Damadam.pk
Offline's posts | Damadam

Offline's posts:

Offline
 

ایک جٹ کا رشتہ لکھنو میں ہوگیا
بارات جانے سے پہلے ماں نے سمجھایا,
"بیٹا ! لکھنو کے لوگ بہت مہذب ھوتے ہیں، کوئی ایسی بات نہ کرنا جس سے جٹوں کی بدنامی ھو"
جٹ نے فرمانبرداری سے پوچھا،
"ماں جی ، میں کرنا کی اے؟؟"
ماں بولی،
"بیٹا جب سسر ملنے کو آئے تو کہنا، ابا حضور آداب اور جب
ساس ملے تو کہنا، امی حضور آداب___
کھانا کھانے سے پہلے ھاتھ دھونا، چھوٹے نوالے لینا اور پلیٹ میں بالکل تھوڑا کھانا ڈالنا,
اور ہاں ایک اہم بات، لکھنو کے لوگ کھیر کو سویٹ ڈش کہتے ھیں، تم بھی سویٹ ڈش ہی کہنا"
بارات لکھنؤ

Offline
 

پہنچی۔
سسر آیا تو دلہا بولا، "ابا حضور آداب"
سسر بہت خوش ھوا بولا، کتنا مہذب ہے ھمارا بیٹا۔
جب ساس ملی تو اسے کہا، "امی حضور آداب"
وہ بھی بہت خوش ہوئی۔
کھانا کھانے سے پہلے ہاتھ دھونے اور آدابِ تناول پر میزبان عش عش کر اٹھے۔
سسر سے نہ رہا گیا اور بولا، "بھئی ھم نے تو سنا تھا کہ جٹ لوگ بس گنوار ہی ہوا کرتے ھیں ، مگر تم نے ثابت کیا کہ ہمارا داماد تو بہت ہی مہذب ہے"
دلہا جذباتی انداز میں بولا،
"اجے تُسی تہذیب ویکھی کتھے وے، ڈیلے تے تہاڈے اوہدوں پاٹنے نے جدوں میں کھیر نوں سویٹ ڈش آکھیا

Offline
 

اک نقش تمھارا ہے کہ وہ دل میں جما ہے
اک تم ہو کہ پہلو میں ٹھہرنا نہیں آتا

Offline
 

. اب پاکستانی لڑکیوں کو منہ نہیں لگانا
پاکستانی لڑکیوں کے انے وا نخروں سے تنگ آ کر اب تُرکش دُلہن لانے کا عزمِ مصمم کرلیا ہے اور اپنے ڈیٹا پیکج کا رُخ استنبول، انقرہ ، قونیہ، کیپا ڈوشیا، انطالیہ اور ازمیر وغیرہ کی طرف موڑ لیا
ہے
۔ Just wait & watch bruh...

Offline
 

ہنسوں کا ایک جوڑا اڑتے گاتے بہت دور نکل آیا. یہ ایک ویران و بے آب و گیاہ جگہ تھی. نر ہنس نے اپنی مادہ سے کہا شام ڈھل رہی ہے. رات کسی طرح یہاں ہی بسر کر لیتے ہیں. صبح اپنے دریائی مسکن کی طرف واپس چلتے ہیں. انہوں نے ایک سوکھے درخت کے نیچے بسیرا کر لیا.
رات ایک الو درخت پر آکر بیٹھ گیا. اس نے انتہائی بھیانک آواز میں رونا چلانا شروع کر دیا. مادہ ہنس نے اپنے شوہر سے کہا اس حالت میں تو رات گزارنی مشکل ہے. شوہر نے کہا رات گہری ہے. گزارا کرو صبح سویرے سویرے نکل جائیں گے. اب سمجھ آگئی ہے اس جگہ اتنی وحشت کیوں برس رہی ہے. یہاں الو چیختے روتے ہیں. الو یہ سب سُن رہا تھا. اس نے اور زیادہ رونا شروع کر دیا.
صبح نر ہنس نے اپنی مادہ سے کہا چلو نکلیں یہاں سے. الو اچانک نیچے آیا اور کہا ایسے کیسے بھائی. تم میری بیوی

Offline
 

کو نہیں لے جا سکتے. ہنس نے کہا الو کہیں کہ یہ ہنس ہے. میری بیوی لیکن الو نے مان کر نہ دیا. شور مچایا اور ویرانے کی ساری مخلوق جمع ہوگئی. مقدمہ گدھ ججز کے سامنے پیش ہوا. ایک گدھ نے دوسرے سے کہا الو ہماری برادری کا ہے. اس نے یہاں ہمارے ساتھ رہنا ہے. ہنس تو مسافر ہے. اس کے حق میں فیصلہ کیوں کریں.؟
اور فیصلہ ہو گیا. گدھ عدالت نے کہا مادہ ہنس الو کی بیگم ہے اور نر ہنس کو ملک بدر کیا جاتا ہے. نر ہنس روتے ہوئے روانہ ہوگیا. پیچھے سے الو نے آواز لگائی. اپنی بیگم کو لے کر نہیں جاو گے. ہنس نے مایوسی سے کہا فیصلہ تمہارے حق میں ہوگیا ہے. الو نے ہنس کر کہا میں نے ہنس کا کیا کرنا یہ تو بس تم رات کو کہہ رہے تھے چونکہ یہاں الو روتے ہیں تو یہ علاقہ غیر آباد و وحشت زدہ ہے. میں نے تمہیں یہ بتانا تھا الو یہاں اس لئے روتے ہیں کہ یہاں فیصلے کرنے والے گدھ ہیں.

Offline
 

ہم اُن لوگوں کو جج نہیں کرتے جن سے ہم محبت کرتے ہیں
اور ہم اُن لوگوں کی اچھائی میں سے بھی برائی کھینچ لاتے ہیں جو ہمیں اچھے نہیں لگتے

Offline
 

شیخ ۔۔۔۔
صاحب کے ہاں مہمان آیا اور آتے ہی دہشت ناک خبر سنا دی کہ وہ پانچ دن ادھر ہی رہے گا
شیخ صاحب غصے سے اٹھے اور بازار سے بڑی عمر کی گاۓ کا پاؤ گوشت لے آۓ
اور آتے ہی بیگم کو اونچی آواز میں بولے مہمان کی خدمت میں کوئی کمی نی رہنی چاہیئے
آج بھنڈی گوشت بناۇ
کھانا لگا تو گوشت سخت تھا مہمان نے بھنڈی کھا لی۔۔۔گوشت بچ گیا
دوسرے دن دال گوشت
تیسرے دن پالک گوشت
چوتھے دن آلو گوشت
پانچوں دن کہنے لگے آج آخری دن ہے ایسا کرو کریلے گوشت پکا لو
یہ سن کے مہمان کہنے لگا
۔
شیخ صاحب اللہ دا واسطہ جے گوشت دکاندار نوں واپس کر آو تے خالی کریلے پکا لو

Offline
 

اک حسیں خواب کہ آنکھوں سے نکلتا ہی نہیں
ایک وحشت ہے کہ ،
تعبیر ہوئی جاتی ہے

Offline
 

لڑکی: کیا کررہے ہو ؟
لڑکا: مکھیاں مار رہا ہوں
لڑکی: کتنی ماری ہیں ؟
لڑکا: چار ، دو مادہ اور دو نر
لڑکی: تمہیں کیسے پتہ چلا دو مادہ اور دو نر ہیں ؟
لڑکا: دو شیشے پر بیٹھی تھیں اور دو گولڈ لیف کی ڈبی پر-

Offline
 

ستاروں کی بات نہ کرو ہم سے
آج کل رابطے میں "چاند" رہتا ہے

Offline
 

طوالت
طوالت علم و ابلاغ کی موت ہے۔
طوالت علم کی بد صورتی ہے۔
طوالت وقت کا زیاں ہے۔
بس یوں سمجھ لیجیے جہالت کا ادبی نام طوالت ہے۔
علم کا کام طویل کو مختصر کرنا ہے۔

Offline
 

ایک جگنو جنگل میں روشنی پھیلاتا اپنی دھن میں مگن یہاں وہاں اڑ رہا تھا. اچانک اس نے دیکھا ایک سانپ اس کے پیچھے ہے. وہ بچارا گھبرا گیا. اس نے جگہ بدلی لیکن سانپ نے پیچھا نہ چھوڑا. وہ اور دور گیا لیکن سانپ پھر بھی پیچھا کرتا رہا. جگنو نے جب یہ دیکھا تو ہمت کر کے سانپ سے کہا میں تم سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں.
سانپ نے کہا پوچھو جگنو نے کہا تم میرا پیچھا کیوں کر رہے ہو.؟ سانپ نے ہنس کر کہا میں تمہیں کھانا چاہتا ہوں. جگنو نے حیرت سے کہا کیا میں تمہاری خوراک ہوں؟ سانپ جگنو تو نہیں کھاتے. سانپ نے کہا ہاں عام طور پر جگنو ہماری خوراک نہیں ہوتے. جگنو نے کہا پھر تم مجھے کیوں کھانا

Offline
 

چاہتے ہو؟ سانپ نے کہا کیونکہ مجھ سے تمہاری روشنی برداشت نہیں ہوتی.
جگنو کو یہ سمجھانا بہت مشکل ہے کہ وہ روشنی نہ دے. یہی روشنی اس کی زبان ہے. وہ حیرت سے سوچتا ہے یہ تو ٹھنڈی روشنی ہے نہ جلاتی ہے نہ آگ لگاتی ہے پھر آخر میں روشنی کیوں نہ دوں.؟ جگنو جیسے کچھ معصوم لوگوں کو بھی یہ سمجھانا مشکل ہو جاتا ہے کہ کینہ حسد بغض کے شکار لوگوں کیلئے آپ کو تکلیف دینے کیلئے کسی وجہ کی ضرورت نہیں ہوتی. آپ کی اچھائی ہی ان کی تکلیف ہوتی ہے.
کمزور ہی سہی لیکن اندھیرے کو روشن کرنے کی یہ کوشش ہی جنگل میں جرم ہے

Offline
 

جس انسان کا تخیل نہیں ہوتا
اس کے کوئی پَر نہیں ہوتے

Offline
 

چڑیا کا بچہ جو ابھی ابھی گھونسلے سے نکلا ھے ھنوز اُڑنا نہیں جانتا اور ڈرتا ھے۔ ماں کی متواتر اُکساھٹ کے باوجود اُسے اُڑنے کی جرأت نہیں ھوتی۔ رفتہ رفتہ اُس میں خود اعتمادی پیدا ھوتی ھے اور وہ ایک دن اپنی تمام قوتوں کو مجتمع کر کے اُڑتا اور فضائے ناپیدا کنار میں غائب ھو جاتا ھے۔
پہلی ھچکچاھٹ اور بے بسی کے مقابلے میں اُس کی یہ چستی اور آسمان پیمائی حیرت ناک ھے ۔جونہی اُس کی سوئی ھُوئی خود شناسی جاگ اُٹھی اور اُسے اِس حقیقت کا عرفان حاصل ھو گیا کہ ”میں اڑنے والا پرندہ ھُوں“ اچانک قالبِ ھیجان کی ھر چیز ازسرِ نو جاندار بن گئی۔
بے طاقتی سے توانائی ، غفلت سے بیداری ، بے پر و بالی سے بلند پروازی اور موت سے زندگی کا پُورا انقلاب چشمِ زدن کے اندر ھو گیا۔
غور کیجیے تو یہی ایک چشمِ زدن کا وقفہ زندگی کے پُورے افسانے کا خلاصہ ھے

Offline
 

حرفِ دُعا
بچھڑتے وقت مجھ سے کہا تھا اُس نے
"میرے حق میں دُعا کرنا"
اُسے کیا معلوم
ہم تو وہ لوگ ہیں
جن کو حرفِ دعا یاد نہیـــں
جن کے ہر حرف سے تاثیر کب کی
اُٹھ چُکی ہے
دعاؤں کے سنہری پُھول
میرے لب پہ کِھلتے ہی ٹوٹ جاتے ہیں
میں کس دُعا کے پُھول
اُسکے نام کروں
کہ میرے لب پر دُعا کے پُھول
کِھلتے ہی ٹوٹ جاتے ہیں۔۔

Offline
 

سمندری جہاز پر مسافروں کی تفریح طبع کیلئے ایک جادوئی کرتب دکھانے والا جادوگر رکھا گیا تھا. جادوگر کچھ زیادہ ماہر تو نہیں تھا، چند ایک کرتب ہی بس اسے آتے تھے لیکن چونکہ جہاز پر ہر سفر میں مسافر بدل جاتے ہیں تو اس جادوگر کا گزارا چل رہا تھا. مسئلہ تب بنا جب جہاز کے کپتان نے ایک باتیں کرنے والا طوطا پال لیا.
یہ طوطا بھی یہ کرتب دیکھتا تھا. بار بار دیکھ کر اسے سمجھ آگئی اب اس نے بولنا شروع کر دیا. وہ سواریوں کو بتاتا دیکھ کبوتر اس ٹوپی میں ہے. دیکھو پھول کوٹ کی نچلی جیب میں ہیں. جادوگر مذاق بن گیا. لیکن چونکہ طوطا جہاز کے کیپٹن کا تھا تو اسے وہ کچھ کہہ بھی نہیں پاتا. بچارا بس دانت پیس کر رے جاتا.
ایک بار جہاز طوفان میں پھنس گیا اور

Offline
 

ڈوب گیا. جادوگر کو ایک تختہ ملا اور وہ اس پر چمٹ کر بیٹھ گیا. دیکھا تو طوطا بھی اُسی تختے پر جادوگر کے سامنے بیٹھ گیا. دونوں نے ایک دوسرے کو غور سے دیکھا لیکن کچھ بات نہ کی. ایک دن گزرا دوسرا آخر طوطے سے صبر نہ ہوا. اس نے خاموشی توڑی اور جادوگر سے کہا اچھا میں ہار مانتا ہوں بتاو جہاز کہاں چھپایا ہے.؟
آجکل ہمارا ملک بھی وقت کے سمندر میں ایک طوفانی گرداب کا شکار ہے. اللہ کا شُکر ہے ابھی سفینہ سلامت ہے. لیکن پتہ نہیں کیوں دل کیا جادوگر سے پوچھا جائے اب اگلا شعبدہ کیا ہے؟ کوئی پرانا کھیل یا کچھ نیا دیکھنے کو ملے گا.؟

Offline
 

شمع بن کے محفل میں ہم جل رہے ہیں
مگر دل کی حالت ہے پروانوں جیسی