گرمی مذید ہِجر تو وصلت یارم
باخاکِ سر کوئے تو کارے دارم''
'' اے محبوب! اگرچہ تیرے فراق میں وصل کی اُمید نہیں
پِھر بھی تیری گلی کی خاک سے میرا رابطہ برقرار ہے
حفیظ جالندھری کی طبیعت خراب ھُوئی تو حکیم فقیر محمد چِشتی کے پاس علاج کے لیے گئے۔ تشخیص کے بعد حکیم صاحب نے یہ پرھیز بتائی کہ " زھن پہ کوئی بوجھ نہیں ڈالنا یعنی کوئی دماغی کام نہیں کرنا۔"
حفیظ بولے ٫ کہ میں آج کل شاھنامۂ اسلام لِکھ رھا ھُوں"
حکیم صاحب بولے "ھاں وہ لِکھتے رھو۔"
"منقول"
ہم نہ کہتے تھے ہمیں سوچ کے رُخصت کرنا
ہم مُسافر تو نہیں ہیں کہ سفر سے تھک کر
اِک نہ اِک روز ہمیشہ کو پلٹ آئیں گے
ہم نہ کہتے تھے کہ ہم لوگ چراغوں جیسے
ہم کو بدمست ہواوں سے بچا کر رکھنا
ورنہ صحرا کے بگولے تو نِگل جائیں گے
دل میں رہنے کی تمنائیں کہاں کیں ہم نے
ہم تو کہتے تھے ہمیں پاؤں میں رہنے دینا
ہم نے کب زُلفِ گرہ گیر کے سائے چاہے
کب کہا ہم نے ہمیں چھاؤں میں رہنے دینا
آپ تو آپ تھے گُل پوش علاقوں والے
زرد جھڑتے ہوئے پتوں کے الم کیا جانیں
آپ کے چاروں طرف مشعلی دُنیائیں تھیں
آپ ہم روندے چراغوں کے الم کیا جانیں
آپ نے دیکھے ہیں ہر سمت دھنک کے منظر
آپ دُنیا کے سیہ بختوں کے غم کیا جانیں
آپ نے ٹھیک کیا تیز ہواؤں میں رکھا
عُمر بھر کے لئے صحرا کی رہائی لکھ دی
آپ نے ٹھیک کیا پاؤں سے ٹھوکر ماری
اور قسمت میں ہمیشہ کی جُدائی لکھ دی
دیکھیے شاخ سے ٹوٹے ہوئے پتے بھی کبھی
لوٹ کے اپنے درختوں کی طرف آتے ہیں ؟
کھڑکِیاں کھول کے رستوں کی طرف مت دیکھیں
کیا دیے بُجھ کے ہواوں کی طرف آتے ہیں ؟
جو چلے جائیں چلے جائیں اُنہیں سوچنا کیا
اُن کی یادوں سے ہے لا یعنی یہ وحشت کرنا
ہم مُسافر تو نہیں تھے کہ پلٹ کر آتے
ہم نہ کہتے تھے ہمیں سوچ کے رُخصت کرنا
مُحبتم , عِشقم , رُوحم
أنتَ فقَط حُب ! وأنا معِجَب بَک
آپ فقط محبت ہیں
اور میں تمہارا شیدائی ہوں
سردیوں سے اک شکایت مجھے یہ بھی ھے
شام وقت سے پہلے ہو جاتی ھے
تعلق کبھی نہ توڑیں
اگر کوٸی تعلق دار ویسا نہ نکلے جیسا ہم نے تعلق قاٸم کرتے ہوٸے گمان کیا تھا,تو بھی اس سے تعلق نہ توڑیں بلکہ اس کی جگہ بدل دیں,اگر پہلے اسے دل میں جگہ دی تھی تو اب بڑی آنت میں دے دیں۔
حاصل کلام: اگر خربوزہ پھیکا نکل آۓ تو پالتو جانوروں کو کھلا دیں لیکن ضایع نہ کریں۔
میرے پیچھے تو ہے ہر آن یہ خلقت کا ہجوم
اب خدا جانے یہ عزت ہے کہ رسوائی ہے
کسی گاؤں میں ایک لڑکی دلہن بن کے آئی۔
سارے گاؤں کی خواتین حسب روایت اُسے دیکھنے آتیں اور بتاتیں کہ مائی رحمتے سے ذرا بچ کے رہنا
وہ پوچھتی مائی رحمتے ہے کون؟ تو جواب ملتا ملو گی تو خود پتہ چل جائے گا۔ کچھ دیر میں ہی شور ہوا اور ایک بوڑھی عورت لڑتی جھگڑتی گلی میں آئی
پتہ چلا کہ یہ مائی رحمتے ہے۔ اور ہر وقت لڑنا اس کا کام ہے۔ گاؤں کا کوئی بچہ بوڑھا مرد عورت اس کی لڑائی کی زد سے نہیں بچ سکتا۔
حتٰی کہ جانوروں سے بھی اس کی لڑائی تھی۔ گاؤں کی کوئی گائے بھینس بیل سنڈھا کتا بلی گھوڑا گھوڑی اس خاتون کا سامنا نہیں کرتا تھا سب سے لڑ چکی
تھی
مائی رحمتے نے دلہن کو دیکھا ناک بھوں چڑھائی اور بولنے ہی لگی تھی کہ دلہن بول اُٹھی۔
" اے مائی تیرا لڑن دا ارادہ اے تے پہلے اصول طے کر لے۔
جے تے اک دن دی لڑائی لڑنی اے تے آ جا ہُنے قصہ مکائیے۔ جے چھ مہینے لڑنا ای تے میرے نال رل کے کنک بیج لا۔ مربعے آندیاں جاندیاں لڑیا کراں گے۔
جے سال لڑنا ای تے رل کے زمین ٹھیکے تے لیندے آں۔ کدی پانی دی واری تے لڑاں گے کدی بجائی تے کدی واڈیاں تے۔ اک سال بعد جان چھُٹے گی دوواں دی
تے جے تیرا خیال ساری عمر لڑن دا اے تے میرے کھسم نال ویاہ کرا لے سوکن بن جا میری۔ نالے وسّاں گے نالے لڑاں گے"
سنا ہے اب مائی رحمتے نہیں لڑتی
شامِ فراق، اب نہ پوچھ، آئی اور آ کے ٹل گئی
دل تھا کہ پھر بہل گیا، جاں تھی کہ پھر سنبھل گئی
بزمِ خیال میں ترے حُسن کی شمع جل گئی
درد کا چاند بُجھ گیا، ہِجر کی رات ڈھل گئی
جب تُجھے یاد کر لیا، صُبح مہک مہک اٹھی
جب ترا غم جگا لیا، رات مچل مچل گئی
دل سے تو ہر معاملہ کر کے چلے تھے صاف ہم
کہنے میں ان کے سامنے بات بدل بدل گئی
آخرِ شب کے ہمسفر فیضؔ نجانے کیا ہوئے
رہ گئی کس جگہ صبا، صُبح کدھر نکل گئی
شیر اور شارک
شیر اور شارک دونوں پیشہ ور شکاری ہیں، لیکن شیر سمندر میں شکار نہیں کر سکتا اور شارک خشکی پر شکار نہیں کر سکتی۔
شیر کو سمندر میں شکار نہ کر پانے کیوجہ سے ناکارہ نہیں کہا جا سکتا اور شارک کو جنگل میں شکار نہ کر پانے کیوجہ سے ناکارہ نہیں کہا جا سکتا۔ دونوں کی اپنی اپنی حدود ہیں جہاں وہ بہترین ہیں۔
اگر گلاب کی خوشبو ٹماٹر سے اچھی ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ اسے کھانا تیار کرنے میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ایک کا موازنہ دوسرے کے ساتھ نہ کریں۔
آپ کی اپنی ایک طاقت ہے، اسے تلاش کریں اور اس کے مطابق خود کو تیار کریں۔
کبھی خود کو حقارت کی نظر سے نہ دیکھیں، بلکہ ہمیشہ خود سے اچھی اُمیدیں وابستہ رکھیں۔
یاد رکھیں، ٹوٹا ہوا رنگین قلم بھی رنگ بھرنے کے قابل ہوتا ہے۔
اپنے اختتام تک
پہنچنے سے پہلے، خود کو بہتر کاموں کے استعمال میں لے آئیں۔
وقت کا بدترین استعمال، اسے خود کا دوسروں کے ساتھ موازنہ کرنے میں ضائع کرنا ہے۔
مویشی گھاس کھانے سے موٹے تازے ہو جاتے ہیں۔ جبکہ یہی گھاس اگر درندے کھانے لگ جائیں تو وہ اس کی وجہ سے مر سکتے ہیں۔
کبھی بھی اپنا موازنہ دوسروں کے ساتھ نہ کریں۔ اپنی دوڑ اپنی رفتار سے مکمل کریں ۔
جو طریقہ کسی اور کی کامیابی کی وجہ بنا، ضروری نہیں کہ آپ کیلئے بھی سازگار ہو۔
خُدا کے عطاء کردہ تحفوں، نعمتوں اور صلاحیتوں پر نظر رکھیں اور اُن تحفوں سے حسد کرنے سے باز رہیں، جو خُدا نے دوسروں کو دیے ہیں۔
خوش رہیں آباد رہیں
جزاک اللہ خیرا
جب اسے مجھ سے محبت ھوئی، مجھے ساگ کھاتے ھوئے گیارہواں دن تھا!
زیر تعمیر ناول ”ہم ساگ کھا چکے صنم “ سے اقتباس
عشق تو لاٹری ھے بچوں کی
کِس نے جیتی ھے یہ سیاست سے
بِن بُلائے یہ آن ٹپکے ھے
عشق ھوتا ھے کب اجازت سے ؟؟
دائیں بائیں مِرے خسارے ھیں
باز آیا نہ میں تجارت سے
اُس کے آنسو چُرا کے بھاگا ھُوں
اُس کو لُوٹا ھے پِھر محبت سے
اب نہ پھینکوں گا جھیل میں کنکر
باز آیا میں اِس شرارت سے
وہ بھی بندہ ھے تھوڑا من موجی
میں بھی رکھتا ھُوں بس ضرورت سے
وہ بھی مصروف ھے کہیں عابی !!
میں بھی فارغ نہیں فراغت سے
پرانے وقتوں میں عورت کا اپنے شوہر کا نام لینا
بہت معیوب سمجھا جاتا تھا۔
ایک خاتون کے شوہر کا نام مکھن تھا۔ لہذا لفظ مکھن
اس نے کبھی اپنی زبان پر نہ لایا تھا۔
ایک دفعہ وہ لسی رڑک رہی تھی ۔ ایک پڑوسن اسکے
پاس آ کر بیٹھ گئی اور اس نے تہیہ کیا کہ آج تو اس سے
شوہر کا نام کہلوا کے رہوں گی
جب خاتون نے سارا مکھن اکھٹا کیا تو وہ پیڑا بن کر
ڈولی کے عین وسط میں تیرنے لگا۔۔۔
پڑوسن نے جھٹ سے پوچھا 'یہ لسی کے اوپر کیا تیر رہا ہے'
خاتون نے جواب دیا "یہ امجد کے ابا تیر رہے ہیں"
یہی جانا کہ کچھ نہ جانا ہائے
سو بھی اک عمر میں ہوا معلوم
درخت کی چھاوں میں کھڑا کسی کا انتظار کر رہا تھا. صاحب کو دیر ہوگئی تو میں ساتھ بنے چائے کے ڈھابے کی بکھری کرسیوں میں سے ایک پر بیٹھ گیا. کچھ دیر میں ویٹر آرڈر لینے سامنے کھڑا تھا. میں نے کہا بھائی بس کچھ دیر کسی کا انتظار کرنا ہے. اس نے پھر بھی سامنے رکھی دوسری کرسی پر جگ گلاس سامنے رکھ دیا.
جب تک میں کھڑا تھا میں گاہک نہیں تھا. لیکن جیسے ہی کرسی پر بیٹھا میں گاہک بن گیا. اس ایک فیصلے نے میرا مقام طے کر دیا. ویٹر نے مجھے اپنی ذمہ داری سمجھ لیا. مجھے ایک ٹریفک سگنل پر پھول بیچتے بچے کی کہانی یاد آگئی. بچہ کبھی ایک گاڑی کبھی دوسری کی طرف دوڑ کر کھڑکیوں سے جھانکتی سواریوں کو پھول خریدنے کا کہہ رہا تھا. ایک صاحب نے دیکھا بچہ ننگے پیر ہے اور سڑک بہت گرم ہے. اسے یہ دیکھ کر بہت افسوس ہوا.
سڑک کنارے کی ایک دکان
سے اس نے جوتے خریدے اور اس بچے کو بلا کر کہا یہ جوتے پہن لو. بچہ جوتے پہن کر بہت خوش ہوا اور پوچھا کیا آپ اللہ میاں ہیں. آدمی نے گھبرا کر کہا نہیں بیٹا میں اللہ کا ایک عام بندہ ہوں. بچے نے کہا میں نے اللہ میاں سے دعا کی تھی میرے پیر بہت جلتے ہیں پھول بیچتے مجھے بہت تکلیف ہوتی تھی. یہ بات بس اللہ کو پتہ تھی. آپ ضرور اللہ کے دوست ہوں گے جو اللہ نے میرے جوتے آپ کے ذریعے بیجھ دئے.
چھوٹے چھوٹے عمل ہوتے ہیں جو ہمارا کام و مقام طے کر دیتے ہیں. جیسے کرسی کسی کا مقام طے کرتی ہے ویسے ہی اس کا کام اور ذمہ داری بھی طے کرتی ہے. جو اپنی ذمہ داری جتنی اچھے سے نبھاتے ہیں وہ پھر اللہ کے اتنے ہی قریبی دوست بن جاتے ہیں. اللہ اپنے کمزور بندوں کی دعائیں سُن کر خود نہیں آتا بلکہ اپنے دوستو کے ذمہ ان کے کام لگا دیتا ہے. اللہ سے دوستی کا احساس بھی کتنا خوبصورت ہے
واقع یہ ہے کہ بدنام ہوئے
بات اتنی تھی کہ آنسو نکلا
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain