Damadam.pk
Offline's posts | Damadam

Offline's posts:

Offline
 

ہم زرد ہوئے
اُس موسم میں... جسے سبز دعائیں آتی تھیں ....
ہم خاک ہوئے.....ان ہونٹوں پر
جو بوسہ دے کر پھول کھلا سکتے تھے شاخ کے ماتھے پر...
ہم نقش ہوئے
اس دھڑکن پر.... جسے علم نہیں تھا ... ہم بھی ہیں
ہم پنچھی اُجڑے منظر کے
ہم وحشی اپنی اندر کے
یہ کس رستے پر چل نکلے......
جو خاموشی میں شور کا تھا..
کسی اور کا تھا...
اب ریت ہوا کی مٹھی میں...جو لے جائے
اک ٹوٹے خواب کا سرمایہ......وہ لے جائے
یہ خواب ہے شاید....!!
خواب نہیں.....
یہ کون آیا؟؟؟؟

Offline
 

مولانا رومؒ
آسمان سے بارش کا ایک قطرہ اگر صاف ہاتھوں سے پکڑا جائے تو پینے کے لیے کافی ہے۔
اگر یہ گٹر میں گِر جائے تو اس کی قیمت اتنی گِر جاتی ہے کہ اسے پاؤں دھونے کے لیے بھی استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
اگر یہ کسی گرم سطح پر گِرے تو یہ بخارات بن جائے گا۔
اور اگر یہ کنول کے پتے پر گرے تو موتی کی طرح چمکتا ہے اور آخر کار سیپ پر گِرے تو موتی بن جاتا ہے۔
قطرہ وہی ہے لیکن اس کا وجود اور قدر اس بات پر منحصر ہے کہ اس کا تعلق کس سے ہے
ہمیشہ ان لوگوں سے جُڑے رہیں جو دِل کے اچھے ہیں۔ آپ اندرونی تبدیلی کا تجربہ کریں گے۔

Offline
 

ایک امید ہے رکھتی ہے جو دل کو شاداب
اک دریچہ ہے جو دریا کی طرف کھلتا ہے

Offline
 

عورت کی چاہت کیا ہے؟؟
ایک عالم کو پھانسی لگنے والی تھی
راجا نے کہا: تُمہاری جان بخش دوں گا اگر میرے ایک سوال کا صحیح جواب بتا دو گے!
سوال تھا، کہ عورت آخر چاہتی کیا ہے؟
عالم نے کہا مہلت مِلے تو پتا کرکے بتا سکتا ہوں.
راجا نے ایک سال کی مہلت دے دی..
عالم بہت گُھوما، بہت لوگوں سے مِلا...
پر کہیں سے بھی کوئی تسلی بخش جواب نہیں مِلا.!
آخر میں کِسی نے کہا دُور جنگل میں ایک چُڑیل رہتی ہے!
وہ ضرور بتا سکتی ہیں اِس سوال کا جواب!
عالم اُس چُڑیل کے پاس پہنچا اور اپنا سوال اُسے بتایا!
چُڑیل نے کہا کہ میں ایک شرط پر بتاؤں گی
اگر تُم مُجھ سے شادی کرو اُس نے سوچا صحیح جواب نہ پتہ چلا تو جان راجا کے ہاتھ جانی ہی ہے..
اِسی لیے شادی کی رضامندی دے دی شادی ہونے کے بعد چُڑیل نے کہا، چُونکہ تُم نے میری

Offline
 

بات مان لی ہے تو میں نے تُمہیں خُوش کرنے کے لیے فیصلہ کیا ہے کہ بارہ گھنٹے میں چُڑیل اور بارہ گھنٹے خُوبصورت پری بن کے رہوں گی...!!
اب تُم یہ بتاؤ کہ دِن میں چُڑیل رہوں یا رات کو، اُس نے سوچا اگر یہ دِن میں چُڑیل ہوئی تو دِن نہیں گُزرے گا اور رات میں ہوئی تو رات نہیں گُزرے گی...!!
آخر میں اُس عالم نے کہا جب تُمہارا دل کرے پری بن جانا، جب دل کریں چُڑیل بن جانا...!!
یہ بات سُن کر چڑیل نے خُوش ہوکر کہا چُونکہ تُم نے مُجھے اپنی مرضی کی چُھوٹ دے دی ہے، تو میں ہمیشہ ہی پری بن کے رہا کروں گی!
آخر میں اِس سوال کا جواب یہی ہے...!!
عورت ہمیشہ اپنی مرضی کا کرنا چاہتی ہے اگر عورت کو اپنی مرضی کا کرنے دو گے تو وہ پری بن کر رہے گی اگر نہیں کرنے دو گے تو چُڑیل بن کر رہے گی...
اِتنی غور سے پڑھنے کے لیے بھی شکریہ

Offline
 

آپ قابلِ توجہ ہیں! مگر
میں دھیان نہیں دیتا

Offline
 

جب میں دلّی گیا تھا ایک سٹور پر کتابیں خرید رہا تھا تو ایک جاندار سِکھ خاتون آ گئی۔ آتے ہی بے تکلفی سے پنجابی میں پوچھنے لگی۔ بولی ’’کد آئے پاکستان توں ؟
میں حیران رہ گیا کہ اِس خاتون کو کیسے پتا چلا کہ میں پاکستان سے آیا ہوں ؟
میں نے پوچھا بتا تُجھے کیسے پتا چلا کہ میں پاکستان سے آیا ہوں؟
بولی، آ میرے ساتھ بازار کی نُکڑ پر کھڑے ہوجاتے ہیں۔ میں چہرہ دیکھ کر بتا دوں گی کہ کون پاکستانی ہے۔
کوئی جادُو ہے تیرے پاس؟ میں نے پوچھا۔
ہاں ہے ، وہ مُسکرائی..
میں نے کہا ، وہ بھید مُجھے بھی بتا دے...
بولی ، جس کے چہرے پر بشاشت ہے ، زِندگی ہے ، رونق ہے ، وہ پاکستانی ہے۔
اس لحاظ سے تو تُو بھی پاکستانی ہے۔
تلاش: از ممتاز مفتی

Offline
 

آٸن اسٹاٸن بیگمات
یوں تو دنیا بھر میں بیگمات کی کٸی اقسام پاٸی جاتی ہیں لیکن آج آپ کو ان کی ایک خاص قسم ”آٸن اسٹاٸن بیگمات“ کا تعارف کرواتا ہوں۔
سالن میں نمک کی زیادتی کا شکوہ کریں تو منہ کا ذاٸقہ بگڑنے کا فتوی جاری ہوگا۔
چاۓ میں چینی کی زیادتی کا کہیں تو فرمان جاری ہوگا کہ شگر لیول بڑھا ہوا ہوگا۔
گوشت نہ گلنے کی شکایت کریں تو حکم ہوگا کہ کسی اچھے ڈینٹسٹ کو دکھاٸیں۔
کپڑے درست استری نہ ہونے کا کہیں تو ارشاد ہوگا کہ کپڑے پہن کر گدھے کی طرح لیٹیاں ماری ہونگی۔
کہاں تک سنو گے کہاں تک سناٶں

Offline
 

برف کو جب دیر تک ہاتھ میں پکڑا جائے تو وہ آگ کی طرح جلانے لگتی ہے، بعینہ خوشی حد سے بڑھ جائے تو مار ڈالتی ہے، اور غم عروج پر پہنچ جائے تو مزہ دیتا ہے، اور ہنسی بے تحاشا ہو تو آنکھیں چِھلک جاتی ہیں۔“

Offline
 

میں ہر بار الوداع کے بعد
پھر سے
تمہیں شروع سے پیار کرنے لگ جاتا ہوں
زندگی نے مجھے رپیٹ پر لگا رکھا ہے

Offline
 

شام ہوتے ہی چرواہا مینڈھوں کی ریوڑ کو لِئے اپنی آرام گاہ کی طرف چل پڑتا ہے بھوکے مینڈھوں کا پیٹ بھر چکا ہوتا ہے وہ تھک چکے ہوتے ہیں رات آکر اپنی باڑے میں سکون سے گزارتے ہیں وہیں میری سوچوں میں تمہاری یادوں کے مینڈھے مجھے مسلسل نگلتے رہتے ہیں ان کا کوئی ٹھکانہ نہیں کوئی آرام نہیں کوئی بھرنے کا معدہ نہیں یہ شام ڈھلنے سے سکون نہیں کرتے بلکہ مزید بھوکے ہوجاتے ہیں مزید تیزی سے کاٹ کھانا شروع کرتے ہیں

Offline
 

اب کے تجدید وفا کا نہیں امکاں جاناں
یاد کیا تجھ کو دلائیں ترا پیماں جاناں
یوں ہی موسم کی ادا دیکھ کے یاد آیا ہے
کس قدر جلد بدل جاتے ہیں انساں جاناں
زندگی تیری عطا تھی سو ترے نام کی ہے
ہم نے جیسے بھی بسر کی ترا احساں جاناں
دل یہ کہتا ہے کہ شاید ہے فسردہ تو بھی
دل کی کیا بات کریں دل تو ہے ناداں جاناں
اول اول کی محبت کے نشے یاد تو کر
بے پیے بھی ترا چہرہ تھا گلستاں جاناں
آخر آخر تو یہ عالم ہے کہ اب ہوش نہیں
رگ مینا سلگ اٹھی کہ رگ جاں جاناں
مدتوں سے یہی عالم نہ توقع نہ امید
دل پکارے ہی چلا جاتا ہے جاناں جاناں

Offline
 

ہم بھی کیا سادہ تھے ہم نے بھی سمجھ رکھا تھا
غم دوراں سے جدا ہے غم جاناں جاناں
اب کے کچھ ایسی سجی محفل یاراں جاناں
سر بہ زانو ہے کوئی سر بہ گریباں جاناں
ہر کوئی اپنی ہی آواز سے کانپ اٹھتا ہے
ہر کوئی اپنے ہی سائے سے ہراساں جاناں
جس کو دیکھو وہی زنجیر بہ پا لگتا ہے
شہر کا شہر ہوا داخل زنداں جاناں
اب ترا ذکر بھی شاید ہی غزل میں آئے
اور سے اور ہوئے درد کے عنواں جاناں
ہم کہ روٹھی ہوئی رت کو بھی منا لیتے تھے
ہم نے دیکھا ہی نہ تھا موسم ہجراں جاناں
ہوش آیا تو سبھی خواب تھے ریزہ ریزہ
جیسے اڑتے ہوئے اوراق پریشاں جاناں
احمد فراز

Offline
 

نزار قبانی کہتے ہیں کہ
توجہ دینا محبت دینے سے زیادہ اہم ہے
اگر لوگ مجھے محبت کرنے والے شخص اور توجہ دینے والے شخص میں سے کسی ایک کے انتخاب کا اختیار دیں
تو میں اس شخص کو منتخب کروں گا
جس نے مجھے اپنی توجہ کے ساتھ قید کر لیا ہو۔

Offline
 

جس طرح میر، غالب، دوستوفیسکی، ٹالسٹائی اور کافکا وغیرہ ادب کے آسماں ہیں اس ہی طرح دور جدید میں بھی ایک ایسا ادیب ابھرا ہے جو ادبی تاریخ کا افق نہ سہی لیکن کم از آفتاب بھی نہیں۔ تاریخ میں اس مایہ ناز ادیب کو منقول کے نام سے یاد رکھا جائے گا۔ ____________
ایک اس کا کزن بھی ہے مورخ... اور یہ دونوں تہذیبِ انسانی کے ارتقاء میں انتہائی فعال کردار ادا کر رہے ہیں

Offline
 

ایک ہی فن تو سیکھا ھے ہم نے
جس سے ملیئے اسے خفا کیجئیے

Offline
 

کتنے رنگوں سے شناسا رہیں آنکھیں،مت پوچھ
کتنے پہلو سے تری ذات کو سوچا ہم نے

Offline
 

زندگی جیسی خُوبصورت نعمت عطاء کرنے پر ﷲ ربّ العزت کی ان گنت حمد و ثنا اور شُکر ہے، ﷲ پاک مجھے اور آپ سب کو اس راستے کی ہدایت فرمائے جو سب سے زیادہ سیدھا، ٹھیک اور سچّا ہے اور پھر صراطِ مستقیم پر ثابت قدم رکھے۔ آمین

Offline
 

ہم لفظوں میں ہی ملتے ہیں اور لفظوں میں ہی بچھڑتے ہیں، لفظ ہی اپناتے ہیں اور لفظ ہی گنواتے ہیں، آخر انسان اور انسان کے درمیاں لفظوں کے سوا اور کیا ہے جو انہیں جوڑتا ہے یا انہیں جدا کرتا ہے

Offline
 

اس کرہ ارض پہ کچھ چیزوں کی تخلیق فقط اس لیے ہوئی ہے کہ ان سے شدید محبت کی جا سکے جیسے کہ میرے لیے تم