ہم زرد ہوئے
اُس موسم میں... جسے سبز دعائیں آتی تھیں ....
ہم خاک ہوئے.....ان ہونٹوں پر
جو بوسہ دے کر پھول کھلا سکتے تھے شاخ کے ماتھے پر...
ہم نقش ہوئے
اس دھڑکن پر.... جسے علم نہیں تھا ... ہم بھی ہیں
ہم پنچھی اُجڑے منظر کے
ہم وحشی اپنی اندر کے
یہ کس رستے پر چل نکلے......
جو خاموشی میں شور کا تھا..
کسی اور کا تھا...
اب ریت ہوا کی مٹھی میں...جو لے جائے
اک ٹوٹے خواب کا سرمایہ......وہ لے جائے
یہ خواب ہے شاید....!!
خواب نہیں.....
یہ کون آیا؟؟؟؟
مولانا رومؒ
آسمان سے بارش کا ایک قطرہ اگر صاف ہاتھوں سے پکڑا جائے تو پینے کے لیے کافی ہے۔
اگر یہ گٹر میں گِر جائے تو اس کی قیمت اتنی گِر جاتی ہے کہ اسے پاؤں دھونے کے لیے بھی استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
اگر یہ کسی گرم سطح پر گِرے تو یہ بخارات بن جائے گا۔
اور اگر یہ کنول کے پتے پر گرے تو موتی کی طرح چمکتا ہے اور آخر کار سیپ پر گِرے تو موتی بن جاتا ہے۔
قطرہ وہی ہے لیکن اس کا وجود اور قدر اس بات پر منحصر ہے کہ اس کا تعلق کس سے ہے
ہمیشہ ان لوگوں سے جُڑے رہیں جو دِل کے اچھے ہیں۔ آپ اندرونی تبدیلی کا تجربہ کریں گے۔
ایک امید ہے رکھتی ہے جو دل کو شاداب
اک دریچہ ہے جو دریا کی طرف کھلتا ہے
عورت کی چاہت کیا ہے؟؟
ایک عالم کو پھانسی لگنے والی تھی
راجا نے کہا: تُمہاری جان بخش دوں گا اگر میرے ایک سوال کا صحیح جواب بتا دو گے!
سوال تھا، کہ عورت آخر چاہتی کیا ہے؟
عالم نے کہا مہلت مِلے تو پتا کرکے بتا سکتا ہوں.
راجا نے ایک سال کی مہلت دے دی..
عالم بہت گُھوما، بہت لوگوں سے مِلا...
پر کہیں سے بھی کوئی تسلی بخش جواب نہیں مِلا.!
آخر میں کِسی نے کہا دُور جنگل میں ایک چُڑیل رہتی ہے!
وہ ضرور بتا سکتی ہیں اِس سوال کا جواب!
عالم اُس چُڑیل کے پاس پہنچا اور اپنا سوال اُسے بتایا!
چُڑیل نے کہا کہ میں ایک شرط پر بتاؤں گی
اگر تُم مُجھ سے شادی کرو اُس نے سوچا صحیح جواب نہ پتہ چلا تو جان راجا کے ہاتھ جانی ہی ہے..
اِسی لیے شادی کی رضامندی دے دی شادی ہونے کے بعد چُڑیل نے کہا، چُونکہ تُم نے میری
بات مان لی ہے تو میں نے تُمہیں خُوش کرنے کے لیے فیصلہ کیا ہے کہ بارہ گھنٹے میں چُڑیل اور بارہ گھنٹے خُوبصورت پری بن کے رہوں گی...!!
اب تُم یہ بتاؤ کہ دِن میں چُڑیل رہوں یا رات کو، اُس نے سوچا اگر یہ دِن میں چُڑیل ہوئی تو دِن نہیں گُزرے گا اور رات میں ہوئی تو رات نہیں گُزرے گی...!!
آخر میں اُس عالم نے کہا جب تُمہارا دل کرے پری بن جانا، جب دل کریں چُڑیل بن جانا...!!
یہ بات سُن کر چڑیل نے خُوش ہوکر کہا چُونکہ تُم نے مُجھے اپنی مرضی کی چُھوٹ دے دی ہے، تو میں ہمیشہ ہی پری بن کے رہا کروں گی!
آخر میں اِس سوال کا جواب یہی ہے...!!
عورت ہمیشہ اپنی مرضی کا کرنا چاہتی ہے اگر عورت کو اپنی مرضی کا کرنے دو گے تو وہ پری بن کر رہے گی اگر نہیں کرنے دو گے تو چُڑیل بن کر رہے گی...
اِتنی غور سے پڑھنے کے لیے بھی شکریہ
آپ قابلِ توجہ ہیں! مگر
میں دھیان نہیں دیتا
جب میں دلّی گیا تھا ایک سٹور پر کتابیں خرید رہا تھا تو ایک جاندار سِکھ خاتون آ گئی۔ آتے ہی بے تکلفی سے پنجابی میں پوچھنے لگی۔ بولی ’’کد آئے پاکستان توں ؟
میں حیران رہ گیا کہ اِس خاتون کو کیسے پتا چلا کہ میں پاکستان سے آیا ہوں ؟
میں نے پوچھا بتا تُجھے کیسے پتا چلا کہ میں پاکستان سے آیا ہوں؟
بولی، آ میرے ساتھ بازار کی نُکڑ پر کھڑے ہوجاتے ہیں۔ میں چہرہ دیکھ کر بتا دوں گی کہ کون پاکستانی ہے۔
کوئی جادُو ہے تیرے پاس؟ میں نے پوچھا۔
ہاں ہے ، وہ مُسکرائی..
میں نے کہا ، وہ بھید مُجھے بھی بتا دے...
بولی ، جس کے چہرے پر بشاشت ہے ، زِندگی ہے ، رونق ہے ، وہ پاکستانی ہے۔
اس لحاظ سے تو تُو بھی پاکستانی ہے۔
تلاش: از ممتاز مفتی
آٸن اسٹاٸن بیگمات
یوں تو دنیا بھر میں بیگمات کی کٸی اقسام پاٸی جاتی ہیں لیکن آج آپ کو ان کی ایک خاص قسم ”آٸن اسٹاٸن بیگمات“ کا تعارف کرواتا ہوں۔
سالن میں نمک کی زیادتی کا شکوہ کریں تو منہ کا ذاٸقہ بگڑنے کا فتوی جاری ہوگا۔
چاۓ میں چینی کی زیادتی کا کہیں تو فرمان جاری ہوگا کہ شگر لیول بڑھا ہوا ہوگا۔
گوشت نہ گلنے کی شکایت کریں تو حکم ہوگا کہ کسی اچھے ڈینٹسٹ کو دکھاٸیں۔
کپڑے درست استری نہ ہونے کا کہیں تو ارشاد ہوگا کہ کپڑے پہن کر گدھے کی طرح لیٹیاں ماری ہونگی۔
کہاں تک سنو گے کہاں تک سناٶں
برف کو جب دیر تک ہاتھ میں پکڑا جائے تو وہ آگ کی طرح جلانے لگتی ہے، بعینہ خوشی حد سے بڑھ جائے تو مار ڈالتی ہے، اور غم عروج پر پہنچ جائے تو مزہ دیتا ہے، اور ہنسی بے تحاشا ہو تو آنکھیں چِھلک جاتی ہیں۔“
میں ہر بار الوداع کے بعد
پھر سے
تمہیں شروع سے پیار کرنے لگ جاتا ہوں
زندگی نے مجھے رپیٹ پر لگا رکھا ہے
شام ہوتے ہی چرواہا مینڈھوں کی ریوڑ کو لِئے اپنی آرام گاہ کی طرف چل پڑتا ہے بھوکے مینڈھوں کا پیٹ بھر چکا ہوتا ہے وہ تھک چکے ہوتے ہیں رات آکر اپنی باڑے میں سکون سے گزارتے ہیں وہیں میری سوچوں میں تمہاری یادوں کے مینڈھے مجھے مسلسل نگلتے رہتے ہیں ان کا کوئی ٹھکانہ نہیں کوئی آرام نہیں کوئی بھرنے کا معدہ نہیں یہ شام ڈھلنے سے سکون نہیں کرتے بلکہ مزید بھوکے ہوجاتے ہیں مزید تیزی سے کاٹ کھانا شروع کرتے ہیں
اب کے تجدید وفا کا نہیں امکاں جاناں
یاد کیا تجھ کو دلائیں ترا پیماں جاناں
یوں ہی موسم کی ادا دیکھ کے یاد آیا ہے
کس قدر جلد بدل جاتے ہیں انساں جاناں
زندگی تیری عطا تھی سو ترے نام کی ہے
ہم نے جیسے بھی بسر کی ترا احساں جاناں
دل یہ کہتا ہے کہ شاید ہے فسردہ تو بھی
دل کی کیا بات کریں دل تو ہے ناداں جاناں
اول اول کی محبت کے نشے یاد تو کر
بے پیے بھی ترا چہرہ تھا گلستاں جاناں
آخر آخر تو یہ عالم ہے کہ اب ہوش نہیں
رگ مینا سلگ اٹھی کہ رگ جاں جاناں
مدتوں سے یہی عالم نہ توقع نہ امید
دل پکارے ہی چلا جاتا ہے جاناں جاناں
ہم بھی کیا سادہ تھے ہم نے بھی سمجھ رکھا تھا
غم دوراں سے جدا ہے غم جاناں جاناں
اب کے کچھ ایسی سجی محفل یاراں جاناں
سر بہ زانو ہے کوئی سر بہ گریباں جاناں
ہر کوئی اپنی ہی آواز سے کانپ اٹھتا ہے
ہر کوئی اپنے ہی سائے سے ہراساں جاناں
جس کو دیکھو وہی زنجیر بہ پا لگتا ہے
شہر کا شہر ہوا داخل زنداں جاناں
اب ترا ذکر بھی شاید ہی غزل میں آئے
اور سے اور ہوئے درد کے عنواں جاناں
ہم کہ روٹھی ہوئی رت کو بھی منا لیتے تھے
ہم نے دیکھا ہی نہ تھا موسم ہجراں جاناں
ہوش آیا تو سبھی خواب تھے ریزہ ریزہ
جیسے اڑتے ہوئے اوراق پریشاں جاناں
احمد فراز
نزار قبانی کہتے ہیں کہ
توجہ دینا محبت دینے سے زیادہ اہم ہے
اگر لوگ مجھے محبت کرنے والے شخص اور توجہ دینے والے شخص میں سے کسی ایک کے انتخاب کا اختیار دیں
تو میں اس شخص کو منتخب کروں گا
جس نے مجھے اپنی توجہ کے ساتھ قید کر لیا ہو۔
جس طرح میر، غالب، دوستوفیسکی، ٹالسٹائی اور کافکا وغیرہ ادب کے آسماں ہیں اس ہی طرح دور جدید میں بھی ایک ایسا ادیب ابھرا ہے جو ادبی تاریخ کا افق نہ سہی لیکن کم از آفتاب بھی نہیں۔ تاریخ میں اس مایہ ناز ادیب کو منقول کے نام سے یاد رکھا جائے گا۔ ____________
ایک اس کا کزن بھی ہے مورخ... اور یہ دونوں تہذیبِ انسانی کے ارتقاء میں انتہائی فعال کردار ادا کر رہے ہیں
ایک ہی فن تو سیکھا ھے ہم نے
جس سے ملیئے اسے خفا کیجئیے
کتنے رنگوں سے شناسا رہیں آنکھیں،مت پوچھ
کتنے پہلو سے تری ذات کو سوچا ہم نے
زندگی جیسی خُوبصورت نعمت عطاء کرنے پر ﷲ ربّ العزت کی ان گنت حمد و ثنا اور شُکر ہے، ﷲ پاک مجھے اور آپ سب کو اس راستے کی ہدایت فرمائے جو سب سے زیادہ سیدھا، ٹھیک اور سچّا ہے اور پھر صراطِ مستقیم پر ثابت قدم رکھے۔ آمین
ہم لفظوں میں ہی ملتے ہیں اور لفظوں میں ہی بچھڑتے ہیں، لفظ ہی اپناتے ہیں اور لفظ ہی گنواتے ہیں، آخر انسان اور انسان کے درمیاں لفظوں کے سوا اور کیا ہے جو انہیں جوڑتا ہے یا انہیں جدا کرتا ہے
اس کرہ ارض پہ کچھ چیزوں کی تخلیق فقط اس لیے ہوئی ہے کہ ان سے شدید محبت کی جا سکے جیسے کہ میرے لیے تم
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain