بنایا ہوتا ہے. کمزور جانور اور پرندے سردی میں اسے اپنا لحاف سمجھ

Offline
 

لیتے ہیں.
اچھے لوگ بھی کیپی بارا کی طرح ہوتے ہیں. کمزور چوٹ کھائے ہوئے دھتکارے لوگ ان کی قربت میں خود کو محفوظ پاتے ہیں. لوگوں کو ان سے ڈر نہیں لگتا. ڈرا کر رکھنے والے کبھی اچھے نہیں ہوتے. لوگ ڈر کی وجہ سے خاموش ضرور رہتے ہیں لیکن جس دن انکا ڈر نکل جائے یہ ان ڈرانے والوں کو بھی اپنی زندگی میں سے دھکے دے کر نکال دیتے ہیں.
یہ دُنیا اچھے لوگوں کی اچھائی پر کھڑی ہے. جس دن یہ اچھائی ختم ہوگی اس دن سورج مغرب سے نمودار ہوگا اور قیامت ہوگی. آج بھی چونکہ سورج مشرق سے نمودار ہوا تو اسکا مطلب ہے اچھائی ابھی زندہ ہے. آپ کو اگر اچھے لوگ نہیں ملے تو خود اچھے بن جائیں. اگر کیپی بارا جنگل میں اچھا بن سکتا ہے تو انسانی بستی میں یہ کونسا مشکل ہوگا

Offline
 

میں تمہیں ڈھونڈنے یادوں کی کھلی راہوں پر
خشک پتوں کی طرح روز بکھر جاتا ہوں

Offline
 

تم نے خود اسے منع کیا تھا کہ وہ تمہیں خط نہ لکھے؟
"میں نے تو اسے کئی اور باتوں سے بھی منع کیا تھا۔۔۔ میں نے تو اس سے ہاتھ جوڑ کر یہ بھی کہا تھا کہ میرے بعد کسی اور سے محبت نہ کرنا ورنہ میں مر جاؤں گی۔۔۔ کیا اس نے ساری باتیں مان لی ہیں کہ خط نہیں لکھتا؟"
راجہ گدھ | بانو قدسیہ