محبت کتنی خوفناک چیز ہوتی ہے۔ تم ایک اجنبی کو اپنا مالک بنا کر تمام تر طاقت اس کے ہاتھ میں دے دیتے ہو ، دکھ دینے کی، خوشی دینے کی، اداس کرنے کی طاقت !
مستنصر حسین تارڑ
فاصلے نہ بڑھ جائیں فاصلے گھٹانے سے
آؤ سوچ لیں پہلے رابطے بڑھانے سے
خواہشیں نہیں مرتیں خواہشیں دبانے سے
امن ہو نہیں سکتا گولیاں چلانے سے
دیکھ بھال کر چلنا لازمی سہی، لیکن
تجربے نہیں ہوتے ٹھوکریں نہ کھانے سے
ایک ظلم کرتا ہے، ایک ظلم سہتا ہے
آپ کا تعلق ہے کون سے گھرانے سے؟
کتنے زخم چھلتے ہیں، کتنے پھول کھلتے ہیں
گاہ تیرے آنے سے، گاہ تیرے جانے سے
کارزارِ ہستی میں اپنا دخل اتنا ہے
ہنس دئیے ہنسانے سے رو دئیے رُلانے سے
چھوٹے چھوٹے شہروں پر کیوں نہ اکتفا کر لیں
کھیتیاں اجڑتی ہیں بستیاں بسانے سے
زخم بھی لگاتے ہو، پھول بھی کھِلاتے ہو
کتنے کام لیتے ہو، ایک مسکرانے سے
اور بھی سنورتا ہے، اور بھی نِکھرتا ہے
جلوۂ رُخِ جاناں دیکھنے دِکھانے سے
ہر طرف چراغاں ہو تب کہیں اجالا ہو
اور ہم گریزاں ہیں اک دِیا جلانے سے
چاند آسماں کا ہو یا زمین کا نصرت
کون باز آتا ہے انگلیاں اٹھانے سے
اورنگزیب عالمگیر کے دربار میں ایک بہروپیا آیا اور اس نے کہا : " باوجود اس کے کہ آپ رنگ و رامش ، گانے بجانے کو برا سمجھتے ہیں ۔ شہنشاہ معظم ! لیکن میں فنکار ہوں اور ایک فنکار کی حیثیت سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں اور میں بہروپیا ہوں ۔ میرا نام کندن بہروپیا ہے ۔اور میں ایسا بہروپ بدل سکتا ہوں آپ کو جو اپنے علم پر بڑا ناز ہے کو دھوکہ دے سکتا ہوں اور میں غچہ دے کر بڑی کامیابی کے ساتھ نکل جاتا ہوں ۔اورنگزیب عالمگیر نے کہا : تمھاری بات وقت ضائع کرنے کے مترادف ہے ۔ میں تو شکار کو بھی بیکار کام سمجھتا ہوں یہ جو تم
میرے سامنے دعوہ کر رہے ہو اس کو میں کوئی اہمیت نہیں دیتا - " اس نے کہا : " ہاتھ کنگن کو آرسی کیا - آپ اتنے بڑے شہنشاہ ہیں اور دانش میں اپنا جواب نہیں رکھتے ۔ میں بھیس بدلونگا آپ پہچان کر دکھائیے - " تو انھوں نے کہا ! " منظور ہے " اس نے کہا حضور آپ وقت کے شہنشاہ ہیں ۔ اگر تو آپ نے مجھے پہچان لیا تو میں
آپ کے دینے دار ہوں ۔لیکن اگر آپ مجھے پہچان نہ سکے اور میں نے ایسا بھیس بدلا تو آپ سے پانچ سو روپیہ لونگا ۔شہنشاہ نے کہا شرط منظور ہے ۔ اسے پتا چلا کے اگلے سال شہنشاہ مرہٹوں پر حملہ کریگا چنانچہ وہ وہاں سے پا پیادہ سفر کرتا ہوا اس مقام پر پہنچ گیا ۔ایک سال کے بعد جب اپنا لاؤ لشکر لے کر اورنگزیب عالمگیر ساؤتھ انڈیا پہنچا اور پڑاؤ ڈالا تو تھوڑا سا وہ خوفزدہ تھا ۔ اور جب اس نے مرہٹوں پر حملہ کیا تو وہ اتنی مضبوطی کے ساتھ قلعہ بند تھے کہ اس کی فوجیں وہ قلعہ توڑ نہ سکیں ۔لوگوں نے کہا یہاں ایک درویش ولی الله رہتے ہیں ان کی خدمت میں حاضر ہوں پھر دعا کریں پھر ٹوٹ پڑیں ۔شہنشاہ پریشان تھا بیچارہ بھاگا بھاگا گیا ان کے پاس - سلام کیا اور کہا ؛ " حضور میں آپ کی خدمت میں ذرا . " انھوں نے کہا ! " ہم فقیر آدمی ہیں ہمیں ایسی چیزوں سے کیا لینا دینا ۔ " شہنشا
نے کہا ! " نہیں عالم اسلام پر بڑا مشکل وقت ہے ( جیسے انسان بہانے کرتا ہے ) آپ ہماری مدد کریں میں کل اس قلعے پر حملہ کرنا چاہتا ہوں ۔ " تو فقیر نے فرمایا ! " نہیں کل مت کریں ، پرسوں کریں اور پرسوں بعد نماز ظہر - " اورنگزیب نے کہا جی بہت اچھا ! چانچہ اس نے بعد نماز ظہر جو حملہ کیا ایسا زور کا کیا اور ایسے جذبے سے کیا اور پیچھے فقیر کی دعا تھی ، اور ایسی دعا کہ قلعہ ٹوٹ گیا اور فتح ہو گئی ۔مفتوح جو تھے پاؤں پڑ گئے ۔بادشاہ مرہٹوں کے پیشوا پر فتح مند کامران ہونے کے بعد سیدھا درویش کی خدمت میں حاضر ہوا ۔باوجود اس کے کہ وہ ٹوپیاں سی کے اور قران پاک لکھ کے گزارا کرتا تھا لیکن سبز رنگ کا بڑا سا عمامہ پہنتا تھا بڑے زمرد اور جواہر لگے ہوتے تھے - اس نے جا کر عمامہ اتارا اور کھڑا ہوگیا دست بستہ کہ حضور یہ سب آپ ہی کی بدولت ہوا ہے ۔ اس فقیر نے
کہا : " نہیں جو کچھ کیا الله ہی نے کیا " انھوں نے کہا کہ آپ کی خدمت میں کچھ پیش کرنا چاہتا ہوں درویش نے کہا : " نہیں ہم فقیر لوگ ہیں ۔اورنگزیب نے کہا دو پرگنے یعنی دو بڑے بڑے قصبے ۔ اتنے بڑے جتنے آپ کے اوکاڑہ اور پتوکی ہیں ۔وہ آپ کو دیتا ہوں اور اور آئندہ پانچ سات پشتون کے لئے ہر طرح کی معافی ہے ۔
اس نے کہا : " بابا ہمارے کس کام کی ہیں یہ ساری چیزیں ۔ ہم تو فقیر لوگ ہیں تیری بڑی مہربانی ۔ " اورنگزیب نے بڑا زور لگایا لیکن وہ نہیں مانا اور بادشاہ مایوس ہو کے واپس آگیا ۔اور اورنگزیب اپنے تخت پر آ کر بیٹھ گیا جب وہ ایک فرمان جاری کر رہا تھا عین اس وقت کندن بہروپیا اسی طرح منکے پہنے آیا ۔تو شہنشاہ نے کہا : " حضور آپ یہاں کیوں تشریف لائے مجھے حکم دیتے میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوتا ۔ " کندن نے کہا ! " نہیں شہنشاہ معظم ! اب یہ ہمارا فرض تھا ہم
آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے تو جناب عالی میں کندن بہروپیا ہوں ۔ میرے پانچ سو روپے مجھے عنایت فرمائیں ۔ " اس نے کہا : " تم وہ ہو ۔کندن نے کہا ہاں وہی ہوں ۔جو آج سے ڈیڑھ برس پہلے آپ سے وعدہ کر کے گیا تھا ۔اورنگزیب نے کہا : " مجھے پانچ سو روپے دینے میں کوئی اعتراض نہیں ہے ۔ میں آپ سے یہ پوچھتا ہوں جب میں نے آپ کو دو پرگنے اور دو قصبے کی معافی دی جب آپ کے نام اتنی زمین کر دی جب میں نے آپ کی سات پشتون کو یہ رعایت دی کہ اس میری ملکیت میں جہاں چاہیں جس طرح چاہیں رہیں ۔ آپ نے اس وقت کیوں انکار کر دیا ؟ یہ پانچ سو روپیہ تو کچھ بھی نہیں ۔اس نے کہا : " حضور بات یہ ہے کہ جن کا روپ دھارا تھا ، ان کی عزت مقصود تھی ۔ وہ سچے لوگ ہیں ہم جھوٹے لوگ ہیں ۔ یہ میں نہیں کر سکتا کہ روپ سچوں کا دھاروں اور پھر بے ایمانی کروں ۔ "
اشفاق احمد زاویہ ١ بہروپ صفحہ ١٠
” کر بھلا ، ہو بھلا ....“
شب خير سُپرد ِخُدائے رحیم وکریم
دھوپ کیا ہے
یہ کس رنگ کی
اور کیسی ہوا کرتی ہے،
میں نہیں جانتا ۔۔۔
کیوں کہ میں تو ، زمانے ہوئے
بس نمی جانتا ہوں ۔۔
نمی ۔۔۔۔
جو مجھے زنگ کرتی ہے،
کرتی چلی جارہی ہے
مجھے تو فقط گَرد معلوم ہے جو زمانوں سے مجھ پر پڑی جا رہی ہے۔۔۔۔
سنو ۔۔۔۔۔!
تم کسی دن مجھے ہنس کے دیکھو !
اگر میں نہ چمکوں تو پھر بات کرنا۔۔۔۔
استاد: پڑھ کے کیا بنڑسیں
شاگرد: فوجی بنڑساں
استاد: ساکوں کیویں پتہ لگسی اے جاوید دا جہاز ویندا پئے
شاگرد: میں بمب سٹی ویساں
اپنی قربت پہ ابھی کل جسے رقصاں دیکھا
آج وہ آئنہ بھی خود سے گریزاں دیکھا
وقت وہ خواب ہے جو ٹوٹنا لازم ٹھہرا
خود کو تعبیر تلک خود پہ تھا نازاں دیکھا
خود وہ آئیں کہ بلائیں، یہ خدا ہی جانے
تیسرا دل نے بھلا کب کوئی امکاں دیکھا
ہر تعلق کی لگاتے ہیں بڑھا کر بولی
کارِ الفت کو ہی بازار میں ارزاں دیکھا
ہم قدم تھا تو بیاباں بھی گلستاں تھا ہمیں
اس کے جاتے ہی گلستاں کو بیاباں دیکھا
راہ بدلوں جو تری راہ سے ، دل ڈوبے مرا
اس ستمگر نے بھی ہر دم مرا نقصاں دیکھا
ہنستے روتے ہوئے، پہلو میں ترے، بچھڑے ہوئے
خود کو جس حال یہاں دیکھا، پریشاں دیکھا
سوچ کر آئے تھے کچھ اور گلی جاناں تری
دیکھا جس کو بھی یہاں چاک گریباں دیکھا
دل وہ کم عقل پرندہ ہے جہاں میں، جس نے
رہ کے زندان میں تا عمر نہ زنداں دیکھا
ہم تمہارے ہیں، تمہارے ہیں، تمہارے ابرک
خود پہ ہر رنج و الم کو یونہی قرباں دیکھا
ہر محلے میں
ایک شاعر ہوتا ہے
جو دیواروں پر بے وفا لکھتا ہے
اور
ہر محلے میں
ایک تم ہوتے ہو۔
تین فطری قوانین
پہلا قانون فطرت:
اگر کھیت میں" دانہ" نہ ڈالا جاۓ تو قدرت اسے "گھاس پھوس" سے بھر دیتی ہے....
اسی طرح اگر" دماغ" کو" اچھی فکروں" سے نہ بھرا جاۓ تو "کج فکری" اسے اپنا مسکن بنا لیتی ہے۔ یعنی اس میں صرف "الٹے سیدھے "خیالات آتے ہیں اور وہ "شیطان کا گھر" بن جاتا ہے۔
دوسرا قانون فطرت:
جس کے پاس "جو کچھ" ہوتا ہے وہ" وہی کچھ" بانٹتا ہے۔ ۔ ۔
خوش مزاج انسان "خوشیاں "بانٹتا ہے۔
غمزدہ انسان "غم" بانٹتا ہے۔
عالم "علم" بانٹتا ہے۔
دیندار انسان "دین" بانٹتا ہے۔
خوف زدہ انسان "خوف" بانٹتا ہے۔
تیسرا قانون فطرت:
آپ کو زندگی میں جو کچھ بھی حاصل ہو اسے "ہضم" کرنا سیکھیں، اس لۓ کہ۔ ۔ ۔
کھانا ہضم نہ ہونے پر" بیماریاں" پیدا ہوتی ہیں۔
مال وثروت ہضم نہ ہونے کی صورت میں" ریاکاری" بڑھتی ہے۔
بات ہضم نہ ہونے پر "چغلی" اور "غیبت" بڑھتی ہے۔
تعریف ہضم نہ ہونے کی صورت میں "غرور" میں اضافہ ہوتا ہے۔
مذمت کے ہضم نہ ہونے کی وجہ سے "دشمنی" بڑھتی ہے۔
غم ہضم نہ ہونے کی صورت میں "مایوسی" بڑھتی ہے۔
اقتدار اور طاقت ہضم نہ ہونے کی صورت میں" خطرات" میں اضافہ ہوتا ہے۔
اپنی زندگی کو آسان بنائیں اور ایک" با مقصد" اور "با اخلاق" زندگی گزاریں، لوگوں کے لئے آسانیاں پیدا کریں
خوش رہیں۔۔۔خوشیاں بانٹیں۔۔۔۔
اور دیکھو
محبت تھوڑی بھی بہت ہوتی ہے
کہیں ایک پھول کھلتا ہے
یا کوئی نوزائیدہ نیند میں مسکراتا ہے
تو موت زندگی سے خائف ہونے لگتی ہے
خوشبو کے سارے رنگ
اسے سوچنے میں ہیں
اگر خواہش اور حاصل کا فرق مٹ جائے __ تو سکون مل جاتا ہے ۔
انسان کو جو پسند ہے ، حاصل کر لے ، یا پھر جو حاصل ہے اسے پسند کر لے تو ، سکون مل جاتا ہے ۔
برائی کو نیکی سے رفع کرنے والا پرسکون رہے گا ۔
اپنے دل سے کدورت صاف کرنے والا ۔۔۔۔، اپنی زندگی کو کسی کا احسان سمجھنے والا پرسکون رہتا ہے ۔
سکون حاصل کرنے کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ انسان سکون کے حصول کی تمنا چھوڑ کر دوسروں کو پہنچانے کی کوشش کرے ۔
سکون دینے والے کو ہی سکون ملتا ہے ۔
کسی کا سکون برباد کرنے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain